آرزو سے فریب ِ آرزو تک- ڈاکٹر صفدر محمود

جمہوریت کو جڑ پکڑتے اور جمہوری عمل کو بلوغت کی منزلیں طے کرتے دہائیاں لگتی ہیں۔ جب تک جمہوری نظام پختہ نہیں ہوتا، روایات مضبوط نہیں ہوتیں، قانون کی حکمرانی پوری طرح نافذ یا مسلط نہیں ہوتی اور قوم قانون کی حکمرانی کو دل و دماغ سے تسلیم کر کے اس پر عمل کرنے کی عادی نہیں ہوتی، پاکستانی جمہوری عمل اسی طرح ڈانواں ڈول رہے گا اور دل شکن مظاہر سے ہماری تواضع کرتا رہے گا۔ لیڈران اسی طرح قول و فعل کے تضاد، محاذ آرائی، منافقت اور انتقام کی سیاست پر عمل پیرا رہیں گے۔ اسی طرح لوٹ مار کا شور اور احتساب کا ڈرامہ جاری رہے گا۔ احتساب سے یاد آیا کہ دراصل گزشتہ تین دہائیوں سے قوم احتساب کے لئے پکار رہی ہے کیونکہ اس سے قبل کبھی اس قدر لوٹ مار کا غدر بپا نہیں ہوا جس قدر گزشتہ تیس برس میں دیکھا گیا۔

میرے مشاہدے کے مطابق لوٹ مار، خزانہ چوری اور کرپشن کا شور بپا کرنے اور عوام کے ذہنوں میں اس تاثر کو راسخ کرنے میں خود سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں نے اہم ترین کردار سرانجام دیا۔ غلام اسحاق خان نے کئی بار حکومتیں ڈسمس کیں اور ہر بار ایک ہی الزام دہرایا کہ کرپشن نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ ان تیس برسوں میں باری باری دو پارٹیاں اور دو خاندان برسر اقتدار آتے رہے اور دونوں ایک دوسرے پر نہ صرف ہمالیہ برابر کرپشن کا الزام لگاتے رہے بلکہ احتساب کا ڈرامہ بھی رچاتے رہے۔ ’’احتساب الرحمان‘‘ کا احتساب اس سلسلے کی اہم ترین اور آخری کڑی تھی۔ تین دہائیوں پر محیط اس مہم نے دیہات سے لے کر شہروں تک عوام کو یقین دلا دیا کہ ہمارے حکمران کرپشن سے لت پت ہیں اور انہی کی لوٹ مار دراصل قوم کی غربت کا سبب ہے۔

اخبارات، بیانات اور سیاسی مہمات کے ساتھ ساتھ افواہوں کی مہم بھی جاری رہی جس نے خاص طور پر زرداری کی حصول زر کی ایسی ایسی داستانوں کو جنم دیا جو سننے میں افسانوی لگتی تھیں لیکن جب سرے محل، نیویارک کے مہنگے ترین علاقے مین ہیٹن میں مہنگے ترین اپارٹمنٹ، سندھ میں نامی و بے نامی شوگر ملوں، فرانس اور یو اے ای میں محلات اور سوئٹزر لینڈ میں ایس جی ایس اور کوٹیکنا کمپنی سے وصول کردہ چھ کروڑ ڈالر کی داستانیں حقیقت بن کر سامنے آئیں تو افسانوں نے سچ کا روپ دھار لیا۔ اسی طرح میاں فیملی کی لندن کی جائیدادوں نے بھی کرپشن کے تاثر کو ہوا دی، تین دہائیوں کی کرپشن کی کہانیاں ہر شہری تک پہنچیں تو احتساب قوم کے دل کی آرزو بن گیا۔ دیکھنے والی نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ 2018کے انتخابات میں کرپشن سب سے بڑا ایشو ہو گا، لوٹی ہوئی دولت باہر سے واپس لانا رائے دہندگان کی سب سے بڑی آرزو ہو گی، لوٹ مار کرنے والوں کو سزا لوگوں کی دعا ہو گی۔

تحریک انصاف جیسے بھی برسر اقتدار آئی اسے بہرحال احتساب کرنا تھا کیونکہ یہی اس کا سیاسی جواز اور یہی اس کا مستقبل ہے۔ وزیر اعظم کا بار بار باضرورت یا بلاضرورت احتساب کا نعرہ لگانا یا وعدہ کرنا اُن کی سیاسی ضرورت ہے۔ کبھی کبھی لیڈران جوش میں ہوش کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ سعودی عرب اور چین میں پاکستانی کرپشن کے گندے کپڑے دھونا بے وقت کی راگنی تھی جسے اس لئے معاف کر دیا گیا کہ جب لیڈر کسی ایجنڈے کے حوالے سے پرجوش ہو تو وہ ایجنڈا اس کے قلب و ذہن پہ چھایا رہتا ہے اور وہ سوتے جاگتے اس کا ذکر کرتا رہتا ہے حالانکہ یہ رویہ توازن اور تدبر کی کمی کی چغلی کھاتا ہے۔ تدبر کا سیاست سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ میاں نواز شریف اور مریم کی خاموشی اسی تدبر کا حصہ لگتی ہے اور اس سے ان کو سیاسی فائدہ ہو رہا ہے جبکہ حکومت کے جوشیلے، ناسمجھ اور جوش کو ہوش پر ترجیح دینے والے وزراء حکومت کے دوست کم اور دشمن زیادہ لگتے ہیں۔

کسی بھی کاز اور ایجنڈے کو کمزور کرنا ہو یا اسے عوامی نگاہوں میں غیرمحترم اور مشکوک بنانا ہو تو اسے جوشیلے وزراء کے حوالے کر دیں، مقصد پورا ہو جائے گا۔ کم فہم وزراء جب گرفتاریوں کی پیشین گوئیاں فرما کر عالم غیب کے علم کو منکشف کرنا شروع کریں گے تو پھر احتساب بیورو کو احتساب بیورو کون سمجھے گا۔ ماشاء اللہ حکومتی وزراء نے بڑے خلوص اور محنت سے نیب کو غیرمحترم بنا کر حکمران جماعت کے ہاتھ میں ایک انتقامی ہتھیار کا درجہ دے دیا ہے۔ ان کی یہ خدمت سنہری الفاظ میں لکھنے کے قابل ہے اور تاریخ میں تحریک انصاف کی حکومت کا سیاہ باب کہلائے گی۔ یوں بھی سچ یہ ہے کہ پروپیگنڈے و پبلسٹی میں اپوزیشن حکومت پر حاوی ہے۔ اپوزیشن میں بڑے بڑے تجربہ کار اور گھاگ بیٹھے ہیں جن کے اعتراضات کے جوابات ٹیلی وژن چینلوں پر حکومتی ترجمان اس طرح دیتے ہیں کہ بعض اوقات ان پر رحم آتا ہے۔

نتیجے کے طور پر ان تین ماہ میں اپوزیشن نہایت منظم انداز سے احتساب کو انتقام بنانے میں خاصی حد تک کامیاب ہو چکی ہے۔ ڈی جی نیب لاہور کا ٹی وی چینلوں پر تفتیش کے حوالے سے بعض معاملات کا انکشاف ان کی بوکھلاہٹ کا راز فاش کرتا تھا اور اپوزیشن کے دبائو کے سامنے بند باندھنے کی ایک کوشش لگتی تھی۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی تقرری نے اس ادارے کو کریڈیبلٹی عطا کی تھی جو آہستہ آہستہ تنزل کا شکار ہے۔ اس پس منظر میں ان کے پی آر او سے لکھوائے گئے اخباری مضامین محض زیر لب مسکراہٹ کا سامان بنتے ہیں کیونکہ کارکردگی کام اور نتائج سے مقام بناتی ہے نہ کہ تشہیری مواد سے۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ بے لاگ احتساب جسے دانشور غصے میں سرجیکل آپریشن کہتے تھے ساری قوم کے دل کی آواز ہے۔ پاکستان سے لوٹ کر بیرون ملک بھجوائی گئی دولت کی واپسی اور منی لانڈرنگ کی تحقیق اور انسداد قوم کی آرزو ہے۔ قوم کے کان لوٹ مار کی کہانیاں سن سن کر پک گئے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں نے احتساب کے نام پر قوم سے فراڈ کیا ہے۔ اب قوم تشویش میں مبتلا ہے کہ کہیں اس بار بھی احتساب کی آرزو فریب ہی ثابت نہ ہو۔ فریب آرزو؟؟ پروفیسر مرزا محمد منور کا یہ قطعہ مجھے بہت پسند ہے؎

آرزو سے ہے گرمیٔ خاطر

آرزو ہے چراغ سینے کا

آرزو خام ہی سہی اے دوست

آرزو آسرا ہے جینے کا