انسان درندے کیوں بن جاتے ہیں - مسز جمشید خاکوانی

وہ شخص بڑے اطمینان اور مزے سے اپنے جرم کی کہانی بیان کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی تھی۔ ایک سپاہی ہتھ کڑی پکڑے قریب ہی موجود تھا۔ شاید اینکر کے اصرار پر اسے لایا گیا تھا۔ اینکر اس سے پہلے مقتول بچے کے والدین اور بہن کی زبانی بیان بھی ریکارڈ کر چکا تھا۔ اب وہ اس قاتل سے جرم کی کہانی سن رہا تھا۔ اس مجرم نے بتایا کہ میں اس جگہ موجود تھا جب وہ بچہ نبو اور امرود توڑ رہا تھا۔ میں نے اسے پکڑا تو وہ ڈر گیا۔ جب میں نے زیادتی شروع کی تو چیخنے لگا۔ تب میں نے اس کے گلے پر چاقو پھیر دیا۔ پھر عورتوں کی آوازیں آنے لگیں تو میں وہاں سے نکل گیا۔ وہ سات آٹھ سالہ بچہ خون میں لت پت ہونے کے باوجود وہاں سے چلا گیا۔ میں گھر گیا، روٹی کھانے لگا، تو محلے کا ایک بچہ آگیا، جس کی عمر نو دس سال تھی، میں نے اسے روٹی کھلائی، پھر چائے بنا کر پی، اسے بھی پلائی۔ اینکر نے پوچھا تم اکیلے رہتے ہو؟ کہا نہیں ماں ہے، وہ دوسرے گھروں میں کام کرتی ہے۔ پھر میں اس بچے کو اندر لے گیا، اس کے ساتھ برا بھلا کیا، پتہ نہیں وہ کیوں مر گیا۔ اینکر تڑپ کر بولا مر گیا؟ کہتا ہاں! پھر میں نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیا۔ بعد میں اس کو ٹھکانے لگا دیا۔

یہ آج ایک ٹی وی پروگرام چل رہا تھا، مجھ میں تو اتنا سننے کی بھی تاب نہیں تھی۔ جانے کب کا واقعہ تھا، کس طرح پولیس نے پکڑا، میرا ذہن تقریبا دو مہینے پہلے ہونے والے ایک واقعے کی طرف چلا گیا۔ یہ ساری خبر اور تفصیل خبریں اخبار میں چھپ چکی ہے۔ برسوں پہلے میرے سسر کے پاس سندھ سے ایک خاندان آ کر آباد ہوا۔ اس کے کافی سارے بچے تھے، بیوی تھی، سندھی وڈیروں کے ظلم سے تنگ آ کر نقل مکانی کر کے آئے تھے۔ تب میرے سسر کے بچے بھی چھوٹے تھے۔ انہوں نے اس کو اپنی زمینوں پر ٹریکٹر چلانے کے لیے ڈرائیور رکھ لیا۔ سر چھپانے کو مکان بھی دے دیا۔ بندہ وفادار تھا، کئی سال گزر گئے، بچے بڑے ہو گئے، شادیاں ہو گئیں، اس کے بیٹے بھی رحیم یارخان شہر میں کوئی ڈرائیور ہو گیا، کوئی پینٹر بن گیا، کسی نے دکان کھولی۔ سسر کے فوت ہونے کے بعد زمین کا بٹوارہ ہوا تو اس کی بیٹی داماد ہمارے پاس آ کر رہنے لگے۔ ایک بیٹا میرے دیور کے پاس ملازم ہوگیا، ان کے بچے بھی بڑے ہو چکے تھے۔ لیکن اس نسل کو کھیتی باڑی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، بس ان کو موٹر سائیکل اور موبائل چاہیے، آخر وہ مجبور ہو کر شہر میں شفٹ ہو گئے، جہاں انہوں نے اس لڑکے کو موٹر سائیکل رکشہ لے دیا، جو اس ڈرائیور کا پوتا تھا۔ اس کی بات کر رہی ہوں۔ اٹھارہ سال اس کی عمر تھی، کچھ عرصہ رکشا چلاتا رہا، ایک دن رکشہ لے کر گیا تو دن ڈھلے گھر والوں کو فون آیا، میں رات گھر نہیں آئوں گا، خان کے رقبے پھوپھی کے پاس رہوں گا۔ وہ لوگ مطمئن ہوگئے، عمر گزری تھی ان کی ہماری زمینوں پر، ہاں فون کسی اور نمبر سے تھا، ماں نے پوچھا تو کہہ دیا میرے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئی ہے، کسی سے پٹرول پمپ پر فون مانگ کر بات کر رہا ہوں۔ دوسرے دن دیر تک نہ آیا تو انہوں نے رقبے رابطہ کیا، پھوپھی نے کہا یہاں تو آیا ہی نہیں، پھلپوٹ پڑ گئی، نہ رکشہ ملا نہ لڑکا۔ پولیس کو اطلاع دی، تفتیش شروع ہوئی، شاید چھٹے ساتویں روز لڑکے کی لاش ملی۔ وہ بھی ایک درندہ تھا جس نے صرف چند ہزار کے لیے ایک ماں کا جوان بیٹا مار دیا۔ وہ پہلے بھی ایک لڑکے کو رکشہ ہتھیانے کے لیے مار چکا تھا۔ وہ لڑکے کو بہانے سے گھر لے گیا۔ اس کو کھانا کھلایا، پھر چائے میں نشہ دے دیا ،اور بعد میں ایک ساتھی کے ساتھ مل کر گلہ دبا کر مار دیا۔ رکشے کی باڈی اس دوسرے رکشے کے ساتھ لگا دی جو دوسرے لڑکے کو مار کے ہتھیایا تھا۔ یوں ان کی شناخت ختم کی، لیکن پکڑے گئے۔

لوگ چند ٹکوں کے لیے انسانی جان لے لیتے ہیں۔ یہ سب حرام مال کمانے اور کھانے کی وجہ سے کہتے ہیں
احساس نہ مر جائے تو کافی ہے
ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی
وہ میرے سسر کا جو ڈرائیور تھا، ابھی زندہ ہے، لیکن جوان پوتا مارا گیا، روتا ہے کہ ساری عمر حق حلال کما کر کھایا، اس سے اچھا تھا وہی کھیتی باڑی کرتے رہتے، لیکن ان دس گیارہ سالوں میں تو جیسے دنیا ہی بدل گئی ہے۔ ہر طرف نفرت کا بازار ہے یا دو نمبر کاروبار ہے۔ میں نے پچھلے سال ایک آرٹیکل لکھا تھا ’’مملکت خداداد میں سیکس کا کاروبار‘‘ مجھے دبئی ائیرپورٹ کے ایک ملازم نے ساری تفصیل بھیجی اور یہ زرداری دور کی بات ہے۔ اس نے لکھا ہر پاکستانی فلائٹ میں دس بارہ جوان لڑکیاں آتی ہیں، ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں، جب ہمیں یہاں دوسرے ملکوں کے لوگ چھیڑتے ہیں، تمھارے ملک کی لڑکیاں یہاں دھندہ کرنے آتی ہیں۔ میڈم آپ اس پر لکھیں۔ میں نے میل پڑھی لیکن میں اس پر لکھ نہ سکی، معلومات جمع کرتی رہی، تب مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ اصل دھندہ کیا ہے۔ یہ بعد میں عقدہ کھلا کہ ان لڑکیوں کے ذریعے منی لانڈرنگ ہوتی رہی، میریٹ ہوٹل میں ایک لڑکی کام کرتی تھی، مانو کاظمی اس کا نام تھا، پتہ نہیں نام اصل تھا یا جعلی، اس نے مجھے وہ کالم پڑھ کر میسنجر پر میسج کیا کہ اگر مجھ سے دوستی کر لو تو اتنا کچھ دوں گی، تم سوچ بھی نہیں سکتیں، تمھارا لکھنے کا شوق پورا ہو جائے گا، تم شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاؤ گی، میرے پاس اتنے راز ہیں، اس نے مجھے کچھ اینکرز اور پیمرا کے سابق چیئرمین کی وائف کی عریاں تصویریں بھیجیں، اور کہا مجھ سے ملو تو بہت مواد ہے میرے پاس، سب کے نام بتائوں گی اور تصویریں دوں گی۔ یہ دو سال پہلے کی بات ہے میں نے اسے بلاک کر دیا کہ میں تو ایسی صورتحال افورڈ ہی نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے سوچا دفع کرو ایسی شہرت کو جو کسی مصیبت میں پھنسا دے، لیکن اس نے جتنا کچھ بتایا وہ میرے سمجھنے کے لیے بہت کافی تھا کہ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے۔ سفارت خانے تک اڈے بنے ہوئے ہیں۔

جب ملک کی قیادتیں خود ملک لوٹنے لگ جائیں تو پیچھے کیا بچتا ہے۔ ان کا پلان یہی تھا کہ ملک سے باہر جائیدادیں بناؤ اور جب خطرہ ہو ملک میں انارکی اور خانہ جنگی کروا کر باہر جا بیٹھو اور پھر وہیں سے بیٹھ کر حکومت چلاؤ، باریاں طے ہو چکی تھیں۔ الطاف حسین بھی اس پلان میں برابر کا شریک تھا، دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا، ان کے پول کھلنا شروع ہو گئے، تب انہوں نے ملک توڑنے کا پلان بنا لیا تاکہ تینوں قائدین اپنے اپنے حصے پر حکومت کریں، لیکن اللہ کی کرنی ان کو مریم اور حمزہ کی چپقلش لے ڈوبی، کیونکہ حمزہ کسی صورت پنجاب دینے کو تیار نہ تھا۔ حمزہ پنجاب کے بیشتر کاروبار پر قابض ہے، یہاں دودھ، انڈے، مرغی، مصالحہ جات کا کوئی کاروبار اس کی اجازت کے بغیر نہیں چل سکتا۔ آپ سروے کرا کے دیکھ لیں، جتنے لوگ اس کاروبار میں ہیں، وہ ان کے نمک خوار ہیں، قرض بھی انھی کو ملتے رہے، معاف بھی وہی کراتے رہے، نوکریاں بھی انھی کو ملیں، جو ان کے پارٹی ورکر یا ان سے وابستگیاں رکھتے تھے، حتی کہ انگوٹھا چھاپ جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کو بڑے بڑے عہدوں پر بٹھا دیا گیا۔ ان سیاست دانوں نے نوجوان نسل کو نوکریاں تو کیا دینی تھیں، ان کی کایا ہی پلٹ دی، وہ ان سے ایسے کام لینے لگے جو انہیں بہت پر کشش لگتے، جس میں زیادہ محنت نہ کرنی پڑتی، اور لوگ اس دلدل میں دھنستے چلے گئے۔

ملک میں ادارے تو تباہ ہوگئے، ایک طرح سے ڈاکو راج قائم ہو گیا، جو جتنا طاقتور اتنا بڑا مجرم، زبانی احکامات ملتے اور ان پر عمل ہوتا۔ یہ الطاف کا بندہ، یہ زرداری کا ہے، یہ نواز شریف کا ہے، یہ شہباز شریف کا ہے، یہ حمزہ کا ہے، یہ ادی فریال تالپور کا ہے، یہ مریم کا ہے۔ ان دس سالوں میں جو کاروبار بہت پھلے پھولے، وہ ایک تو نت نئے پلازے اور نت نئے ہوٹل، اور ان کے لیے گیس اور بجلی کی بندش کی گئی۔ یقین کریں جب سولہ سولہ گھنٹے گیس بند رہتی تھی تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا تھا، انسان اپنے مہمانوں کو ہوٹل میں لے جا کر کھانا کھلائے، یوں ہوٹلوں کا کاروبار چلا کہ یہ گھروں کی گیس بند کر کے ہوٹلوں کو دینے لگے۔ گھر میں کھانا پکنا بند ہوا تو عورتوں نے بھی وطیرہ بنا لیا، چھوٹے سے چھوٹا فنکشن بھی ہوٹلوں میں ہونے لگا۔ لوگوں نے مرغی کا کاروبار خوب کیا کھپت اتنی بڑھ گئی کہ اٹھارہ دن میں مرغیاں تیار ہونے لگیں۔ ہزاروں مرغیاں ٹرانسپورٹنگ کے دوران ہی مر جاتیں، کیونکہ ہمارے گرم علاقے ہیں، پھر بجلی نہ ہونے سے فریج فریزر بھی کام نہ کرتے، لہذا مردہ مرغیاں ہوٹلوں میں اور شادی ہالوں میں پکتیں رہیں، لوگ کھاتے رہے۔

پارلر پر ایک عورت آئی ہوئی تھی، ان کا کنٹرول شیڈ تھا۔ پارلر والی نے اسے سموسہ آفر کیا، کہنے لگی چکن کا تو نہیں ہے؟ اس نے کہا چکن کا ہے، کہتی میں تو کبھی نہ کھاؤں مری ہوئی مرغی، اس نے کہا آپ کیسے کہہ سکتی ہو؟ کہنے لگی، پاگل مجھ سے زیادہ کس کو پتہ ہوگا، ہزاروں مرغیاں مرتی ہیں، پھر نقصان تو نہیں کرنا، یہ ہوٹلوں اور دکانوں والے آدھی قیمت پر لے جاتے ہیں، اس کے لیے ’’ٹھنڈے گوشت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ زندہ مرغی دو سو روپے کلو اور مردہ پچیس روپے، اس لیے وہ بولتے ہیں، ٹھنڈا گوشت چاہیے، ان کا بھی فائدہ ہو جاتا ہے ہم بھی نقصان سے بچ جاتے ہیں ۔جو گندے انڈے ہوتے ہیں وہ خشک کر کے پاؤڈر بنا لیتے ہیں، ان سے کیک بسکٹ بن جاتے ہیں، اس لیے نہ میں بیکری کی کوئی چیز کھاتی ہوں نہ مرغی کی۔ وہ عورت ہنس ہنس کر سنائی جا رہی اور ہم احمقوں کی طرح دیکھے جا رہے۔ کہتی یہ جو سڑک کنارے سجی بن رہی ہوتی ہے، انگاروں پہ سکتی، یہ ساری مری ہوئی مرغیاں ہوتی ہیں۔ یہ بڑی دیگ میں ساری مردہ مرغیاں پروں سمیت ابال لیتے ہیں۔ بس یہ پھر آرام سے چھل جاتی ہیں، پر اور پنجے اتار کر سیخوں میں پرو کر سجی بن جاتی ہے، اس لیے تو ان کا کلر بالکل سفید ہوتا ہے۔ تو آپ خود سوچیں ایک گیس بند کر کے انہوں نے کتنے لوگوں کو روزگار دیا لیکن کینسر اور شوگر اتنی عام ہو گئی ہے جیسے کبھی نزلہ زکام ہوتا تھا، حتی کہ معصوم بچے کینسر اور شوگر میں مبتلا ہیں، یا پھر ہیپاٹائٹس کے مریض۔ کچھ لوگوں نے مجبور ہو کر ایل پی جی سلینڈر لینا شروع کر دیے۔ دیہاتوں میں درخت کاٹ کر جلا دیے۔ یوں فضا آلودہ ہو گئی، بارشیں کم ہو گئیں۔ جب سے عمران کی حکومت آئی ہے، صرف رات کو دو گھنٹے گیس جاتی ہے، اب کہاں سے آ گئی ہے اور خدا گواہ ہے، بلوں میں کوئی فرق نہیں پڑا، بس ان کا شور ہے ہائے گیس کی قیمت بڑھ گئی، مہنگائی کا طوفان آ گیا۔

میں اس دن ایک بڑے برانڈ پر گئی، پہلے سے کم قیمتیں تھیں، میں نے پوچھا کیا وجہ؟ وہ تو کہتے ہیں مہنگائی بڑھ گئی، وہ بندہ ہنسنے لگ گیا، کہتا میڈم جب اتنے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈلے گا، چیخیں تو نکلیں گی، خان بہت اچھے کام کر رہا ہے، اللہ اسے کامیاب کرے۔ اسی طرح اب بجلی کی کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی۔ ہمارے ایک قریبی واپڈا میں اچھے عہدے پر ہیں، کہتے ہیں روزانہ کا شیڈول آیا کرتا تھا، آج فلاں صنعت کار کو بجلی دینی ہے، سو ہم گھروں کی بجلی بند کر کے اس کو بجلی دیتے، اور پیسہ اوپر پہنچا دیتے تھے۔ ٹھیک ہے ہمیں بھی حصہ ملتا تھا۔ اب ہمارے ٹھاٹ باٹ کہاں سے آئیں گے۔ یعنی ادارے اس طرح تباہ ہوئے کہ اختیارات نچلی سطع پر منتقل ہو گئے اور پیسہ اوپر والوں کی جیب میں جانے لگا۔ اب جس نچلے افسر نے حصہ لے کر یہ کام کیا وہ کیوں گواہی دے گا؟ اسی طرح بینکوں کے ساتھ ہوا۔ تھوڑا سا حصہ بینک ہیڈ کی جیب میں، سارا بینک شہباز شریف کے حوالے، لوگوں کی پینشنیں اور بیت المال تک لوٹ کر کھا گئے۔ اب جن چند ہزار لوگوں کو حصہ ملتا رہا ان کو تو شہباز شریف ضرور یاد آئے گا۔ ادی فریال ٹول ٹیکس بٹورا کرتی تھیں، ملک کی ہر چھوٹی بڑی سڑک پر ٹیکس لگا کر روزگار پیدا کیا گیا، اس کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا بیڑا غرق کیا، یوں ہر بندہ اپنی گاڑی لینے پر مجبور ہوا، جہاں فضائی آلودگی بڑھی، وہاں ٹول ٹیکس کی آمدنی بڑھی، جو میری معلومات کے مطابق ادی فریال وصولتی تھیں۔

ایک اور کاروبار جو اس دور میں بہت مقبول ہوا، وہ موبائل سے وڈیو بنا کر نیٹ پر ڈالنا اور گھر بیٹھے لاکھوں کمانا، اس کاروبار نے ہماری رہی سہی اخلاقیات کا بھی جنازہ نکال دیا۔ اس کی وجہ سے لوگ اتنے بےحس ہو گئے کہ کوئی مر رہا، قتل ہو رہا ہے، کسی پر تشدد ہو رہا ہے، کوئی ڈوب رہا ہے، جل رہا ہے، بجائے اس کی مدد کرنے کے اس کی وڈیو بن رہی ہے۔ یہ سلسلہ اب کم ہو گیا زینب کے قاتل کو سزا ملنے سے ورنہ قصور کے وحشی جانے ابھی کتنی پورن فلمیں بنا کر دولت اکھٹی کرتے۔ ان کو بھی یقینا خان کی حکومت سے بہت تکلیف ہوگی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ ویڈیو تو اکثر لوگوں نے دیکھی ہوگی جس میں وہ لال بالوں والا بابا اعتراف کر رہا ہے کہ ہم کرائے پر قاتل فراہم کرتے ہیں، مظاہروں کے لیے موب دکھانا ہو، سیاسی پارٹیوں کی رونق بڑھانی ہو، کہیں دنگا فساد کروانا ہو، جلاؤ گھیراؤ کرانا ہو، یا کسی کا قبضہ کرانا ہو، ہم کام کے حساب سے ریٹ لے کر بندے فراہم کرتے ہیں، اور ڈنڈے چاقو سے لے کر ہر طرح کا ہتھیار بھی۔ اب خود سوچیں ملک میں امن ہو گیا تو یہ لوگ تو بھوکے مر جائیں گے۔

بھکاری بھی مایوس ہوں گے، خیبرپختونخوا میں تو ان کے اصلاح خانے قائم کر دیے گئے ہیں، ورنہ بچے اغوا کرنا اور ہاتھ پاؤں توڑ کر بھیک منگوانا، ان بھکاریوں کے گرو بڑے بڑے پلازوں اور مارکیٹوں کے مالک ہیں۔ پتہ نہیں ہتھ ریڑھی میں بیٹھا بظاہر معزور کتنی عالی شان کوٹھی میں رہتا ہو۔ سارے ملک میں اصلاح خانے قائم ہو گئے تو یہ کاروبار بھی ٹھپ ہو جائے گا۔ پی آئی اے ائیر فورس کے حوالے ہو گئی ہے، اب جہازوں کے باتھ روموں میں سونا اور منشیات کیسے سمگل ہوں گی۔ یہ بھی تشویش کی بات ہے پولیس میں اصلاحات ہو گئیں تو حمزہ اور رانا نثار کیا کریں گے۔ ان کی تو راجدھانی اجڑ جائے گی۔ مریم رانی نے نوجوانوں کو قومی خزانے سے اربوں روپے کھلا دیے، اپنی چھاؤں میں پناہ دی، مخالفین کے لیے ایک پوری فوج تیار کی جن میں آئی ٹی کے ماہر اور یونورسٹی لیول کے لوگ جمع کیے گئے۔جب مجھے کیوں نکالا ہوا تو وہ در بھی بند ہو گیا۔ سوچیے کتنے لوگ بیروزگار ہو گئے۔ وہ تو چاہیں گے کہ مریم کی حکومت ہو اس لیے اب مریم اپنا سارا زور خان کی حکومت گرانے پر لگائے ہوئے ہے۔ ملک ریاض کے بغیر یہ لسٹ ادھوری رہے گی وہ بھی اس ملک میں سٹیک ہولڈر ہے۔ ایک ایسی راجدھانی کا مالک جس کی بنیادیں سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضوں پر کھڑی ہیں۔ اس نے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے میڈیا کو بدمعاش بنا دیا، اپنا باجگزار بنا لیا، شاید ہی کوئی بچا ہو جو اس کے دیے پلاٹ اور پیسوں کا داغدار نہ ہو، لیکن اس کی بد نمائی میں زرداری کا بہت بڑا ہاتھ ہے، ورنہ بندہ کام کا تھا، اس کا بت بھی گر گیا۔ ہماری مذہبی جماعتیں تو الا ماشا اللہ ویسے ہی بہت نام کما چکی ہیں، یہ سب کارو باری لوگ ہیں اور خان نے سب کے کاروبار پہ ہاتھ ڈال دیا ہے۔ اللہ جانے ان سے بچے گا کیسے؟ یہی سوال ہر محب الوطن کے دل میں خوف بن کے کھڑا ہے۔