نیکی کردریا میں ڈال! عطا ء الحق قاسمی

آج پھر وہی دن ہے۔ جب کالم لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ یہ کیفیت مجھ پر روز طاری نہیں ہوتی۔ صرف ہفتے میں سات دن طاری ہوتی ہے۔ آج جب میں سو کر اٹھا تو ناشتہ کے دوران‘ اور یہ ناشتہ بھی میں ہفتے میں صرف سات دن ہی کرتا ہوں، خیال آیا، بلکہ سچی بات ہے کہ خود پر پیار آیا کہ میں کس قدر نیک، مہذب اور رحمدل انسان ہوں۔ مجھے اپنی یہ خوبیاں مختلف حوالوں سے یاد آئیں مثلاً جب گزشتہ روز رضیہ نے گھر اطلاع دی کہ اس کا بچہ بیمار ہے اور وہ آج کام پر نہ آ سکے گی۔ یہ سن کر میرے اندر کا انسان جاگا اور میں نے پیغام لانے والے سے کہا ’’کوئی بات نہیں وہ آج چھٹی کرلے اور آج کی چھٹی کی تلافی پرسوں ڈبل ڈیوٹی کی صورت میں پوری کر دے‘‘۔

میں نے اس نیکی کا اجر کسی سے کیا لینا ہے، اللہ ہی دے تو دے۔ اسی طرح ایک دن بازار سے گزرتے ہوئے میں نے ایک نابینا فقیر کو دیکھا جس کے کشکول میں ڈھیر سارے پیسے تھے۔ میں چاہتا تو اس کشکول میں اپنا حصہ ڈالنے کے بہانے پہلے سے پڑی رقم کشکول میں سے نکال لیتا مگر پھر خوفِ خدا آڑے آیا اور یہ بھی کہ قیامت کے روز فرشتے مجھے گرز سے ماریں گے چنانچہ میں نے دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگی اور اللہ کا شکر بھی ادا کیا کہ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے ہی میری نظر اس کیمرے پر پڑ گئی تھی جو حکومت نے سڑکوں پر لگا رکھے ہیں!

میں جب بازار سے گزرتا ہوں اور قصائی کی دکان پر میری نظر پڑتی ہے تو میری آنکھیں آنسوئوں سے بھر جاتی ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ قصائی نے بکرے کی کھال اتار کر کنڈے سے لٹکایا ہوتا ہے اور پھر وہ اس کی رانیں اور دیگر اعضا کاٹ کر ایک سائیڈ پر رکھ دیتا ہے۔ گاہک آتے ہیں، کوئی ران کا گوشت مانگتا ہے، کوئی پٹھ کا اور کوئی اپنے کسی پسندیدہ عضو کا۔ قصائی نے اپنے پائوں کی انگلیوں میں چھری پھنسائی ہوتی ہے اور بوٹیاں کرکے گاہک کے سپرد کر دیتا ہے۔ جو قیمے کا گاہک ہوتا ہے اس کے لئے بکرے کے کسی عضو کا قیمہ کرکے اسے تھما دیا جاتا ہے۔ مجھ سے یہ ظالمانہ منظر دیکھا نہیں جاتا چنانچہ میں قصائی سے کہتا ہوں کہ وہ ایک ران کاٹ کر میرے حوالے کر دے۔ میں زیادہ دیر یہ غیر انسانی منظر نہیں دیکھ سکتا۔ گھر پہنچ کر بھی کھانے کے دوران گوشت چباتے ہوئے بار بار یہی خیال آتا ہے کہ ہم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ایک زندہ بکرے کو پکڑتے ہیں، اس کی گردن کاٹتے ہیں اور اس کی کھال اتارتے ہیں اور پھر اس کی بوٹیاں کر کے کھا جاتے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جنہیں یہ خیال آتا ہو گا، میں کتنا رحمدل ہوں!

یہ جو ابھی الیکشن ہوئے ہیں اس دوران تمام بڑی پارٹیوں کے امیدوار میرے گھر آئے اور نوٹ کے بدلے ووٹ کے طلبگار ہوئے۔ میں نے انہیں صاف کہہ دیا کہ میں ووٹ کو قوم کی امانت سمجھتا ہوں چنانچہ میں ووٹ اپنے ضمیر کے مطابق ڈالوں گا چنانچہ وہ مایوس لوٹے۔ ایک دن ایک امیدوار اپنے ہیلی کاپٹر پر آیا جو اس نے میرے گھر کے برابر والے خالی پلاٹ میں لینڈ کیا۔ وہ بھی ووٹ کا طلبگار تھا۔ میں نے اسے بھی یہی جواب دیا کہ ووٹ قوم کی امانت ہے آپ میری معذرت قبول فرمائیں۔ اس نے پوچھا آپ کا ووٹ قوم کے کتنے افراد کی امانت ہے؟ میں نے اپنے سارے خاندان کے افراد گن کر اسے بتا دیئے۔ اس پر اس نے ایک بریف کیس میرے حوالے کیا اور کہا اس میں آپ کی قوم کے افراد کی امانت ہے۔ یہ ان کے سپرد کر دیں۔

اس پر میرا دل مطمئن ہو گیا اور یہ سوچ کر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے بریف کیس رکھ لیا کہ میں قوم کی امانت میں خیانت کا مرتکب نہیں ہوا۔ کاش ہماری قوم کے باقی افراد بھی اپنے ووٹ کو قوم کی امانت سمجھا کریں۔ اس کے بعد ایک اور صاحب میرے پاس تشریف لائے اور ووٹ کے طلبگار ہوئے۔ اس وقت مجھے اپنی حق گوئی پر بہت فخر محسوس ہوا جب میں نے انہیں بتایا کہ میں ووٹ کا وعدہ کسی اور سے کر چکا ہوں۔ بولے: چھوڑیں صاحب وعدے سے کیا ہوتا ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر وعدے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تو میرا وعدہ ہے کہ میں اپنا ووٹ آپ کو دوں گا۔ وہ بہت بھولے بھالے شریف انسان تھے۔ انہوں نےمیرا شکریہ ادا کیا اور مٹھی بھر مصافحہ کرکے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے کے بعد میں نے اپنی مٹھی کھولی تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میرے سچ بولنے کا اجر موقع پر ہی دے ڈالا!

یہ چند ایک واقعات ہیں جو میں نے آپ سے شیئر کئے ہیں ورنہ الحمدللہ میری ساری زندگی رحمدلی اور دیانتداری کے ساتھ گزری ہے۔ میں اس قصے کو طول نہیں دینا چاہتا کہ مجھے ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ والا محاورہ یاد ہے ورنہ ایسی سینکڑوں نیکیاں ہیں جو میں کرکے دریا میں ڈال دیتا ہوں۔ یہ جو کبھی کبھی سیلاب آتے ہیں یہ میری ان نیکیوں ہی کا نتیجہ ہیں جو میں کرکے دریا میں ڈال دیتا ہوں۔ اللہ مجھے معاف کرے میں اپنی چند ایک نیکیوں کا ذکر کرکے ان کا ثواب ضائع کر بیٹھا۔ ان شاء اللہ آج کے بعد میں کبھی اپنی کسی نیکی کا ذکر نہیں کروں گا۔