فلسطین، اسرائیل اور ہم، حل کیا ہے؟ آصف محمود

اسرائیلی تسلط سے نبٹنے کے تین ممکنہ راستے تھے : جنگ ، انتفاضہ اور سفارتی دباؤ ۔ یہ تین راستے استعمال کیے جا چکے ۔ سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا کو اب کیا کرنا چاہیے ؟ کیا ہمیں اپنے اپنے گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ عافیت کی زندگی گزارتے ہوئے فلسطینیوں سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ شاباش بہادرو ، تم حق پر ہو ایک ایک کر کے کٹتے رہو اور اپنے بچوں کے لاشے اٹھاتے رہو ۔ ہم میلوں دور سال میں کبھی ایک آدھ مرتبہ تمہاری بہادری پر دو چار سیکنڈ کا خراج تحسین پیش کر دیا کریں گے یا ہمیں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہے کہ اسرائیلی مظالم اور درندگی کے شکار بے بس فلسطینیوں کے لیے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں ۔

جنگ سے ہمیں کیا ملا ؟ یہ حقیقت بہت اچھی طرح جان لی جانی چاہیے ۔ 1947 میں جب اقوام متحدہ کی جنرل سمبلی نے فلسطین کو تقسیم کیا تو اس وقت فلسطین کا صرف ساڑھے چھ فیصد رقبہ یہودیوں کے پاس تھا جو کچھ مسلمانوں سے اونے پونے داموں خریدا گیا اور کچھ کمشنر نے جبری طور پر چھین کر یہود کے حوالے کیا اور ان کی آباد کاری کی ۔ لیکن جنرل اسمبلی نے فسلطین کا قریبا 55 فیصد رقبہ یہودیوں کو دے دیا ۔ مسلمانوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور لڑائی شروع ہو گئی ۔

اس لڑائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف ایک سال کی قلیل مدت میں یہودیوں نے فلسطین کے مزید 23 فی صد علاقے پر قبضہ کر لیا ۔ چنانچہ مئی1948 میں جب اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا تو اس کے قبضے میں 55 فیصد نہیں بلکہ 78 فیصد علاقہ آ چکا تھا ۔ اس کے بعد 1956 میں ایک بار پھر جنگ ہوئی ۔ مسلمانوں کو شکست ہوئی ۔ مئی 1967 میں ایک بار پھر جنگ ہوئی۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف چھ دنوں کے اندر اندر اسرائیل نے مغربی کنارے کے 5878 مربع کلومیٹر، غزہ کے 363 مربع کلومیٹر ، مصر کے صحرائے سینا ، شام کی گولان کی پہاڑیوں کے1150مربع کلومیٹر پر قبضہ کر لیا ۔ مصر کا 80 فیصد اسلحہ تباہ ہو گیا ، مصر کے 10 ہزار ، اردن کے 7 ہزار اور شام کے ایک ہزار فوجی شہید ہوئے ۔ 1973 میں ایک بار پھر جنگ ہوئی اور مسلمانوں کو ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسرائیل نے نہ صرف نہر سویز عبور کر لی بلکہ اس کے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ 16 ہزار مربع کلومیٹر پر قابض ہو گیا۔

دوسرا حل انتفاضہ تھا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ اسرائیل 3 liquid shortage کا شکار ہے۔ اس کے پاس پانی نہیں ، اس کے پاس بہانے کو زیادہ لہو نہیں یعنی افرادی قوت کم ہے اور اس کے پاس پٹرول نہیں اس لیے انتفاضہ اسے تباہ کر دے گی ۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ انتفاضہ کے باوجود وہ دن بدن طاقتور ہوتا جا رہا ہے اور اس سے مرعوبیت کا عالم یہ ہے مسلم دنیا میں ہر دوسرے کام کو یہودی سازش کہا جاتا ہے۔ انتفاضہ سے اسرائیل تباہ نہیں ہو سکا اسے صرف معاشی نقصان پہنچا ہے اور اس نقصان کا زیادہ نقصان بھی فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کو اٹھانا پڑا ہے کیونکہ فلسطین کی معیشت اسرائیلی معیشت کی محتاج ہے۔ مت بھولیے کہ مغربی کنارے کے مزدوروں کا پچاس فیصد سے زیادہ طبقہ اسرائیل میں کام کر کے روزگار کماتا ہے اور اسرائیل کی ٹوٹل ایکسپورٹ کا 10 فیصد فلسطین کو ملتا ہے۔

تیسرا حربہ سفارتی دباؤ تھا۔ اسرائیل کو مسلم دنیا نے بطور ریاست تسلیم نہیں کیا تویہ اسی حکمت عملی کا ایک پہلو تھا ۔ وقت نے ثابت کیا کہ یہ حکمت عملی بھی کامیاب نہیں رہی ۔ چونکہ مسلم دنیا کی اکثریت نے اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کیا اس لیے ہر روز بے بس فلسطینیوں کے قتل عام پر اسرائیل سے کوئی رسمی ساسفارتی احتجاج بھی ترکی کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا ۔ باقی سب امریکہ کے پاس بھاگتے ہیں ۔

دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ روز بروز طاقت کا توازن خراب ہوتا جا رہا ہے ۔ایک وقت میں مسلم دنیا خاصی طاقتور تھی اور اس نے جنگ کا آپشن بھی آزما کر دیکھ لیا ۔ تب وہ حساس بھی بہت تھی ۔ او آئی سی کا قیام بھی فلسطین کے باب میں مسلمانوں کی حساسیت کا آئینہ دار ہے ۔ یہ غیر معمولی حساسیت ہی تھی کہ او آئی سی کے چار اسسٹنٹ سیکرٹری جنرلز میں سے ایک کا کام صرف یروشلم کے معاملات کو دیکھنا تھا ۔ او آئی سی نے تب القدس کمیٹی بنائی ، القدس فنڈ قائم کیا ، اسلامی دفتر برائے عسکری تعاون برائے فلسطین جیسا ادارہ قائم کر دیا ، 21 اگست کو پوری مسلم دنیا میں یوم الاقصی کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ، مسلم دنیا سے کہا گیا ڈاک ٹکٹ جاری کریں اور پیسے فلسطینیوں کو دیں ، او آئی سی کے جنرل سیکر ٹریٹ کا سدر مقام یروشلم کو قرار دیا گیا اور جدہ کو عارضی صدر مقام قرار دیا گیا لیکن آج ترجیحات بھی بدل چکیں اور مسلم دنیا میں وہ سکت بھی نہیں رہی ۔فلسطینی اکیلے رہ گئے ہیں اور اب خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ انہیں حج اور عمرے کے ویزے بھی جاری نہیں ہو پا رہے۔

دو ہی صورتیں ہیں ۔ اول : مسلم دنیا اٹھے اور فلسطین کو اس عذاب سے نجات دلوائے۔ دوم : ایسا ممکن نہیں تو پھر کوئی ایسی صورت تلاش کرے کہ انہیں امن کی نعمت نصیب ہو ۔ انہیں آزادی نہیں دلا سکتے تو انہیں امن کا وقفہ تو دلوائیے ۔مثالی حل ممکن نہ ہو تو حکمت کا تقاضا ہے کہ امکانی حل کی طرف بڑھا جائے اور امکانی حل اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک آزادفلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا یروشلم پر اتنا ہی حق ہو جتنا اسرائیل کا ۔ مسلم دنیا اگر فلسطینیوں کی خیر خواہ ہے تو اس حل کی طرف تیزی سے بڑھنا چاہیے اور اسرائیل کو باور کرا دینا چاہیے کہ اس حل کی صورت میں اسے بطور ریاست تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ ۔ہر گزرتے لمحے کے ساتھ طاقت کا توازن خراب ہوتا جا رہا ہے۔ ہم اب وہ موقف اختیار نہیں کر سکتے جو ہمارے بزرگوں نے عشروں قبل اختیار کیا تھا ۔ ہمارے بچے شاید اس موقف کو غنیمت سمجھ کر یاد کیا کریں جسے ہم آج قابل توجہ نہیں سمجھ رہے ۔جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ہمارے پاس آپشنز محدود سے محدود تر ہوتے جائیں گے۔

حکمت عملی بہترین زاد راہ ہوتا ہے ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ذاتی زندگی میں کبھی بھی مثالیت پسندی پر بے جا اصرار نہیں کرتے اور موقع کی مناسبت سے ہر حکمت عملی اپناتے ہیں لیکن اجتماعی زندگی میں چونکہ ہمارا براہ راست کوئی نقصان نہیں ہو رہا ہوتا اس لیے ہم مثالیت پسند ہو جاتے ہیں ۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */