ہر جن سرکش نہیں ہوتا - رومانہ گوندل

انسانوں کی ہدایت کے لیے چار آسمانی کتابیں اتاری گئیں۔ تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید، اور قرآن پاک قیامت تک کے لیے باقی رکھی گئی، جو کہ انتہائی جامع اور مکمل کتاب ہے۔ چودہ سو سال پہلے آج اور قیامت تک، وقت، حالات اور انسان بدل جائیں گے لیکن ہر دور کے انسانوں کے لیے نصیحت قرآن میں ہی ہے۔ یہ کتاب ہر کسی کے مزاج کو سمجھتی بھی ہے اور ان کے مسائل کا حل بھی بتاتی ہے۔ اس لیے اس کتاب کا ہر ایک پہلو بےمثال ہے۔ کوئی پہلو ایسا نہیں جس کو عام سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے، کیونکہ ہر لفظ میں کئی راز چھپے ہیں۔ انسان کے ہزاروں مسائل کا حل اس میں موجود ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اس کتاب میں کبھی غور و فکر کیا نہ اس طرح تھاما، جیسے اس کو سمجھنے اور زندگی میں شامل کرنے کا حق تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی ہی بنائی ہوئی مشکلات کا رونا روتے رہتے ہیں، اور ان مشکلات میں سے اکثر کا تعلق انسانوں کے خود ساختہ نظریات سے ہے جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلے آ رہے ہیں اور ہماری دنیا اور آخرت کو تباہ کر رہے ہیں۔ ایسے ہی کچھ نظریات جنات کے بارے میں بھی پائے جاتے ہیں۔

جنات اللہ کی مخلوق ہیں لیکن ان کے حوالے سے انسانوں نے مختلف عقیدے اختیار کر رکھے ہیں۔ کچھ نے ان کو بہت طاقتور، سر کش، خودمختار، ہر غائب کو جاننے والا سمجھ رکھا ہے۔ اور اس عقیدے کو اتنا پختہ کر لیا کہ نفسیاتی بیماریوں کو تو مکمل طور پہ ان کے خطے میں ڈالا جاتا ہے بلکہ اکثر جسمانی بیماریوں کو بھی، اور پھر علاج کے نام پہ جعلی پیروں فقیروں پہ پیسہ، ایمان اور قیمتی وقت برباد کیا جاتا ہے، اور اس ایک غلط عقیدے نے جعلی پیری فقیری کو ایک نفع بخش کاروبار بنا دیا ہے۔ اس کے بر عکس کچھ لوگ دوسری انتہا پہ کھڑے ہیں اور جنات جیسی مخلوق کے وجود سے ہی مکمل طور پہ انکاری نظر آتے ہیں۔ زندگی کے ہر معاملے کی طرح اس میں بھی درست عقیدے پہ پہنچنا بےحد ضروری ہے، اور اس کے لیے قرآن سے رجوع کرنا ہوگا۔ قرآن پاک میں سورہ جن اس مخلوق کے وجود اور رویے کے بارے میں رہنمائی کرتی ہے۔

قرآن میں ایک سو چودہ سورتیں ایک خاص ترتیب سے آئی ہیں۔ اس ترتیب کے اعتبار سے سورہ نوح کے فورا بعد سورہ جن ہے۔ سورہ کی اس ترتیب میں بھی راز ہے۔ سورہ نوح میں قوم نوح کا ذکر ہے، جو انتہائی سرکش لوگ تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو تبلیغ کی لیکن اتنی صدیوں کی محنت کے بعد بھی صرف اسی لوگ ایمان لائے۔ اوسطا دس سال میں ایک آدمی بھی ایمان نہیں لایا۔ یہ انسانوں کی سرکشی اور ہٹ دھرمی کی مثال ہے۔ سورہ نوح کے بعد سورہ جن آتی ہے جس میں جنوں کا ذکر ہے، جو پہلی بار قرآن سنتے ہی ایمان لے آئے اور فورا اقرار کر لیا کہ وہ کہاں کہاں غلط تھے۔ یہ اقرار خود جنوں نے کیا ہے کہ ہم میں سے کچھ نیک ہیں اور کچھ برے۔ لیکن ان کو سرکش بنانے میں بھی انسانوں کا ہاتھ ہے، جنہوں نے ان سے خواہ مخواہ ڈرنا شروع کر دیا اور وہ سرکش ہوتےگئے۔

انسانوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ جس طر ح سارے انسان اچھے یا برے نہیں ہو تے، اسی طرح سارے جنات بھی برے نہیں ہوتے، نہ ان کی رسائی ہر چیز تک ہے اور نہ وہ غائب کا علم جانتے ہیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کا جنات کو ایک لمبا عرصہ علم نہ ہو سکا اور وہ کام میں لگے رہے۔ اس دنیا میں انسان اشرف المخلوقات ہے۔ باقی ساری مخلوقات اس سے نیچے ہیں۔ کوئی مخلوق اس پہ حاوی نہیں ہو سکتی جب تک وہ ہار نہ مان لیں۔ لیکن اس جنات کے ڈر نے آدھی انسانیت کو مفلوج کر رکھا ہے۔ اس کی بڑی وجہ کہ انسانوں نے اس کائنات میں اپنے مقام اور مقصد زندگی کو نہیں جانا اور جن معاشروں میں لوگوں کی اکثریت فارغ ہے، وہاں اس طرح کے عقائد اور قصے کہانیاں بھی سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انسانوں کو اس طرح کے ڈر سے بھی آزاد کیا ہے، اور انہیں مقصد زندگی بھی دیا ہے۔ لیکن ہم خوف سے آزاد ہو نہیں سکتے جب تک ایمان مضبوط نہ ہو، اور وہ تب تک نہیں ہو سکتا جب تک ہم اس کتاب کو تھام نہ لیں۔ جس دن ہر امید اللہ سے وابستہ ہوگئی، اس دن ہر مسئلہ حل ہو جائے گا۔