بندۂ مولاصفات، علامہ محمد اقبال ؒ - عبدالخالق بٹ

ڈاکٹر علامہ محمداقبالؒ کی فکری رفعت اور شاعرانہ عظمت کا ایک عالم معترف ہے، دنیاوی اعزازات اورشہرت کے بام عروج پر پہنچنے کے باوجود علامہ اقبالؒ کی سادگی، بےنفسی اور توکل کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہیں ہوئی بلکہ گزرنے والے ماہ و سال نے علامہ کی ان صفات عالیہ میں اضافہ ہی ہوتے دیکھا، مگر علامہ اقبال کے اپنے مزاج کی وجہ سے کم لوگ ہی اس سادہ و وضع دار اقبال سے آشنا ہوسکے۔

مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بقول ’’ان میں کچھ فرقہ ملامتیہ کے سے میلانات تھے، جن کی بنا پر اپنی رندی کے اشتہار دینے میں انہیں کچھ مزا آتا تھا ورنہ درحقیقت وہ اتنے بےعمل نہ تھے۔‘‘ (بحوالہ : حیات اقبال کا ایک سبق / مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ)

حقیقت بھی یہی ہے کہ اقبالؒ کی زندگی ایک دردِ دل رکھنے والے سادے اور سچے مسلمان کی زندگی تھی، اس دعویٰ کے اثبات میں حیات اقبال ؒ کے چند گوشوں کا تذکرہ پیش خدمت ہے:

یہ1929ء کا ذکر ہے جب سقہ بچہ افغانستان میں امیر امان اللہ خان کا تختہ الٹ کر کابل پر قابض ہوگیا تھا، اس صورتحال میں پیرس میں متعین افغان سفیر جنرل نادر خان افغانستان واپس پلٹے تاکہ افغانستان کو سقہ بچہ کی چیرہ دستیوں سے بچایا جاسکے۔ اس سلسلے میں جنرل نادر خان جب پشاور جاتے ہوئے لاہور سے گزرے تو علامہ اقبالؒ خصوصی طور پر ان سے ملاقات کے لیے لاہور اسٹیشن پہنچے اور رسمی گفتگو کے بعد جنرل نادر خان کو ایک جانب لے گئے اور اپنی حیثیت کے مطابق انہیں ایک خطیر رقم تھماتے ہوئے فرمایا ’’یہ میری جمع پونجی ہے، اسے اپنی اس مہم کے لیے بطور چندہ قبول فرمائیں۔‘‘ جنرل نادر خان نے علامہ کے بےحد اصرار کے باوجود بصد شکریہ رقم لینے سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ اگر مجھے رقم کی ضرورت ہوئی تو میں یہ رقم منگوالوں گا، فی الحال اسے آپ اپنے پاس رکھیں۔‘‘


خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات

ہر دوجہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز


…=…

علامہ اقبال جائز و ناجائز کے معاملے میں بہت محتاط تھے۔ وکیلوں کے پاس مؤکل عام طور پر جو تحفے تحائف لاتے ہیں جو محنتانہ کے علاوہ ہوتے ہیں، علامہ کو ان تحائف کے قبول کرنے میں تامل تھا، چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں سید سلیمان ندوی ؒ سے رہنمائی چاہی کہ ’’ان کا قبول کرنا جائز بھی ہے کہ نہیں۔‘‘ انکم ٹیکس کے محکمے میں موجود علامہ کی فائل اس بات کی گواہ ہے کہ آپ محدود آمدنی کے باجود انکم ٹیکس باقاعدگی اور دیانتداری سے ادا کرتے تھے۔

علامہ اقبالؒ مال کے معاملے میں ’’تھوڑے کو بہت جان کر‘‘ اس پر قانع رہنے والوں میں سے تھے۔ اسی کے ساتھ آپ کا معمول تھا کہ پانچ سو روپے ماہانہ خرچ کے بقدر مقدمات مل جانے پر مزید مقدمات نہیں لیتے تھے اور اس سلسلے میں 10 تاریخ آخری تھی، اس کے علاوہ آپ کا ایک اور اصول یہ تھا کہ آپ جھوٹے اور کمزور مقدمات بالکل نہیں لیتے تھے۔
آپ کے عدالتی امور میں معاون منشی طاہر دین کی گواہی ہے کہ ایک موقع پر 10 تاریخ کے بعد کچھ لوگ بغرض مقدمات آئے، میں نے علامہ کو مطلع کیا تو آپ نے فرمایا ’’کیا ماہانہ خرچ میں کوئی کسر رہ گئی ہے؟‘‘ میرے انکار پر کہا کہ ’’انہیں کہیں کہ کوئی اور وکیل دیکھ لیں۔‘‘ میں نے ملاقات کے متمنی افراد کو آگاہ کیا تاہم وہ مصر تھے کہ بس ایک بار ملنے دیں۔ علامہ نے ان کے پیہم اصرار پر کہا کہ انہیں بھیج دیں۔ پہلے مؤکل کی فائل دیکھی تو مقدمہ کمزور پایا لہٰذا اس سے معذرت کر لی مگر اس کا اصرار تھا کہ میں منہ مانگی فیس دینے کو تیار ہوں پر مقدمہ آپ نے ہی لڑنا ہے۔ علامہ نے جو یہ سنا تو کہا ’’میں فیس کی پرواہ نہیں کرتا، آپ تشریف لے جا سکتے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   اقبال ڈے کی چھٹی - حافظ یوسف سراج

دوسرے مؤکل کا کہنا تھا کہ دراصل جائیداد کا مقدمہ ہے اور ہم صرف مخالفین کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں۔ علامہ اقبال نے جواب دیا ’’جھوٹا مقدمہ تو میں زندگی بھر نہیں لوں گا، آپ کیا سمجھتے ہیں۔‘‘ مؤکل نے جو علامہ کا مزاج برہم ہوتے دیکھا تو بولا ’’جتنے بھی پیسے خرچ ہوں، ہم کرنے کو تیار ہیں۔‘‘ اب تو جیسے علامہ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا، فرمایا ’’جھوٹے مقدمے کی وکالت تو میں ایک لاکھ روپے میں بھی نہیں کرسکتا، برائے مہربانی آپ تشریف لے جائیں۔‘‘
ان افراد کے چلے جانے پر علامہ منشی طاہر دین سے مخاطب ہوئے، ’’یہ آج آپ کن نامعقول لوگوں کو پکڑ لائے۔ لاحول و لاقوۃ یہ شرافت ہے۔‘‘


اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی


…=…

نواب بہاول پور، وائس راے کے نامزد کردہ برطانوی نمائندے سے سخت ناخوش تھے، اس کی تبدیلی کے لیے انھوں ہزار جتن کیے، یہاں تک کہ خود بھی وائس راے سے بات کی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ایسے میں انہیں کسی نے ڈاکٹر اقبال کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ علامہ اقبال نے فیس طے ہونے کے بعد دلی کا قصد کیا اور دلائل سے وائس راے کو قائل کر لیا کہ نواب بہاول پور کی حسب منشا برطانوی نمائندہ تبدیل کر دیا جائے۔ دلی سے واپسی کے چند روز بعد علامہ کو نواب بہاول پور کا تار آیا، جو علامہ کے پاس بیٹھے ان کے دیرینہ دوست چوہدری محمد حسین نے وصول کیا، اور آپ کو آگاہ کیا کہ ’’نواب صاحب بہاول پور نے آپ کا شکریہ ادا کیا ہے اور آپ کو فوراً بہاول پور آنے کا کہا ہے۔‘‘
علامہ اقبال ایک لمحہ بھر خاموشی کے بعد گویا ہوئے ’’کیا نواب صاحب نے مجھے اپنا ملازم سمجھ لیا ہے کہ ان کے بلانے پر فوراً چل پڑوں۔‘‘چوہدری محمد حسین کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے ’’تو پھر کیا جواب دوں نواب صاحب کو؟‘‘
’’لکھ دیجیے مجھے فرصت نہیں ‘‘


تواگر خودار ہے،منت کش ساقی نہ ہو

عین دریا میں حباب آسا نگوں پیمانہ کر


اگر علامہ اقبال نواب صاحب کے بلاوے پر بہاول پور چلے جاتے تو بیش قیمت انعام ملنے کا امکان تھا۔
…=…

1935ء کا سال علامہ کے لیے کئی اعتبار سے آزمائشوں کا سال تھا۔ اس سال آپ کی رفیقہ حیات والدہ جاوید ’سردار بیگم‘ انتقال کرگئیں، دوسری جانب خود اقبال کو مختلف عوارض نے گھیر لیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ آپ کووکالت بھی ترک کرنا پڑی، نتیجتاً معاشی معاملات جو پہلے بھی کبھی مثالی نہیں تھے، بری طرح متاثر ہوئے۔ اس صورتحال میں آپ کے بہت سے احباب اور بہی خواہوں نے دست تعاون دراز کیا۔ ان میں سب سے نمایاں نام ’سر سید احمد خان‘ کے پوتے ’سر سید راس مسعود‘ کا ہے جنھوں نے نواب بھوپال سے آپ کے لیے تاحیات پانچ سو روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کروایا، تاہم علامہ نے یہ وظیفہ مشروط طور پر قبول فرمایا اور وہ یوں کہ اس کے عوض آپ نے جدید چیلنجز کی روشنی میں اسلامی فقہ پر ایک کتاب لکھنے کا بیڑا اٹھایا۔ اُدھر دوسری طرف سر راس مسعود نے ریاست بھوپال سے وظیفے کی منظوری کے بعد اسی طرح کا ایک وظیفہ ’سر آغا خان‘ سے بھی منظور کروانے کی کوشش کی، تاہم جب علامہ کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے ’سرسید راس مسعود‘ کو لکھا ’’میری موجودہ ضروریات کے لحاظ سے پانچ سو روپے کافی ہیں، اس سے زیادہ خرچ کی مجھے عادت نہیں۔ اس لیے نواب صاحب کے وظیفے پر اکتفا کیا جائے اور ’سر آغا خان‘ سے وظیفہ نہ لیا جائے۔‘‘

اسی عرصے میں صدراعظم ریاست حیدرآباد سر اکبر حیدری نے اقبال کی علالت کے پیش نظر پیش کش کی کہ آپ سال میں ایک دفعہ عثمانیہ یونیورسٹی لیکچر کے لیے آجایا کریں، آپ کو اس کا معاوضہ سالانہ دس ہزارروپے دیا جائے گا مگر اس مرد درویش نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ’’میں اسلامی فقہ پر ایک کتاب لکھنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ اگر میں یہ معاہدہ منظور کرلوں تو میں ذہنی طور پر مصروف ہوجاؤں گا، اور کتاب مکمل نہ کرسکوں گا، اس لیے یہ معاہدہ مجھے منظور نہیں۔‘‘


…=…

مودودصابری جو علامہ اقبال سے شکلا ًواقف نہیں تھے، علامہ سے اپنی پہلی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں کوٹھی میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سامنے چبوترے پر ایک نواڑی پلنگ پڑا تھا، حضرت علامہ اقبال سفید تہبند اور نیم آستین کا سفید بنیان پہنے،گاؤ تکیہ کے سہارے بیٹھے حقہ پی رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں بہت حیران ہوا کیونکہ میں ’پیام مشرق اور بانگ درا‘ والے اقبال سے ملاقات کا تمنائی تھا، پر یہاں تو منظر ہی کچھ اور تھا، چنانچہ دل کی بات زبان پر آ ہی گئی، جس پر علامہ اقبال نے فرمایا ’’میاں صاحبزادے! تم پیام مشرق والے جس اقبال سے ملنے آئے ہو، وہ یہاں نہیں رہتا، یہاں تو سیالکوٹ والا اقبال رہتا ہے، اس سے ملنا پسند کرو تو حاضر ہے‘‘… مودود صابری جو پہلے ہی حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہے تھے، گویا ہوئے ’’سنا ہے ان کا آپ کے یہاں آنا جانا ہے، جب آئیں تو میرا سلام شوق پہنچا دیں۔‘‘ اقبال نے مسکراتے ہوئے فرمایا ’’تم نے ٹھیک سنا ہے، مگر افسوس جب تمھارا اقبال میرے پاس آتا ہے تو مجھ کو اپنا ہوش نہیں رہتا، اس کے آنے کا علم مجھے اس کے جانے کے بعد ہوتا ہے، کبھی ہوش باقی رہا تو تمھارا پیغام ضرور پہنچا دوں گا مگر اس کی توقع بہت کم ہے، اس اقبال کا میں بھی ویسا ہی دیوانہ ہوں جیسے تم۔‘‘


میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا

گہرا ہے میرے بحر خیالات کا پانی

مجھ کو یہ تمنا ہے کہ اقبال کو دیکھوں

کی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانی

اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے

کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے


…=…

زندگی کی آخری شب علامہ اقبالؒ کے لیے شدید کرب ناک تھی، ایسے میں ڈاکٹر ضمیر سنگھ اور کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش کی سرکردگی میں ڈاکٹروں کے بورڈ نے دواؤں کے ساتھ ساتھ یہ بھی تجویز کیا کہ اگر کمر کا درد بڑھ جائے تو انہیں ٹیکہ لگایا جائے۔ رات کے پچھلے پہر جب علامہ درد کی شدت سے بےحال ہوگئے تو میاں شفیع نے علامہ سے ٹیکہ لگوانے کی درخواست کی، مگر علامہ اقبالؒ نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے ایسا کرنے سے منع فرمادیا، تاہم جب میاں شفیع کے اصرار میں اضافہ ہوا تو علامہ نے فرمایا ’’میں ٹیکہ نہیں لگواؤں گا، اس ٹیکے میں افیون ہے، میں بے ہوشی کی حالت مرنا نہیں چاہتا، میں موت کا سامنا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس مکالمے کے تھوڑی دیر بعد جب کہ فضا اذانِ فجر سے گونج رہی تھی، علامہ اقبالؒ نے اپنی جان اس حالت میں جانِ آفرین کے سپرد کی کہ آپ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی، اور آپ اپنے ہی درج ذیل شعر کی عملی تصویر بنے ہوئے تھے۔


نشان مردِ مومن بہ تو گویم

چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست


(میں تجھے مرد مومن کی پہچان بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب اسے موت آتی ہے تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجی ہوتی ہے۔)

علامہ اقبالؒ سے سچی محبت کا تقاضہ ہے کہ ان کی فکر ہی نہیں ان کے عمل کو بھی مشعل راہ بنایا جائے ۔