ایک تیر سے دو شکار - سعد فاروق

اردو کی ایک مشہور کہاوت "ایک تیر سے دو شکار" ملک دشمن نے اس کہاوت کے عین مطابق فائدہ اٹھایا۔ پاکستان میں پاک فوج کی قربانیوں اور آپریشنز کے باعث کافی عرصے سے کوئی ملک دشمن کاروائیاں نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی نے پاکستان بھر میں امن قائم کیا۔ بلوچستان میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد سے اب تک ہزاروں باغی بلوچ ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔ وزیرستان جہاں ملک دشمن کالعدم تنظیم تحریک طالبان کا ایک لحاظ سے قبضہ تھا وہاں آج کوئی انکا نام لینے والا بھی باقی نہ رہا۔ پاک افغان بارڈر پر لگائی جانے والی باڑ نے افغانستان سے دہشتگرد گروہ کو پاکستان میں داخلے سے روکا ہوا ہے۔ ان حالات میں دشمن پاک افغان بارڈر پر باڑ نہ لگانے کے لیے پاک فوج پر حملے کر رہا ہے۔ کئی مقامات پر افغان فوج نے باقاعدہ باڑ کو اکھاڑ دیا۔ دشمن پاک فوج کے ہاتھوں پے درپے ناکامیوں اور افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں بھاری نقصان کے باعث ملک پاکستان کی عوام اور فوج سے بدلہ لینے کے لیے اہم موقع کی تلاش میں ہے۔

سوشل میڈیا پر ففتھ جنریشن وار کے ذریعے نوجوانوں کو ملک پاکستان کی فوج اور عدلیہ کے خلاف پروپیگنڈا کرکے ملک دشمنی کے لیے اکسایا جا رہا ہے۔ چند نہیں، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس ، نئی دہلی ، کلکتہ ، چندی گڑھ ، کابل اور قندھار سے چلائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی مشہور شخصیات کے جعلی اکاؤنٹ بنا کر سوشل ویب سائٹس کو پیسے دے کر پروموٹ کرکے پاکستان کے نوجوان تک رسائی حاصل کرکے باقاعدہ مہم کے تحت ان سے دوستیاں تعلقات بنا کر ان کو مایوسیوں کے اندھیرے میں لے جا کر پاک فوج اور ملکی اداروں کے خلاف ابھارا جا رہا ہے۔

اسی دوران دشمن کے ہاتھ ایک بڑا موقع آگیا۔ پاکستان کی اعلی عدلیہ نے 8 سال سے زیر التوا توہین رسالت کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ اس مقدمے کی وجہ سے تین افراد اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ اسی مقدمے کی وجہ سے ملکی املاک کو اربوں روپے کا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ ملک کی عوام کئی ہفتے تکلیف میں رہی ، پولیس اہلکار زخمی ہوئے ، عام شہری شہید ہوئے، سڑکیں توڑی گئیں ، دکانیں لوٹی گئیں۔ اس اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اعلی عدلیہ نے توہین رسالت کی مرتکب ملعونہ آسیہ مسیح کو بےگناہ قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار سمیت سپریم کورٹ کے تین اعلی ججوں نے اس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا کہ جس بینچ نے آسیہ بی بی کا فیصلہ دیا وہ کم عاشق رسول نہیں، لوگوں کو ہمارا فیصلہ پڑھنا چاہیے، کسی کے خلاف ثبوت نہ ہو تو کیسے سزا دے دیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ناموس کیلئے شہید ہونے کو بھی تیار ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم صرف مسلمانوں کے نہیں عیسائیوں کے بھی قاضی ہیں، کسی کے خلاف ثبوت نہ ہو تو کیسے سزا دے دیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لوگوں کو ہمارا فیصلہ پڑھنا چاہیے، نبی صلی اللہ علیہ وسم پر ایمان کے بغیر دین مکمل نہیں ہوتا، ہم نے اللہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے پہچانا، جس بینچ نے آسیہ بی بی کا فیصلہ دیا وہ کم عاشق رسول نہیں، کچھ جج صاحبان تو بیٹھے درود پاک ہی پڑھتے رہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ناموس کیلئے شہید ہونے کو بھی تیار ہیں۔

کیس کا تفصیلی فیصلہ پڑھنے والا ہر شخص بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ججز نے حقائق اور ثبوتوں کو مدنظر رکھ کر قانون کے عین مطابق فیصلہ کیا۔ اس کیس کے پس منظر میں جایا جائے تو ایسا معلوم ہوتا کہ واقعی ہی ملعونہ آسیہ مسیح توہین رسالت کی مرتکب ہوئی اور اس نے اسکا باقاعدہ اعتراف اپنے بیان میں بھی اور علاقے میں موجود اپنے عیسائی مذہب کے اعلی افراد کی موجودگی میں اس کا باقاعدہ اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگی۔ مقامی افراد نے قانون ہاتھ میں لینے کی بجائے ملعونہ آسیہ بی بی کو تھانے لے جا کر مقدمہ درج کروایا۔ پولیس آفیسر کو اپنے فوری بیان اور مقامی مجسٹریٹ کے روبرو بیان آسیہ مسیح نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کیس میں ایک غیر معمولی نقل و حمل دیکھنے کو ملی۔ آسیہ مسیح کی غربت دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ نچلے پیمانے کا ایک عام وکیل بھی نہیں کرسکتی تھی لیکن سیشن کورٹ جس کے باہر سے ہائی کورٹ کا وکیل گزرنا بھی پسند نہیں کرتے اس عدالت میں اعلی عدلیہ سپریم کورٹ کے اعلی وکیلوں پر مشتمل پانچ رکنی پینل ملعونہ آسیہ مسیح کی وکالت کے لیے پاکستان کے نچلے پیمانے کی عدالت میں پیش ہوا۔ سوال یہیں سے پیدا ہوتا کہ ان وکیلوں کو منہ مانگی بھاری فیس کس نے ادا کی؟ سیشن کورٹ نے آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت کی سزا سنائی۔ سیشن کورٹ کے اسی فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا اور یہیں سے کیس کو زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ ہائی کورٹ نے بھی سابقہ ثبوتوں اور سابقہ فیصلے کو مدنظر رکھ کر آسیہ مسیح کو سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اسی کیس کے اہم کاغذات اور شہادتیں سپریم پہنچنے سے پہلے ہی غائب کر دی گئیں اور سپریم کورٹ میں فیصلہ سنانے کے وقت کیس میں مدعی کو بھی سپریم کورٹ میں داخل نہ ہونے دیا گیا۔ یورپ میں ماضی کی طرح اور توہین رسالت پر ہر وقت تیار رہنے والے یورپی میڈیا نے اس فیصلے پر خوب خوشیاں منائیں۔ پاکستان میں موم بتی مافیا نے بھی اس گستاخ کی رہائی کی خبر پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس کیس پر سابقہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی بھی اثر انداز ہوئے اور الگ الگ واقعات میں قتل ہوئے۔ اس کیس پر اثر انداز ہونے والے گورنر پنجاب پنجاب نے گستاخی کرتے ہوئے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون قرار دیا۔ اس کیس میں سلمان تاثیر کی نقل و حمل ایسی رہی کہ دن رات ساتھ رہنے والے محافظ ممتاز حسین قادری کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔ ممتاز قادری کو فوری طور پر عدالت نے سزائے موت کی سزا سنائی اور آج اس فیصلے پر شدید ردعمل دینے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے فوری ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ ممتاز قادری کی پھانسی پر ملک میں ہنگامے پھوٹے ، دھرنے دیے گئے ، سڑکیں بلاک ہوئیں ، املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

اس سارے کام میں مصروف تحریک لبیک پاکستان کے لوگ جن کا تحریک انصاف نے بھرپور ساتھ دیا، وہ اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے نکلے تو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے فوری طور پر بات چیت یا کسی مفاہمت کے فوری طور پر انتہائی سخت بیان دے کر نیا محاذ کھول دیا۔ پرامن احتجاج کی اجازت دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی۔ حکومت کے اس اقدام پر پورے ملک میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا اور لوگ سڑکیں پر نکلے آئے۔ دشمن کے ایجنڈے کے عین مطابق کچھ مفاد پرستوں نے فوری طور پر کافر کافر کے نعرے لگا کر صورت حال کو انتہائی کشیدہ کر دیا۔ پاکستان بھر میں لوگوں کے سڑکوں پر نکلنے سے دشمن کو موقعہ ملا اور اسکے نمک حلال ایجنٹوں نے سوشل میڈیا پر انتہائی اشتعال انگیزی پھیلانی شروع کر دی۔ دشمن کے ایجنٹ عام لوگوں کو شامل ہو کر لوٹ مار ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کرنے لگے۔

ملک جب اس صورت حال کی طرف متوجہ تھا ، دشمن نے پیٹھ پیچھے وار کرتے ہوئے دفاع پاکستان کے ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے والے محسن پاکستان اور پاکستان میں اتحاد امت کے داعی پاکستان کے تمام حلقوں میں انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے بزرگ عالم دین اور سیاست دان مولانا سمیع الحق کو قاتلانہ حملہ کرکے انتہائی بےدردی سے شہید کر دیا۔ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیرمین کی شہادت پر انکے بیٹے کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے مطابق کہا گیا کہ انکو افغان حکومت سے شدید خطرہ تھا۔ افغان طالبان کے باپ کی جگہ رکھنے والے شہید سمیع الحق شہید کے مدرسے سے ہزاروں افغان طالبان تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ ملا عمر سمیت اعلی طالبان قیادت انکی شاگردی میں شامل رہی۔ افغان طالبان کے ذرائع کے مطابق اس حملے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں کچھ عرصہ قبل طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے امریکی نواز افغانی نمک حرام مفتی عبدارزاق کی ہلاکت پر امریکہ طالبان کو شدید نقصان اور صدمہ پہنچانے کی پلاننگ میں مصروف تھا۔ ایسے میں افغان طالبان نے روحانی باپ اور بزرگ کی شہادت سے بڑا نقصان اور صدمہ کیا ہو سکتا تھا۔ دشمن اپنا وار کرکے نقصان پہنچا گیا۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات پیش آئے لیکن ہم ان سے سبق نہ سیکھ سکے۔ جس کے باعث آج یہ افسوسناک سانحہ بھی دیکھنا پڑا۔ آئیے ماضی کو بھولا کر نئی شروعات کیجیے۔ اپنے ملک اور پاک فوج سے محبت کا ثبوت دشمن کی سازشوں کو ناکام کرکے کریں۔ اپنے علاقے کو ، سیاست کے دھاروں کو ، مذہب کے پیروکار میں نفرت کی جگہ محبت پھیلائیں۔ اپنی فوج کی قدر کریں اور حکومت کسی بھی اقدام کے خلاف پرامن احتجاج کرنا سیکھیں۔ سٹرکوں اور گلیوں کو بند کرکے لوگوں کو تکلیف پہنچانے کی بجائے مخصوص جگہ پرامن طریقے سے احتجاج کریں۔ ہم حکومت پاکستان سے بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مولانا سمیع الحق شہید کے قاقلوں اور ملک پاکستان (مدینہ ثانی) میں اشتعال انگیزی، نفرت پھیلانے اور توڑ پھوڑ کرنے والے اور کروانے والے تمام عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ محب وطن بنیں اور وطن کے دفاع میں اپنے کردار اپنے کام سے ادا کیجیے ورنہ ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں