اسلام اور لبرل ازم؛ پیراڈائم کا مسئلہ - انس اسلام

ایک سائل کہتے ہیں: لبرل اسٹیٹ مسائل بتانے کی آزادی بھی دیتی ہے، سننے والے باقاعدہ جاب پر ہوتے ہیں، اسٹیٹ انھیں سننے کےلیے ہی رکھتی ہے، اور مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ فورسز، ٹیمیں اور این جی اوز بھی بناتی ہے۔ اسلام کا بھی یہی طریق کار ہے، اور جمہوریت اسی چیز کو کہا جاتا ہے۔

عرض کیا؛ اسلامی و شرعی اسٹرکچر ایسا بالکل نہیں ہوتا، جیسا تصور آپ کا اسلامی علمیت کے جدید شارحین نے بنا رکھا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ لبرل ازم مسائل کے اسباب و عوامل ہی کو ختم کردے؟ کیونکہ لبرل اسٹیٹ تو اُنھی اسباب و افعال و اعمال و حرکات پر کھڑی ہوتی ہے۔ جو مسائل کی حقیقی جڑ اور بنیاد ہوتے ہیں، اور وہ عوامل دنیا کی چوبیس تہذیبوں میں فساد فی الارض اور جملہ خرابیوں کی باقاعدہ وجہ رہے ہیں۔ قرآنِ مجید اُن اسباب سے بھرا پڑا ہے، اور ان کے نتائج بھی واضح کر چکا ہے۔ قوموں اور انبیاء کے تذکرے کوئی قصّے کہانیاں تھوڑی ہیں؟ لہذا؛ جن بنیادوں پر جدید جمہوری ریاستیں کھڑی ہیں، اسلام اُن بنیادوں پر اپنی عمارت قطعاً نہیں رکھتا، نتیجتاً اسلام میں وہ وجوہات اور اسباب و عوامل ہی ناپید ہوتے ہیں کہ جن محرکات کے ذریعے دنیا دکھوں کا گھر اور مسائل کا شکار ہوتی ہے۔ اسے اسلامی علمیت میں ہم مقاصدِ شرعیہ کے اصطلاح سے بھی پکارتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک لبرل اسٹیٹ مقاصدِ شرعیہ کو پورا کرتی ہے؟ یا یہ کہ کرسکتی ہے؟
ہمارا تو ماننا ہے، بلکہ ہمارا اس حقیقت پر مکمل ایمان ہے کہ آج کے دن سے قیامت کے وقت تک کتنے ہی اچھے حکمران آجائیں، مسائل ختم ہونے کے بجائے، بڑھتے ہی چلے جائیں گے، کیونکہ لبرل ازم ہی مسائل کی جڑ ہے، جو کہ فریڈم، ایکویلٹی اور پراگریس، جی تین جاہلانہ ایمانیات پر اپنی عمارت استوار کرتا ہے۔ کیا اسلام اِن تین عقائد کا نام ہے؟ قطعاً نہیں۔ اسلام کی عمارت جن تین بنیادوں پر اٹھائی جاتی ہے، وہ ہے؛ اللہ، رسول اور آخرت پر ایمان۔

یہ بھی پڑھیں:   ہندومت کی وسعت قلبی کے پروپیگنڈے کی حقیقت - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

یہ دو باہم متصادم و متضاد پیراڈائم ہیں، آپ جس پیراڈائم کو اختیار کریں گے، اس کے اپنے ذاتی نتائج ہوں گے، اس کا اپنا اسٹرکچر اور فریم ورک ہوگا۔ اسلام صرف ان مسائل کا ذمہ دار ہے جو اس کے اپنے پیراڈائم میں پیدا ہوجائیں، اسلام ان مسائل کی قطعاً ذمہ داری نہیں لیتا جو کسی اور پیراڈائم نے پیدا کر رکھے ہوتے ہیں۔ بلکہ اسلام سب سے پہلے اُن بنیادوں کا، اُن اسباب کا خاتمہ کرتا ہے، جو مسائل کی باقاعدہ وجہ ہوتے ہیں۔

ظاہر بات ہے؛ جب اسلام حاکمیت کی حیثیت میں ہوگا، تب ہی ایسا کرسکے گا؟ محض بیانات اور باتوں سے تو دنیا کا کوئی بھی ڈسکورس غالب نہیں آیا، اور نہ ہی آسکتا ہے۔ ہر پیراڈائم صاحبِ اقتدار ہو کر ہی اپنا ورک کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ عصرِ حاضر حزب الشیطان کی حاکمیت کا عصر ہے، تمام مسائل کا ذمہ دار یہ خود ہے اور اس کے پاس مسائل کا حل بھی نہیں۔ سوائے اس کے کہ یہ مسائل بتانے کی آزادی دیتا ہےٕ، مسائل سننے والے انسٹی ٹیوشنز کھڑے کرتا ہے، مسائل کے حل کیلئے فورسز بنا کر فارغ ہوجاتا ہے۔ ہر پانچ سال بعد کنویں میں سے دو چار ڈول نکال کر دکھا دینے کا عمل جاری رکھتا ہے۔

کتے کو باہر کیا نکالنا؟
کتا موجود رکھنا ہی تو لبرل ازم کہلاتا ہے۔