چینلز ، اخبارات سے صحافیوں چھانٹی، قصور کس کا؟ حل کیا ہے؟ عمران زاہد

سننے میں آ رہا ہے کہ بہت سے ٹی وی چینلز اور اخباروں کو اپنے عملے کی چھانٹی اور تنخواہوں میں تاخیر کرنی پڑ رہی ہے کہ وہ مالی طور پر ان کو افورڈ نہیں کر پا رہے ہیں۔ اس کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی جا رہی ہے کہ اس نے سرکاری اشتہارات پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے یہ مالی بحران پیدا ہوا ہے۔

میرے لیے تو یہ امر ہی حیرت ناک ہے کہ ہمارے چینل اور اخبارات صرف سرکاری اشتہاروں کے سر پر ہی کھڑے تھے۔ آخر ان اداروں نے ایسا قابلِ عمل فنانشل ماڈل (مالی منصوبہ) کیوں نہ بنایا کہ انہیں حکومتی اشتہارات پر انحصار نہ کرنا پڑتا؟ پرائیویٹ کمپنیوں کے اشتہارات بھی تو اچھا خاصا بزنس دیتے ہیں۔ آخر ادھر محنت کیوں نہیں کرتے؟ اپنے content کو اچھا کریں تاکہ لوگ آپ کے پروگراموں کو دلچسپی سے دیکھیں اور آپ کو اچھے اشتہار مل سکیں۔

ایک وقت تھا کہ اخبار کوئی کاروبار نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک مشن یا مشغلے کے تحت قائم کئے جاتے تھے۔ اس کو چلانے سے پیسہ تو شاید اتنا نہیں بنتا تھا لیکن نام بن جاتا تھا۔ عموماً صحافی حضرات اتنے متمول نہیں ہوتے تھے لیکن ان کو اہم تقریبات میں بلایا جاتا تھا، ان کی عزت کی جاتی تھی۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کی آمد تک تو صحافیوں کی مالی حالت ایسی ہی رہی۔ اخباروں میں تو شاید اب بھی تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہوتیں، لیکن ٹی وی چینلوں پر بعض اینکروں کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ تنخواہوں کے ایسے غیر متوازن نظام کے ساتھ یہ ادارے کیسے چل سکتے ہیں؟ اوریا مقبول جان صاحب نے کامران خان کی بول چینل میں تنخواہ بتائی تھی جسے سن کر کلیجہ دھک سے رہ گیا تھا۔ ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے ماہانہ علاوہ دیگر سہولیات از قسم گاڑی، پٹرول، فون، رہائش اور سفری سہولیات جہاز کے ٹکٹ وغیرہ۔ دوسرے نمایاں اینکرز بھی ماشاءاللہ لاکھوں میں چھاپ رہے ہیں۔ ریحام خان کو جب طلاق ہوئی تھی تو اس نے نیو ٹی و جوائن کیا تھا۔ ایک اطلاع کے مطابق کوئی انچاس پچاس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کے عوض۔ اس سے کم پیسوں میں باقی سارے عملے کی تنخواہیں ادا ہوتی تھیں۔ یعنی صرف ایک خاتون پورے ٹی وی چینل کی مجموعی تنخواہوں سے بھی زیادہ معاوضہ لے رہی تھی۔ کیا یہ بےانصافی نہیں تھی؟ یہ الگ بات ہے کہ نیو ٹی وی بمشکل چند ماہ ہی اس بوجھ کو برداشت کر پایا کہ وہ پروگرام مقبول نہ ہو سکا۔

پاکستان بننے سے قبل اور بعد میں بھی کافی عرصے تک ٹھیکوں، نوکریوں، ٹینڈروں کے تمام سرکاری اشتہارات اور تعیناتیوں، ترقیوں اور نوکریوں کے اعلانات وغیرہ سول اینڈ ملٹری گزٹ نامی اخبار میں چھپا کرتے تھے۔ شاید اسی کی نسبت سے سترہ گریڈ اور اس سے بڑے افسران کو گزیٹڈ افسران کہا جاتا تھا کہ ان کی تعیناتی کی خبر اس اخبار میں چھپا کرتی تھی۔ جن لوگوں کو سرکاری اشتہارات میں دلچسپی ہوتی تھی وہ کئی اخبار خریدنے کی بجائے سول اینڈ ملٹری گزٹ خریدا کرتے تھے اور انہیں اس میں تمام اشتہارات مل جایا کرتے تھے۔گو اس اخبار کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی لیکن بہرحال اس کی ملکیت پرائیویٹ ادارے کے پاس ہی تھی۔ 1963ء میں یہ اخبار بند ہو گیا تھا۔ شاید اس کے بعد سے سرکاری اشتہارات تمام اخبارات میں تقسیم ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ سول اینڈ ملڑی گزٹ کو جھاڑ پونچھ کر کے دوبارہ سے زندہ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

سرکاری اشتہارات ہمیشہ سے میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ہتھیار رہے ہیں۔ حکومتیں اس لیوریج کو استعمال کر کے میڈیا میں من مانی کیا کرتی ہیں۔ اب اگر حکومتی اشتہار بند ہوئے ہیں تو اس سے یقیناً حکومت کے اس کنٹرول کو ضعف پہنچے گا جس کے نتیجے میں میڈیا میں حکومت کے حوالے سے ہمدردانہ خبروں کی کمی اور تنقیدی خبروں میں اضافہ ہو گا۔

عمران خان کی حکومت کا یہ قدم ایسا ہے جس کی میں حمایت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی چینل اور اخبار محض سرکاری اشتہارات پر زندہ تھا تو اسے مر ہی جانا چاہیئے۔ بہتر ہے کہ اخبار اور چینل ایک بہتر بزنس اسٹریجی اور بہتر نظم کے ساتھ سامنے آئیں اور ذمہ دارانہ صحافت کے ساتھ اپنا نام بنائیں۔ ہاں اس کا انسانی پہلو اہم ہے کہ بہت سا عملہ جو بےروزگار ہو گیا ہے اس کا کیا کیا جائے؟ بہت سے وہ لوگ جو کوئی نہ کوئی سائیڈ بزنس کرتے تھے یا صحافت ان کا جزوقتی قسم کا مشغلہ تھا انہیں تو کوئی فرق نہیں پڑا۔ جن کا مکمل انحصار ان نوکریوں پر تھا وہ بےچارے سڑک پر آ گئے ہیں۔ سننے میں تو یہ آیا ہے کہ بہت سے لوگوں نے سموسوں پکوڑوں کی ٹھیلے لگا لئے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت اگر کر سکتی ہے تو بے روزگار ہونے والے صحافیوں کو قرض حسنہ دے، کوئی ماہانہ وظیفہ لگائے تاکہ جب تک وہ کوئی دوسری نوکری یا کوئی متبادل روزگار تلاش نہیں کر لیتے تب تک کم از کم اپنا گھر تو چلا سکیں۔

پس نوشت:
اوپر موجودہ حکومت کے سرکاری اشتہارات کے حوالے سے کئے گئے فیصلے کی میں نے حمایت تو کر دی ہے لیکن ساتھ ساتھ مجھے یہ بھی خدشہ ہے کہ حکومت کہیں یوٹرن نہ لے لے۔ حکومت کی ناتجربہ کاری کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یوٹرن آوے ہی آوے۔ کاش خان صاحب میڈیا کا دباؤ برداشت کر پائیں۔