اور طارق جمیل بچ گئے - عبداللہ طارق سہیل

دھرنے کے دوران توڑ پھوڑ اور گھیرائو جلائو کرنے والے افراد کی گرفتاریاں شروع ہیں۔ پکڑ دھکڑ اس فوٹیج کو دیکھ کر جاری ہے جو اس دوران سامنے آئی۔ فوٹیج میں نظر آنے والوں کو شناخت کرنا اور پھر ڈھونڈنا ایک مشکل اور طویل عمل ہے اور اس کے نتیجے میں مذہبی جماعت کی ناراضگی بھی مول لینا پڑے گی جو ٹھیک نہیں۔ ممکن ہے کل کلاں کو اس کے تعاون کی پھر ضرورت پیش آ جائے۔ کیوں نہ خان صاحب کے دیرینہ مداح کی تجویز پر عمل کیا جائے جو اس نے گزشتہ روز اپنے ٹی وی پروگرام میں ملفوف طور پر دی ہے۔ اس نے بتایا کہ لبیک والوں کے مظاہروں میں مسلم لیگ ن کے کارکن تھے، انہی نے توڑ پھوڑ کی۔ اسے ’’انکشاف‘‘ سمجھ لیجئے۔ تجویز ہے جو غیر تجویزانہ انداز میں دی گئی ہے۔ اس پر عمل بالکل آسان ہے۔ مسلم لیگ کے کارکنوں کی فہرستیں تو پہلے ہی تھانوں میں موجود تھیں، ان پر پتے بھی لکھے ہیں۔ آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے۔ یوں پانچ کیا، دس پندرہ ہزار گرفتاریوں کا ہدف بھی پورا ہو جائے گا اور مذہبی جماعت کی ناراضگی سے بھی بچت ہو جائے گی۔

فوٹیج میں بھی ٹمپرنگ ہوسکتی ہے، خاص طور سے تصاویر میں۔ دھرنے کے دوسرے روز سوشل میڈیا پر ایک تصویر بہت وائرل رہی۔ ممتاز مبلغ مولانا طارق جمیل مظاہرین کے ایک جلوس میں ڈنڈا پکڑے کھڑے ہیں اور کیپشن میں لکھا تھا، ناموس رسالت کے لیے مولانا طارق جمیل بھی میدان میں آ گئے۔ تصویر ایسی کاریگری سے بنائی گئی تھی کہ ذرا بھی شبہ نہیں ہوا۔ اور بات ’’لاجیکل‘‘ بھی تھی۔ ناموس رسالت کا مسئلہ ہو اور مولانا طارق جمیل گھر میں بیٹھے رہیں؟ کیا پتہ، ان کے ذہن میں یہ خیال آیا ہو کہ ع اے مرد مبلغ جاگ ذرا، اب وقت ’’دمادم‘‘ ہے آیا لیکن پھر دل نے کہا، مولانا کا مزاج جمالی ہے، جلالی نہیں، ڈنڈا تو وہ اٹھا ہی نہیں سکتے۔ اور پھر وہی ہوا، اصل تصویر بھی آ گئی۔ اس میں کوئی جلالی مولانا جلوہ آ را تھے۔ شکل تو بالکل الگ تھی لیکن داڑھی کی ’’قدوقامت‘‘ وہی تھی جو مولانا طارق جمیل کی داڑھی کی ہے۔ اسی مشابہت پر ’’جعلساز‘‘ کو تحریک ہوئی اور اس نے کام دکھا دیا۔ غنیمت ہے کہ یہ اصل تصویر آ گئی ورنہ کچھ بعید نہیں تھا کہ مولانا بھی بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمے میں دھر لیے جاتے۔

ٹی وی چینلز توڑ پھوڑ کے کلپ دکھا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں۔ تصاویر کی حیرت انگیز یکسائی 2014ء کے دھرنے سے اور پھر ’’لاک ڈائون‘‘ سے ایک دن پہلے کے مناظر سے ہے۔ کہیں پولیس کی ٹھکائی کی جا رہی ہے، کہیں کسی گاڑی کو ’’ان اسمبل‘‘ کیا جارہا ہے۔ ڈنڈا بردار خالی سڑکوں پر دندنا رہے ہیں۔ کچھ تصاویر البتہ غیر یکساں ہیں۔ مثلاً ایک ہجوم کسی عمارت کے اندر گھسا ہوا ہے اور ڈنڈے لہراتا ہوا برآمدوں میں لانگ مارچ کر رہا ہے۔ کچھ مظاہرین پارلیمنٹ اور ایوان عدل کے باہر جنگلوں پر شلواریں اور پتلونیں سکھا رہے ہیں۔جتنی فوٹیج حالیہ دھرنے کی آئی ہے، اس سے زیادہ ان پہلے والے دھرنوں کی موجود ہیں۔ کبھی ان کی معنویت بھی کھلے گی؟

وزیر اطلاعات نے سندھ حکومت کے خاتمے کا جو خفی لیکن جلی اشارہ دیا ہے، پیپلزپارٹی اسے خطرے کی گھنٹی سمجھے۔ فرمایا، دیکھتے ہیں، سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کتنے دن رہتی ہے۔ پیپلزپارٹی نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اشارہ کنندہ وزیر موصوف کو ’’کامیڈین‘‘ قرار دیا ہے جو کوتاہ فہمی ہے۔ وزیر موصوف کامیڈین نہیں، ’’ٹریجیڈین‘‘ کہلانے کے سزاوار ہیں۔ انجام کار، مال کار، یہ سب حضرات جو تحریر فرما رہے ہیں انجام اس کا ’’ٹریجیڈی‘‘ ہی ہے، کسی بھی زاویے سے حساب لگالیں۔ اور یہ پہلی گھنٹی نہیں ہے۔ کچھ ہفتے پہلے گورنر راج کا پلان تھا۔ اس کا شوشہ بھی کسی نے چھوڑا تھا، ایسے ہی نہیں یہ بات سامنے آ گئی تھی۔ لیکن بعدازاں وہ منصوبہ ترک کرکے ‘‘ایوان میں تبدیلی‘‘ کی نقشہ گری کی گئی۔ بارہ سے زیادہ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے حضرات کی فہرست تیار ہے جن کی ’’انصاف ٹریڈنگ‘‘ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف نے سندھ میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے تو ضرور لیکن جام صادق کی تلاش بھی ہو گی۔ یہ 90ء کی دہائی کی بات ہے۔ جام صادق نے سندھ میں پھر وہ ’’انی‘‘ مچائی کہ لوگ بلبلا اٹھے اور بددعائوں کے گھمبیر بادل آسمان کی بلندیوں پر گئے۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں، سندھ کے کچھ مظلوموں نے پھر چندہ اکٹھا کر کے راجستھان کے کچھ ’’اوجھے‘‘ پکڑے انہوں نے چالیس دن تک کا عمل کیا اور انہیں بتایا کہ اب جام نہیں بچے گا۔ پھر کیا ہوا؟ جادو چلا یا بددعائیں رنگ لائیں، جو بھی سمجھئے لیکن جو بات ریکارڈ پر ہے کہ جام کو ایسی بیماری ہوئی کہ خدا کسی دشمن کو بھی نہ دے اور چلے کے چہلم سے پہلے پہلے جام پر لوگ سدھارے۔ سندھ کا مینڈیٹ ’’کالعدم‘‘ کرنے کے جو نتیجے نکلیں گے، سمجھدار خود ہی سمجھ لیں۔

پٹرول عالمی منڈی میں سستا ہوا، یہاں مہنگا کردیا گیا۔ نوازشریف کے دور میں باہر پٹرول سستا ہوتا تھا تو یہاں بھی سستا کردیا جاتا تھا اور تحریک انصاف غل مچاتی تھی کہ باہر زیادہ سستا ہوا ہے، نوازحکومت نے کم سستا کیوں کیا۔ اب وہ فارمولا الٹ کر ’’مشرف بہ انصاف‘‘ کردیا گیا ہے۔ باہرجس حساب سے سستا ہوگا، یہاں اسی حساب سے مہنگا ہوگا۔ درست اور راست متناسب نظام۔مہنگائی کی تین اقساط نے ہماری مختصر سی تاریخ کا ریکارڈ تین بار توڑ دیا۔ ابھی نہ جانے کتنی اقساط آنی ہیں۔ خیر، تحریک کو آپ جتنا چاہے برا بھلا کہہ لیں ایک بات تو ماننا پڑے گی کہ وہ جتنی کارگر حکومت میں ہے، اتنی ہی کارگر اپوزیشن کے طور پر تھی۔ اپوزیشن میں تھی تو ایسی جمناسٹک دکھائی کہ معیشت کو چھ سو ارب کا ٹیکا لگا دیا، حکومت میں آئی تو سٹاک مارکیٹ سے کرنسی مارکیٹ تک ایسی چیں بلائی کہ لگ بھگ اتنی ہی مالیت کا انجکشن معیشت کوپھر لگا دیا۔ خدا نظر بد سے بچائے۔

وزیراعظم چین گئے اور چینیوں کو بتایا کہ چین نے کتنی ترقی کی اور کیسے کی۔ جواب میں چینیوں نے ’’فانگ‘‘ تو نہیں بھری البتہ کام دھندے کے کچھ گر ضرور بتادیئے۔ اور یوں سوشل میڈیا کا یہ مقولہ غلط ثابت ہوگیا کہ قرضہ مانگو چاہے مانگنے کے لیے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ سنا ہے وزیراعظم غصہ سے بھرے بیٹھے ہیں، اب دیکھئے یہ غصہ کس پر نکلے گا۔ کیسے نکلے گا۔