”علامہ اقبال اور ایما کا تعلق، عشق یا سادگی“، حقیقت کیا ہے - عالم خان

9 نومبر مصور پاکستان علامہ محمد اقبال (رح) کا یوم ولادت اور 10 نومبر مصطفی کمال اتاترک کا یوم وفات ہے، صبح اٹھتے ہی ترک اور پاکستانی قوم کا اپنے ہیروز کے ساتھ سلوک اور محبت پر کچھ سطور لکھنے کا ارادہ تھا کہ محترمہ اسری غوری صاحبہ کا ارسال کردہ لنک موصول ہوا جو بی بی سی اردو کے لیے یوم اقبال پر لکھا گیا۔ ایک ایسی تحریر تھی جیسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستانیوں کو اپنے ہیروز سے کس طرح بدظن کیا جاتا ہے، اور اس تاریخی دن پر بجائے لوگوں کو فکر اقبال، فلسفہ اقبال اور پاکستانیت سے روشناس کرایا جائے، کس طرح لوگوں کو اس سے دور کیا جاتا ہے۔

آج پوری ترک قوم مصطفی کمال اتاترک کی مدح سرائی اور فلسفہ بیان کرنے میں مصروف ہے، چھٹی کے باوجود پرائمری سکولز میں بچوں کو اپنے قومی ہیرو سے متعارف کرانے کے لیے پروگرامات کا انعقاد کیا گیا ہے، قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں مصطفی کمال اتاترک کی جدوجہد اور خدمات پر مضامین شائع کیے گئے ہیں، اور کسی نے بھی اتاترک کی نجی زندگی پر قلم اٹھانے کی جسارت نہیں کی ہے۔

اور ایک ہم بد قسمت قوم ہیں کہ اپنے ہیرو مصور پاکستان علامہ اقبال کے یوم ولادت پر صرف چھٹی کا رونا روتے ہیں، منظم طریقے سے بچوں کو اپنے قومی ہیرو سے متعارف کرانے کا کوئی بندوبست نہیں، بلکہ الٹا تحریروں کے ذریعے ان کى نجی زندگی کی ایسی تصویر کشی کرتے ہیں جس کا ان کے فلسفے اور فکر سے کوئی واسطہ ہے، نہ اس میں نوجوان نسل کےلیے کوئی مثبت پیغام ہے۔

استشراق (Orientalism) کے مطالعہ سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ لادینی اور استعماری قوتوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو لٹریچر کے ذریعے اپنے اسلاف سے بدظن کرتے ہیں، انہیں وہ پہلو نہیں دکھاتے نہیں دکھاتے جس کی نوجوان نسل کو ضرورت ہو، بلکہ ان کے اسلاف کی تاریخ میں ان پہلوؤں کو تلاش کیا جاتا ہے جس سے ان کی قدرو منزلت میں کمی یا ان کے افکار و آثار پر غیر مرئی شکل میں قدغن لگانا آسان ہو۔

اس طریقہ واردات کی جھلک شاعر مشرق مصور پاکستان علامہ اقبال پر لکھی گئی تحریروں میں بھی ملتا ہے کہ وقفہ وقفہ سے اقبال کے شاہینوں کو اقبال سے بدظن کرنے کے لیے یوم اقبال پر علامہ اقبال کی ذاتی زندگی زیر بحث لائی جاتی ہے، اور علامہ اقبال کا جو تصور ”علامہ“ نوجوانوں کے ذہنوں میں موجود ہے، اس کو محو کرنے کی غیر محسوس کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی زندہ مثال بی بی سی اردو کے لیے لکھی گئی تحریر بعنوان “ علامہ اقبال اور ایما کا تعلق، عشق یا سادگی کی انتہاء” ہے لیکن اس موضوع پر یہ پہلى تحریر نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ”اقبال اور ایما“ کے تعلقات پر ایسے مضامین لکھے گئے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ان تحریروں میں موجود معلومات مستند ہیں؟ سوال یہ ہے کہ یوم اقبال پر آپ کے نجی زندگی کی اس طرح منظرکشی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا اس سے فکر اقبال یا فلسفہ اقبال کا کوئی تعلق ہے؟ کیا نوجوانوں اور پاکستانیوں کے لیے اس میں کوئی درس یا پیغام موجود ہے؟

ان تحریروں کا دراومدار علامہ اقبال کے ان خطوط پر ہے جو آپ کے مجموعہ اصلاحی، سیاسی، ادبی اور علمی خطوط کا عشر عشیر بھی نہیں ہے کیونکہ علامہ اقبال کے تمام مکتوبات کى اگر تحقیق کیا جائے تو مجموعہ مکتوبات تقریبا پندرہ سو چوبیس (1524) ہے اور خواتین کے نام صرف چوہتر (74) خطوط موجود ہیں جو درحقیقت ایک نہیں بلکہ (15) خواتین کے نام لکھے گئے ہیں، جس میں صرف ستائیس (27) خطوط جرمن خاتون ایما ویگے ناست اور گیارہ (11) ہندوستانی خاتون عطیہ فیضی کو لکھے گئے ہیں۔ (خالد ندیم/ مکاتیب اقبال بنام خواتین)

ایک تو مذکورہ خطوط کا مستند ہونا بھی سوالیہ نشان ہے کہ یہ خطوط کہاں ہیں اور یک طرفہ کیوں ہیں؟ اگرچہ بعض لوگوں نے اس کی تاویلات لکھی ہیں لیکن ان ستائیس (27) مکتوبات کو لے کر علامہ اقبال کی زندگی کا نقشہ جس طرح تحریر میں پیش کیا جاتا ہے، وہ یقیناً باعث حیرت اور افسوس ہے۔

کتنا اچھا ہوتا! اگر فاضل مضمون نگار یوم اقبال پر آپ کے لندن کے قیام کے دوران 21 جنوری (1908م) کو جرمن خاتون ایما کو شکووں سے بھرے خط کے بجائے 10 فروری (1908م) کو خواجہ نظامی کو لکھے گئے خط پر روشنی ڈالتے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ لندن کے قیام کے دوران صرف ایما کے عشق میں مبتلا نہیں تھے جیسا کہ پیش کیا گیا ہے، بلکہ انھوں نے یورپ کو اسلامی تہذیب و تمدن سے روشناس کرانے کے لیے مختلف موضوعات پر لیکچرز کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں ”مسلمانوں کا اثر تہذیب یورپ پر“، ”اسلامی جمہوریت“ اور ”اسلام اور عقل انسانی“ جیسے موضوعات شامل تھے۔

کتنا اچھا ہوتا! اگر فاضل مضمون نگار اقبال کے چھبیس (26) برسوں (1907-1933) میں ستائیں (27) خطوط اور شاعری کے احاطہ کے ساتھ ساتھ ان مکتوبات اور شاعری کا بھی احاطہ کرتے جو عشق رسول (ص) اور فکر امت پر مشتمل ہیں، جو مصور پاکستان کی فکر کی عکاسی کرتے ہیں اور نوجوان نسل کو فکر اقبال سے روشناس کرانے کے لیے اس میں بہت کچھ ہے۔

فاضل مضمون نگار پانچ سالوں (1914ء) سے (1919ء) تک اقبال کے ایما کے نام لکھے گئے ایک (1) خط کا ذکر کرتے ہیں اور اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، لیکن اسی دوران (1915) ”اسرار خودی “ کا زکر نہیں کرتے ہیں جس کو جہاد پر اقبال کا پہلا شعری اظہار کہا جاتا ہے کہ جس میں انھوں نے اعلائے کلمہ حق مسلمان کی زندگی کا مقصد قرار دیا ہے۔

فاضل مضمون نگار اقبال کے اشعار :

جستجو جس گل کی تڑپاتی تھی اے بلبل مجھے

خوبیِ قسمـت سے آخر مـل گیــا وہ گـــل مجھے

لے کر ایما کے ساتھ عشق اقبال پر خوب استدلال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، کیونکہ اس سے ان کا کام ہوتا ہے۔ جبکہ 1912ء کی جنگ طرابلس میں شہید ہونے والى فاطمہ بنت عبداللہ کے کردار سے امت کے بیٹیوں کو متعارف کرانے کے لیے اقبال کے اشعار؛

فاطمہ! تو آبروئے امت مـرحوم ہے

ذرہ ذرہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے

یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر

ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر
نوجوانوں کو یوم اقبال پر نہیں سناتے کیونکہ اس میں اقبال جہاں درس خودی اور پیام بےخودی پیش کرتے ہیں، وہاں نوجوانوں کو شاہین بننے کی تلقین کرتے ہیں، اور قوم کی بیٹیوں کو فاطمہ بنت عبد اللہ کی نقش قدم پر چلنے کی وصیت کرتے ہیں۔

فاضل مضمون نگار نے علامہ اقبال کو ایک ایسے عاشق کے روپ میں پیش کیا ہے جو اپنی محبوبہ سے دور غم فراق میں بےچینی کی کیفیت میں مبتلا ہے، اور بار بار ملاقات کا وعدہ کرکے وعدہ خلافی پہ اتر آتا ہے، لیکن ایک سطر میں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ وہ ملاقات کیوں نہیں کرسکتے تھے، وہ کہاں مصروف تھے؟ کیونکہ اگر اس کی وضاحت کریں تو پھر وہ رنگیلی تحریر ادھوری رہ جاتى ہے، اور ہدف تحریر حاصل نہ ہوتا۔ نوجوانوں کو جو پیغام دینا مقصود ہے، اس کے برعکس پیغام جاتا، کہ علامہ کو مسلمانان ہند سے بالخصوص اور مسلمان عالم سے اتنی محبت تھی اور ان کے مسائل حل کرنے میں اتنے مصروف تھے کہ گول میز کانفرنس اور مؤتمر اسلامی فلسطین ان کی ترجیح اول تھی۔

لہذا ! ایک ہزار پانچ سو چوبیس (1524) مكتو بات سے صرف ستائیس (27) خطوط کو لے کر مصور پاکستان کے بارے میں ایسی تحریریں لکھنا یقینا مشکوک ہے، اور اس کے پیچھے اقبال کے شاہینوں کو اقبال سے بدظن کرنے کی منظم سازش نظر آتی ہے، جو قابل افسوس اور پاکستانیوں کے لیے فکر مندی کا باعث ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کے اذہان کے پراگندہ کرنے کی اس سازش کو بروقت سمجھا جائے اور اس کا سدباب کیا جائے اور اقبال کی حقیقی فکر سے اس کے شاہینوں کو روشناس کیا جائے۔

آخر میں معروف صحافی حامد میر کے 9 نومبر 2015ء کو روزنامہ جنگ میں لکھے گئے کالم سے اقتباس:
''دشمنانان اقبال نے عطیہ فیضی کے نام اقبال کے خطوط، ایک جرمن خاتون ایماویگے ناست اور ایک گلوکارہ امیر بیگم کے ساتھ ان کی شناسائی کو آشنائی بنانے کی ناکام کوشش کی اور بہت سے الزامات لگائے، لیکن ان الزامات کو پذیرائی نہیں ملی۔ وقت گزرنے کے ساتھ علامہ اقبال کا علمی و ادبی مقام بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے، کچھ چھوٹے لوگ آئندہ بھی علامہ اقبال کی ازدواجی زندگی کے بحران سے فائدہ اٹھا کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے رہیں گے، لیکن تاریخ ایسے چھوٹے لوگوں کو اہمیت نہیں دیتی۔''