کراچی پریس کلب، اک روایت قتل ہوئی - احسان کوہاٹی

زینب مارکیٹ صدر کے پچھواڑے پیلے پتھروں کی بنی پرانے وقتوں کی عمارت بھوت بنگلہ نہیں ہے، لیکن یہ جابروں، آمروں اور سچ پر پردے ڈال کر تاریکیوں کا دھندا کرنے والوں کے لیے بھوت بنگلہ جیسی ہی خوفناک رہی ہے۔ وہ جن کے اک اشارے پر زنداں کے دروازے کھول دیے جاتے تھے، ان کے لیے اس عمارت کے دروازے کبھی نہ کھلے۔ طاقت کے نشے میں چور گردن میں سریہ ڈالے حکمران بن کر پھرنے والی مخلوق کو یہاں بیٹھنے والے نہتے لوگ بھوت ہی لگتے ہیں۔ ان کی انگلیوں اور انگوٹھے میں دبے قلم کی حرکت جب دوسرے روز اخبار کی خبر بن کر ان کے میز تک پہنچتی ہے، تو ان کی ایڑی میں لگتی اور سر پر جا کر بجھتی ہے۔ یہ نہتے جب مائیک پکڑ کر کیمرے کے سامنے آتے ہیں تو بڑے بڑے پھنے خان پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ سچ کی طاقت ہوتی ہے، حکومتیں کنٹرول کرنے والوں کی خواہش ہی رہی کہ وہ کراچی پریس کلب پر بھی قبضہ کر سکیں، پر وہ قبضہ کیا کرتے، ان میں تو اس کا پھاٹک عبور کرنے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔

ضیاءالحق کا مارشل لاء ہو یا پرویز مشرف کا، یا اس سے بھی پہلے ایوب خان کا، کسی ڈکٹیٹر کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ ہمت و جرات کے استعارے کی جانب اشارہ بھی کرتا۔ یہ پریس کلب کا رعب ہی تھا کہ کبھی کسی باوردی افسر نے اندر داخل ہونے کی کوشش نہ کی۔ کلب کے باہر مظاہرے ہوتے تھے، آنسو گیس کی شیل اڑتے گرتے تھے، مظاہرین بھاگ کر کلب میں آجاتے، تو گویا امان مل جاتی۔ میں نے ریاست کے باغیوں کو بھی پریس کلب میں اس طرح گھنٹوں بیٹھے دیکھا کہ باہر پولیس انھیں گرفتار کرنے کو کھڑی ہے، لیکن اندر نہیں آرہی کہ یہ پریس کلب کے اندر کیسے آئیں؟ وہ بھی اس کا اس حد تک احترام کرتے تھے، اور یہ اس گئے گزرے دور میں بھلے وقتوں کی بچ رہنے والی چند روایتوں میں سے ایک تھی، افسوس جو کہ نہ رہی۔

8 نومبر 2018ء کی شب سادہ لباس والے پریس کلب میں بزور طاقت گھسے، یہاں وہاں تلاشیاں لیں، اور اپنے رویوں سے ایک واضح پیغام دے کر ایک خوبصورت روایت کو روندتے ہوئے چلے گئے۔ اور یہ سب ہوا ایک ایسے جمہوری دور میں جب تبدیلیوں کے غوغے سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، اور یہ ہوا اس جیالے جمہوری اقتدار میں جب َپریس کلب سے صرف ڈیرھ کلومیٹر دور سندھ اسمبلی کے ایوان میں آزادی اظہار کے داعی اکثریت لیے بیٹھے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اطلاع ملنے پر وزیر اعلیٰ ننگے پاؤں دوڑا آتا، بلاول خود گاڑی چلا کر موقع پر پہنچتا لیکن ہوا یہ کہ ان کا مشیر اطلاعات کہتا ہے کہ جی پی آر ایس سسٹم میں خرابی کی وجہ َسے غلط فہمی ہوئی۔ جناب! پھر تو اس سسٹم کو آگ لگا دیں، کل یہ آپ کے اور آپ کے بڑوں کی خوابگاہوں تک بھی پہنچا سکتا ہے۔ مرتضیٰ وہاب صاحب اک روایت قتل ہوئی ہے، ایک مشعل قتل ہوئی ہے، سمجھ رہے ہیں آپ۔ بلاول صاحب! قاتل کا ہاتھ پکڑیں یا پھر اس تاریکی کا انتظار کریں جب کہیں سے بھی گالوں پر طمانچے پڑیں گے، اور وہ گال میرا بھی ہو سکتا ہے اور آپ کا بھی۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.