سعودی عرب ایٹمی طاقت بننے کی راہ پر - عبداللہ طارق سہیل

سعودی عرب نے ایٹمی طاقت بننے کے سفر کی شروعات کر دی ہے۔ وژن 2030ء کے تحت اس نے ایٹمی ریسرچ ری ایکٹر اور ری ایکٹرز بنانے کا اعلان کیا تھا۔ 4نومبر کو ولی عہد نے پہلے سنٹر کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ پورے ایٹمی پروگرام کی تکمیل کے لیے 18برس کا ہدف رکھا گیا ہے لیکن سعودی حوالوں سے سنا جا رہا ہے کہ کم از کم ایٹمی صلاحیت اس سے بہت پہلے حاصل کر لی جائے گی۔ اسی منصوبے کے تحت جنگی طیارے بنانے کا کام بھی شروع کیا جانا ہے۔ امریکہ نے ایٹمی پھیلائو کو روکنے کے لیے ایران پر پابندیاں لگائی تھیں جن کا احیا اب پھر ہو گیا ہے۔ سعودی منصوبے پر امریکہ کا ردعمل کیا ہو گا۔ ابھی واضح نہیں۔ مممکن ہے کوئی اصولی مذمتی بیان سامنے آ جائے لیکن اس سے زیادہ کا کچھ امکان نہیں۔ در حقیقت امریکہ کسی حد تک سعودی پروگرام میں مددگار رہا ہے۔ اس منصوبے پر بہت رقم خرچ ہو گی اور ظاہر ہے‘ سعودی حکومت نے اس کا حساب لگا لیا ہو گا۔ سعودی عرب ایران سے بہتر پوزیشن میں ہے اور جس طرح ایٹمی پروگرام شروع کرنے کے بعد ایران کی معیشت برباد ہو کر رہی گئی‘ اس طرح سے سعودی عرب کی نہیں ہو گی لیکن کچھ نہ کچھ معاشی کرنچ تو آئے گا کہ اس کی معیشت دس سال پہلے جیسی تو قطعی نہیں ہے۔ ایران اور سعودی عرب دونوں پڑوسی ملک ہیں اور دونوں کے ایٹمی منصوبوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف ہے۔

سمجھدار ملک وہ ہیں جو ہتھیاروں کی دوڑ کے بجائے ملک کی معاشی ترقی پر زور دیتے ہیں۔ ایک مثال بنگلہ دیش کی ہے۔ ممکن ہے اس کی ترقی سے ہمارے کچھ احباب رنجیدہ ہوں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اگر بنگلہ دیش اپنے معاشی مسائل پر قابو پا رہا ہے تو ان سترہ کروڑ مسلمانوں ہی کا فائدہ ہے جو ہیں تو ہمارے بھائی ہی۔ ہمارے سے مراد صرف پاکستان نہیں‘ سارا عالم اسلام ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق معاشی ترقی کی وجہ سے بنگلہ یش میں اوسط عمر 72سال ہو گئی ہے۔ پاکستان میں یہ شرح 66 برس ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔ صرف 3عشرے پہلے بنگلہ دیش میں اوسط عمر 60سال سے بھی کمی تھی۔ ملک میں معاشی ترقی کی شرح اس سال 7 فیصد ہونے کا امکان ہے۔ اڑھائی عشرے پہلے یعنی 1990ء کی دہائی کے ابتدائی عرصے میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے بنگالیوں کا تناسب 45 فیصد تھا۔ آج محض 15فیصد ہے۔ ہمارے لیے یہ حیرانی کی بات ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کا تسلسل قائم رہنے دیا جاتا تو ہم غربت پر اس سے کہیں زیادہ قابو پا لیتے۔ اس وقت پاکستان میں بنگلہ دیش سے دگنی سے بھی زیادہ غربت ہے۔ بنگلہ دیش نے پچھلے دو عشروں میں صنعتی ترقی پر زیادہ سے زیادہ زور دیا ہے۔ وزیر اعظم حسینہ واجد کو اس کی غیر متوازن سیکولر پالیسی کی وجہ سے عوام میں پسند نہیں کیا جاتا لیکن ترقیاتی کاموں کی وجہ سے اسلام پسند بھی اس کی حمایت پر مجبور ہیں اور انہی ترقیاتی کاموں کی بدولت‘ مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ اگلے برس ہونے والے الیکشن میں اپوزیشن متحد نہ ہوئی تو حسینہ واجد بھاری اکثریت سے پھر جیت جائے گی۔ مسلمان ملکوں میں ترکی‘ملائشیا‘ سعودی عرب ترقیاتی کاموں میں زور دے رہے ہیں لیکن باقی پچاس کے قریب ملک بدستور زوال پسند پالیسیاں چلانے پر بضد ہیں۔

امریکہ میں صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی نے مڈٹرم الیکشن میں اپوزیشن نمائندگان کی اکثریت کھو دی لیکن سینٹ میں زیادہ سیٹیں حاصل کر لیں۔ ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹک اکثریت ہو گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹرمپ کی خارجہ پالیسی تو کچھ خاص متاثر نہیں ہوئی البتہ داخلی معاملات میں وہ قدرے بےبس ہو جائیں گے اور یہ بات خاص طور پر جنگلی حیات کے لیے غیبی امداد سے کم نہیں۔ سرفہرست تو ’’دیوار جنوب‘‘ ہے جو میکسیکو کی سرحد پر اٹھائی جا رہی ہے دیوار کا مقصد تو ہسپانوی نژاد باشندوں کی امریکہ آمد کو روکنا ہے لیکن اس سے ہزاروں میل لمبائی والے علاقے کا ’’ایکو سسٹم‘‘ تباہ ہو جائے گا۔ اس سرحد پر صحرائی اور نیم صحرائی جنگلات بھی ہیں۔ پہاڑی بھی اور میدانی بھی۔ ان جنگلوں میں کروڑوں جانور رہتے ہیں جن کی گزر بسر کے راستے بند ہو جائیں گے اور ان کی بڑی تعداد مر جائے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ سینٹ میں ٹرمپ کی ہار سے اس دیوار کی تعمیر اب مشکل ہو جائے گی۔ ری پبلکن پارٹی کے کائو بوائے وسیع و عریض میدانوں پر قبضہ کرنے کے لیے جنگلی گھوڑوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں سے ان کو ہانکا جا رہا ہے۔ اب اس پر شاید روک لگا دی جائے۔ اسی طرح ٹرمپ نے بہت سے جنگلی جانوروں کا شکار قانونی قرار دے دیا ہے جن میں ریچھ‘ سرخ بھیڑئیے ‘ راکون وغیرہ شامل ہیں۔ حیوانی حقوق کی تنظیمیں اس پر مسلسل احتجاج کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے ٹرافی ہنٹنگ کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ ایسا شکار جس کا مقصد صرف لوگوں کو اس کی تصویریں دکھانا ہوتا ہے کہ یہ ہم نے شیر مارا‘ یہ فلاں جانور مارا۔ اس مقصد کے لیے لائسنس بڑھا دیے گئے چنانچہ امریکی شکاری افریقہ جا کر‘ بھاری رقم کے عوض‘ شیر‘ گینڈے‘ ہاتھی‘ زیبرے ذرافے بلا مقصد ما رہے ہیں۔ اس پر دنیا بھر میں احتجاج ہو رہا ہے۔ بعض امریکی تو ایسے ظالم ہیں کہ انہوں ٹرافی ہنٹنگ کے لیے امریکہ میں شیروں کے افزائشی فارم بنا رکھے ہیں۔ شیر پیدا کئے جاتے ہیں‘ پھر جب وہ جوان ہو جاتے ہیں تو بھاری قیمت پر انہیں ہلاک کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ شکاری کی آمد پر ایک شیر نکالا جاتا ہے اور اسے ایک محدود میدان میں چھوڑ دیا جاتا ہے جہاں وہ شکاری کے لیے بالکل آسان شکار ہوتا ہے کیونکہ افزائشی فارم میں رہنے کی وجہ سے وہ انسانوں سے مانوس ہوتا ہے۔ شکاری اس کے قریب جا کر گولی چلاتا ہے۔ یہ ظلم ٹرمپ کے دور میں اور بھی پھل پھول رہا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */