خدا اپنے باغی بندوں کو فورًا کیوں نہیں پکڑتا؟ ابو محمد مصعب

عبداللہ ایک اچھا اور ہونہار بچہ تھا جو کسی اسکول میں ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا۔ ریاضی اس کا پسندیدہ مضمون تھاجس کی وجہ ریاضی کا مضمون نہیں بلکہ اس سبجیکٹ کے استاد کا مشفقانہ رویہ تھااسی لیےعبداللە بھی اپنے ریاضی کے استاد سر احمد سے بہت متاثرتھا۔ سالانہ امتحان قریب تھےاس لیےعبداللە خوب محنت سے تیاری میں مصروف تھا۔ اس کا ٹارگٹ کلاس میں سب سے اول آناتھا۔

امتحانوں میں ریاضی کے پیپر والے دن اتفاق سے سراحمد ہی کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ جب پیپر شروع ہوا تو سراحمد کلاس میں چہل قدمی کرتے ہوئے کبھی ایک شاگرد تو کبھی دوسرے شاگرد کے پاس رک کر نظر ڈال لیتے کہ لڑکا کیا لکھ رہاہے۔ پیپر میں ایک سوال سیدھی لکیر یا خط مستقیم کے بارے میں تھا اور اس کا خاکہ بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔ لیکن سراحمد کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ عبداللە خط مستقیم کی بجائے ٹیڑھی میڑھی لکیریں کہینچ رہاہے۔ امتحان تھا، اس لیے سراحمد نے کھل کر بتانے کے بجائے اشاروں کنایوں میں اسے سمجھانے کی کوشش کی اور اسے باربار یہی کہتے رہے کہ سوال دوبارہ پڑھ لو لیکن عبداللە نہ جانے خط مستقیم کی تشریح کہاں سے پڑھ کر آیاتھاکہ اسے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہاتھا۔ سراحمد کو اس بات پر بڑاافسوس بھی ہورہاتھا اور غصہ بھی آرہاتھاکہ ان کا ایک شاگرد ایک معمولی سی بات کو نہیں سمجھ پارہا۔لیکن کیاکرتے امتحان کا اصول ہی یہ ہے کہ ایک حد تک ہی استاد کچھ بتاسکتاہے، غلط جواب لکھنے والے کا ہاتھ پکڑ کر اپنی منشا کے مطابق لکھواناامتحان کے مقصد کے بھی خلاف یے اوردیگر امیدواروں کی حق تلفی کے مترادف بھی۔ امتحان کا نتیجہ آیا تو عبداللە پانچ نمبرزکے فرق کے ساتھ دوسرے نمبرپہ رہا اور جاوید اول آیا کیوں کہ اس کے پانچ نمبر عبداللە سے زائد تھے۔ اس بات کا عبداللە کو اتنا صدمہ ہواکہ وہ اسکول ہی سے باغی ہوگیا اور تعلیم، اساتذہ اور اسکول اس کے لیے نفرت کی علامت بن گئے، آج وہ ایک چھپرا ہوٹل پر ٹیبلیں صاف کرتااورمزدوری کرتا ہے۔

مندرجہ بالا مثال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ دیکھیں کہ کتنا سادہ لوح ہے وہ شخص جو ممتحن (اللہ) سے مطالبہ کرتاہے کہ اگر تو موجودہے تو سامنے آ۔ اب فطری سی بات ہے کہ وہ اسرارورموز جو امتحان ختم ہونے پر دکھانے کا وعدہ ہے اگر ابھی سے دکھادیے جائیں تو امتحان کا مقصد ہی کیا؟

لوگوں کو اس بات سے بھی دھوکہ ہوتاہے کہ وہ روز اللہ کو برابھلاکہتے ہیں، اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نماز نہیں پڑھتے، اس کے دین اور رسولوں کے خلاف باتیں کرتے ہیں لیکن کوئی قوت سامنے آکر ان کو نہیں روکتی، کوئی چارج شیٹ انہیں موصول نہیں ہوتی اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی خداودا نہیں، یہ سب واہمے ہیں.

خداکی طرف سے بعض سرکش لوگوں کو دی جانے والی لمبی ڈھیل کی حکمت کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہاں دبئی میں بہت بڑے بڑے مالز اور سپرمارکیٹس ہیں جہاں بعض اوقات چورگاہک بھی داخل ہوجاتے ہیں۔ ہر سپرمارکیٹ کے اندر ایک سیکیورٹی روم ہوتاہے جس میں ہر وقت سیکیورٹی کے افراد بیٹھے لوگوں پر نظر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ جب کسی مشکوک شخص پر ان کی نظر پڑتی ہے تو اس پر خاص طور پر خفیہ کیمرےفوکس کردیے جاتے ہیں جو اس کی ہرہر حرکت کو سیکیورٹی روم میں بیٹھے افراد کو دکھارہے ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص کوئی چیز اٹھاکراپنے کپڑوں میں کہیں چھپالیتاہے تو سیکیورٹی والوں کے علم میں ہوتاہے لیکن وہ اسے محسوس بھی نہیں ہونے دیتے۔ پھروہ گاہک نماچور دوتین گھنٹے مارکیٹ میں گھوم پھرکر کاوٴنٹر پر ادائگی کے لیے پہنچتاہے اس وقت بھی سیکیورٹی والے اس کو نہیں پکڑتے اس کے بعد جب وہ سامان ٹرالی پر ڈال کر ایگزٹ پر پہنچتاہے تو وہاں مامور سیکیورٹی والا جس کو کہ پہلے ہی کنٹرول روم سے میسج مل چکا تھا، اس سے وہ چیز نکلواتا ہے جو اس نےچھپائی تھی بعدازاں اسے پولیس کے سپرد کیاجاتاہے۔

جو شخص آج دنیا میں خوب مستی کر رہا ہے اس کی مہلت بس کاؤنٹر سے ہوکر ایگزٹ پر پہنچنے تک ہی ہے اس کے بعد پکڑہے، بےعزتی اور حزیمت ہے اور کڑا حساب ہے۔ چیزچوری کرنےپراگرکسی نے فورً اسے نہیں پکڑاتو اس کایہ مطلب کہاں سے ہوگیا کہ اب وہ چیز اسی کی ہوئی اور کوئی اس سے بازپرس نہیں کرے گا!