وہ صبح کبھی تو آئے گی۔۔۔ ڈاکٹر صفدر محمود

اس کے لہجے میںتلخی بھی تھی اور پژمردگی بھی۔ میں خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ جو بھی کہہ رہا تھا وہ سچ تھا اور اس کا اظہار وطن کی محبت سے پھوٹ رہا تھا۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اورکہنے لگا ’’ڈاکٹر صاحب! تم دعائیں مانگتے ہو کہ تمہارے پیارے وطن میں خوشحالی آئے، بیروزگاری ختم ہو، غربت پر قابو پایاجائے، معاشرے میں امن، رواداری اور احترام کے پھول کھلیں، قانون کاراج ہو اور کرپشن کاگلا گھونٹ دیا جائے لیکن تم ذرا خود ہی سوچو کہ ہمارے وطن میں یہ سب کچھ کیسے ممکن ہے؟ تم جو خواب دیکھتے ہو وہ غیرحقیقی ہیں اور وہ تمہاری زندگی میںشرمندہ ٔ تعبیر نہیںہوں گے۔

تم ہر نئے حکمران سے امیدیں لگا کر صبح نو کے طلوع کا انتظارکرنے لگتے ہو لیکن وہ روشن صبح طلوع ہوتی ہے نہ تمہاری توقعات ختم ہوتی ہیں ۔میں تم سے زیادہ حقیقت پسند تھا چنانچہ میں بیس برس قبل کینیڈا منتقل ہو گیا۔ تم امیدوں اور خوابوں کادامن تھامے بڑھاپے کی وادی میں داخل ہوچکے ہو لیکن ابھی تک تمہارے خواب بھٹک رہے ہیں۔ تم خود ہی بتائو کہ خوشحالی کیسے آئے؟ تمہارے ملک سے تو سرمایہ بھاگ رہا ہے۔ کتنے ہی ٹیکسٹائل ملوں والے اپنی فیکٹریاں لےکر بنگلہ دیش چلے گئے ہیں۔ وہی بنگلہ دیش، جو کبھی مشرقی پاکستان ہوتا تھا اور ماہرین معیشت اسے ’’غربت کا پیالہ‘‘ کہتے تھے۔

وہی مشرقی پاکستان جسے تمہارے حکمران طبقوں نے بوجھ سمجھ کر نجات حاصل کرلی۔ آج وہی بنگلہ دیش صنعت، برآمدات، تعلیم، بیرونی سرمایہ کاری حتیٰ کہ ہر شعبے میں تم سے آگے ہے لیکن پاکستان کے حکمران طبقے اپنے مفادات کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ جتنے رئوسا اور دولت مند پاکستان میں بستے ہیں ان کے عشرعشیر بھی بنگلہ دیش میں نہیں لیکن بنگالیوں کی فی کس آمدنی تم سے زیادہ ہے ۔ کبھی سوچا آپ نے کہ بنگالی آزاد ہوکر آپ سے آگے کیوں نکل گئے؟سمجھنے کی بات یہ ہے کہ خوشحالی آسمان سے نہیں اترتی اور نہ ہی دوست ملکوں کی مدد سے جنم لیتی ہے۔ دوست تمہیں قرضے اور امداد دے سکتے ہیں لیکن نہ امداد کبھی خوشحالی کا ذریعہ بنی ہے اور نہ قرضے سرمایہ کاری یا صنعت کاری یا ترقی لا سکتے ہیں۔ بیروزگاری اور غربت معاشی خوشحالی سے ہی دور ہوتی ہے اورمعاشی خوشحالی ملک میں امن، استحکام، انصاف اور قانون کی حکمرانی مانگتی ہے۔ جس ملک میں امن دہشت گردوں نے یرغمال بنارکھا ہو اور وہ دہشت گرد سرحدوں کے باہر بھی موجود ہوں اور ملک کے اندربھی، اس ملک میں امن ہمیشہ بے یقینی کا شکار رہتا ہے۔

جب امن و استحکام بے یقینی کی نوک پرکھڑے ہوں اور کسی لمحے بھی ملک میں لاقانونیت کےسمندربہنے کا امکان ہو، اس ملک میں بیرونی سرمایہ کار آتا ہے نہ صنعت ترقی پاسکتی ہے۔جس معاشرے میں انتہا پسند کسی وقت بھی قانون کو پامال کرکے پورے ملک پرلاقانونیت نافذ کرسکتے ہوں وہاں سرمایہ نموپاتا ہے نہ سرمایہ باہر سے آتا ہے۔ لوڈشیڈنگ،گیس کی قلت، تربیت یافتہ لیبر کی قلت اور دوسرے اسی طرح کے مسائل برداشت کئے جاسکتے ہیں لیکن بدامنی، لاقانونیت اور ملک کے اندر موجود دہشت گردوں یا انتہاپسندوںکا خوف برداشت نہیں ہوتا اور یہی معاشی خوشحالی کے سب سے بڑے دشمن ہوتے ہیں۔

بلاشبہ بیرونی سرمایہ کاری کے راستے میں کرپشن ایک بڑی رکاوٹ ہوتی ہے لیکن سرمایہ کار جیب گرم کرنے کاعادی ہوتا ہے۔ سرمایہ کار اس کے عوض محض امن و استحکام اور قانون کی عملداری مانگتا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور مغرب میں معاشی استحکام و خوشحالی کافی حد تک امن و استحکام اور قانون کی حکمرانی کا ثمر ہے۔ تم اس ملک میں معاشی خوشحالی اور پرامن زندگی کا خواب دیکھ رہے ہو جہاں ایک عدالتی فیصلے کے خلاف چند ہزار حضرات سڑکوںپر آ کر سارے ملک کویرغمال بنا لیتے ہیں۔ ذرا سی شہہ پا کر اور اشتعال کا فائدہ اٹھا کر ان کی صفوں میں فسادی عناصرگھس آتے ہیں اور اکثر مقامات پر وہ قیادت کو اپنے ہاتھوںمیں لے لیتے ہیں۔

یوںلگتا ہے کہ جیسے ملک میں لاکھوں حضرات محض اس موقع کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ ان کو موقع ملے تو وہ لوٹ مار کا بازار گرم کردیں، سڑکوں، شاہراہوں اور شہروںکوبند کرکے نہ صرف اپنے خوابیدہ غصے کی آگ ٹھنڈی کریں بلکہ چند دنوں کے لئے من مانی اور حکمرانی کے مزے بھی لیں۔ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور مسلمانوںکاملک ہے۔ ہر مسلمان حرمت رسولﷺ پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ اور آرزو رکھتاہے لیکن تمہارے ملک میں ہم نے عجب منظر دیکھا۔ مسلمان ایک دوسرے کو مار رہے تھے، عاشقان رسولﷺ دوسرے عاشقان رسولﷺ کے ٹھیلے، ریڑھیاں، دکانیں لوٹ رہے تھے، ان کی سائیکل، موٹرسائیکل اور مزدوری کے اوزار جلارہے تھے، ہزاروں عاشقان رسولﷺ معصوم بچوںکے ساتھ سڑکوں پر قیدی بنے ہوئے تھے اور ان کےمعصوم بچے دودھ، کھانے اور پانی کو ترس رہے تھے، سڑکوں پر ججوں، جرنیلوںاور حکمرانوں کو نہ صرف مغلظات بکی جارہی تھیں بلکہ ان کی تصاویر کی بے حرمتی کرکے اپنے جذبوںکی تسکین کی جارہی تھی۔ تین دن تک ریاست میں حکومت موجود تھی بھی لیکن موجود نہیں بھی تھی، شہریوںکو تحفظ دینے والے ادارے بھی موجود تھے لیکن موجود نہیں بھی تھے۔

آئین اور قانون بھی موجود تھا لیکن لاقانونیت آخری حدوں کو چھورہی تھی اور ’’تخت الٹ دو‘‘ کے نعرے لگا کر آئین کا مذاق اڑایا جارہا تھا حتیٰ کہ نوبت ایں جا رسید کہ فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر کو بھی سرزنش کا پیغام دینا پڑا۔ فیض آباد کے کامیاب دھرنے کےبعد ان تین دنوں کے دھرنوںنے نہ صرف حکومتی گرفت، قانون کی حکمرانی اور پاکستان کے سطحی امن کا راز فاش کردیا بلکہ پوری دنیا میں یہ تاثر بھی پھیلا دیاہے کہ یہاں جب چاہیں چند ہزار لوگ پورے ملک کو یرغمال بناسکتے ہیں۔

ڈاکٹرصاحب! ان حالات میں معاشی خوشحالی اورغربت میں کمی کاخواب کیسے پورا ہوسکتا ہے؟ ‘‘سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس میرے دوست کی باتوںکا کوئی جواب نہیں تھا لیکن کیاکروں کہ مجھے اپنے خواب اب بھی عزیزہیں۔ میں اب بھی امیدوںکا چمن سجائے بیٹھا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ صبح ضرور طلوع ہوگی جس کے لئے لاکھوںلوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس ملک کی بنیادوں میں شہیدوں کا خون ہے اور شہیدوںکا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔