جسٹس کھوسہ کا فیصلہ اور سینٹ کیتھرین معاہدہ کی حقیقت - عالم خان

آسیہ کیس نے سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے مختلف پہلوؤں پر مسلمانانِ پاک وہند کو لکھنے پر مجبور کر دیا اور اب تک اس مسئلے کے حوالے سے مدلل تحاریر سامنے آچُکی ہیں۔ مسئلہ توہین رسالت پر جو فقہی اعتراضات تھے، ان کے جوابات اور فقہاء احناف كےاصل موقف کی وضاحت بھی ہوچکی ہے۔

لیکن اس کیس کے فیصلہ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے رسول اللہ (ص) کے ایک معاہدہ کا ذکر کیا ہے جس پر جیو نیوز کے اینکر پرسن نے مستقل پروگرام کیا تھا اور اس نے ”سینٹ کیتھرین سے عہد“ یا ”جبل سیناء کے راہبوں سے حضرت محمد کے میثاق“ کو مکمل تفصیل سے پیش کیا تھا۔

جب یہ پروگرام نشر ہوا تو فرینڈ لسٹ میں موجود محترمہ اسری غوری نے اس کی ویڈیو اپ لوڈ کرکے اہل علم کی خاموشی پر شکوہ کیا تھا۔ مڈٹرم ایگزام اور پیپرز چیکنگ کی وجہ سے میں اس وقت کچھ نہ لکھ سکا اور اہل علم کے اظہار خیال کا منتظر تھا کہ آج محترمہ ڈاکٹر سیما سعید نے بھی اس پروگرام کو اپنی وال پہ اپ لوڈ کیا اور مجھے مینشن کیا، اس لیے اس معاہدہ کے حوالے سے یہ چند سطور پیش کرتا ہوں، امید ہے کہ وضاحت ہوجائے گی۔

اس معاہدہ کی صحت اور مستند ہونے پر بات کرنے سے پہلے مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب اس کو آسیہ کیس کے ساتھ کس طرح لنک کر سکتے ہیں، کیونکہ معاہدۂ مذکورہ اگر فاضل جج نے پڑھا ہو تو اس کے چھ بنیادی نکات ہیں جس میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ اگر کوئی عیسائی توہین رسالت کرے تو اس کو استثناء حاصل ہے، بلکہ مستند تاریخی واقعات اس کے برعکس ہیں کہ توہین رسالت پر ان کو قتل کیا گیا ہے، جیسا کہ عہد فاروقی (رض) میں ہوا تھا، خیر وہ چھ شقیں جو اس معاہدہ میں مذکور ہیں کچھ یوں ہیں۔

1- عیسائی راہبوں (پادریوں) کے ساتھ نرمی کی جائے اور ان کا دفاع کیا جائے اور ان کے ساتھ بہترین طریقے سے بحث مباحثہ کیا جائے۔
2- جزیہ، خراج، عشر اور دیگر مالی جرمانوں سے پادریوں کو مستثنی قرار دیا جائے۔
3- پادریوں کے گرجا گھروں اور گھروں كى حفاظت کی جائے۔
4- پادریوں کو جنگ میں شرکت پر مجبور نہ کیا جائے۔
5- پادریوں کے علاوہ دیگر عیسائیوں سے سالانہ ٹیکس (12) درہم لیا جائے۔
6- اگر ایک عیسائی خاتون مسلمان کے ساتھ نکاح کرے تو اس کو مکمل مذہبی آزادی دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہمارا نصاب اور میڈیا پاکستان پر فخر کرنا سکھاتا ہے؟ تزئین حسن

میں نے عربی اور ترکی دونوں میں معاہدے کے متن کا موازنہ کر کے دیکھا لیکن کہیں بھی مجھے یہ نظر نہیں آیا کہ اگر عیسائی توہین رسالت کرے تو اس کو معاف یا برى کیا جائے جیسا کہ فاضل جج صاحب نے کیا اور ساتھ لکھا ہے کہ آسیہ کیس میں اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

اس معاہدہ کا پس منظر یہ ہے کہ جب خلافت عثمانیہ کے فاتح سلطان سلیم نے مصر کو (1517م) میں فتح کیا تو وادی سینا کے راہبوں نے اس کو یہ معاہدہ پیش کیا، جس کو میثاق نبوی (العهدة النبوية) کہا جاتا ہے۔ سلطان سلیم نے (ت 1566م) نے اس کا عربی اور ترکش نسخہ ترکی منتقل کیا۔ بعد میں جب اس معاہدہ پر تحقیق کی گئی تو اس کے من گھڑت (Fabrication) ہونے کى علامات ظاہر ہوئیں جس کو درجہ ذیل سطور میں بیان کیاجاتا ہے۔

1 - اس معاہدہ کی تاریخ اور پس منظر کے حوالہ سے خود عیسائی مؤرخین کے متضاد بیانات موجود ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت ہوا تھا جب (628م) میں حاکم مصر مقوقس کو رسول اللہ (ص) نے دعوتی پیغام ارسال کیا تو قاصد کا گزر طور سیناء ( دیر سانت کتھرین) سے ہوا تھا تو پادریوں نے واپسی پر رسول اللہ (ص) کے قاصد کے ساتھ وفد بھیجا اور راستہ کے امان کے لیے یہی معاہدہ کرنا پڑا کیونکہ مصر اور عرب کے درمیان رابطہ کا یہی ایک راستہ تھا۔ اور بعض کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ (624) میں ہوا تھا۔ اس كا تاریخی پس منظر یوں بیان کیا گیا کہ رسول اللہ وادی سینا تشریف لائےتھے اور پادریوں نے آپ کی بےمثال مہمان نوازی کی تھی، اس لیے صلہ کے طور پر رسول اللہ (ص) نے ان کو امان کا یہ معاہدہ لکھ کر دیا تھا۔ اور بعض کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ رسول اللہ (ص) کے ساتھ نہیں بلکہ خلیفہ راشد عمر بن الخطاب کے ساتھ ہوا تھا۔

2 - اس معاہدہ کے نسخوں پر جو تاریخ لکھی گئی ہے، وہ ہجری تاریخ ہے کہ یہ معاہدہ سن (2) ہجری میں مسجد نبوی (ص) میں ہوا تھا، حالانکہ اسلامی تاریخ سے واقف احباب جانتے ہیں کہ ہجری تاریخ کا اجراء رسول اللہ (ص) کے وصال كے سات (7) سال بعد ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا ہمارا نصاب اور میڈیا پاکستان پر فخر کرنا سکھاتا ہے؟ تزئین حسن

3 - محققین کے نزدیک اس معاہدہ کى عربی زبان فصاحت و بلاغت اور ترکیب میں عصر رسول (ص) کى زبان اور دیگر معاہدات و خطوط سے مختلف ہے جو اس کے من گھڑت ہونے کی واضح دلیل ہے۔

4 - اس معاہدے میں لکھا گیا کہ یہ معاہدہ علی کرم اللہ وجہہ نے لکھا ہے، اور اس پر گواہ صحابہ کرام، جیسا کہ تصویر میں واضح ہے ابوبکر، عمر، ابو ہریرہ، ابو درداء اور دیگر صحابہ کرام ہیں، لیکن تاریخ اسلام اور سیرت صحابہ سے واقف اہل علم جانتے ہیں کہ سن (2) ہجری میں ابوہریرہ اور ابو درداء مسلمان نہیں ہوئے تھے، بلکہ ہجرت کے ساتویں سال ابو ہریرہ (رض) مسلمان ہوئے تھے تو سن (2) ہجری کے معاہدے میں وہ کیسےگواہ ہوئے۔

5 - اس معاہدے کے گواہوں میں معروف صحابہ کرام (رض) کے علاوہ دیگر ایسے صحابہ کرام کے نام لکھے گئے ہیں جن کا سیرت کی کسی کتاب میں ذکر نہیں ملتا جیسا کہ معظم بن قریش، عمر بن یاسین اور عبد العظیم بن حسن۔ (تصویر میں مزکورہ اسماء واضح ہیں)

6 - تاریخ اور حدیث کى مستند کتابوں میں اس معاہدہ کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر واقعی ایسا کوئی معاہدہ ہوتا تو تاریخ اور حدیث کى کتابوں میں نہ صرف اس کا ذکر ملتا بلکہ اس کے مندرجات بھی ہوتے۔

لہذا !
درجہ بالا تحقیق کی روشنی میں ہمارا خیال ہے کہ یہ ایک جعلی معاہدہ ہے اور اس کا آسیہ کیس کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں، اس معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں کہ اگر کوئی عیسائی شان اقدس میں گستاخی اور توہین کرے تو اس کو معاف کیا جائے۔ اگر فاضل جج نے مذکورہ معاہدہ (سینٹ کتھرین سے عہد) پڑھ لیا ہو اور اس کی شقوں پر غور کیا ہو تو اس میں پانچ شقیں پادریوں کے متعلق ہیں اور ایک عام عیسائیوں کے بارے میں ہے کہ ان سے سالانہ ٹیکس (12) درہم لیا جائے۔

نوٹ : معاہدہ کا عربی مخطوطہ متن تصویر میں نمایاں ہے.

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.