اے این پی کی بےسمتی و بےچارگی - ارشدعلی خان

بلاشبہ عوامی نیشنل پارٹی ملک کی وہ سیاسی جماعت ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ اس کے مرکزی قائدین سمیت کارکنان بھی اپنی جمہوری سوچ اور نظریے کی وجہ سے کئی بار خودکش حملوں اور بم دھماکوں کا نشانہ بنے۔ 2008ء میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان ایک خودکش حملے میں بال بال بچے، جس کے بعد ان کی بہن اور معروف سرجن ڈاکٹر گلالئی پر بھی حملہ کیا گیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوئیں۔ جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے راشد حسین کو 2010ء میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شہید کیا، اسی ہفتے ان کے گھر پر خودکش حملہ کیا گیا جس میں میاں افتخار حسین تو بچ گئے، تاہم ان کے خاندان کے دیگر افراد کو جانی نقصان اٹھاناپڑا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پارٹی سے وابستہ بلور خاندان نے بھی بہت سی قربانیاں دی ہیں۔ 2012ء میں پشاور کے گنجان آباد قصہ خوانی بازار میں خودکش حملے میں بشیر بلور جان کی بازی ہارے۔ اس دھماکے میں ان کے پرائیویٹ سیکرٹری محمد نبی اور کابلی تھانے کے ایس ایچ او سمیت 6 دیگر افراد بھی شہید ہوئے۔ بشیر بلور پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ اس کے بعد 2018ء کے الیکشن کے دوران ایک کارنر میٹنگ میں بشیر بلور کے صاحبزداے ہارون بلور کو نشانہ بنایاگیا۔ وہ پی کے 78سے اے این پی کے امیدوار تھے۔ اپنے والد کی طرح انہیں بھی ایک کارنر میٹنگ میں خودکش حملہ آوار نے شہید کیا۔ اس دھماکے میں اے این پی کے 21 کارکن شہید اور 60 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ سوات میں عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سرکردہ قوم پرست سیاستدان افضل خان لالہ پر 18کے قریب حملے کیے گئے جس میں ان کے کئی قریبی لوگ شہید اور زخمی ہوئے تاہم وہ پھر بھی اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے اور سوات پر قابض طالبان کے ڈر سے علاقہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔

یہ تو اے این پی کے وہ بڑے بڑے نام ہیں جن کو سب جانتے اور مانتے ہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اے این پی کے عام ورکر اور کارکن نے بھی اپنی بساط سے بڑھ کر قربانی دی ہے، مگر عوامی نیشنل پارٹی کی بے سمتی، بے چارگی اور مظلومیت پر رونا آتا ہے۔

2008ء میں اے این پی نے صوبے میں مخلوط حکومت قائم کی اور مرکز میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس دوران 18ویں ترمیم کی صورت میں وہ کامیابی حاصل کی گئی جس کے لیے پارٹی شروع سے جدوجہد کر رہی تھی۔ صوبے کانام این ڈبلیو ایف پی سے تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھنا اے این پی کی اہم کامیابی ہے۔ اپنے دور حکومت میں وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے صوبے میں بہت سے ترقیاتی کام کیے، خاص طور سے تعلیم کے میدان میں انھوں وہ کام کیا جو پچھلے 70 سالوں میں کوئی بھی حکومت نہیں کرسکی تھی، تاہم ان کی حکومت کے دامن پر کرپشن کا جو بدنما داغ لگا وہ کبھی نہ دھلنے والا ہے۔ پاکستان میں کرپشن تمام سیاسی جماعتیں کرتی ہیں، جیسے پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کی کرپشن کو کرپشن ثابت کرنا مشکل ہے، تاہم جس طرح کی واضح کرپشن پاکستان پیپلزپارٹی اور اے این پی نے کی اس کی مثا ل نہیں ملتی۔

موجودہ وقت میں اے این پی بےسمتی، بےچارگی اور مظلومیت کی اعلی مثال ہے۔ اے این پی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے پارٹی سربراہ اسفندیارولی خان کی ہدایت پر مرکزی نائب صدر بشری گوہر اور سینئر رہنما سینیٹر افراسیاب خٹک کو شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں جس میں ان سے 7 دنوں کے اندر اندر وضاحت طلب کی گئی ہے۔ شوکاز نوٹس میں کوئی خاص وجہ بتائے بغیر کہا گیا ہے کہ آپ کی سرگرمیاں پارٹی کے مفادات، آئین اور ڈسپلن کے خلاف مختلف صورتوں میں جاری ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، اور اس کا اثر کارکنوں پر غلط فہمیوں اور شکوک وشبہات کی صورت میں پڑ رہا ہے، جو بلاشبہ پارٹی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اے این پی کے رہنمااور اسفندیار ولی خان کے صاحبزادے ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ شوکاز نوٹس جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے جاری کیے ہیں، وجوہات کا پتہ بھی ان کو ہوگا، جبکہ میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارٹی سربراہ اسفندیارولی خان کی ہدایت پرشوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ وجوہات کا ان کو بھی نہیں پتہ۔

بشری گوہر اور افراسیاب خٹک سوشل میڈیا پر فالورز کی ایک بڑی تعداد رکھتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں کو شوکاز نوٹس پختون تحفظ موومنٹ کی حمایت اور ملک کی مقتدر قوتوں کی مذمت کی پاداش میں جاری کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے ایک اہم عہدایدار محسن داوڑ کو بھی پی ٹی ایم کی حمایت کی وجہ سے پارٹی سے نکالا جا چکا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ان اقدامات سے لگ رہا ہے کہ وہ پختونوں کے حقوق کی بات کرنے والی پختون تحفظ موومنٹ کو مکمل تنہائی کا شکار کرنا چاہتی ہے، اسی لیے ان دونوں رہنماوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ وجوہات کا پتہ تو اسفندیار ولی خان کی روس سے واپسی پر لگ سکتا ہے۔

پی ٹی ایم ذرائع کے مطابق پختون تحفظ موومنٹ کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرکرنے پر پی ٹی ایم کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت جاری ہے، اور ممکن ہے بہت جلد پختون تحفظ موومنٹ کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹر کرا لیا جائے، جس کے بعد عوامی نیشنل پارٹی کو صوبے میں ایک اور قوم پرست قوت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ امکان ہے کہ بشری گوہر اور افراسیاب خٹک سمیت اے این پی کے وہ رہنما اور ورکر بھی پی ٹی ایم میں شمولیت کا اعلان کر دیں جو عوامی نیشنل پارٹی کی بےسمتی کے باعث پارٹی سے نالاں ہیں۔