شاتم رسول کا شرعی حکم و سزا - عبدالصمد عطاری

شاتم رسول اس شخص کو کہتے ہیں جو حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ادنیٰ سی گستاخی و بےادبی، توہین و تنقیص، تحقیر و استخفاف، صریح ہو یا بانداز اشارہ و کنایہ، ارادی ہو یا بغیر ارادی، بہ نیت تحقیر ہو یا بغیر نیت تحقیر، گستاخی کی نیت سے ہو یا بغیر اس کے، حتیٰ کہ وہ محض گستاخی پر دلالت کرے، شریعت اسلامیہ میں اس کا مرتکب کافر و مرتد اور واجب القتل ہے، اور مملکت پاکستان کے آئین و قانون میں اس جرم کی سزا سزائے موت ہے. میں یہاں صرف اس کے شرعی حکم پر بات کروں گا کہ گستاخ رسول کا شرعی حکم و سزا کیا ہے؟

اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: ولئن سألتهم ليقولن إنما كنا نخوض ونلعب قل أبالله وآياته ورسوله كنتم تستهزئون، لا تعتذروا قد كفرتم بعد إيمانكم. (سوره التوبہ) ''اگر آپ ان سے پوچھیں تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ ہم تو صرف بات چیت اور دل لگی کرتے تھے، فرما دیجیے کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مذاق کر رہے تھے اب تم معذرت مت کرو، بے شک تم اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے ہو.''

امام عبد اﷲ بن عمر بيضاوی اپنی کتاب أنوار التنزيل وأسرار التأويل میں "قد كفرتم" کے متعلق فرماتے ہیں: قد أظهرتم الکفر بإيذاء الرسول والطعن فيه، ''تمہارا کفر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت وتکلیف دینے، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں طعن وتشنیع کرنے کی وجہ سے ظاہر ہوچکا ہے لہذا جو ایسا کرے وہ کافر ہو گیا.'' یہی تفسیر علامہ أبو السعود العمادي محمد بن محمد بن مصطفى اپنی تفسیر أبو السعود میں اور امام شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی اپنی مشہور تفسیر تفسیر روح المعانی میں فرما رہے ہیں اور دیگر مفسرین نے بھی یہی مؤقف اپنایا. رحمہم الله

علامہ ابن تیمیہ سوره الاحزاب کی آیت ان الذین یوذون اللہ ورسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والآخرۃ واعد لھم عذابا مھینا. '' بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے.'' کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ان المسلم يقتل اذا سب من غير استتابة وان اظهر التوبة بعد اخذه کما هو مذهب الجمهور. ترجمہ ''کوئی بھی مسلمان جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے گا، اسے توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کر دیا جائے، اگرچہ وہ گرفتاری کے بعد توبہ کرلے، یہی مذہب جمہور ہے.'' آگے مزید بیان کرتے ہیں کہ "نسبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ثابت ہے، شان رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی و بے ادبی کا ارتکاب کرنے والے کی سزا توبہ کا موقع دیے بغیر اسے قتل کرنا ہے." پھر بیان کرتے ہیں کہ احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے فانه امر بقتل الذي کذب عليه من غير استتابه. ''حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں بغیر توبہ کا موقع دیے قتل کا حکم صادر فرمایا جس نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کیا.''

اب کوئی کہے یہ حکم تو مسلمانوں کے لیے ہے، اس میں غیر مسلم کہاں؟ اس کا جواب ہے اہانت رسول میں مسلم و غیر مسلم کا امتیاز نہیں رکھا جائے گا، اس پر آئمہ امّت کا اتفاق ہے، چنانچہ امام مالک علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ من سب رسول اﷲ أو شتمه أو عابه أو قتل مسلما کان أو کافراً ولا يستتاب ''جس شخص نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دی یا عیب لگایا یا آپ کی تنقیص کی تو وہ قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی.'' امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اری ان يقتل ولا يستتاب ''میری رائے یہ ہے کہ اسے توبہ کا موقع دیے بغیر قتل کر دیا جائے.'' امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے والد گرامی سے پوچھا جو شخص حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے، آپ کی شان اقدس میں دشنام طرازی کا ارتکاب کرے تو ایسے شخص کی توبہ قبول کی جائے گی؟ اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ قد وجب عليه القتل ولايستتاب ''سزائے قتل اس پر واجب ہو چکی ہے، اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی.''

یہ بھی پڑھیں:   صف بندی ہوچکی، آپ کس طرف ہیں - طارق رحمان

امام زین الدین ابن نجیم حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ يقتل عندنا حدا فلا تقبل توبته في إسقاطه القتل. ''ہمارے احناف کے نزدیک اسے حداً قتل کردیا جائے گا اور حد قتل کو ساقط کرنے کے حوالے سے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی.'' امام ابن عابدین شامی حنفی رحمہ ﷲ فرماتے ہیں فإنه يقتل حداً ولا تقبل توبته لأن الحد لايسقط بالتوبة، وأفاد أنه حکم الدنيا وأما عند اﷲ تعالیٰ فھي مقبولة'' اسے حداً قتل کر دیا جائے گا اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اس لئے کہ حد توبہ سے ساقط ومعاف نہیں ہوتی، یہ حکم اس دنیا سے متعلق ہے جبکہ آخرت میں ﷲ رب العزت کے ہاں اس کی توبہ مقبول ہوگی.''

سب سے اہم قول جسے باربار پڑھ کر اپنے پلے باندھ لیں اس قول کو حفظ کر لیں. امام محمد بن علی بن محمد علاؤ الدین حصنی دمشقی المعروف حصکفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں الکافر بسب نبي من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا ولو سب اﷲ تعالیٰ قبلت لأنه حق اﷲ تعالیٰ والأول حق عبد لا يزول بالتوبة ومن شک في عذابه وکفره کفر. ''انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی توہین کرکے جو شخص کافر ہو اسے حداً قتل کردیا جائے گا اور اس کی توبہ کسی صورت میں قبول نہیں ہوگی، اگر اس نے شان الوہیت میں گستاخی کی پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول ہو جائے گی، اس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے جو توبہ سے معاف ہوجاتا ہے جبکہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی یہ حق عبد ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے.''

پھر سے سن لیں من شک في عذابه وکفره کفر' ' جس نے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب، ادنی ہو یا اعلیٰ، کسی پارٹی کا صدر ہو یا ورکر، کوئی جج ہو یا وکیل، کوئی جنرل ہو یا پولیس، کوئی صحافی ہو یا سوشل ورکر، اصلی دانشور ہو یا فیس بکی، جس نے بھی گستاخی کی سزا موت پر ذرا سا بھی شک کیا یعنی وہ یہ کہے کہ گستاخی کی سزا موت نہیں ہونی چاہیے یا گستاخی سے کوئی کافر نہیں ہوگا نہ ہی اسے عذاب دیا جائے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا !

اپنے موقف کے استدلال کے لیے چند احادیث بھی بیان کروں گا تاکہ یہ نیزہ منکرین کے سینے میں بلا حجت پیوست ہو جائے. عن علی ابن ابی طالب ان یھودیۃ کانت تشتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم وتقع فیہ ، فخنقھا رجل حتی ماتت ، فاطل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دمھا. (ابو داؤد) ''ایک یہودیہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا.''

عن علی ابن ابی طالب قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سب نبیا قتل، ومن سب اصحابہ جلد. (طبرانی صغیر) ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں.

عن عبدالله ابن عباس قال ان رجلا من المشرکین شتم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من یکفینی عدوی؟ فقام الزبیر بن العوام فقال انا فبارزہ فاعطاہ رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم سلبہ. (الصارم المسلول لابن تیمیہ) ''مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اس دشمن کی کون خبر لے گا ؟ تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا سامان حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا.''

اب ایک بہت ہی اہم مسئلہ بیان کرنے جا رہا ہوں، جس کا تعلّق آج کل کے حالات اور ہمارے رویوں سے ہے. ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ لوگ ناموس رسالت پر بغیر کسی دینی استطاعت کے اپنی رائے بلا جھجھک دے دیتے ہیں. یہ سوچتے نہیں کہ ہماری اس بات کے تانے بانے کہاں جا کر ملتے ہیں اور کبھی کبھی ہم اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ ہم سے ادا کیے ہوئے جملے خود دشنامی کے زمرے میں آجاتے ہیں اور جیسا کہ میں نے پہلے ہی شریعت کا حکم آپ کے سامنے رکھ دیا کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ادنیٰ سی گستاخی و بےادبی، توہین و تنقیص، تحقیر و استخفاف، صریح ہو یا بانداز اشارہ و کنایہ، ارادی ہو یا بغیر ارادی بنیت تحقیر ہو یا بغیر نیت تحقیر، گستاخی کی نیت سے ہو یا بغیر اس کے، حتیٰ کہ وہ محض گستاخی پر دلالت کرے تو اس کا مرتکب کافر و مرتد اور واجب القتل ہو جائے گا، تو خدارا کسی مخصوص سوچ کے تحت، یا کسی پارٹی کے سپورٹرز ہونے کے تحت، یا محض خود کو پڑھا لکھا اور منفرد اور اپنے انسان دوست ہونے کے ثبوت کے طور پر مسئلہ ناموس رسالت مآب صلّی الله علیہ آلہ وسلّم پر لب کشائی نہ کیا کریں، احتیاط کریں، پرہیز کریں.

یہ بھی پڑھیں:   قانون کو تم کیا جانو - صہیب جمال

دیکھا گیا ہے آسیہ مسیح کی حمایت میں لوگ بول پڑتے ہیں، میں ان سے پوچھتا ہوں کیا اس بستی میں ایک آسیہ مسیح رہتی تھی؟ اور کوئی مسیح عورت یا مرد نہیں رہتا تھا؟ پھر الزام صرف آسیہ پر کیوں لگا؟ پھر کچھ لوگ دلیل دیتے ہیں کہ کورٹ میں ثابت نہیں ہوا لہذا اس نے گستاخی نہیں کی، تو میرے دوستوں کورٹ میں نواز شریف اور آصف زرداری کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی، تو کیا آپ ان کو صادق و امین مانیں گے؟ اور مجھے بتائیں کہ ہماری کورٹ کے کتنے فیصلے صحیح میریٹ پر ہوتے ہیں؟ کیا ہماری کورٹس نے رنگے ہاتھوں پکڑے ہوئے دہشت گرد بری نہیں کیے؟ کیا کورٹ سے بریت کے بعد ہم مان لیں کہ وہ دہشت گرد نہیں تھے جن کو ہماری آرمی نے جان پر کھیل کر گرفتار کیا تھا؟ جب ہم ان کی بریت کے بعد بھی یہی سمجھتے ہیں کہ وہ کرپٹ ہیں، بری ہوئے دہشت گرد دہشت گرد ہیں تو ہم سے آسیہ مسیح کے بارے میں کیوں الجھتے ہیں؟ پھر ہر پارٹی اپنے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کو غلط کہتی ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ کینگرو کورٹس ہیں، یا عدالت کے فیصلے خلائی مخلوق کے اشارے پر ہیں، تو وہاں سپریم کورٹ کا فیصلہ کیوں نہیں مانتے؟

دیکھیں! اس مسئلے کو بیان کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ہم اس معاملے میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں، مجرم چاہے کسی طرح کا جرم کرے، اس کو سزا دینے کا حق صرف اور صرف ریاست کو ہے، ہمیں قانون کو کسی بھی صورت ہاتھ میں لینا نہیں چاہیے. ہمیں موجودہ حکومت سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ توہین رسالت کے قانون کو مزید سخت اور مؤثر بنائیں، اس طرح کہ اس جرم میں نہ کسی بےگناہ کو سزا ہو نہ کوئی گنہگار بری ہو. اس سلسلے میں علماء کی مشاورت سے قانون سازی کریں، اس کے برعکس ہم یہ سن رہے ہیں کہ توہین رسالت کے قانون کو ختم یا اس میں نرمی لانے کے لیے ترمیم پر غور ہو رہا ہے تو پھر ہمارا احتجاج ہوگا، پھر ہم سڑکوں پر بھی آئیں گے اور آئے دن کئی غازی علم الدین پیدا ہوتے رہیں گے، پھر غلامان قانون کو ہاتھ میں لیکر اپنے آقا صلّی الله علیہ وسلّم کے گستاخوں کا سر قلم کرتے رہیں گے اور خوشی سے سولی چڑھتے رہیں گے.
زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں اُن کے نام پر
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا

اور آخری بات
آسیہ مسیح کے معاملے میں جن کو ابہام ہے کہ اس نے گستاخی نہیں کی، وہ بھی آسیہ مسیح سے ہمدردی نہ کرے، بلکہ دل میں برا جانتے ہوئے خاموشی اختیار کرے، اور اس کی حمایت سے گریز کرے، کیونکہ اگر وہ واقعی گستاخ ہے تو آپ اس کی حمایت کر کے اللہ اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کو تکلیف دینے کا گناہ کر رہے ہیں اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے، تب بھی خاموشی بہتر ہے. یاد رہے کہ توہین رسالت کے معاملے میں اگر آپ کو ملزم سے ہمدردی ہو تو جان لیں آپ کے ایمان میں کوئی نقص ہے. ایک مؤمن کا اس معاملے میں غصّہ و طیش فطری عمل اور ایمانی تقاضا ہے اور مسلمان اپنی جان مال اپنے اہل و عیال سے زیادہ اپنے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو محبوب رکھتا ہے، اگر ایسا نہ ہو تو جان لو وہ شخص مؤمن نہیں.