دینِ متین اور تین چیف - امیر حمزہ

اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ''متین‘‘ بھی ہے۔ اس کا معنی انتہائی مضبوط اور غالب ہے۔ دین کا معنی نظام اورسسٹم ہے۔ اللہ کے نظام کا نام ''اسلام‘‘ ہے۔ اسلام کو دین ِ متین اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ایسا مضبوط سسٹم اور نظام ہے کہ کسی کو اس نظام اور اس سسٹم سے نکالنا آسان نہیں‘ بلکہ انتہائی مشکل ہے۔ اس پر ہمارے جلیل القدر علما اور اسلاف نے جو حدودوقیود لگائی ہیں‘ ان کو نظرانداز کر کے جو شخص کسی کو اس نظام سے نکالنے کا فتویٰ لگائے گا ‘وہ زمین میں فساد مچائے گا‘ لہٰذا یہ نازک کام ریاست کا ہے اور اس کی نگرانی میں جلیل القدر علما کا ہے۔

ایک جنگی معرکے سے صحابہؓ واپس آئے۔ حضورؐ کے سامنے رپورٹ پیش ہونے لگی‘ تو ایک شخص نے حضورؐ سے عرض کیا: اسامہ بن زیدؓ نے اپنے مدمقابل ایسے شخص کو قتل کر دیا کہ جس نے کلمہ پڑھ لیا تھا۔ حضورؐ نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو جوابدہی کے لئے کھڑا کر لیا۔ وہ اپنی صفائی میں عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہؐ! اس نے مجھ پر حملہ کیا‘ میں نے ڈھال سے اس کا حملہ روکا‘ اب میری زد میں جب وہ آیا‘ تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔ اس نے جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا۔ اس پر حضورؐ غصے میں آ گئے‘ فرمایا: تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ اخلاص سے پڑھ رہا تھا یا جان بچانے کے ڈر سے پڑھ رہا تھا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دو گے‘ جب وہ لاالہ الا اللہ کہتے ہوئے آئے گا۔ حضرت اسامہؓ کہتے ہیں :حضورؐ نے مندرجہ بالا بات کو اس قدر دہرایا کہ میں سوچنے لگ گیا کہ کاش! میں آج مسلمان ہوتا... (یعنی ایک مسلمان کے قتل سے بچ جاتا‘ حضورؐ کے غصے سے محفوظ ہو جاتا۔ قیامت کے دن کی جوابدہی سے بچ جاتا۔ (بخاری: 4019)

لوگو! ہم آج کے مسلمان کس قدر دلیر اور جری ہیں کہ حضورؐ کا کلمہ پڑھنے والوں کا رشتہ اللہ اور اس کے پیارے رسولؐ سے کاٹتے ہیں۔ فتویٰ لگاتے ہیں اور ساتھ ہی قاضی بن کر لوگوں کو کہتے ہیں کہ جن کا رشتہ ہم نے اللہ کے رسولؐ سے کاٹ دیا ہے‘ ان کو کاٹ ڈالو‘ یعنی پوری قوم کو جلاد بن جانے کا حکم ارشاد فرماتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے رویے ہمیں برباد کر دیں گے۔ امن کو غارت کر دیں گے‘ اسلام کو بدنام کر دیں گے۔وطن عزیز پاکستان کو خطرے سے دوچار کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں‘ سسٹم اور نظام میں رہنے کی توفیق دے۔ اسلام کا نظام ''متین‘‘ ہے۔ ایک حصار اور مضبوط قلعہ ہے۔ وہ مکڑی کا جالا نہیں ہے کہ کسی کے اشارے سے کسی محب رسولؐ کی محبت کے تار بکھر جائیں گے۔ رسول کریمؐ سے محبت کا حصار تو ایسا متین اور مضبوط ہے کہ ''حرمتِ رسولؐ پر جان قربان اور ختم نبوت پر خاندان قربان ہے‘‘۔

اللہ کے رسولؐ کی حدیث ہے۔ اللہ کے حضور ؐدعائیہ انداز میں ہیں ''جو شخص زمین پر اللہ کے سلطان (حکمران) کی توہین کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کر دے‘‘۔ (ترمذی: 2224 )
محترم وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب ایک محب رسولؐ پاکستانی ہیں‘ جنہوں نے ہالینڈ میں توہین ِرسالت کے خاکوں کو رکوایا۔ کئی سال قبل ان کے والد محترم فوت ہوئے‘ تو زمان پارک میں میری موجودگی میں خان صاحب نے جناب قاضی حسین احمد مرحوم کو آگے کیا اور انہوں نے جنازہ پڑھایا۔ قاضی حسین احمد مجھ سے بہت شفقت کیا کرتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ جب وہ اپنی تقریر کا آغاز کرتے تو اللہ کی حمد کے بعد حضورؐ پر درود پڑھتے تو ان کی آنکھیں نمناک ہو جایا کرتی تھیں۔ الغرض! عمران خان صاحب سے میری متعدد ملاقاتیں ہیں۔ میں کہتا ہوں ‘وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ان کے ایگزیکٹو اور انتظامی اقدامات پر اختلاف رائے کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے‘ مگر ان کا رشتہ ان کے رسول کریمؐ سے کاٹنا‘ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے کہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نام پر بننے والے پاکستان کا چیف ایگزیکٹو ‘جسے وزیراعظم کہا جاتا ہے‘ وہ اپنے محبوب رسولؐ کی حرمت اور ختم نبوت سے تہی دامن اور بے پروا ہے؟ (اللہ کی پناہ ایسی توہین آمیز سوچ سے)

میرے ملک کے دوسرے اہم ترین چیف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب ہیں‘ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں... ''ایمان‘ تقویٰ‘ جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کے سلوگن میں پہلی بات ہی ایمان ہے‘ یعنی اللہ کی توحید اور اس کے حبیب حضرت محمد کریمؐ کی حرمت اور ختم نبوت پر ایمان... یاد رہے! جنرل قمر جاوید باجوہ کے دادا چوہدری عنایت اللہ بھی فوج میں تھے۔ ان کے والد گرامی کرنل محمد اقبال باجوہ نے 65ء کی جنگ میں بھرپور اور دلیرانہ کردار ادا کیا۔ وہ 5جون 1967ء کو وردی میں فوت ہوئے۔ چھ جون 1967ء کو انہیں گکھڑ شہر میں اہل سنت مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ جنرل قمر جاوید کے ایک چچا چوہدری محمد صفدر باجوہ 1965ء میں انڈین ایئرفورس کی بمباری سے گکھڑ میں شہید ہوئے ‘جبکہ دوسرے چچا کیپٹن احمد سعید باجوہ 1965ء کی لڑائی میں کھیم کرن کے محاذ پر پاکستان اور اہل پاکستان کے دفاع میں لڑ رہے تھے۔

قارئین کرام! میں نے جنرل صاحب کے والد کرنل اقبال باجوہ مرحوم اور ان کے شہید چچا کی قبروں کو گکھڑ کے قبرستان میں خود جا کر دیکھا۔ آرمی چیف جنرل قمر کے والد کی قبر پر ختم المرسلین حضرت محمد کریمؐ کی شفاعت کا شعر لکھا ہوا ہے۔ شہیدوں اور غازیوں کے ایسے خاندان کو میں اس طرح بھی جانتا ہوں کہ آرمی چیف صاحب کے دو بہنوئی کرنل شوکت محمود اور کرنل شجاعت محمود میرے دوست چوہدری نعیم گھمن کے سگے بھائی ہیں۔ یہ لوگ 1947ء سے آج تک صدر لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ برسوں پہلے میں صدر کے ڈِگی محلہ میں خطیب تھا‘ تو یہ لوگ میرے مقتدی تھے۔ پچھلے دنوں اس خاندان کا 22سالہ نوجوان یحییٰ فوت ہوا‘ تو اس کا جنازہ بھی میں نے پڑھایا۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہوئی کہ ایسے محب رسولؐ اور جانثار کے ایمانی رشتے پربھی کلہاڑا مار دیا گیا ہے‘ وہ کہ جو اپنی خاندانی شادیوں اور دیگر تقریبات کا آغاز بھی حضورؐ کی مبارک سیرت کے تذکروں اور نعتوں سے کرتے ہیں۔ فتوے لگانے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ اپنے ایسے طرز عمل سے دراصل اپنے ایمان پر کلہاڑا مارتے ہیں۔ اپنی عزت کو نوچ ڈالتے ہیں۔ یاد رہے! کسی اہل سنت اور محب رسولؐ خاندان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی دکھ اور غم نہیں ہو سکتا کہ اس کا رشتہ اس کے عظیم اور پیارے رسول کریمؐ سے قطع کرنے کی مذموم کوشش کی جائے۔ میرے دوست محترم نعیم گھمن نے میرے سامنے اپنے شدید دکھ اور غم کا اظہار کیا کہ ان کا خاندان جو شہیدوں اور غازیوں کا خاندان ہے۔ حرمتِ رسولؐ اور ختم نبوت پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھنے والا خاندان ہے‘ اس کے ساتھ بعض لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ کس کا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں؟

قارئین کرام! ہمارے تیسرے چیف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار ہیں۔ وہ کہتے ہیں ؛ہم تو درود شریف پڑھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ حضورؐ کی حرمت پر ہماری جان بھی قربان ہے۔وہ اپنے حالیہ فیصلے میں واضح طور پر لکھتے ہیں کہ توہین رسالت کی سزا موت ہے۔ جی ہاں! ان کا کیا ہوا فیصلہ اب ''ریویو‘‘ میں چلا گیا ہے۔ آیئے! اپنے ملک کو کہ جو اللہ اور اس کے رسولؐ کے نام پر ہم نے بنایا ہے‘ اس کو امن و امان کا گلستان بنائے رکھیں... ساتھ قانون کے میدان میں بھرپور جنگ لڑیں۔ سب مسلمانوں کو ساتھ ملا کر آگے بڑھیں۔ اپنے حکمرانوں اور تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کے بارے میں اچھا گمان رکھیں۔ احتجاج ضرور کریں‘ مگر پرامن رہ کر کریں۔ ہر مسلمان کی عزت و تکریم ملحوظ خاطر رکھ کر آگے بڑھیں۔ ہم سب دین متین اسلام کے ماننے والے ہیں او رہمارا دین... متین ہے ‘تو حرمت رسولؐ اور ختم نبوت کے حصار میں متین ہے۔
حرمت رسولؐ پر جان قربان
ختم نبوت پر خاندان قربان

اسلام کو دین ِمتین اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ایسا مضبوط سسٹم اور نظام ہے کہ کسی کو اس نظام اور اس سسٹم سے نکالنا آسان نہیں بلکہ انتہائی مشکل ہے۔ اس پر ہمارے جلیل القدر علما اور اسلاف نے جو حدودوقیود لگائی ہیں‘ ان کو نظرانداز کر کے جو شخص کسی کو اس نظام سے نکالنے کا فتویٰ لگائے گا‘ وہ زمین میں فساد مچائے گا‘ لہٰذا یہ نازک کام ریاست کا ہے اور اس کی نگرانی میں جلیل القدر علما کا ہے