اپنے حق میں بولنا سیکھو - حمیدہ گل محمد

یہ مئی 2018ء کا واقعہ ہے جب سی این جی کی قیمت میں اضافہ ہونے کے باعث ٹرانسپورٹرز حضرات نے جعلی لسٹیں تمام ویگنوں، کوچز اور نجی بسوں میں آویزاں کر کے ایک دم 13 اور 8 روپے کا اضافہ کر دیا تھا۔ یہ اچانک کرائے میں ناجائز اضافے کے خلاف ایک مہینے تک میں نے ان کے خلاف آواز اٹھائی۔ یونیورسٹی آتے جاتے وقت میری ان بس کنڈیکٹر سے ناجائز کرائے کے مطالبے پر کافی توں توں میں میں ہوتی۔ کمال کی بات یہ تھی کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ کرائے میں اضافہ کے خلاف عوام ایک ہو کر ان کو جائز کرایہ ہی دیں گے مگر میں غلط تھی، جب جب کرائے کا مطالبہ کنڈیکٹر مجھ سے کرتا، میں نہیں دیتی تو کنڈیکٹر تو بعد میں کہتا، پہلے یہ عوام ہی میرے پیچھے پڑ جاتی۔

مجھے کہا جاتا کہ کیا 10 روپے بچا کر اپنے کفن میں ڈالو گی، تو دوسری کہتی کہ کرایہ پورا نہیں دے سکتی تو رکشوں میں جایا کرو۔ ابھی عورتیں اپنا بھاشن پورا نہیں کرتی تھیں کہ پیچھے سے مرد حضرات بھی اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالنے کو اہم فریضہ گردانتے اور کہتے، ارے ان عورتوں کا یہی کام ہے، سفر کرتی ہیں کرایہ نہیں دیتیں، پانچ یا دس روپے سے یہ اپنا محل کھڑا کریں گی۔ وہ تمام مسافر مجھ سے ٹھیک ٹھاک سننے کے بعد بھی ہوش کے ناخن نہیں لیتے جبکہ میں ان کو چیخ چیخ کر بتاتی کہ آپ لوگوں سے ناجائز کرایہ وصول کیا جا رہا ہے، اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ۔ مجال ہے کسی کے کان پر جوں بھی رینگتی۔ دن گزرتے گئے میں نے اب کبھی W11 اور کبھی 4K میں جانا شروع کردیا۔ 4K کی ایک اچھی بات یہ تھی کہ انہوں نے 25 سال بعد کرایہ بڑھایا تھا اور وہ بھی صرف 5 روپے جبکہ ہم اسٹوڈنٹس اس گورنمنٹ بس میں کارڈ بھی استعمال میں لا کر آدھا کرایہ دیتے ہیں، مگر نقصان یہ تھا کہ صبح اس سواری میں بیٹھ جاتے تو ایک دو کلاسیں نکل ہی جاتیں، اسی بناء پر w11 کا رخ کرنا پڑتا۔

ابھی کرائے کو بڑھائے مشکل سے 6 مہینے ہوئے تھے کہ تبدیلی کے نعرے والی حکومت نے سی این جی کی قیمت میں ریکارڈ توڑ اضافہ فرما دیا۔ لو بھیا اب سی این جی 104 پر آگئی۔ ماشاء اللہ سی این جی کی تو سنچری بن گئی مگر عوام کا دیوالیہ نکل گیا۔ اس مہنگائی کا براہ راست اثر ایک بار پھر عوام پر آیا، اس بار ہم بہت خوش تھے کہ اب تو اس عوام نے زیادہ کرایہ وصول کرنے پر کنڈیکٹر کا منہ توڑ دینا ہے اور پرانی لسٹ کی پہچان بھی ہوگئی ہوگی۔ ایک بار پھر اس پرانی لسٹ میں ردوبدل کر کے اس لسٹ کو بسوں کی زینت بننے کا شرف بخشا جائے گا جو مئی 2018ء میں لگائی گئی تھی۔ اس بار عوام ان کرایوں میں اضافے کے خلاف بائیکاٹ کرے گی کیوں کہ کرایہ اب 30 روپے سے بڑھا کر 40 روپے جو کردیا گیا تھا۔ صبح حسب معمول یونی جانے کے لئے W11 کا رخ کیا، کنڈیکٹر کو 30 روپے پکڑا دیے، اس نے کہا 10 اور دو، میں نے کہا نہیں ہے، اس نے بحث شروع کردی، جب بحث چلی، جیت میری ہوئی۔ مگر یہ عوام پھر میری دشمن بن گئی، بالکل پاک بھارت جنگ کی طرح مجھ پر برسنے لگے۔ ڈرائیور صاحب نے کہا رکو! ابھی بس تھانے پر لگاتا ہوں۔ لو جی تھانے کا نام سن کر مجھے بےحد خوشی ہوئی۔ میں نے کہا ہاں ہاں لگاؤ تھانے پر گاڑی، تمھیں بھی تو پتہ لگے کہ میں صحیح ہوں یا تم، یا پھر تمھاری حمایتی عوام۔ اتنے میں ایک محنتی آدمی نے پیچھے سے بلند آواز کہا، یار تو گاڑی چلا، اس لڑکی کو تو کہیں جانا نہیں، ہم کام کاج والے لوگ ہیں۔ اس پر مجھے ایک سیانے کی بات یاد آگئی یہ منہ اور مسور کی دال۔ لسٹ کے مطابق 13 اکتوبر کو زائد کرایہ وصول کرنے کا اطلاق ہونا تھا مگر ان لوگوں نے تو 10 اکتوبر سے ہی ناجائز کرایہ وصولی شروع کر دی اور یہ عوام خوشی خوشی دیتی رہی اور اب بھی دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی میں 2 بچوں کی ہلاکت : ریسٹورنٹ اور پلے لینڈ کی دکان کی اشیاء مضرِصحت نکلیں  

میں نے سمجھا گاڑی میں پڑھا لکھا طبقہ کم ہوتا ہے، اس لیے آگاہی نہیں ہوگی، مگر آگاہی دینے پر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والا حساب ہے۔ خیر یونیورسٹی میں بھی پانی کی مشینوں کے لیے احتجاج کیا گیا، مجال ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں اس اجتماعی مسئلے کے خلاف ایک ہوتے۔ کوئی یہاں سے بھاگا کوئی وہاں سے۔ 50 سے 40 لڑکوں کے ساتھ صرف دو لڑکیاں اس نا انصافی کے خلاف پیش پیش تھیں، میں اور میری دوست اقصہ۔ دوسرے دن پانی کی کافی مشینیں مختلف شعبوں میں لگا دی گئیں، اب وہی لوگ جو ہمارے ساتھ احتجاج میں کھڑے ہونے کو باعث شرم سمجھ رہے تھے، ان واٹر کولرز پر پانی بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ابھی ایک ہفتے پہلے بھی یونی میں ایک مسئلہ ہوا، 6 لڑکیوں کے علاوہ کسی نے ساتھ نہیں دیا جبکہ پوری کلاس کا مسئلہ تھا۔

اسی طرح کے دیگر مسائل جن پر عوام کو، اسٹوڈیٹس کو آواز اٹھانا چاہے مگر خود تو آواز اٹھاتے نہیں، اگر کوئی بولتا بھی ہے تو یہ عوام مل کر اس کی آواز دبا دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا چاہیے، اتحاد و اتفاق سے کام لینا چاہیے مگر نہیں لیتے۔ ابھی پانی کا مسئلہ کس قدر سنگین بن چکا ہے، کہا جا رہاہے کہ تیسری جنگ پانی پر ہوگی، مہنگائی کا جن بھی پورے ملک میں دندناتا پھر رہا ہے، ظلم و زیادتی عروج پر ہے، سرعام لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے، بچے اغوا کر لیے جاتے ہیں۔ یہ قوم کچھ نہیں کہتی، الٹا ہر ظلم کو برداشت کرتی ہے۔ درست کہا جاتا ہے کہ "جیسی قوم ویسے ہی حکمران مسلط کیے جائیں گے۔"

مجھے عوام کا بےحس رویہ دیکھ کر شدید غصہ آتا ہے، ہم لاشیں اٹھانا تو گوارا کرتے ہیں مگر اپنے حق کے لیے آواز نہیں اٹھاتے، Spiral of silence theory کا پاکستان کی عوام میں بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ ظلم کو برداشت کرنا بھی ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ خدارا اگر چاہتے ہو کہ تمھاری آنے والی نسلیں کم از کم بنیادی حقوق سے محروم اور خودکشی پر مجبور نہ ہوں، اپنے حقوق حاصل کر پائیں، مستقبل کے لیے فکر مند نہ رہیں، تعلیم سے محروم نہ ہوں، پانی جیسی نعمت ان کو میسر آئے تو خاموش مزاجی کا بندھن توڑو اور لکڑہارے کی ان لکڑیوں کے گٹھڑ کی طرح بن جاؤ کہ تمھیں توڑنا تو دور، کوئی تمھارے قریب آنے کی جرات بھی نہیں کر سکے۔