شاہد آفریدی کی اصل غلطی آدھا سچ بتانا ہے- محمد عامر خاکوانی

کرکٹر شاہد آفریدی نے تین بنیادی غلطیاں کیں۔ اس معاملے میں زبان کھولی، جو اس کا شعبہ نہیں۔جس موضوع پر بات کی، اس کا علم نہیں۔تیسراایک حساس معاملے پر بات کرنے سے پہلے مناسب معلومات جمع نہیں کیں۔ ایک سوال پوچھا گیا، جواب نہیں معلوم، معذرت کر لیتا، اس کے بجائے اپنی ترنگ میں جو ذہن میں آیا ، وہ بول دیا۔ اندازہ ہی نہیں کہ وہ سیلبریٹی ہے۔ اس کے منہ سے نکلا ہر متنازع جملہ خبر بن جائے گا۔ویسے ان تینوں غلطیوں سے بڑی غلطی آدھاسچ بولنا ہے۔ اسی سے غلط تاثر قائم ہوا۔ شاہد خان آفریدی کرکٹر ہے، طویل عرصہ کرکٹ کھیلی،پاکستان کو بہت میچ جتوائے ، بڑانام کمایا۔

پاکستانی کرکٹ کے چند مقبول ترین کھلاڑیوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اسے کرکٹ پر بات کرنی چاہیے۔ اس کی کسی رائے سے کرکٹ ماہرین یا شائقین اختلاف کر سکتے ہیں، مگر بہرحال اس کے بات کرنے کے استحقاق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر انہیں سیاست ، عالمی سیاست اور اس خطے کے بڑے ایشوز پر بات کرنا ہے تو ضروربولیں۔پہلے کچھ بنیادی معلومات جمع کر لیں، ایشو کی بریفنگ لے لیں، نزاکتوں، حساسیت کا انہیں علم ہوجائے، پھر بے شک اپنی جچی تلی رائے دیں۔ نامکمل، ادھوری ، ناپختہ بات سے وہ پاکستان مخالف غیر ملکی میڈیا کے ہاتھوں استعمال ہوئے،اپنے بہت سے ہم وطنوں، مداحین کی دل آزاری کی۔ شاہد آفریدی والے معاملے میں بات صرف اتنی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

ایرر آف ججمنٹ ، روانی میں کہی گئی نامکمل، ادھوری بات،’’پاکستان سے اپنے چار صوبے نہیں سنبھالے جاتے‘‘ جیسا ایک نامناسب جملہ ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ کوئی احمق ہی ہوگا جو شاہد آفریدی کی حب الوطنی پر شک کرے ۔ شاہد آفریدی کے کھیلنے کے انداز (اندھا دھند ٹلے بازی)سے کسی کو اختلاف ہوسکتا ہے، مگروہ ہمیشہ ملک اور قوم کے لئے کھیلا، جان لڑا دی ۔ ان چند کھلاڑیوں میں سے ایک ،جن پر کبھی میچ فکسنگ کا دھبہ نہیں لگا۔ کوئی جھوٹا الزام تک نہیں لگا سکا۔ہمیشہ ہر مثبت ایجنڈے میں شامل ہونے والا کھلاڑی۔ فاٹا میں پولیو کے حوالے سے مہم ہو یا پھر وزیرستان میں آپریشن کے بعد فضا نارمل کرنے کے لئے کھیلا جانے والا کرکٹ میچ، شاہد آفریدی ہمیشہ پیش پیش رہا۔

ہماری زندگی میں بہت سے خوشگوار لمحات شاہد آٖفریدی کے مرہون منت ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کا کون سا شائق ہوگا جو ایشیا کپ کے بھارت کے خلاف میچ میں بائولرایشون کو لگائے گئے فاتحانہ چھکے بھول سکے؟ چند منٹوں میں آفریدی نے پاکستانیوں کو ہیرو اور بھارتیوں کو زیرو کر دیا۔ شاہد آفریدی سے متعلق ناخوشگوار ، متنازع واقعے کا بیان یہاں ختم ہوا، مگر اس سے کئی اور باتیں آشکار ہوئیں۔ شاہد آفریدی کی ویڈیو دیکھنے کے بعدمیں نے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے فوری پوسٹ کی تو دلچسپ ردعمل آیا۔ جہاںخاصے لوگوں نے کرکٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا ، وہاں کچھ لوگوں نے ان کی بات کی تائید کی۔ بعض نے حمایت کرتے ہوئے دلچسپ دلائل بھی دئیے۔پوسٹ پر آنے والے کمنٹس پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ جس طرح شاہد آفریدی نے ادھوری، نامکمل معلومات پر یہ رائے دی، اسی طرح کی رائے ہمارے بعض سوشل میڈیا صارفین کی بھی ہے، جو کشمیر کے پورے ایشو کو نہایت سادگی سے دیکھتے اور غلط مفروضوں کو سچ سمجھ بیٹھے ہیں۔آدھا، ادھورا سچ اگر بیان ہوتا رہے تو پھر مغالطوں اور غلط فہمیوں کی فصل ہی کاشت ہوگی۔

صاحبو!الفاظ اور جملوں کا انتخاب آپ کے بیانیہ کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔ آپ یہی دیکھ لیجئے کہ’’ کشمیریوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے‘‘والے جملہ کا مختلف تاثر پیدا ہوگا ، لیکن اگر اس جملے کو درست انداز میں یوں لکھیں کہ ’’بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے ‘‘تو بات زیادہ بامعنی، درست ، گہری اور ٹو دی پوائنٹ ہوجاتی ہے۔ امر واقعہ بھی یہی ہے کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں پر بے پناہ مظالم ڈھا رہی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی پولیس اور فوج نے جس بے رحمی، سفاکی اور وحشیانہ انداز میںنشانہ بنایا، اس کی دس فیصد تفصیل بھی سامنے نہیں آ سکی۔ مقبوضہ کشمیر کے بیشتر علاقے خود کشمیری صحافیوں کے لئے نو گو ایریاز بنے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کلبھوشن جادھو سے پہلے کتنے بھارتی جاسوس پکڑے گئے؟

عالمی میڈیا یا ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے اداروں کے نمائندے تو خیر وہاں رسائی پا ہی نہیں سکتے۔ کشمیری نوجوانوں پر ٹارچر کے ایسے انوکھے ،خوفناک طریقے ایجاد کئے گئے کہ بعض یورپی ڈاکٹر جنہیں اتفاق سے ان مقتولین کی پوسٹ مارٹم رپورٹس دیکھنے کا اتفاق ہوا، وہ ششدر رہ گئے۔ انہوںنے کہا کہ تاریخ میں اس نوعیت کے تشدد کی مثال تو نازیوں کے ہولو کاسٹ مظالم میں بھی نہیں ملتی۔ بہت سے نوجوانوں کی پاخانے والی جگہ (مقعد)سے دہکتی سلاخیںاتنا اندر تک داخل کی گئیں ، جن کی وجہ سے پھیپھڑوں کے ٹکڑے منہ کے ذریعے باہرنکل آئے۔اوربہت کچھ ایسا جو لکھنے کا حوصلہ بھی نہیں۔ شاہد آفریدی سے یہی شکوہ ہے کہ بات کہنی ہے تو مکمل کہیں، پورا سچ کہ بھارت کشمیریوں پر بے پناہ ظلم کررہا ہے، بولتے کہ یہ ظلم رکنا چاہیے وحشت کے اس کھیل کو اب ختم ہونا چاہیے ۔

’’کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہے‘‘ جیسا جنرلائزڈ جملہ بولنا آدھا سچ ہے۔ کشمیری تو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انگلینڈ میں برمنگم اور نصف کے قریب بریڈ فورڈ شہر دراصل میر پور ، آزاد کشمیر سے جانے والوں سے بھرا ہے۔ وہ سب کشمیری ہیں۔ ریاست جموں وکشمیر کا ایک حصہ آزاد جموں وکشمیر (AJK)کے نام سے موجود ہے۔ان پر ظلم نہیں ہو رہا۔ مظلوم تو مقبوضہ کشمیر کے کشمیری ہیں، جبکہ ظلم بھارتی ریاست کر رہی ہے۔ کشمیریوں پر ظلم کی جنرلائزڈ بات کر کے ہم ظالم کے چہرے کو چھپا دیتے ہیں ۔ ہمیںاپنے اندر اخلاقی جرات پیدا کر کے مکمل بات کہنی چاہیے ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے، اسے ملنا چاہیے تو یہ بھی ادھوری بات ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہونے کے باوجود ایک بڑے مغالطے کو جنم لیتی ہے۔

کشمیر کشمیریوں ہی کا ہے۔ تنازع کشمیر کی مگر ایک تاریخ ہے اورکسی قانونی اصول کے تحت ہی اس پر بات ہوسکتی ہے۔ کشمیرتقسیم برصغیر کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور وہ وہاں کے عوام کی رائے سے فیصلہ نہیں چاہتا۔ پاکستان کا موقف اصولی اور معقول ہے کہ تقسیم کے اصول کے مطابق جس طرح باقی ریاستوں نے بھارت یا پاکستان سے کسی ایک کا انتخاب کیا، اسی طرح کشمیریوں کو بھی آزادانہ طور پر یہ حق ملنا چاہیے۔ اگر کشمیری پاکستان کے ساتھ آئیں توبسم اللہ، ان کا خیرمقدم۔ اگر کشمیری (مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر) بھارت کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں تو ہم ان کی اس رائے کا احترام کریں گے۔ اس لئے پاکستانی اور بھارتی موقف میں بہت فرق ہے۔ بھارتی ڈھٹائی پر اترے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر اب بھارت کااٹوٹ انگ ہے، اسے کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا، (چاہے اس کے عوام جو مرضی کہتے رہیں)۔

پاکستان کا موقف اس کے بالکل مختلف اور مبنی بر انصاف ہے کہ کشمیرصرف کشمیریوں کا ہے، انہیں ہی یہ حق حاصل ہے کہ برصغیر کی دیگر ریاستوں کی طرح پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ ایک مغالطہ جس کا شاہد آفریدی بھی شکار لگے کہ بھارت میں مقبوضہ کشمیر پر مظالم کی ایک وجہ ہمارا یعنی پاکستانیوں کا کشمیر پر حق کا دعویٰ ہے۔ یہ بھی ایک مغالطہ ہے۔نائن الیون سے پہلے کی دنیا میں یہ بات کسی حد تک درست ہوسکتی تھی ،جب کشمیری جہادی تنظیموں کو پاکستان سے ’’اخلاقی‘‘مدد مل جاتی تھی۔ نائن الیون کے بعد سب کچھ ختم ہوگیا۔ پورا منظر ہی بدل چکا ہے۔کشمیری عسکریت پسندی میں آج پاکستان فریق نہیں۔ بھارت میں پچھلے دس برسوں سے جو آزادی کی سول تحریک اٹھی ہے، اس کے بارے میں خود بھارتی میڈیا اور عالمی میڈیا لکھ رہا ہے کہ یہ سو فی صد مقامی تحریک ہے، باہر سے سپانسر نہیں اور مقبوضہ کشمیر کے معروف ، معزز گھرانوں کے نوجوان اس کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اپنے جوانوں کی لاشیں لے جاؤ - احسان کوہاٹی

یہ تحریک بھارت کے اندرسے پھوٹی ہے۔بھارتی فوج کی زیادتیوں، لڑکیوں کے گینگ ریپ، قتل جیسی گھناونی وارداتوں کے بعدکشمیریوں کا احتجاج شروع ہو۔بڑھتے ظلم نے جس میں مزید آگ بھر دی۔ یہ ایک ایسا سچ ہے، جسے بیان نہ کرنا بذات خود ظلم ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کا ذمہ دار بھارت ہے، پاکستان نہیں۔ ایسا نہیں کہ ہماری وجہ سے ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ہم اگر خود مختار کشمیر کی بات کر دیں، تب بھی اس بحران نے تھمنا نہیں۔ یہ تحریک دراصل ہمارے کہنے پر شروع ہی نہیں ہوئی جو ہماری وجہ سے ختم ہوجائے گی۔ کشمیری ماہرین تو کہتے ہیں کہ شائد حریت کانفرنس بھی اس تحریک کو کنٹرول نہیں کر سکتی، یہ خالصتاً عوامی تحریک ہے ۔ یہ بات شاہد آفریدی اورمغالطوں کا شکار ان جیسے دوسرے لوگوں کو سمجھنی ہوگی۔ بھارت میں رہنے والے کشمیریوں کواچھی طرح علم ہے کہ بھارت سے آزادی ملنا آسان نہیں بلکہ تقریبا ناممکن ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ بدلے ہوئے عالمی حالات ایسے ہیں نہ پاکستان میں اتنی عسکری قوت کہ وہ بذور مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرا سکے۔ اس کے باوجود کوئی تو وجہ ہے جو انہیں دبنے کے بجائے کھڑے ہونے اور سر بلند کر کے بھارتی فوجیوں کی گولیوں کے سامنے چھاتی کرنے پر مجبور کرتی ہے؟یہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی حماقتیں، شدت پسند ہندوازم ، بھارتی ہندواشرافیہ کے تعصب اور بغض کے ساتھ کشمیریوں پر توڑے جانے والے بے پناہ مظالم ہیں۔ غالب نے کہا تھاع مشکلیں مجھ پر پڑی اتنی کہ آساں ہوگئیں …یہ بات مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کے بارے میں صادق ہوتی ہے۔ ان کی عزت نفس اتنی شدت سے کچلی گئی، جسم زخمی اور روح چھلنی چھلنی ہوئی کہ اب ان کے لئے غلامی کی زندگی بدتر اورموت قبول ہے۔۔ وہ سوچ سمجھ کر بہادری سے موت کا استقبال کر رہے ہیں۔

جب گولیوں کی بارش میں وہ پاکستانی جھنڈا لہرا سکتے ہیں تو اپنا خود مختار کشمیر کا جھنڈا کیوں نہیں بلند کر سکتے؟ کس نے انہیں روک رکھا ہے؟ ایک مرتے ہوئے شخص کو کیا مصلحت روک سکتی ہے؟سچ یہ ہے کہ ہماری طرف کے ، آزاد کشمیر کے لوگ کنفیوز ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی جدوجہد کا یہ درست اندازہ نہیں لگا رہے، بھارتی فوج سے نبردآزما کشمیری بالکل بھی کنفیوز نہیں ، وہ یکسوئی سے اپنے لئے فیصلہ کر چکے ہیں۔ ہم اگر اپنی بزدلی، تھڑدلی اور مصلحتوں کی وجہ سے ان کا ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم ان کی اس جدوجہد ، قربانیوں کی توہین تونہ کریں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.