عشق و محبت…! علی معین نوازش

بھارت میں میڈیا، ان کے سیاستدان اور آرمی آفیسرز کھلے عام یہ بات کہتے نہیں تھکتے کہ پاکستان کو سبق سکھانا ہے، ہمیں پاکستان کی آرمی کو کمزور کرنا ہے اور اس کا طریقہ بھی وہ بغیر کسی لگی لپٹی کے میڈیا پر بتا رہے ہوتے ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ روایتی جنگ نہیں لڑ سکتے، ہمیں غیر روایتی طریقوں سے پاکستان کو سبق سکھانا ہے، پاکستان میں خون بہانا ہے اور اس کے لیے پاکستان کے خلاف اس کے اپنے لوگوں کو استعمال کرنا ہے۔

بھارت اس کے لیے مختلف طریقے اپنا رہا ہے۔ سب سے پہلا طریقہ جھوٹا پروپیگنڈہ ہے، جو عالمی سطح پر بھی کرتا ہے اور اپنے میڈیا کو استعمال کرکے، خود اپنے لوگوں کو، اپنے عوام کو گمراہ کرکے انہیں یہ باور کراتا ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت ایسا کیوں کر رہا ہے۔ اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ بھارت کے سیاسی لیڈر ایک بیانیہ تشکیل دے کر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ دوسرا، بھارت اپنی اندرونی غلطیوں، ناکامیوں اور خلفشار کو پاکستان کے سر تھوپنا چاہتا ہے، مثلاً کشمیر میں مسلمان حقِ خود ارادیت کے لیے اپنی جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کے لیے عظیم قربانیاں دے رہے ہیں۔

بھارت کے ہاتھ سے مقبوضہ کشمیر نکل رہا ہے اور وہ کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے، وہاں بھارت دنیا اور اپنے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد تو محض ایک وجہ ہے، اس کے علاوہ اس وقت بھارت میں بہت ساری علیحدگی کی تحریکیں سلگ رہی ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت آج تک اُس حسد اور کینہ پروری کی آگ میں جل رہا ہے کہ پاکستان کی شکل میں ہم نے ایک علیحدہ ملک حاصل کیا اور اب ہم نہ صرف ایٹمی طاقت ہیں بلکہ بھارت کی ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ بھارت ہماری کرکٹ یا دیگر کھیلوں کی ٹیموں کی جیت کو بھی حسد کی نظر سے دیکھتا ہے اور جب بھی اسے یہ خوف ہوتا ہے کہ پاکستان جیت جائے گا، وہ مختلف حیلوں اور سازشوں کے ذریعے ہماری راہ کی رکاوٹ بنتا ہے۔ کبھی ہمارے کھلاڑیوں کو ویزے جاری نہیں کیے جاتے، کبھی امپائروں کے ساتھ ٹیکنیکل طریقوں سے سازباز کرکے ہمارے کھلاڑیوں کو پیچھے کر دیا جاتا

ہے۔ پھر بھارت مختلف طریقوں سے ہمیں معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ ہمارا پانی بند کرکے ہمیں ریگستان میں بدلنے کی سازش بھی بھارت نے کر رکھی ہے، افغانستان میں بیٹھ کر دہشت گردوں کو پاکستان میں کارروائیوں کے لیے تیار کرتا ہے، کلبھوشن نامی انڈین جاسوس جو اس وقت پاکستان کی حراست میں ہے، نے بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ اس نے کون کون سے دھماکے کرائے، خاص طور پر بلوچستان اور کراچی میں بدامنی اور قتل و غارت گری کے لیے اس کو کیا کیا ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ پاکستان کے خلاف بھارت کے جرائم کی لمبی فہرست ہے لیکن چونکہ وہ دشمن ہے، اس لئے بھارت کی ان کارروائیوں کی اتنی تکلیف نہیں ہوتی لیکن جب اپنے ہی کوئی ایسی کارروائی کرتے ہیں، جس سے بھارت خوش ہوتا ہے تو اس کی تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات معصوم لوگ غیر ارادی طور پر بھی ایسا کر گزرتے ہیں لیکن جوش میں اُن کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔

گزشتہ دنوں میں نے عشق رسولﷺ میں پاکستانیوں کا جو جنون دیکھا، وہ قابلِ تعریف تھا۔ یقیناً یہ عشق ہمارے اور ہمارے ملک کے لیے ایک خزانہ ہے اور اس خزانے کو دیکھ کر میرا یہ یقین اور بھی پختہ ہو گیا ہے کہ اگر کبھی دشمن نے ہمارے ملک کے خلاف جارحیت کی تو یہ لوگ اپنے اس پیارے ملک‘ جو دین کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے لیکن ہمارے اس جذبے اور قربانی کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کو کچھ ایسے لوگ‘ جو پس پردہ کسی اور کے لیے کام کر رہے ہیں، اپنے مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

میں قطعاً کسی مخصوص طبقے کی طرف اشارہ نہیں کر رہا لیکن سوشل میڈیا پر جلتی پر تیل ڈال کر جذبات بھڑکانے کا کام کرنے والوں نے ایسے مقاصد کے لیے خوب کام کیا ہے۔ اس لئے ہمیں اور خاص طور پر ہمارے نوجوانوں جو چاہے تعلیمی اداروں ، مدرسوں میں پڑھتے ہوں یا کاروبار اور کھیت و کھلیانوں میں کام کرتے ہیں اور جو ہمارا مستقبل ہیں،کو جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا ہو گا۔ کسی بھی مسئلے پر احتجاج کو نجی یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے جبکہ حکومت بھی اپنے اس خزانے کی قدر کرکے ان کی غلطیوں پر سزا کا ڈنڈا اٹھانے کے بجائے انہیں اپنا بنانے کی پالیسی بنائے اور اپنائے۔ مجھے یقین ہے کہ عشق و محبت کا یہ جذبہ ہمارے ملک کے فائدے میں استعمال ہو گا…!!