آسیہ مسیح کیس، خادم صاحب! ایک نظر یہاں بھی - یاسین صدیق

آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف مختلف مذہبی جماعتوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے، ان میں سب سے زیادہ مقبول جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاکستان رہی، جسے عمران خان نے "چھوٹا سا طبقہ" کا لقب دیا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی، لیکن تحریک لبیک پاکستان پھر بھی دٹی رہی۔

ہمارے پیارے نبی اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلى اللہ عليہ وسلم جو ہمارے آئیڈیل ہیں اور جنھیں دنیاوی تاریخ میں ایک عظیم شخصیت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، کسی مسلمان کے بس میں نہیں کہ ان کی شان میں گستاخی برداشت کرے اور بس میں ہونا بھی نہیں چاہیے کیونکہ ان کی شخصیت ہی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ بات تو ہم ہر جگہ پڑھتے ہیں، سنتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر ہی بنا، پاکستان کا آئین قرآنِ پاک اور سنتِ رسول صلى اللہ عليہ وسلم کے مطابق ہے لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں ہر کام، ہر اقدام اور ہر عمل آئین کے برخلاف ہے۔

آسیہ مسیح کی بریت اور اس سے پہلے حلف نامہ میں تریم کے خلاف جس طرح تحریک لبیک پاکستان اور پارٹی کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی نے گزشتہ اور حالیہ حکومتوں کی ناک میں دم کیا اور ان کو سبق سکھایا اس کی مثال نہیں ملتی، اس کا کریڈٹ ان کو ہر صورت ملنا چاہیے۔ جس طرح ہم اپنے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ان اقدامات کو برداشت کریں جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل خلاف ہیں اور جن کی کھلے عام خلاف ورزی جاری ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک پر پہرا دینا ہم سب کا فرض ہے، لیکن ہمارے فرض یہ بھی ہے کہ ہم ان تمام امور کے خلاف بھی آواز اٹھائیں جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل خلاف ہیں، آخر یہ بھی ہمارا فرض ہے۔

علامہ خادم حسین رضوی صاحب نے جو بولڈ اسٹیپ حکومت کے خلاف لیا، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، اس کے لیے ارادے نیک اور حوصلے بلند ہونے چاہییں۔ دوسری جانب عوام کو بھی یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی صورت برداشت نہیں کرتے۔ آسیہ مسیح کی بریت کا فصلہ آتے ہی پوری قوم نے پاکستان میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دینا شروع کر دیے۔ ان عوام میں صرف تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نہیں تھے بلکہ ہر وہ پاکستانی تھا جو سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ یہاں بات یہ سمجھ میں آئی ہے کہ ہماری عوام بہت دکھی اور ستائی ہوئی ہے اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھانا چاہتی ہے، لیکن پلیٹ فارم کی تلاش ہوتی ہے جیسے آسیہ ملعونہ کی بریت کے بعد کی مثال لے لیں کہ کسی طرح عوام نے تحریک لبیک اور دیگر مذہبی جماعتوں کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے پورے پاکستان میں سچے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا ثوبت دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   توہین رسالت سے متعلق قرآن کی ہدایت - عمار خان ناصر

یہاں میں چند ایسے ایشوز پر علامہ خادم حسین رضوی اور دیگر مذہبی جماعتوں کی توجہ چاہتا ہوں جو بالکل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہیں:

سودی نظام:
سودی نظام نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پورا نظام ہی سود پر کھڑا ہے۔ پاکستان بھی اس کی زد میں ہے، ادارے سود کی اینٹوں پر ہی کھڑے ہیں جس کی وجہ سے خدا کی رحمتوں اور نعمتوں کا نزول نہیں ہو رہا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 278 اور 279 میں فرماتا ہے "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر واقعی تم مؤمن ہو تو جو سود باقی رہ گیا ہے اُسےچھوڑ دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے"۔ تمام مذہبی جماعتوں کو سودی نظام کے خاتم کے لیے یک جاں ہونا پڑے گا اور اللہ اور اس کے رسول سے جاری اس جنگ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

فحاشی:
پاکستان میں جس نوعیت اور مقاصد کے لیے ڈرامے، فلمیں اور اشتہارات بنائے جاتے ہیں اس کا ایک مقصد صرف عورت کی نام نہاد آزادی کو پروان چڑانا ہے۔ ان ڈراموں اور فلموں کے ذریعے بہت باریکی سے چست لباس کے کلچر کو فروغ دیا جارہا ہے اور ایسی بداخلاقی سکھائی ج ارہی ہے کہ گھروں میں لڑائی جگھڑوں کی وجہ سے پورا خاندانی نظام تباہ ہوتا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھارتی چینلز پر تو پابندی لگا دی ہے لیکن شاید ان کو پاکستانی ڈراموں اور فملوں سے کوئی منفی تاثر پھیلتا نظر نہیں آ رہا۔ مذہبی جماعتیں اگر اس فحش کلچر کے خلاف آواز اٹھائیں تو عوام ان کا ساتھ دے گی۔

تھرپارکر میں غذائی قلت:
گزشتہ ایک دہائی سے تھر کے عوام خشک سالی اور غذائی قلت کا شکار ہیں، بچے اور جانور غذائی قلت اور خشک سالی کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور نہ جانے مزید کتنے ہونے ہیں، اللہ رحم فرمائے، آمین۔ یہ اموات موجودہ دور کا ایک بڑا المیہ ہے۔ وفاقی اور سندھ حکومت کے پاس طرح طرح کے سیمنار اور فیسٹیول پر اڑا کے لیے بےتحاشا مالی وسائل ہیں لیکن تھر کی تڑپتی اور مرتی عوام کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اس ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمیں ایک ہوکر حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا، آخر یہ بھی تو دین کی خدمت ہی ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے، "جس نے ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی"۔ القرآن (۵: ۲۳)

یہ بھی پڑھیں:   قانون کو تم کیا جانو - صہیب جمال

مہنگائی:
آج کل مہنگائی عروج پر ہے، موجودہ حکومت نے مہنگائی کے طوفان کو بےلگام کرکے نہ جانے کتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کردیے ہیں۔ ایک عام شخص کی آمدنی وہیں کی وہیں ہے اور اخراجات بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے دیگر مسائل نے بھی جنم لینا شروع کر دیا ہے۔ کئی خاندان فاقہ کشی کی نذر ہوچکے ہیں، لوگ فاقہ کشی کی وجہ سے بچوں سمیت خودکشی پر اتر آئے ہیں جو کہ حرام ہے۔ دینی جماعتوں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ کئی خاندان فاقہ کشی سے بچ سکیں۔

یہ تو ہیں چند مسائل جو بالکل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہیں اور ان کے لیے آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔ اگر ان مسائل کو ابھی سے روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو ان پر قابو پانا اور مشکل ہو جائے گا۔ انگریزی کا ایک مشہور محاورہ ہے "Nip the evil in the bud" اس کی تشریح یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی برائی کو عروج پانے سے پہلے ختم کر دینا چاہیے اس سے پہلے کہ وہ معاشرے میں اپنے پنجے گاڑ لے۔