مشتری ہوشیار باش۔۔۔ ڈاکٹر صفدر محمود

سیانے کہتے ہیں کہ کالم ہلکا پھلکا ہونا چاہئے تاکہ قاری آسانی سے پڑھ جائے اور الفاظ کی گدگدی سے محظوظ بھی ہوتا رہے۔ اخباری کالموں کے ’’بانیان‘‘ ایسے ہی کالم لکھتے تھے۔ نمونے کے طور پر میں نے محترم سالک صاحب، چراغ حسن حسرت، حاجی لق لق، مجید لاہوری، ابن انشاء، رئیس امروہی اور وقار انبالوی کے کالم اور قطعات دیکھے۔ انگریزوں کے دور میں اظہار پر اتنی پابندیاں تھیں کہ بقول شاعر ’’پتا بھی کھڑکتا ہے تو دل ہلتے ہیں‘‘ چنانچہ حبس کی ماری مخلوق کو زیر لب مسکرانے کی اشد ضرورت تھی اور لکھاری بھی بین السطور لکھنے پر مجبور تھے۔ ویسے بھی ہلکا پھلکا لکھنے کے لئے انسان کا اپنا ہلکا پھلکا ہونا بھی ضروری ہے اور مزاج میں ’’گدگدی‘‘ کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ ہم نے بعض حضرات کو ہلکا پھلکا لکھنے کی کوشش میں اتنا ہلکا ہوتے پایا ہے کہ پھلکا بھی ان پہ بھاری لگتا ہے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اگر لکھنا مجبوری ہی ٹھہرے تو انسان اپنی افتاد طبع کے مطابق لکھے بقول شاعر؎

شعر کہتے ہو بھائی، کیا کوئی تکلیف ہے

اس مصرعے کی یاد نے مجھے اصل موضوع سے ہٹا دیا ہے کیونکہ میں نے جس ماحول میں یہ اشعار شاعر سے ’’بقلم خود‘‘ سنے اس کی یاد ہی مجھے بھٹکانے کے لئے کافی ہے۔ 1969ء کی ایک خوشگوار شام تھی۔ بسلسلہ ملازمت ٹریننگ کے بعد میری پہلی پوسٹنگ کراچی میں ہوئی تھی۔ چھٹی کے دن اپنے زمانے کے ایک معروف دانشور سے ملنے چلا گیا جن کا نام صیغۂ راز میں رکھنا ضروری ہے۔ ان کے گھر کے چھوٹے سے لان میں گپ شپ ہورہی تھی تو ایک نوجوان حسینہ بازوں میں سفید رنگ کا ’’کتورا‘‘ اٹھائے تشریف لائیں۔ کتورا پنجابی میں کتے کے بچے کو کہتے ہیں۔ یاد آیا اسکول کے زمانے میں میرا ایک کلاس فیلو تھا جس کا سارے اسکول نے نام ’’کتورا‘‘ رکھا ہوا تھا۔ اس دور میں تخلص کو نام کا حصہ بنانے اور کلاس فیلوز کی جانب سے نام رکھنے کا بہت رواج تھا۔ لوگوں میں قوتِ برداشت بھی تھی اور حسِ مزاح بھی پائی جاتی تھی جو ایک طرح سے قناعت اور آزاد زندگی کا تحفہ تھی۔

جب سے یہ خوبیاں عنقا ہوئی ہیں ہمارے اسکول کے طلبہ بھاری بیگوں کے بوجھ تلے دب کر اتنے سنجیدہ ہوگئے ہیں کہ مسکرانا اور کھل کر ہنسنا ان کے نصیب میں نہیں رہا۔ کھیل کود کچھ ٹی وی اور کچھ انٹرنیٹ نے چھین لئے ہیں۔ شامیں انہی مصروفیات کی نذر ہو جاتی ہیں جبکہ ہمارے زمانے میں طلبہ شام کو والی بال، فٹ بال اور کرکٹ کھیلتے تھے اور خوب قہقہے لگاتے تھے۔ شام کے سائے ڈھلتے ہی اور چراغ روشن ہوتے ہی کھانا کھا کر ہم بچوں کے رسائل یا کتابیں پڑھتے سو جاتے تھے۔ ہوم ورک اسکول سے گھر آتے ہی کر لیتے تھے تاکہ فارغ ہو کر شام کو کھیل کود کے لئے وقف کردیں۔ ادبی رسائل اور بچوں کی کتابیں پڑھنے کی وجہ سے تخلص رکھنے، اوٹ پٹانگ شعر و شاعری کرنے اور شخصیت کے مطابق نام (نک نیم) رکھنے کا رواج عام تھا۔ مثلاً مجھے یاد ہے کہ میںنے چھٹی جماعت میں ’’عاصی‘‘ تخلص رکھا تھا جس کا مطلب ہوتا ہے گناہگار حالانکہ کوئی زیادہ گناہ کرنے کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ تربیت ہی کچھ ایسی ہوئی تھی۔ آج کے طالب علم سے تخلص پوچھیں تو وہ فوراً گوگل سے مشورہ کرنے چلا جاتا ہے۔ ہمارے دور میں خالص گھی میں پکا ساگ اور باجرے یا مکئی کی روٹی عیاشی ہوتی تھی، آج کے نوجوان پاکٹ منی بچا کر برگر کھاتے ہیں اور اکثر ڈاکٹروں کے پاس پائے جاتے ہیں۔

اب سمجھ میں آیا کہ یادِ ماضی کیوں عذاب ہوتی ہے۔ بات چھڑی تھی کالموں کے بانیان یا ’’والدوں‘‘ سے اور کراچی کی زلف میں اٹک گئی۔ ہاں تو میں کراچی میں ان معروف دانشور اور شاعر صاحب کے ساتھ بیٹھا شعر و شاعری سے لطف اندوز ہورہا تھا کہ ایک حسینہ کتورا اٹھائے تشریف لے آئیں اور بغیر سلام دعا کے یوں بے تکلفی سے کرسی پر براجمان ہو گئیں جیسے یہ ان کا اپنا ہی گھر ہو۔ صاحب ِخانہ مجھ سے بات چیت کرنے اور شعر سنانے میں اس قدر محو تھے کہ ہم دونوں نے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ ظاہر ہے کہ کوئی خاتون ایسی بے اعتنائی کو برداشت نہیں کرسکتی۔ اتنے میں ایک سفید بالوں والے شاعر صاحب تشریف لے آئے جو بظاہر خالصتاً لکھنوی لگتے تھے اور پان چبا رہے تھے۔ صاحب خانہ نے ان کا استقبال کرتے ہوئے مجھ سے تعارف کروایا تو پتہ چلا کہ وہ مزاحیہ شاعری فرماتے ہیں۔

وہ جھک کر کتورے والی خاتون کو آداب بجا لائے اور بھابھی کہہ کر پکارا تو مجھے علم ہوا کہ وہ صاحب خانہ کی اہلیہ ہیں بلکہ دوسری بیگم صاحبہ ہیں۔ وہ تشریف فرما ہوئے تو بیگم صاحبہ نے نہایت خوشی اور ’’چائو‘‘ سے کتورے پر دست محبت پھیرتے ہوئے ان کو بتایا کہ اس کا نام ٹونی رکھا ہے۔ کسی نے خاتون کی بات پر دھیان نہ دیا تو وہ خاتون جل کر انگارہ ہوگئیں اور زور سے پائوں پٹختے اندر تشریف لے گئیں۔ اتنے میں ایک اور شاعر صاحب لپکتے پان چباتے تشریف لے آئے۔ صاحب خانہ نے لان میں بیٹھے بیٹھے ملازم کو آواز دی کہ ایک کرسی لانا۔ چند لمحے گزرے ہوں گے کہ پہلی منزل کی چھت سے ایک کرسی لہراتی ہوئی لان میں گری جس کا صاحب خانہ نے بالکل نوٹس نہیں لیا کیونکہ وہ ایسی وارداتوں کے عادی لگتے تھے۔ میں نے حیرت زدہ ہو کر اوپر دیکھا تو ان کی بیگم صاحبہ کی آنکھوں سے شعلے لپکتے دیکھے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں سہم گیا لیکن صاحب خانہ تھے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ جس وقت چھت سے کرسی نازل ہوئی عین اس وقت وہ شاعر صاحب لہک لہک کر یہ قطعہ سنا رہے تھے جس کا ایک شعر یاد رہ گیا ہے ؎

شعر کیوں کہتے ہو بھائی، کیا کوئی تکلیف ہے

میں نے اجازت چاہی تو وہ مجھے رخصت کرنے باہر تشریف لائے۔ میں نے کار کا دروازہ کھولا تو وہ مسکرا کر کہنے لگے ارے میاں آج کی واردات سے دل گرفتہ نہ ہونا۔ تم بے دھڑک شادی کرو بلکہ ایک کے بعد دوسری اور تیسری بھی کرو لیکن بیوی کو کبھی ’’کتورا‘‘ پالنے کی اجازت نہ دینا۔ میں لاہور پوسٹ ہوا تو ایک بہت بڑے شاعر سے ملنے گیا جو اورینٹیل کالج لاہور سے پروفیسر ریٹائر ہوئے تھے۔ شام کے دھندلکے میں ان کے گھر پہنچا تو ان کو پریشانی کے عالم میں گھر کے صحن کے کونوں کھدروں میں ہاتھ مارتے دیکھا۔ پوچھا تو فرمانے لگے ’’بیگم کی بلی گم ہوگئی ہے اسے ڈھونڈھ رہا ہوں‘‘۔ یہ محترمہ ان کی دوسری بیگم تھیں۔ یہ حضرات اللہ کو پیار ہو چکے۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو بیویوں کی خدمت کا اجر عظیم عطا فرمائے! دوسری شادی کے خواہش مند حضرات۔ مشتری ہوشیار باش۔