دل کی صلاحیتوں کی بیداری کی ضرورت - عادل لطیف

دور حاضر کے مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے جدید تعلیمی اداروں اور دینی درسگاہوں سے تزکیہ واحسان اور تصفیہ قلب واصلاح نفس کی اہمیت کا ادراک سلب ہوگیا ہے. ایک آدھ افراد ہیں برکت کے لیے جو دل کے تصفیے اور نفس کے تزکیے کے کام کو فیصلہ کن اہمیت دے کر اس راہ پر گامزن ہیں. ورنہ عام طور پر مادی علوم وفنون اور ظاہری دینی علوم پر ساری توانائیاں صرف ہورہی ہیں.

دل کی اصل ضرورت، محبوب حقیقی کے لیے دل کی تشنگی اور اس تشنگی کو دور کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش، دل کو نفس اور عقل کی یرغمالی سے بچانے کی سعی، دل کے ذریعے روح کو لطیف سے لطیف تر بنانے کی کوشش وجدوجہد، لذت ایمانی کی تجدید، خواہشات کا اسیر نہ ہونا یہ ساری باتیں اب زیادہ تر ماضی کی داستان بن کر رہ گئی ہیں یا پھر کتابوں کی زینت بن گئی ہیں.

جدید تعلیمی ادارے اگر مادہ پرست اور دل کی حقیقی صلاحیتوں سے بے بہرہ انسان تیار کرنے کا ذریعہ بن گئے ہیں تو سمجھ میں آنے والی بات ہے. اس لیے کہ ان اداروں کی اساس وبنیاد اور ان کے نظام ونصاب کی تشکیل میں جدید مادہ پرست اور عیار مغربی انسان کی کاوشوں کا عمل دخل ہے. ہماری تعلیمی پالیسیاں عملی طور پر عالمی استعمار کے شکنجہ میں ہیں اور وہ رفتہ رفتہ ہمارے سارے تعلیمی نظام کو خالص سیکولرازم کی بنیاد پر تشکیل دے رہے ہیں.

لیکن دینی درسگاہوں کو کیا ہوا؟ تزکیہ واحسان اور تصوف وسلوک جو کبھی دینی درسگاہوں کا امتیازی وصف تھا آج ان سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد کی ایک بڑی اکثریت دین کے ظاہری علوم سے آگے بڑھ ہی نہیں رہی. دینی درسگاہوں کے فضلا کا دل کی صلاحیتوں اور اس کے تقاضوں سے ناآشنا ہونا، نفس وشیطان کے مکاید کی نشاندہی نہ کرسکنا اور سلامتی دل کی کاوشوں سے بے نیاز ہونا بڑی تشویش کی بات ہے.

یہ بھی پڑھیں:   دل ہی جل گیا - لطیف النساء

اس لیے کہ دینی علوم پر عمل پیرا ہونے کی صلاحیت، اخلاق حسنہ اور انسانی جوہروں سے بہرہ وری کا سارا تعلق دل کی بیداری اور محبوب حقیقی کے لیے اس کے والہانہ جذبات محبت کو صحیح رخ دینے سے وابستہ ہے. دینی درسگاہوں کا بنیادی مقصد اخلاص واحتساب، صبر وتوکل، زہد واستغناء، ایثار وسخاوت، ادب وحیا، خشوع وخضوع، انابت وتضرع، رضائے الہی اور دیدار الہی کا شوق، اور اس طرح کی دوسری باطنی کیفیات کی حامل شخصیات تیار کرنا ہے. اگر دینی مدارس سے یہی بنیادی کام نہ ہو تو ان مدارس میں پڑھنے والوں کی مثال بھیڑ کے اس گلہ کی سی ہے جس کا نہ کوئی چوپاں ہو نہ مقصد.

ہمارا ماضی اور سلف صالحین کی تاریخ شاہد ہے کہ دینی درسگاہوں میں ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ ان کا زور خلوص وللہیت، جذبہ اتباع سنت، ذکر قلبی، دل کے ذریعہ معرفت نفس اور معرفت رب کی صلاحیتوں کی بیداری اور قلب کو قلب سلیم بنانے کی کاوشوں پر صرف ہوتا ہے.

موجودہ دور میں مادہ پرستی اور نفس پرستی کی قوتیں حولناک صورت اختیار کرچکی ہیں. ظاہری حسن پر فدائیت کی ادائیں عروج پر ہیں. نفس کو ہر وقت مشتعل کر کے انسانیت کو شیطنت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے طاقتور اور تیز تر آلات وجود میں آچکے ہیں. اس دور میں ہر وقت ایمان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں. ایسے ناگفتہ به حالات میں اگر دل کی خفیہ صلاحیتیں بیدار نہ ہوں، اور محبوب حقیقی کے ساتھ محبت کے قابل قدر اجزاء موجود نہ ہوں تو عالمی سطح سے اٹھنے والے مادہ پرستی اور نفس پرستی کے سیلاب میں بہنے سے بچنے کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں. اس لیے موجودہ زمانے میں تزکیہ واحسان کی اہمیت پہلے سے کئی گناہ زیادہ ہوگئی ہے، بلکہ حقیقت میں اس دور کا تقاضہ یہ ہے کہ جتنی اہمیت ظاہری دینی علوم کو ہونی چاہیے اس سے کئی گناہ زیادہ اہمیت دل کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے، سلامتی دل کے مراحل طے کرنے، قلوب کا اللہ تعالی سے، زندگی کا روحانیت سے تعلق مضبوط کرنے اور محبوب حقیقی کے ساتھ دل کے رشتہ کو مستحکم کرنے کے کام کو دینی چاہیے. تاکہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے علمائے کرام اخلاص وللہیت، بے نفسی وبے غرضی، معرفت ویقین اور محبت ووفا جیسی صفات سے بہرہ ور ہوکر معاشرے کی تعمیر وترقی کے سلسلے میں مؤثر کردار ادا کرسکیں.

ٹیگز