غلام حسین اور ’’میں‘‘! عطا ء الحق قاسمی

مجھے اشفاق گوجر نے اطلاع دی کہ غلام حسین بہت بیمار ہے اور اسے اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے غلام حسین کے ساتھ میری کوئی دوستی نہیں تھی میں جب اسکول میں پڑھتا تھا تو وہ اسکول کے باہر چنوں کی ریڑھی لگایا کرتا تھا۔ مجھے یہ شخص اس وقت سے اچھا لگتا تھا کیونکہ جن بچوں کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے وہ انہیں پیار سے اپنے پاس بلاتا اور پلیٹ میں چنے ڈال کر انہیں دیتا۔ جو بچہ انکار کرتا یہ اس سے ناراض ہو جاتا اور پیار سے اس کے کان اینٹھتا۔ میں اسکول سے کالج ، کالج سے یونیورسٹی اور پھر یونیورسٹی سے فارغ ہو کر بطور لیکچرار اپنے پرانے کالج سے وابستہ ہوگیا مگر میرا گزر جب بھی اسکول کے پاس سے ہوتا، میں غلام حسین کے پاس رکتا اور اس کی مزے مزے کی باتیں سنتا، وہ اعلیٰ درجے کا انسان تھا اور بہت خوش تھا، وہ نہ شاعر تھا، نہ ادیب، نہ دانشور مگر ان سب سے اچھا تھا کہ اس کے عمل میں وہ خوشبو تھی جو شاعروں ادیبوں کی تحریروں میں ہوتی ہے چنانچہ جب اشفاق نے مجھے بتایا کہ غلام حسین بہت بیمار ہے اور جنرل اسپتال میں داخل ہے تو مجھے بہت تشویش ہوئی اور میں سوچا کہ میں آج ہی اس کی عیادت کے لئے جائوں گا۔

صبح گھر سے روانہ ہوتے وقت میں نے کاموں کی فہرست والا کاغذ کار کی برابر والی نشست پر رکھا تاکہ میری نظر مسلسل اس پر پڑتی رہے۔ کالج سے فارغ ہو کر اخبار کے دفتر کالم دینے جانا ہے، نیاز صاحب سے ملنا ہے ، سکھیرا کو فون کرنا ہے، غلام حسین کی عیادت کو جانا ہے اور اس نوعیت کے دس دوسرے کام تھے جو میں نے ترتیب وار اس کاغذ پر لکھے تھے۔ میں دوپہر کے تین بجے تک فہرست کے مطابق اپنے کام نمٹاتا رہا اب صرف غلام حسین کی عیادت باقی رہ گئی تھی اس وقت مجھے سخت بھوک لگ رہی تھی۔ میں نے سوچا پہلے گھر جا کر کھانا کھاتا ہوں اس کے بعد اسپتال کا چکر لگالوں گا سو میں نے گاڑی کا رخ گھر کی طرف موڑ دیا، کھانا کھانے کے بعد غنودگی سی محسوس ہوئی۔ میں آنکھیں بند کر کے بستر پر لیٹ گیا تاکہ چند منٹوں بعد تازہ دم ہو کر گھر سے نکلوں۔ مگر جب آنکھ کھلی اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے میں جلدی سے نہا دھو کر فارغ ہوا اور گھر سے نکلنے ہی کو تھا کہ کچھ دوست آگئے ہیں جب وہ گئے اس وقت شام گہری ہوگئی تھی۔ میں نے سوچا اب کل غلام حسین کی طرف جائوں گا۔ چنانچہ میں کپڑے تبدیل کر کے اپنی اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھ گیا اور قرۃ العین حیدر کے نئے ناول کی ورق گردانی کرنے لگا۔

اگلے روز میرا ارادہ کالج سے فارغ ہوتے ہی اسپتال جانے کا تھا مگر اسٹاف میٹنگ کی وجہ سے نہ جاسکا۔ شام کو ایک اور تقریب میں پیپر پڑھنا تھا چنانچہ ایک ریستوران کے گوشے میں بیٹھ کر میں نے پیپر لکھا اور وہاں سے سیدھا تقریب میں چلا گیا۔ ایک دفعہ پھر شام پڑ گئی تھی۔ چنانچہ میں تھکا ماندہ گھر پہنچا اور نہا دھوکر اپنی لکھنے پڑھنے کی میز پر آگیا۔

تیسرے، چوتھے اور پانچویں دن بھی کچھ اسی قسم کے اتفاقات ہوئے کہ میں چاہنے کے باوجود غلام حسین کی عیادت کو نہ جاسکا۔ چھٹے روز میں نے مصمم ارادہ کیا کہ آج ہر صورت اسپتال جائوں گا۔ خواہ میرے کتنے ہی ضروری کام نہ رہ جائیں۔ چنانچہ میں ابھی گاڑی گیٹ سے نکال ہی رہا تھا کہ اشفاق گوجر اپنی سائیکل پر ہانپتا کانپتا میرے قریب آکر رکا اور اس نے مجھے بتایا کہ غلام حسین کا انتقال ہوگیا ہے یہ سن کر مجھے شدید صدمہ ہوا اور میرے ضمیر نے بہت ملامت کی کہ میں نے دنیا کے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے ایک بہت بڑے کام کو نظرانداز کیا۔ اشفاق گوجر کے بارے میں، میں نے تو یہ بتایا ہی نہیں کہ وہ پانچویں سے دسویں جماعت تک میرا کلاس فیلو تھا۔ اس کے اسکول اخراجات غلام حسین ادا کیا کرتا تھا۔

غلام حسین نے تو اسے کالج میں داخل ہونے کے لئے بھی کہا تھا مگر اشفاق گوجر کی بیوہ ماں نے انکار کردیاکیونکہ گھر کا خرچ چلانے کے لئے ضروری تھا کہ اب اشفاق اپنے مرحوم باپ کی طرح سائیکل کی دونوں جانب دودھ کی ولٹوئیاں لٹکائے گھر گھر دودھ پہنچانے کا کام کرے، سو اشفاق اب گزشتہ برس ہا برس سے یہ کام کررہا تھا۔ چونکہ اپنے مرحوم باپ کی طرف وہ بھی دودھ میں پانی نہیں ملاتا تھا لہٰذا مجھے یقین تھا کہ اس کی آئندہ نسل بھی یہی کام کرے گی۔ بہرحال اشفاق نے مجھے بتایاکہ آج شام کو چھ بجے غلام حسین کا جنازہ ہے، پانچ بجے کے قریب جب میں گھر سے نکلنے کو تھا کہ مجھے فون آیا کہ ایک ممتاز شخصیت چھ بجے فون پر آپ سے بات کرے گی، آپ براہ کرم اس وقت گھر پر رہیں۔ چھ بجے فون آیا کہ اس وقت وہ ایک ایمرجنسی میٹنگ میں ہیں چنانچہ وہ آپ کو سات بجے فون کریں گے اس دوران آپ کہیں نہ جائیں۔ تاہم فون آٹھ بجے کے قریب آیا اور اب غلام حسین کے جنازے میں شرکت ممکن نہیں تھی کیونکہ اس وقت تک تو لوگ اسے دفنا کر اپنے گھروں کو بھی لوٹ چکے ہوں گے۔ میں اپنی دنیاداری پر دل میں بہت نادم ہوا تاہم میں نے تہیہ کیا کہ پرسوں غلام حسین کے قلوں میں ضرور شرکت کروں گا۔ (جاری ہے)