غلام احمد وانی تحریک اسلامی کے روح رواں - اشفاق پرواز

حرکت و روانی اس کائنات کا خاصہ ہے۔ یہاں ہر چیز ایک مخصوص نظام کے مطابق حرکت میں رہتی ہے۔ لیکن حرکت کے ساتھ ساتھ فنا ہونا بھی اس کائنات کا لازمی وصف ہے۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو حرکت میں رہتی ہے، نمو پزیر اور رواں دواں رہتی ہے، وہ ایک نہ ایک دن رک جاتی ہے۔ بس پھر کبھی نہیں چلتی۔ کائنات کی دوسری اشیاء کی طرح انسانی زندگی کا بھی یہی خاصہ ہے۔ البتہ بعض لوگوں کو خدائے تعالیٰ ایسی حرکت عطا فرما کر بھیجتا ہے کہ ان کے جانے کے بعد بھی لگتا ہے کہ وہ رواں دواں ہیں۔ اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اپنی زندگی وہ لوگ ایسی سرگرمی کے ساتھ گزارتے ہیں کہ وہ سراپا حرکت و روانی بن جاتے ہیں۔ کسی منزل پر ٹھہرنا، رکنا اور سانس لینا اُن کے مزاج کے خلاف ہوتا ہے۔ ایسی ہی چلتی پھرتی ، رواں دواں اور حرکت مسلسل رکھنے والی تحریک اسلامی تحصیل ٹنگمرگ کی ایک بلند پایہ، زور دار اور متحرک شخصیت شہید محترم غلام احمد وانی تھے۔

شہید غلام احمد وانی ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ ان سے مل کر ایسا لگتا تھا جیسے قرونِ وسطی کا کوئی تاریخی شخص ہمارے زمانے میں آگیا ہو۔ ان کا پاکیزہ مزاج، ان کی وجاہت، ان کا جلال اور ذوقِ جمال، قرآن سے تعلق، عشقِ رسول، مطالعہ کا شوق، جرات اور ثابت قدمی، تحمل اور صبر، نرم خوئی اور ہمدردی، شفقت اور محبت، جہد مسلسل اور داعیانہ تڑپ، بےتکلفی، ہر انسان کے ساتھ دوستی کا انداز، وسیع المشربی اور ہر گھڑی اللہ کی بندگی کا احساس اور اس طرح کی ان گنت خوبیوں کا ان کی شخصیت کے اندر جمع ہوجانا خدائے تعالیٰ کا ایک خاص احسان تھا۔ بے شمار خوبیاں شہید غلام احمد صاحب میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ وہ غلطیوں سے مبرا نہ تھے اور کوئی انسان معصوم عن الخطا ہو بھی کیسے سکتا ہے، الا یہ کہ وہ اللہ کا نبی اور پیغمبر ہ، لیکن شہید موصوف یقیناً ایسے شخص تھے جنھیں دیکھ کر یا جن کی صحبت میں رہ کر انسان کے ایمان کو تقویت ملتی تھی، اور انسان اپنے رب کے قریب تر ہوجاتا تھا۔ سابق امیر تحصیل ٹنگمرگ محترم غلام رسول پرواز صاحب نے شہید غلام احمد وانی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر علامہ اقبال ؒشہید محترم کو دیکھ لیتے تو وہ کہہ اٹھتے کہ جس مرد مؤمن کا تصور میں پیش کیا کرتا تھا، یقیناً یہ وہی شخص ہے۔

کچھ لوگوں کی ظاہری زندگی چاہے کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہو، ان کا وجود اس کائنات میں یوں امر ہوجاتا ہے کہ جس کو بھلانا یا مٹانا ممکن نہیں رہتا۔ تحصیل ٹنگمرگ کی نامور بستی تکیہ بٹہ پورہ کنزر میں پیدا ہونے والے محترم غلام احمد وانی صاحب بھی کچھ اسی قسم کی شخصیات میں شامل ہیں۔ اپنی زندگی کی ابتداء نہایت مختصر وسائل سے کرنے والے اس مرد قلندر کا نام آج بھی زبان زدِ عام ہے۔ تحصیل میں جماعت اسلامی کے نام سے جانی جانے والی تحریک اسی بےباک اور قد آور شخصیت کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔۲۲ فروری ۱۹۵۲ء میں ایک زمیندار پیشہ فرد کے گھر میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والد محترم کا نام غلام محی الدین وانی تھا۔ سلیم الفطرت آپ کا رجحان و میلان دینی تعلیم کی طرف تھا۔ اسی لیے مذہبی تعلیم و تربیت ابتدا ہی سے آپ کی زندگی کا لازمہ رہی۔ آپ کا نکاح ۱۹۸۰ ء میں مازہامہ میں سارہ بیگم نامی خاتون سے ہوا تھا۔ بچپن سے ہی آپ بڑے ذہین و فطین تھے۔ مروجہ تعلیم بارھویں جماعت تک حاصل کی۔ پہلے فور مین اور اس کے بعد پٹواری تعینات ہوئے لیکن شہید محترم نے دونوں ملازمتوں کو ٹھکرا کر تحریک اسلامی کی دعوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ انہوں نے جوانی میں ہی اپنی زندگی کا نصب العین متعین کر لیا تھا۔ وہ اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتے تھے اور زندگی کا ہر لمحہ آخری سانس تک اس نصب العین کے حصول کے لیے ہر ممکن طور پر استعمال کیا۔ ان کو اپنی ترجیحات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تھا اور اولین ترجیح دعوت دین کی جدوجہد تھی۔ وہ ایک مطمئن نفس کے مالک تھے اور ساری زندگی کوئی ترغیب، لالچ یا خوف انہیں اپنے نصب العین سے ہٹا نہ سکی۔ وہ فرد واحد اپنے آپ میں ایک تحریک تھی۔
میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سر فرازی
میں اسی لیے مسلماں ، میں اسی لیے نمازی

شہید موصوف کے آبائی گاؤں کے ایک دیرینہ رکن جماعت محترم عبدالسلام میر صاحب نے راقم سے کہا کہ ’شہید محترم اپنے زمانے کے کامیاب اور بااثر مبلغ تھے۔ ان کے خطابات سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔ خدائے تعالیٰ نے حق گوئی کی دولت سے نوازا تھا۔ وہ ہر بات پوری مضبوطی اور بہ بانگ دہل کہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شہید محترم کو عوامی حلقوں میں مقبولیت حاصل ہوگئی۔ آپ کو تعلیم و تربیت کے ساتھ انتہائی لگاؤ تھا۔ انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک اسکول کی بنیاد ڈالی۔ اس اسکول کو آج بھی امہ صاحب کے اسکول سے جانا جاتا ہے۔ شہید محترم اسی اسکول کے پاس میں مدفون ہیں۔ یہ اسکول شہید محترم کی داعیانہ تڑپ و جدوجہد کی علامت ہے۔ آپ کو مطالعہ قرآن کا انتہائی زیادہ ذوق و شوق تھا۔ قرآن پڑھنا اور پڑھانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے علاقے جن میں اٹکو، ٹارہامہ، لعلپورہ اور بٹہ پورہ شامل ہیں، میں درسگاہیں اور مطالعہ جات قائم کیے تھے‘۔

یہ بھی پڑھیں:   بنگلہ دیش میں کیا ہو رہا ہے - مسعود ابدالی

وقت گزرتا گیا اور حق کے اس متلاشی میں داعیانہ تڑپ بڑھتی اور زور پکڑ تی گئی۔ وہ تحریک اسلامی کے ساتھ مکمل طور وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے دنیا کے آرام و آلائش ترک کر کے خود کو تحریک اسلامی کے لیے وقف کر دیا۔ وہ ایک فعال اور مثالی کارکن تھے۔ وہ تحریک اسلامی کی کسی بھی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔ انہوں نے تحریک کے آفاقی پیغام کو تحصیل کے ہر علاقے اور گھر گھر تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ درسِ قرآن و درسِ حدیث دینے میں موصوف کو کمال حاصل تھا۔ وہ اپنے زمانے کے مایہ ناز جمعہ خطیب تھے۔ انہوں نے کم و بیش اپنے علاقے کی ہر جامع مسجد میں جمعہ خطاب کا فریضہ انجام دیا۔ وہ جب بھی خطاب کرتے تھے، تحریک اسلامی کا تعارف دینا کبھی نہیں بھولتے تھے۔

جماعت اسلامی کا نام لبوں پر آتا ہے تو محبت، صبر، برداشت، قربانی اور جذبہ ایمانی سے سرشار اور کفر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنی کھڑی ایک تصویر ذہن میں ابھر آتی ہے۔ باطل اور طاغوت کے علم بردار روز اول سے ہی اس کے خلاف سازش میں مصروف عمل رہے ہیں۔ جماعت کا نام آتے ہی ذہن میں مفکر اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کے یہ الفاظ گردش کرنے لگتے ہیں کہ ’’اگر حق کو نہیں پہچان سکتے تو باطل کے تیروں پر نظر رکھو، جہاں پر لگ رہے ہوں وہی حق ہے۔‘‘

ایک دن شہید محترم جامع مسجد برکت پورہ (لعلپورہ ٹنگمرگ) میں ایک دعوتی اجتماع سے خطاب کر نے گئے۔ اجتماع رات دیر گئے اختتام ہوا۔ موصوف کو یہ رات اسی گاؤں میں گزارنی پڑی۔ دوسرے روز ۱۴ نومبر ۱۹۹۱ ء کوصبح سویرے فوج نے پورے گاؤں کو محاصرے میں لے لیا۔ اعلان کیا گیا کہ جماعت اسلامی سے وابستہ افراد باہر نکل آئیں۔ افراد خانہ نے شہید محترم غلام احمد صاحب کو بھاگنے کا مشورہ دیا اور اپنی وابستگی کسی تحریک کے ساتھ جھٹلانے کے لیے کہا۔ شہید محترم نے یہ مشورہ یکسر ٹھکرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دانستہ اور بہ ہوش و حواس تحریک اسلامی کے ساتھ وابستگی اختیار کی ہے۔ ہمیں اس تحریک کا کارکن ہونے پر فخر ہے۔ لہٰذا فوج کو کہا جائے کہ اندر ایک بندہ تحریک اسلامی سے وابستہ ہے۔ یہ بات سن کر فوج نے انہیں باہر بلایا۔ شہید محترم کو چند اور ساتھیوں کے ہمراہ مرحوم محمد اسماعیل پرے ساکن لعلپورہ کے گھر میں بلایا گیا۔ وہاں شہید موصوف کو ساتھیوں سمیت شدید ٹارچر کیا گیا کہ موصوف لہولہان اور بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ فوج وہاں سے فرار ہوگئی۔ مقامی باشندوں نے شہید محترم کو اسپتال لے جانے کی کوشش کی، لیکن ۳۹ سال کے اس جواں سال مرد قلندر نے راستے میں ہی شہادت کا جام نوش فرمایا۔ یہ خبر جب ان کے آبائی گاؤں بٹہ پورہ کنزر پہنچی تو وہاں صف ماتم بچھ گئی۔ کیونکہ آپ انسان دوست، شریف طبیعت، نرم مزاج اور ہر دل عزیز تھے۔ ان کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ یہ حقیقت ہے کہ جو فرد کسی مقدس کاز کے لیے جان قربان کر دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ باعزت زندگی کا حق اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ خدائے تعالیٰ گواہ ہے کہ راہ ِحق میں مارے جانے والے کبھی نہیں مرتے بلکہ انھی لوگوں کو اصل زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔ ’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں۔ مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں‘‘ (سورۃالبقرہ)۔ ایک داعی دین کی موت کو ناقابل تلافی نقصان تصور کیا جاتا ہے۔ خیر و برکت کا ایک باب ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے۔ اعلیٰ صفات و کمالات سے متصف، نڈر و حق گو، عالم ربانی، پیکر اخلاص، متبع سنت، ہردلعزیزاس شخصیت کی شہادت نے تحریک اسلامی کے ساتھ وابستگان کو قیامت تک کے لیے داغ مفارقت دے دیا۔ شہادت کے وقت شہید محترم نے اپنے پیچھے اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑی۔ بیٹے کی شادی خانہ آبادی ہوئی ہے، البتہ بیٹی کا نکاح ہونا تادم تحریر باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی تقسیم؛ بھارتی حکومت کا نیا منصوبہ - سعد فاروق

شہید محترم کو قدرت نے ایک دائمی مسکراہٹ سے نوازا تھا۔ راقم کے والد و سابق امیر تحصیل ٹنگمرگ نے کہا کہ ’میں نے شہید غلام احمد کو ہمیشہ ایک مطمئن، متحرک اور متواضع داعی پایا۔ مسکراہٹ ان کے چہرے پر خوب سجتی تھی۔ یہ مسکراہٹ ان کے چہرے اور شخصیت کا حصہ بن گئی تھی اور شاید ہی کوئی بتا سکے کہ انھوں نے کب محبت اور مسکراہٹ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ والد صاحب نے مزید کہا کہ میری یادوں میں ان کے مضبوط حوالے ہیں جو ان سے محبت کو کم نہیں ہونے دیتے‘۔ شہید محترم بڑے دل جگرے والے انسان، منطقی ذہن اور دور اندیش شخصیت کے مالک تھے۔ لاریب وہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کے علمی کارنامے اور دینی خدمات پر دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ شہید موصوف کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار راقم الحروف کے والد و سابق امیر تحصیل نے یوں کیا ’ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد خطیب جامع کنزر شہید غلام احمد کرمانی صاحب نے مجھے آنے والی اتوار صبح دس بجے ہانجی بگ ماگام محترم فیاض صاحب ( سابق بلاک ایجوکیشن آفیسر) کے گھر آنے کی دعوت دی اور پارہ عم کی سورۃ النساء کے پہلے دس آیات، والدین سے متعلق کوئی ایک حدیث اور وضو کے فرائض یاد کر کے آنے کی تلقین کی۔ ا توار کو میں حسب پروگرام ماگام پہنچا اور ہانجی بگ کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ راستے میں ایک اور نوجوان آگے کی جانب قدم بڑھاتے نظر آیا۔ میں نے تیز رفتاری سے قدم بڑھائے تاکہ اس نوجوان کے ساتھ بات کرتے کرتے منزل تک پہنچ جاؤں۔ میں نے اس نوجوان سے سوال کیا کہ کہاں سے آئے ہو اور کہاں جانا ہے؟ اس نے جوا باً کہا کہ میں کنزر بٹہ پورہ سے آیا ہوں اور میں ہانجی بگ جارہا ہوں۔ میں نے پھر سوال کیا کہ ہانجی بگ کیوں جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ وہاں جماعت اسلامی تحصیل بیروہ کا اجتماعِ متفقین ہے۔ میں نے کہا میں بھی تو وہیں جا رہا ہوں، انہوں نے کہا آپ کو کس نے بھیجا، میں نے کہا سید کرمانی صاحب نے، انہوں نے کہا کہ مجھے بھی انہوں نے ہی یہاں بھیجا۔ ساتھ ہی مندر جہ بالا نصاب کی تیاری سے متعلق بھی جانکاری حاصل کی۔ شہید موصوف نے مجھ سے کہا کہ ہمارا نصب العین ایک ہی ہے اور ہم ایک دوسرے کے ہمسایہ بھی ہیں، اسی لیے تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کریں۔ باتیں کرتے کرتے ہم اجتماع میں پہنچ گئے۔ اجتماع میں جوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد تھی‘۔ والد صاحب نے مزید کہا کہ ’ س اجتماع میں مجھے ایک اور نامور و نمایاں شخصیت اور قائد کارواں محترم غلام محمد میر صاحب ( شمس الحق ) امیر تحصیل بیروہ کا تعارف بھی حاصل ہوا۔ ان کی حلیمی، شرافت، ظرافت، لب و لہجہ اور قابلیت نے مجھے ایسا گرویدہ بنایا کہ آج اگر میں جماعت اسلامی کے ادنیٰ خادم کی حیثیت سے جی رہا ہوں، اس کی اصل وجہ اسی مرد مجاہد کے ساتھ پہلی نشست کا باعت ہے جس نے شمس الحق کے نام پر جامِ شہادت نوش فرمایا‘۔

شہید موصوف بیک وقت مدبر، زمانہ شناس، نباضِ وقت اور خطیب تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فہم و فراست اور حکمت و بصیرت کے بڑے حصہ سے نوازا تھا۔ وہ علاقے کے جس گوشے میں جاتے تھے، وہاں دل کی گہرائیوں سے تحریک اسلامی کا پیغام عوام کو سناتے تھے۔ آپ کی شخصیت نہ صرف دانائی و دور اندیشی سے عبارت تھی بلکہ حق پرستی و جرات کا بھی اعلیٰ مظہر تھی۔ اپنے خطابات میں شہید محترم ایمانی ولولے، قلبی درد اور داعیانہ انداز میں سننے والوں کے قلوب گرماتے تھے۔ وہ تعلق با اللہ ، اپنے کام میں اخلاص اور انابت کی روح پیدا کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ قرآنی آیات و احادیث کی روشنی میں بزرگوں کی سیرت و سوانح کے حوالہ سے شہید محترم مدلل تقریر کرتے تھے۔ الغرض شہید غلام احمد وانی صاحب ایک مکمل انقلابی، با عزم داعی، حوصلے سے لبریز مربی و مبلغ اور امت و انسانیت کے درد سے آشنا اور غمخوار انسان تھے۔ نفسیاتی اور روحانی طور پر ذیادہ بامعنی، طبعی قوت، انسانی امکانات اور کائناتی مظاہر پر حکیمانہ نگاہ ان کا طرہ امتیاز تھا۔ ان کی داعیانہ کارکردگی، ذمہ داری وتگ و دو تاریخ تحریک اسلامی کے لیے موقع افتخار ہے اور ہمارے لیے قابل اتباع بھی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شہید محترم کی تحریک کے تئیں خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔آمین!