سلام اُس پر - عرفان اللہ اسماعیل

سورج دن بھر کی مسافت طے کرکے مغرب کی جانب غروب ہورہا تھا ۔دن بھر زمین والوں پر آگ برسانے کے اب قدرے ٹھنڈا پڑگیا تھا ۔زمین پر بسنے والے انسان اور حیوان اپنے اپنے گھروں سے نکل کر اس ٹھنڈ کو محسوس کررہے تھے۔بچے گروپوں کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ دھینگا مشتی کررہے تھے اور بڑے آپس میں گپیں ہانک رہے تھے۔

ان سب سے دور ایک گھر میں وہ بوڑھی عورت گارے سے بنی ہوئی دیوارپر ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی تھی۔ ہاتھ میں سوئی دھاگہ لیے کپڑے سلائی کررہی تھی۔ یہ اسکے روز کامعمول تھا کہ وہ سورج ٹھندا ہونے کے بعد صحن میں بیٹھ کر سلائی کاکام کیا کرتی تھی۔پورے محلے میں اس بوڑھی عورت کی سلائی کی دھوم تھی۔محلے کے تقریباََ تمام خواتین و لڑکیاں اپنے کپڑے سلائی کے لیے اُس کو دیتی تھیں کیونکہ وہ بڑھیا انتہائی نفاست اور تھوڑے سے وقت میں اپنا کام مکمل کرتی تھی۔

سر نیچے کیے وہ بوڑھی اپنے کام میں منہمک تھی کہ یکایک اس کی ملازمہ گھر کے اندر داخل ہوئی اور دوڑتی ہوئی بُڑھیا کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ بُڑھیا اس اچانک حملے سے تھوڑا گھبرائی تو ضرور لیکن پھر سنبھل گئی۔ کیا ہو اتمھیں ،آرام سے نہیں آسکتی ہوکیا ؟؟؟؟ اندھوں کی طرح دوڑتی ہو۔بڑھیا نے اپنے غصے کا اظہار کیا ماں جی ! بات ہی کچھ ایسی ہے ،مجھے ابھی پتہ چلی ہے ،میں فوراََ تمھیں بتانے آئی ہو ں۔ملازمہ گھبرائے ہوئے لہجے میں زور زور سے کہہ رہی تھی اور اپنی وفاداری کا ثبوت دے رہی تھی۔ اب بک بھی دو۔۔کیا ہو ا ہے؟؟؟بڑھیا نے ملازمہ کو تمہید سے روکتے ہوئے کہا

ماں جی! مکے میں ایک ایسا شخص آیا ہے جو ہمارے خداؤں کا انکار کرتا ہے اوراپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتا ہے اور کہتاہے کہ یہ سب جھوٹے خدا ہیں ۔ان کو تم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ۔اصل خدا وہ ہے کہ جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے اور رزق دے رہا ہے۔ ملازمہ مکمل احوال بڑھیا کے گوش گزار کررہی تھی

اور ماں جی میں نے سنا ہے کہ وہ جادوگر ہے اور لوگوں کو جادو کرتا ہے۔ جو اس کے پاس ایک مرتبہ بھی جاتا ہے تو وہ اس کا ہوجاتا ہے۔ ابھی ملازمہ مزید کچھ کہنا چاہتی تھی کہ بڑھیا نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو چپ کرایا اور کہنے لگی تمھیں کس نے بتایا یہ سب کچھ ؟؟؟ بُڑھیا کے چہرے پر پریشانی واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی ماں جی ! میں نے خود اس کو دیکھا ۔وہ تھڑے پے بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ اللہ کے سامنے جھکو ۔اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو۔وہ اکیلا ہی معبود ہے ۔ ملازمہ کی ان باتوں نے بُڑھیا کو مزید پریشان کردیا ۔اب بڑھیا کے لیے کام کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ اس کا دل اُ چاٹ ہونے لگا تم جاؤ کام کاج کرو ،کھانا بناؤ ۔اب کیا بیٹھ کے میرا منہ دیکھ رہی ہو ۔ بڑھیا نے ملازمہ کو ڈانٹ پلائی اور اپنا سلائی کا سامان اٹھا کر اندر کمرے میں چلی گئی۔
٭............٭..................٭........................٭

رات کافی بیت چکی تھی لیکن بڑھیا کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ۔وہ ابھی تک شام والے واقعے کے بارے میں پریشان تھی ۔اور سوچ رہی تھی کہ میرا کیا بنے گا ،اس طرح نہیں کہ میں بھی اس کے سحر میں گرفتار ہوجاؤں۔ کیا کروں، کہاں جاؤں کہ اس شخص کے سحر سے بچ جاؤں ۔

بڑھیا سوچ سوچ کے ہلکان ہوئی جارہی تھی لیکن اُسے کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔اب ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ یہ شہر چھوڑ کے چلی جائے ۔بڑھیا نے نہ چاہتے ہوئے بھی اسی راستے کا انتخاب کیا جو کہ دشوار تھی لیکن یہی ایک بات بڑھیا کو حوصلہ دے رہی تھی کہ وہ اس شخص کے سحر سے محفوظ رہے گی ۔

یہی سوچ کے بڑھیا بسترسے اٹھ بیٹھی اور تیاری کرنے لگی کیونکہ صبح سویرے اس شہر کو چھوڑ کے جاناتھا۔ صبح ہوتے ہی بڑھیا نے اپنا وہ تھیلا اٹھایا جس میں اس نے چند جوڑے اور کچھ ضروری چیزیں رکھی تھیں ۔تھیلا ہاتھ میں لیے بڑھیا دروازے کے پاس بیٹھی کسی مزدور کا انتظار کرنے لگی کیونکہ تھیلا وزنی تھا ۔ اس کا اٹھانا بڑھیا کے لیے مشکل تھا۔

اچانک بڑھیا کو سامنے سے ایک چاند سے چہرے والا شخص آتا ہو ادکھائی دیا۔ بڑھیا پہلے تو گھبرائی پھر ہمت کر کے اس شخص کو آواز دے کر اپنے پاس بلائی۔ بڑھیا لا علم تھی کہ یہ وہی شخص ہے جو اپنے آپ کو خدا کا پیغمبر کہتا ہے ۔اگر بڑھیا کو علم ہوتی تو بڑھیا کبھی بلانے کی غلطی نہیں کرتی۔ وہ شخص ابھی اپنی عبادت کرکے بیت اللہ کی طرف جارہا تھا لیکن بڑھیا کی آواز سن کر وہ اس کی طرف آنے لگا، جی اماں ! آ پ نے مجھے آواز دی؟ پیغمبر نے اپنے پیغمبرانہ انداز میں بڑھیا سے دریافت کیا۔ بیٹا! میری یہ گٹھڑی ہے، اسے میرے ساتھ لیے چلوگے؟ بڑھیا نے بلا تکلف کہا۔ جی اماں! کیوں نہیں، میں مزدور ہوں، میرا کام ہے یہ۔ پیغمبر نے گٹھڑی سر پر رکھتے ہوئے کہا۔

بڑھیا پیچھے اور پیغمبر آگے گٹھڑی لیے دونوں آہستہ آہستہ منزل مقصود کی طرف جارہے تھے۔ بڑھیا مسلسل بول رہی تھی اور پیغمبر اس کو پوری توجہ سے سن رہا تھا۔
بیٹا! میں یہ شہر چھوڑ کے جارہی ہوں۔ میں اب مزید یہاں نہیں رہ سکتا۔ یہاں ایک شخص آیا ہے جوہاشمی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ عبد المطلب کا پوتا ہے۔ اس کا نام محمد ہے۔ اپنے آ پ کو خدا کا پیغمبر کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لات ،منات تمھارے جتنے بھی خدا ہیں، یہ سب جھوٹے ہیں۔ اور بیٹا! میں نے سنا ہے کہ وہ جادوگر ہے جو بھی اس کا کلا م ایک مرتبہ سن لیتا ہے تو وہ اس کے سحر میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ میں بس اس کے سحر سے بچنا چاہتی ہوں۔ اس لیے اب میں مزید اس شہر میں نہیں رہ سکتی۔

بڑھیا لاشعوری طور پر اپنی کہانی سنا رہی تھی۔ اور وہ پیغمبر بھی کمال کا پیغمبر تھا کہ جو پوری اطمینان سے اپنے خلاف بڑھیا کو سن رہا تھا۔ بیٹا! اب میں بہت خوش ہوں کہ میں محمد کے سحر سے بچ کے جا رہی ہوں، لیکن بیٹا میری ایک نصیحت ہے بس اس کو اپنے پلّے باندھ لینا۔ بڑھیا نے منزل پر پہنچتے ہوئے کہا۔
جی اماں! بولیں، کیا بات ہے؟

بیٹا! میری نصیحت ہے تمھیں کہ اس شخص سے ذرا بچ کے رہنا۔ کیونکہ مجھے خطرے کی بو آرہی ہے۔ عنقریب اب ایک خطرناک جنگ چھڑنے والی ہے۔ اگر آپ بھی اس شخص کے ساتھی بن گئے تو آپ بھی اس جنگ کا شکار ہوجاؤگے۔

بڑھیا انتہائی راز دارنہ انداز میں پیغمبر کو نصیحت کر رہی تھی۔ یہ جانے بغیر کہ میں جس کو نصیحت کر رہی ہوں وہ خود وہی شخص ہے جو اللہ کا پیغمبر ہے۔

اللہ کا پیغمبر بالکل خاموشی کے ساتھ بڑھیا کی نصیحت سن رہا تھا۔ بڑھیا کی بات پوری ہوتے ہی پیغمبر نے واپس جانے کی ٹھانی اور بڑھیا سے اجازت چاہی۔

بیٹا! مزدوری تو لیتے جاؤ ۔ایسے کہاں جاؤگے۔

اماں! یہ بھی کوئی کام ہے کہ جس کی میں مزدوری لوں۔ یہ تو میرا فرض ہے۔ پیغمبر نے مزدوری لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا۔

بیٹا! اپنا نام تو بتاؤ، کون ہو، کس قبیلے سے ہو؟ بڑھیا اگلے چند لمحات سے بے خبر نام ونسب دریافت کرنے لگی۔

اماں جی! میرا ہاشمی قبیلے سے تعلق ہے اور میں ۔۔ہی۔۔محمد ۔۔ہوں۔

پیغمبر نے گردن نیچے کرتے ہوئے کہنا شروع کیا تو بڑھیا کو ایسا لگا کہ زمین اپنی جگہ سے سرک رہی ہے۔

میں خدائے واحد کے عبادت کی طرف لوگوں کو بلاتا ہوں ،میں ان کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لانا چاہتا ہوں، دوزخ کی آگ سے بچا کر جنت کی چھاؤں میں لانا چاہتا ہوں۔ میں سب کے ساتھ برابری کرنے کی دعوت دیتا ہوں، میں اس معاشرے کی مظلوم عورت کو گھر کی ملکہ بنانے کی بات کرتا ہوں، یتیموں کو ان کے حقوق دلانے کی بات کرتا ہوں۔ شایدیہی میرا قصور ہے، شاید اسی وجہ سے زمانہ مجھے ساحر کہتا ہے۔

اماں جی! بس یہی میرا تعارف ہے۔ نبی مہربان سر نیچے کیے اپنا تعارف کرارہا تھا تب یہ ایسا لمحہ تھا کہ بڑھیا کے دل میں روشنی کی آمد ہو رہی تھی۔ نفرت محبت میں بدل رہی تھی۔ بے اختیار آنسو بہنے لگے تھے۔ یہ نبی کا سحر نہیں تھا بلکہ یہ اس کے اخلاق تھے۔ آپ نے اپنے اخلاق سے پتھر کو موم کرد یا تھا۔ اسی لیے تو قرآن نے آپ کے بارے میں کہا کہ وَاِنّکَ لَعَلٰی خُلُقِِ عَظِیِم آپ تو اخلا ق کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہیں۔

بیٹا! میں تیری دعوت پہ لبیک کہتی ہوں۔ میں خدائے واحد پر ایمان لانا چاہتی ہوں۔ میں مزید اندھیرے میں رہنا پسند نہیں کرتی۔

بڑھیا آنسو ؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔

لااِلٰہ اِلا اللہ محمد رسولُ اللہ نبی مہربان نے کلمہ اسلام پڑھا کر بڑھیا کے دل کو تسکین دی۔

بڑھیا واپس نبی مہربان کے ساتھ بستی کی طرف لوٹنے لگی۔

جس کی وجہ سے بڑھیا بستی چھوڑکر جا رہی تھی اب اسی کی وجہ سے واپس بستی کی طرف لوٹ رہی تھی۔