سودی بینکاری منی لانڈرنگ‘ حکومتی قرضے- اوریا مقبول جان

دنیا بھر کا جدید ‘ سیکولر ‘ لبرل اور مغربی تہذیب کا پرستار طبقہ اس قدر متعصب اور جانبدار ہے کہ اس جدید مغربی تہذیب کے ہر ادارے کی بڑی سے بڑی برائی پر چپ سادھ لیتا ہے۔ وہ اس برائی کو افراد کی بددیانتی اور چوری پر محمول بتاتا ہے‘ لیکن بحیثیت مجموعی نہ اس سسٹم کو برا کہتا ہے اور نہ اس ادارے کو جو اس سسٹم نے جنم دیا ہے۔ آج کی جدید جمہوری سیکولر‘ لبرل اور کارپوریٹ معیشت جن بنیادوں پر قائم ہے وہ 1694ء میں بنک آف انگلینڈ کے چارٹر سے جنم لینے والا سودی بینکاری نظام ہے۔ اس پورے نظام نے آکٹوپس کی طرح پوری دنیا کی حکومتوں‘ کاروبار زندگی اور معیشتوں کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

ایک عام آدمی تو اس بینکاری نظام سے صدیوں پہلے معاشرے میں موجود سود خور سرمایہ داروں کے شکنجے میں تھا‘ لیکن جدید بینکاری نے سود کو سرکاری سرپرستی میں جس طرح سکہ رائج الوقت بنا کر ہر ملک کے بچے بچے سے سود وصول کرنے کا راستہ نکالا وہ اس سارے سودی نظام کے قائم کرنے والوں کی عیاری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یورپ جس کی تاریخ جنگوں سے عبارت ہے، جہاں پوری صدی پر محیط جنگیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ ان جنگوں میں سے ایک جنگ ’’بڑے اتحاد کی جنگ‘‘ War of the Grand Alliance کہلاتی ہے۔ یہ آٹھ سالہ جنگ جو 1689ء میں شروع ہو کر 1697ء میں ختم ہوئی‘ فرانس کے بادشاہ لوئی15کے توسیع پسندانہ حملوں کے خلاف برطانیہ اور ولندیزی متحدہ صوبہ جات United Provinces of Nether Lands کے باہمی اتحاد کے ساتھ تھی۔

اس جنگ میں انگلینڈ کو جب سرمائے کی ضرورت پیش آئی تو یہودی سرمایہ داروں کا سرخیل چارلس مونٹیگو Charles Montague اور اس کے ساتھیوں نے 1692ء میں حکومت برطانیہ کو قرض فراہم کیا اور جس طرح آج کل آئی ایم ایف شرائط عائد کرتا ہے ویسے ہی یہ شرط عائد کی گئی کہ جو قرضہ حکومت لے رہی ہے‘ زر ضمانت کے طور پر شراب کی تیاری اور فروخت پر جو ٹیکس حاصل کیا جاتا ہے اس سے قرضے کی اصل زر اورسود ادا کیا جائے گا۔ یہ انسانی تاریخ کا پہلا سودی قرضہ تھا جو کسی حکومت نے حاصل کیا اور آج پوری دنیا اس جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس قرضے کو ایک نظام میں جکڑنے کے لیے برطانوی پارلیمنٹ میں Tonnage Act 1694 منظور ہوا جس کے تحت پارلیمنٹ نے جہاں بادشاہ کو شراب کے ڈرم برآمد کرنے والے جہازوں اور عام صارف کے لیے فروخت ہونے والی بوتلوں پر ٹیکس لگانے کی منظوری دی، وہیں بنک آف انگلینڈ کے قیام کی 199 سالہ منظوری بھی دی گئی یعنی 1694 سے لے کر 1892ء تک یہ ایک کارپوریشن کے طور پر کام کرے گا اور اس کے پرائیویٹ کنٹرول کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔

یوں پوری برطانوی قوم کا بچہ بچہ مقروض ہو گیا اور بغیر کچھ جانے بوجھے وہ ٹیکس ادا کرنے لگا جو اس بنک کو سود کے طور پر ادا کئے جاتے تھے یعنی سرکاری ڈنڈے اور سرپرستی سے عام آدمی کو اس کی مرضی کے غیر مقروض بنایا گیا اور پھر اس کی مرضی کے بغیر اس سے سود بھی وصول کیا جانے لگا۔ اس دن سے آج تک پوری دنیا اس سودی گھن چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ان بینکاروں نے اس سودی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اور منصوبے پر کام شروع کیا۔ بنک کے قیام سے پہلے دنیا کے ہر ملک میں ایک ٹکسال (Mint) ہوتا تھا جس میں سونے اور چاندی کے سکے ڈھالے جاتے تھے۔ چارلس مونٹیگو جس کو اس وقت برطانیہ نے اپنے بہت بڑے خطاب ارل آف ہیلی فیکس Earl of Halifax سے نواز دیا تھا، یہ خطاب پوری تاریخ میں صرف چار افراد کو دیا گیا ہے اور چارلس مونٹیگو ان میں پہلا تھا اس کی زیر کفالت دنیائے سائنس کا بہت بڑا کردار آئزک نیوٹنIssac Newton بھی تھا جس کو اس نے اپنے سرمائے کی مدد سے بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔

نیوٹن کی سوتیلی بہن کا انتقال ہوا تو اس کہانی میں ایک دلفریب و دلربا کردار کی آمد ہوئی جو نیوٹن کی بھانجی کیتھرین بارٹون Catherine Barton تھی۔ یہ اپنے حسن و شباب ‘ ناز و انداز اور دلفریبی کی وجہ سے شمع محفل بن گئی اور پھر چارلس مونٹیگو نے اسے اپنے گھر کی نگہداشت کے لیے رکھ لیا۔ جب کہ مؤرخین اسے اس کی کنیز Mistress بتاتے ہیں۔ چارلس مونٹیگو نے اس خاتون کے رکھ رکھاؤ اور تہذیب و شائستگی سے مزین خوبصورتی کو بہت استعمال کیا اس نے دونوں کو لندن بھیجا جہاں نیوٹن کے سائنسی علم کی دھاک اور کیتھرین کے حسن و جمال نے تمام ارباب اختیار کو گرویدہ بنا لیا۔ ایسے میں چارلس مونٹیگو کی سفارش نے اپنا کام کر دکھایا اور فزکس کے اس سائنس دان کو ٹکسال کا سربراہ (Master of Mint) بنا دیا گیا۔ یہ تینوں لندن کے مشہور کٹ کیٹ Kit kat کلب کے ممبر بھی بن گئے جو بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ سیاسی اور حکومتی افراد پر غلبہ حاصل کیا جائے۔ یہاں سے بینکاری اور سودی نظام کے عیارانہ منصوبے کا آغاز ہوا۔

صدیوں سے انسانوں نے چاندی اور سونے کے سکوں کے درمیان ایک شرح مقرر کی تھی اور وہ یہ تھی کہ ایک سونے کا سکہ چاندی کے بیس سکوں کے برابر ہے لیکن نیوٹن نے اس شرح کو بدل دیا اور اسے ایک کے مقابلے میں 15کر دیا۔ یوں مارکیٹ میں سونا سستا اور چاندی مہنگی ہو گئی اور ان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی اختیار استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب بینک آف انگلینڈ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی طرف سے کاغذ کے نوٹ جاری کر سکے گا جسے Promissory Note کہتے تھے۔ بینکوں کے پاس لوگ سونا رکھتے اور وہ اس کے بدلے میں یہ کاغذی نوٹ جاری کرتے۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ردوبدل شروع ہوا تو بازار میں کاغذ کا نوٹ سکہ رائج الوقت بننے لگا۔ ایک ایسا سکہ جس کی بظاہر کوئی قدرو قیمت نہ تھی ایک کاغذ پر دس سے لے کر پانچ ہزار تک جو چاہے لکھ دو وہی قیمت ہے جس کے بدلے کسی سے جو چاہے خرید لو۔ چالاکی ‘ عیاری ‘ مکاری‘ حسن‘ شباب اور عشوہ و ادا کے اس کھیل سے جو سودی نظام مرتب ہوا‘ آج وہ دنیائے اقتدار کا اصل حاکم ہے۔

دنیا بھر میں پینتالیس ہزار کارپوریشنیں ہیں جنہیں پانچ سو بنیادی (Core) کارپوریشنیں کنٹرول کرتی ہیں اور انہیں دنیا میں موجود بائیس بنک اسی مصنوعی ‘ جعلی ‘ کاغذی کرنسی کے ہیر پھیر سے سرمایہ فراہم کرتے ہیں، یہی کاغذی سرمایہ پارٹیوں کو الیکشن فنڈ دیتا ہے یہی بینکاری نظام ہے جو دنیا کے چور حکمرانوں کی لوٹی ہوئی دولت کو تحفظ دیتا ہے۔ یہی حکومتوں کو قرض دیتا ہے اور ان کی قوت سے عوام پر ٹیکس لگا کر زبردستی سود وصول کرواتا ہے۔ یہ نظام ڈوبتا ہے تو کروڑوں کھاتے داروں کا سرمایہ ڈوب جاتا ہے۔ صرف دس سال پہلے 2008ء میں عام لوگوں کے کئی سو ارب ڈالر ڈوب گئے اسی بددیانت ‘ چور بازار اور سود خور بینکاری نظام کی وجہ سے قلفی والے‘ ریڑھی والے ‘ ویلڈر اور دیگر لوگوں کے اکائونٹ سے اربوں روپے برآمد ہوتے ہیں اور یہ سودی نظام اس ساری چور بازاری کو راستہ بھی دیتا ہے اور ان کا تحفظ بھی کرتا ہے۔ دنیا بھر کا جدید سیکولر ‘ لبرل‘ مغربی تہذیب کا پرستار طبقہ کس قدر متعصب ہے کہ وہ ان برائیوں‘ چوریوں اور ڈاکوئوں کا ذمہ دار زرداری‘ نواز شریف‘ پنوشے‘ مارکوس کو بتاتے ہیں لیکن کوئی اس سودی نظام کو گالی نہیں دیتا۔ اگر یہ سودی بنکاری نظام نہ ہوتا تو کیا ایسے منی لانڈرنگ ہو سکتی تھی ۔ ایسے سوئس اکائونٹس کھل سکتے تھے۔ ایسے حکمران اپنی چوریاں چھپا سکتے تھے۔ لیکن کوئی سود بینکاری کو برا نہیں کہے گا کہ یہ ان کی جمہوری سیکولر‘ لبرل معاشرت کو سرمایہ فراہم کرتا ہے۔