جس کا ڈر تھا وہی ہوا - حافظ احمد

امسال محرم الحرام کی ابتدا میں اہلِ تشیّع کے ایک ذاکر صاحب کی چند ویڈیوز سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئیں جس میں انہوں نے حضرت عباس سے منسوب مردے زندہ کرنے کی کرامات بیان کیں۔ دینی و غیر دینی، دونوں طبقوں نے اس کی خوب تضحیک کی اور ہنسی مذاق کر کے اس سے خوب لطف اٹھایا۔

میرے مطابق ان ویڈیوز کے وائرل ہونے میں بنیادی کردار ذاکر صاحب کا "منفرد" انداز اور ان کی وائرل ہونے والی وہ پرانی ویڈیو ہے جس میں انہوں نے پاکستان کے حوالے سے نہایت ہی عجیب و خلافِ واقعہ بات کرکے تاریخ کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں عوام الناس کے دماغ میں ان کی شخصیت ایک مذاق بن کر رہ گئی۔ اس کے علاوہ لوگ آج کل ہر چیز کو عقل کے ترازو میں تولنے کے عادی ہوگئے ہیں، پھر ستم بالائے ستم یہ کہ ان کے پاس ٹھوس دلائل و حوالہ جات بھی نہیں تھے۔ ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے لوگوں کا ان کی حضرت عباس کے حوالے سے بیان کردہ کرامات کو قبول نہ کرنا ایک فطری امر تھا، اور پھر جب بیان کرنے والا بھی ایسا ہو تو عوام مذاق تو بنائے گی۔ اس کے علاوہ دنیا آج گلوبل ولیج کی صورت اختیار کر چکی ہے اور پھر میڈیا کا اتنا تیز تر ہو جانا لہذا کسی بھی چیز کا چُھپنا بہت مشکل ہوجاتا ہے، لہذا عوام کا مطالبہ بھی گویا یہی تھا کہ اگر کسی مقام پر ایسا انوکھا واقعہ پیش آتا ہے تو وہ کیونکر نظر انداز ہو سکتا ہے، اور صرف انھی کو کیسے پتہ چل سکتا ہے اور اس مقام پر عوام کی یہ بات درست بھی ہے۔ خیر جب انہوں نے یہ ماحول دیکھا تو اپنے دفاع میں اسی طرح کا ایک اور واقعہ سنایا اور اس بار انھوں نے کتاب سے حوالہ بھی بیان کیا لیکن بات وہی آگئی کہ چونکہ انوکھی باتیں کرنا ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا ہے، اور پھر ان کی شخصیت بھی ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے، لہذا لوگوں نے اسے بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اسے بھی خوب وائرل کرکے ہنسی مذاق کیا۔ بہرحال ان واقعات کی سند و حوالہ انہی کے ذمے ہے، اگر وہ ٹھوس دلائل و حوالہ اور صحیح سند پیش کر دیتے ہیں تو ہمیں حضرت عباس کی کرامات ماننے میں کوئی عار نہیں، بلکہ یہ تو ہمارا عقیدہ ہے کہ کرامات برحق ہیں۔

خیر اصل بات یہ ہے کہ اس پوری کارروائی کے دوران میرے ذہن میں یہ بات مسلسل کھٹک رہی تھی کہ یہ تو تقریبا ایسا ہی ہے جیسے ہم کتابوں سے اولیائے کرام کی کرامات بیان کرتے ہیں لہذا کرامت کے طور پر حضرت عباس سے ان چیزوں کا صدور ہونا کوئی بعید بھی نہیں، لیکن ذاکر صاحب نے ماحول ایسا بنا دیا کہ کل کو ہماری قوم ان کی اس طرح کی بے احتیاطی کی وجہ سے دیگر اصحاب و اولیاء کی کرامات کا بھی اسی طرح مذاق بنانا نہ شروع کردے اور کہیں یہ معاملہ بڑھتے بڑھتے معجزات تک نہ پہنچ جائے، کیونکہ ابتدا میں اذہان انھی جیسے لوگوں کی بےاحتیاطیوں سے منتشر ہوتے ہیں اور پھر اس کا نقصان دیگر کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

اور پھر جس کا ڈر تھا وہی ہوا، آج ایک فیس بک پیج کے ذریعے "غوثِ اعظم کی مردہ زندہ کرنے کی کرامت" والی ایک ویڈیو آئی جس پر پیج ایڈمن نے کیپشن میں یہ لکھا تھا کہ "یہ تو نیپالی سے بھی آگے نکل گئے" اور اس ویڈیو کو کافی لوگوں نے مختلف کیپشن یعنی "رونگ نمبر وغیرہ" کے ساتھ شیئر بھی کیا ہوا تھا۔ میں لوگوں کا رجحان جاننے جب کمنٹ بکس میں گیا تو بہت افسوس ہوا کہ اکثر تو مخالفت ہی کر رہے تھے، لیکن چند وہ لوگ جو (کرامات کے بارے میں کچھ نہ کچھ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں) نیپالی جیسی ویڈیوز پر تو بہت ہنس رہے تھے، آج بیچارگی کے عالم میں اس کے دفاع میں کمنٹس کر رہے ہیں، اور دیگر افراد اس پر ہنسنے والا ری ایکشن دے رہے ہیں۔ جس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اب ہمارے ایک طبقے کا ذہن کرامات کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہوگیا ہے اور آنے والے وقتوں میں شاید یہ ایک فتنہ بن کر ابھرے، گرچہ بنیاد اس کی وہی پرانی ہوگی۔

اب سوال یہ ہے کہ اس کا قصور وار کون؟ صرف ذاکر؟ یا پھر ہمارے وہ بھولے بھالے لوگ بھی جو مذاق کرتے کرتے اپنی غیر سنجیدگی میں حد سے تجاوز کرگئے اور اس کو شیئر کر کے لاشعوری طور پر اس نقصان میں اپنا برابر حصہ ملاتے رہے؟

خیر جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ علما اس پر توجہ دیں اور لوگوں کو خرقِ عادت صادر ہونے والے کاموں اور اس کی تقسیم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بتائیں تاکہ اس پروپیگنڈے کا جلد از جلد سدِّ باب ہوسکے اور معاملہ بہت زیادہ آگے نہ نکل سکے۔ نیز میں قارئین سے بھی یہ گزارش کروں گا کہ خدارا اپنے تمام معاملات میں بالعموم اور سوشل میڈیا پر بالخصوص کسی بھی عمل کو انجام میں لاتے ہوئے اس کے ذریعے مرتب ہونے والے مثبت و منفی اثرات کو بھی سامنے رکھیں اور مذاق میں غیر سنجیدگی کی پٹی باندھ کر اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی نہ ماریں اور ہر چیز کا مذاق بنانے سے گریز کریں کیونکہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک بہت مہلک ہتھیار کی صورت اختیار کر چکا ہے اور اس کے ذریعے بعض اوقات کئی لوگوں کی زندگیاں مسائل کا شکار بھی ہوجاتی ہیں۔ حال ہی میں آنٹی گورنمنٹ کے نام سے مشہور ہونے والی آنٹی کی نجی زندگی کے بارے میں کسی صاحب نے اپنی تحریر میں لکھا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجانے کے سبب انک ی اور ان کے خاندان کی زندگی پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہر شر سے محفوظ فرمائے۔ آمین

نوٹ: ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ سوچے کہ جب یہ معاملہ سرگرم تھا تو میں نے اس وقت یہ تحریر کیوں نہیں لکھی اور اب جب بات ''غوثِ اعظم'' پر آئی تو میں بول اٹھا تو اس کے ضمن میں مَیں یہی کہوں گا کہ حضرت عباس بھی میرے ہیں اور غوثِ اعظم بھی حتی کہ حضرت عباس کا مقام ان سے بہت بلند ہے۔ لیکن اُس وقت لوگوں پر غیر سنجیدگی اس طرح طاری تھی کہ شاید کوئی میری بات نہ سمجھ پاتا۔ لہذا فی الوقت میرا مقصد ایک اسلامی عقیدے کا دفاع کرنا ہے نہ کہ کسی شخصیت کا جس کے لیے میں مناسب وقت کی تلاش میں تھا جو آج میسر آیا۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ہمیشہ حق کہنے، حق سننے اور حق ہی قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔