آج کا نوجوان محنت سے کیوں گبھراتا ہے؟ احمد ذیشان

ٹھنڈے کمرے میں بیٹھا ہوا خالق کائنات سے اپنے خودساختہ غموں کا شکوہ کر رہا تھا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ خالق کائنات نے سارے غم میرے کندھے پہ ہی لاد دیے ہیں۔ یہ غموں کی تیغ میرا ہی گلا کیوں کاٹتی ہے۔ اچانک میرے کانوں میں رونے کی آواز پڑی اور بڑھتی چلی گئی ۔میں پریشان ہو گیا کہ شاید کوئی بیمار ہے ۔ یا کوئی گزر گیا ہے ۔ میں پریشانی کے عالم میں اٹھ کے باھر آگیا ۔اور ایک عجیب منظر دیکھا کہ پاشا ہچکیاں لے لے کہ فون پہ کسی کہ منتیں کر رہا ہے۔نہ جانے ایسا کیا درد تھا اس کی آواز میں کہ میں اپنے سارے غم بھول گیا۔ میں اسے بلا کہ اندر لے آیا۔ اسے اندر بٹھایا اور اسے چپ کرایا ۔اسے چائے انڈے کی پیشکش کی ۔مگر اس نے ٹھکرا دی ۔

پوچھنے پہ بتانے لگا کہ حافظ صاحب! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ والد صاحب سال پہلے گزر چکے ہیں۔ سارے خاندان کی کفالت کا بوجھ میرے کندھوں پہ آن پڑا ہے۔ اوپر سے بہن کی شادی سر پر ہے۔کل والدہ کی بیماری وجہ سے کام سے چھٹی کرنا پڑی تو باس نے آج کام سے نکال دیا ۔میں نے بزنس مینجمنٹ کاکورس مکمل کیا ہو ا ہے ۔اور ایک ان پڑھ باس کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ 12 گھنٹے مسلسل محنت کرنے کے باجود معاوضہ پورا نہیں ملتا ۔اور اوپر سے جھڑکیاں اور کام سے نکالنے کی دھمکی الگ۔ مختلف کمپنیوں میں اپلائی کر چکا ہوں ۔سال ہونے کو آیا ہے کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں مل رہی ۔آج جب باس نے کام سے نکال دیا ہے تو سمجھ نہیں آتا کیا کیا جائے؟گھر کا خرچ کیسے چلے گا ؟دوبارہ کہیں نوکری ملنے کی امید بھی نہیں۔

پاشا یہاں تک کہہ کہ خاموش ہو گیا ۔اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کے تانے بانے بندھے ہوئے تھے ۔تھکان اور پریشانی کے ملے جلےآثار اس کے چہرے سے واضح طور پہ نظر آرہے تھے۔ میں نے اس سے پو چھا تمہارے والد صاحب کی تو کریانے کی دکان ہوا کرتی تھی اس کا کیا ہوا؟ کہنے لگا۔ اچھی بھلی آمدن تھی ۔گھر کا گزر بھی اچھے طریقے سے ہو رہا تھا۔سارے لاڈ پیار بھی پورے ہوتے تھے۔ہفتے میں ایک مرتبہ پکنگ پہ بھی جاتے تھے ۔مگران کے چلے جانے کے بعد میں نوکری ڈھونڈنا شروع کردی۔اور دکان میں تو میری دلچسپی شروع سے ہی نہ ہونے کے برابر تھی ۔ والد صاحب کے چلے جانے کے بعد رہی سہی دلچسپی بھی جاتی رہی ۔اور دکان بھی آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ دراصل میں دکان پہ بیٹھناہی نہیں چاہتا۔ میری خواہش رہی ہے کہ کسی اچھی جگہ نوکری ہو۔ ایک گھومنے والی کرسی ہو۔ بہترین آفس ہو۔ جائیں نوکری کریں اور مہینے بعد سیلری پھر فارغ۔ دکان کی ٹینشن لینے کا کیا فائدہ۔

یہ بھی پڑھیں:   پولیٹیکل اسلام؛ کام کا اسلوب اور فکر معاش - ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

مجھے اب پاشا پہ افسوس کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آ رہا تھا۔جو اچھا بھلا کاروبار چھوڑ کہ نوکری کی جانب در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ اور مومخواہ اپنی جوانی زنگ آلود کر رہا تھا۔ میں نے اسے ٹوکا اور لحاف اوڑھنے کی دعوت دی ۔اور پوچھا کہ نوکری کہاں کر رہے۔اور کتنی آمدن ہے؟ اور اگر اچھی جگہ نوکری ملے تو کتنا کما لوگے؟ میں نے ایک ہی سانس میں سارے سوال داغ ڈالے، تو کہنے لگا حافظ بھائی میں ایک پرائیویٹ ادارے میں 500 دیہاڑی پہ مزدوری کرتا ہوں ۔اور اگر اچھی جگہ پہ مل جائے تو لائف سیٹل ہو جائے۔

دیکھ میرے بھائی میری بات سن ۔میں نے اس کا شانہ دباتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا۔ آج کے نوجوان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے ۔کہ وہ تعلیم حاصل نوکر بننے کے لیے کرتا ہے ۔وہ ستاروں پہ کمند ڈالنے کی بجائے گھٹنوں کے بل چلتا ہے ۔اپنی تقدیر بدلنے کے لیے کوئی تدبیر بروئے کار نہیں لاتا۔ یہ نوکری کرنے کی بجائے کاروبا ر کیوں نہیں کرتا؟اپنی تعلیم اور فطری صلاحیتوں کو کیوں دو ٹکے کی نوکری کے لئے فروخت کر دیتا ہے ؟جب آپ کے پاس تعلیم ہی بزنس سنبھالنے کی صلاحیت موجود ہے ۔تو پھر آپ کیوں اپنا کاروبار نہیں سنبھالتے؟حالانکہ نوکری صرف خاندان کی کفالت کرتی ہے اور کاروبار نسلوں کی کفالت کا سامان پیدا کر دیتا ہے۔

پاشا نے لحاف اوڑھا اور میری باتیں غور سے سننے لگا۔ جب آپ کے پاس اپناکاروبارہے ۔بزنس مینجمنٹ کی ڈگر ی آپ کی جیب میں ہے ۔کاروبار کا نفع نقصان جانچنے کی صلاحیت موجود ہے ۔پھر کیوں اپنی قوت بازو پہ بھروسہ نہیں کرتے ۔ کمر کسنے سے کیوں ڈرتے ہو ۔کیوں اپنی خودی کو ایک ان پڑھ باس کی آگے گروی رکھ دیتے ہو ۔تنخواہ کے لئے بھی تمہیں بھکاریوں کی طرح ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے۔ سینئر کی صلواتیں الگ سننا پڑتی ہے۔اور تمہاری زندگی بھی دوسروں کے رحم کرم پہ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   پولیٹیکل اسلام؛ کام کا اسلوب اور فکر معاش - ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

پاشا نے لمبی سانس لی اور کہنے لگا، کون صبح صبح دکان کھولے اور کون سارا دن ڈیوٹی دے ۔کون روز حساب کرے ۔نہ صاف کپڑے اور ہر وقت دماغ پہ کاروبار کی ٹینشن سوار رہے۔اور نوکری میں تو یہ ہے کہ صبح نہا دھو کہ صاف ستھرے کپڑے پہنو اور جا کہ آفس میں بیٹھو ۔نہ صفائی کی ٹینشن اور نہ کاروبار کی ٹینشن۔ آخر دل کی بات زبان پہ آ ہی گئی۔ میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔ پاشا نے پوچھا کون سی بات، میں نے کہا یہ ہی کہ تم محنت کرنے سے کتراتے ہو ۔میری ایک بات یاد رکھو دنیا میں ہر چیز کا نعم البدل موجود ہے ۔لیکن محنت کا کوئی نعم البدل بھی نہیں۔محنتی شخص کے لئے دنیا جہان میں ترقی کے دروازے کھلے پڑے ہیں اور نکمے لئے اس دنیا میں کوئی ٹھکانہ نہیں ۔دنیا میں کوئی امیر ایسا نہیں جس نے زرہ سے تاج تک کا سفر محنت کا پٹرول ڈالے بغیر کیا ہو ۔یہ سارے امراء جھونپڑیوں سے نکل کر ہی فارم ہاوس تک پہنچے ہیں۔ترقی جب گھر سے نکلتی ہے تو اس کے پاءوں چیونٹی جتنے ہوتے ہیں۔اور جوان ہونے تک اس کے پاوں کا سائز ہاتھی کے پاءوں جتنا بڑا ہوتا ہے۔ایک بات اور یا د رکھو نوکری کر کے آج تک کسی نے ترقی نہیں کی۔

پاشا میری باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا۔مجھے لگا کہ میری ساری باتیں اسکے دل میں ٹھکانہ کر رہی ہیں۔میں لوہاگرم دیکھ کر ایک اور ضرب لگائی۔ اب بھی تمہارے پاس وقت ہے۔ اپنی دکان کو پھر سے سٹینڈ کرو ۔تمہارے والد صاحب نے کاروبار چلایا ہو اہے اگر وہ بڑھاپے میں کرسکتے تھےتو تم جوانی میں کیوں نہیں کر سکتے۔ تمہارے پاس تو ابھی صحت تندرستی جیسی نعمت ہے ۔تمہارے ہاتھ پاوں جوان ہیں ۔بس اب ضرورت ہے تو تھوڑی محنت کی ۔خود اعتمادی کی اور بارگاہ الہی میں دعا کی۔پھر دیکھنا تمہاری محنت کے ساتھ نصرت خداوندی بھی شامل ہو جائے گی۔ پاشا کچھ شرمندہ سا ہوا، شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا میں صبح ہی بنام خدا اپنے کام کا آغاز کرتا ہوں۔ بے شک "نہیں ہے دنیا تنگ مردان جفاکش کےلیے۔"