شاعر مشرق کا اعزاز - سلمان اسلم

پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ۔ تصور پاکستان پیش کرنے والا عظیم مفکر نہ جانے کیسے یہ جان گیا کہ اس کے قلم سے نکلنے والی یہ شہادت حق دراصل خالق کائنات کی منشاء ابدی ہے۔ رب کائنات نے فکر کے کسی گوشے میں خاص رحمت ایزدی سے یہ بات ڈال دی جو نیچے علامہ صاحب کے یوم پیدائش کے حوالے سے اپنا یہ مقدس خیال شیئر کرنا اعزاز سمجھتا ہوں۔ اور یہی مرا کل سرمایہ شرق و غرب ہے کہ مجھے علامہ صاحب کے ہم وطن ہونے کا شرف بھی عطا ہوا۔

اللہ جل شانہ نے اس کائنات کی تخلیق کا ماخذ کلمہ طیبہ رکھا اور اس کا حصول بھی۔ لیکن اللہ نے حبیب کبریا سے محبت و عشق کے اس لازوال جذبے کے اظہار کے لیے (کہ اس کائنات کی تخلیق باعث فخر موجودات محمد عربی علیہ الصلوات والسلام ہیں ) لازوال شہادت بھی عطافرمائی۔ اور وہ یہ کہ اپنے نام مبارک کے ساتھ اپنے محبوب کے نام کو نتھی، منسوب و مربوط کر دیا۔ اور یہ حکم دیا کہ لا الہ الا اللہ کو پانا چاہتے تو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ماننا شرط اول وآخر ہوگا۔

اب درجہ بالا بنیادی تمہید کو سامنے رکھتے ہوئے نظریہ پاکستان اور وجود پاکستان پہ نظر دوڑائیں۔ جب محبوب پاک نے اپنے پاک و مطہر حدیث مبارکہ میں یہ نشاندہی فرمائی کہ دین اسلام کی سربلندی کے لیے آخر وقت میں خراسان / پاکستان (کے سرحدات جو صوبہ کے پی کے میں ملتے ہیں) سے کچھ لشکر اٹھیں گی اور غزوہ ہند میں شرکت کرے گی (مفہوم) تو مولا کائنات رب ذوالجلال نے یہاں بھی اپنے حبیب سے محبت کا لازوال اظہار شہادت ہمیں عطا فرمایا اور وجود پاکستان کے لیے مدینہ ثانی کے نام اور مقام و مرتبت سے مرحمت فرمایا اور اس کی بنیاد کو جو اسلام یعنی اللہ کی وحدانیت (لا الہ الا اللہ ) کی خاطر فوج کشی کریں گے غزوہ ہند میں تو وہاں پہ رب کائنات میں (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عزت اور محبت کو دوام بخشنے کے لیے مفکر و معمار پاکستان بھی دونوں " محمد" کے نام سے منسوب فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی پاکستان میں کیا چاہتی ہے- میر ا فسر امان

اور یہ واضح اور حکمت سے بھرا پیغام دیا کہ انہی "محمد" ( علامہ محمد اقبال کے تصور اور محمد علی جناح کے تقریر) کو اپنا کر چلو گے تو پاکستان ( لا الہ الا اللہ کے مصداق) کو حاصل کر پاؤگے۔ ورنہ 1857ء کی تحریک کوئی عام اور معمولی تحریک نہ تھی مگر وجہ یہی تھی کہ "لا الہ الا اللہ " کا تصور "محمد رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)" کے بغیر ممکن نہیں۔ اور میں اسکو منسوب ایسے ہی کرتا ہوں۔

"لا الہ الا اللہ " وجود پاکستان ہے اور راستہ و ذریعہ محمد رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، اور ان کے غلام علامہ محمد اقبال اور محمد علی جناح ہیں۔
تبھی فرمایا علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے
پاکستان کا مطلب کا کیاا لا الہ الا اللہ