اقبال اور خودی - عائشہ یاسین

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا نام اپنی پہچان آپ ہے۔ آپ کی زندگی، کلام، انداز تکلم اور افکار جداگانہ اور انمول ہیں۔ علامہ اقبال ایک سوچ، فکر اور نظریہ خودی کا نام ہے۔ خودی اقبال کے کلام کا خاصہ ہے۔ خودی وہ لفظ ہے جو کلام اقبال کے سارے رموز کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

خودی کیا ہے؟ محض ایک لفظ، ایک فکر یا فقط ہماری ذات؟ خودی وہ مرکزی نقطہ ہے جہاں سے حیات پھوٹتی ہے، اور کہکشاں کی قوس و سے کائنات روشن ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایک نیوٹرون کی حیثیت ہے، اسی طرح انسان خودی کا مظہر ہے۔ خود کو جاننا، پہچاننا اور اپنے وجود کے ہونے اور نہ ہونے کی اہمیت کا ادراک کرنا خودی ہے۔ فرد واحد ہونے کی حیثیت سے اپنی ذات کا ادراک اور اس میں چھپے رموز کو جاننا اور اپنے تخلیق کیے جانے کا مقصد جاننا خودی ہے۔ اپنی اصل سے روشناس ہونا خودی ہے۔ خودی وہ امر ہے جو رب تعالی نے انسان کو عطا کیا تاکہ وہ سوچے اور غور و فکر کرے اور اپنی اصل کو تلاش کرے۔


خودی کیا ہے راز دورنِ حیات

خودی کیا ہے بیداری کائنات


علامہ اقبال مسلمانوں کے لیے آزمائش کے دور میں پیدا ہوئے۔ مغل سلطنت غلامی میں جکڑی جا چکی تھی اور مسلمان شرمندگی اور کشمکش میں مبتلا تھے۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر کا مسلمان ذہنی ایذا کا شکار تھا۔ اپنی رفعت و مرتبے کے چھن جانے کے بعد وہ بھلا بیٹھا تھا کہ بحیثیت مسلمان اس کی عظمت کیا ہے اور اس کا دین اس کو کیسا دیکھنا چاہتا ہے۔ نتیجتا مسلمانوں میں انتشار اور تفریق نے ان کو کئی طبقوں میں بانٹ دیا۔ ایک طبقہ دین کے نام پر مولوی ازم کی شکل اختیار کر گیا اور ایک طبقہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے لبرل کہلایا۔ ایسے میں جو چیز متفقہ تھی، وہ مذہب اسلام تھا۔ اقبال نے مسلمانوں کو متحد کرنے اور ان کی سوچ کو ایک جگہ مرکوز کرنے کے لیے خودی کا فلسفہ عیاں کیا اور مسلمانوں کو یاد کرایا کہ وہ ایسے دین کے ماننے والے ہیں جہاں غلامی ان کی اصل اور خودداری پر ضرب ہے۔ یہ مسلمان کی غیرت پر وار ہے کہ وہ غیر اللہ کے سامنے جھکے یا اپنی غیرت کا سودا کرے۔ اقبال نے خودی کو موضوع بنا کر مسلمان کو جھنجوڑا اور اپنے دین کی طرف لوٹ جانے کو ترغیب دی۔ اپنی انا اور شناخت کی حفاظت کا درس دیا اور اپنی صلاحیتوں کو بر لانے کی تلقین کی۔

علامہ اقبال نے خودی کو بطور نظریہ پیش کیا۔ زندگی کے ہر پہلو میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ہر عمر کے فرد کے لیے اس کو لازمی قرار دیا۔ خاص کر کہ نوجوان طبقہ جس کو آنے والے نسل کی ڈور سنبھالنی تھی۔ اقبال نے بارہا اپنے کلام سے یاد دہانی کرائی کہ مسلمانوں سے چھن جانے والی طاقت اور حرمت اس کی ذات سے منسلک ہے اور ضرورت صرف اس کی پہچان کرنے کی ہے۔ اس کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کی ہے۔ اقبال نے مسلمانوں کی ہمت کو جلا دینے کے لیے ہر دفعہ ان کو ان کے انسان اور اشرف المخلوقات ہونے کی یاد دہانی کرائی اور قرآن مجید کو ان کا حقیقی رہنما گردانا۔ انہوں نے صرف اس بات پر زور دیا کہ انسان کو حکمرانی کے لیے پیدا کیا گیا۔ یہ زمین تو کچھ بھی نہیں۔ خودی سے روشناس ہونے پر اس نے کائنات میں راج کرنا ہے۔ نظام خداوندی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اقبال نے ہر اس چیز کو اپنے خیال آ افکار و نظریات میں شامل کیا جس سے آج کا مسلمان بیدار ہوسکے اور اللہ کے دین کو اور اپنی شناخت کو جان سکے۔

مگر افسوس ہم آج تک اقبال کی خودی کو نہ جان سکے نہ جانچ سکے۔ ہم نے آزادی تو حاصل کرلی مگر اپنی شناخت کا پتہ نہیں پا سکے۔ ہم آج بھی ذہنی و نظریاتی پہلو سے بہت دور جا چکے ہیں۔ اقبال نے کھول کھول قرآن میں موجود مومن کی پہچان بتائی۔ کامیاب قوموں کے خدوخال کو سمجھایا۔ دین کیا ہے اور کیوں ہے؟ اس کی تشریح کی تاکہ جو غلامی ان کے حصے میں آئی، وہ ان کی آنے والی نسل نہ جھیلے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اقبال نے جو خواب دیکھا تھا وہ اب بھی ادھورا ہے۔ صرف خطے کی آزادی کا خواب اقبال کا خواب نہ تھا بلکہ اقبال مسلمانوں کی رگوں میں قرآن بہتا دیکھنا چاہتے تھے۔ اقبال ایک ایسی قوم کی تعمیر چاہتے تھے جہاں کلمہ حق کی تکمیل ہو، اپنے رب کی پہچان ہو اور اسلام کے دی ہوئی تعلیمات کا راج ہو۔ جہاں سب ایک دین اور ایک جھنڈے تلے ایک قوم کی حیثیت سے متحد ہوں۔ جہاں بندہ بندے کے کام آئے اور بندگی کا راج ہو۔ جہاں مؤمنوں کا بسیرا ہو اور قرآن ان کے سینے میں دہکتا ہو۔ جہاں انسان تو انسان، ایک چیونٹی کا حق بھی نہ مارا جاتا ہو۔ مگر یہ ایک محض خواب ہی ہے۔ ابھی جستجو اور علم کے کئی مراحل سے گزر کر ہی یہ ممکن ہے کہ ہم انسان بن سکیں اور فلسفہ خودی کو جان سکیں۔