افسران کے چنائوکافرسودہ نظام- ڈاکٹر عبدالقدیر خان

30 ؍اکتوبرکے روزنامہ دی نیوز (پاکستان کا ہردل عزیز روزنامہ) میں ہمارے ہونہار، دانشور بیرسٹر سید علی ظفر کا ایک نہایت ہی دلچسپ کالم بعنوان Ultracrepidarian شائع ہوا ہے۔ یہ ان کی ذہانت و معلومات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ آپ جانتے ہیں بیرسٹر سید علی ظفر سپریم کورٹ بار کے صدر اور عبوری دور میں وزیر قانون و اطلاعات وغیرہ رہ چکے ہیں۔ ان کی کارکردگی پر کبھی انگلی نہیں اُٹھائی گئی۔ انھوں نے جو مضمون لکھا ہے اس میں یونان کے ایک تصویر نگار Appeles اور ایک موچی Simon کا ذکر کیا ہے۔ اپیلیس بہت اعلیٰ پینٹر تھا اور اپنی تصاویر بازار میں لٹکاکر ان کے بارےمیں لوگوں کے تاثرات سنا کرتا تھا۔

ایک روز سائمن موچی آیا اور تصویر پر تنقید شروع کی کہ اس تصویر میں جو چپل ہے اس کے تسمے ٹھیک نہیں ہیں ایسے ہونے چاہئیں۔ شومیٔ قسمت سے اس نے چپل کے بعد تصویر میں ٹانگوں پر تنقید شروع کردی۔ اَپیلیس کو غصّہ آگیا اور اس نے غصّہ سے سائمن موچی سے کہا کہ چمار کو چپل کے علاوہ کسی اور حصّہ پر تنقید کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس مثال سے انھوں نے ہماری ملکی سیاست پر بہت پیارا تبصرہ کیا ہے کہ جمہوریت کے نام پر نااہل، ناتجربہ کار، کم تعلیم یافتہ لوگ قومی اسمبلی کے ممبر بن جاتے ہیںاور وزیر اعظم قانون کے تحت ان ہی میں سے وزراء چنتے ہیں جبکہ ان کی کارکردگی زیرو ہوتی ہے اور جلد ہی سب پر عیاں ہوجاتی ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے صدارتی انتظام کی خامی کا بھی ذکر کیا ہے کہ اگر یہ نظام نافذ کیا گیا تو صرف پنجاب کا نمائندہ ہی صدر بن سکے گا۔ اس میں گنجائش ہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو یا خان عبدالقیوم جیسے لیڈر سامنے آئے تو وہ یقیناً الیکشن جیت سکتے ہیں۔ دوسری کمزوری جمہوری نظام کی جانب پہلے ہی بیرسٹر سید علی ظفر نے بتادی ہے کہ کم تجربہ کار، کم تعلیم یافتہ لوگ اقرباپروری کے ذریعے وزیر بن جائیں گے اور ملک کو نقصان پہنچائیں گے۔ بیرسٹر علی ظفر نے ہماری توجہ ہماری بیوروکریسی کی جانب بھی مبذول کرائی ہے۔ میں نے اپنے کئی کالموں میں اس موضوع پر لکھا ہے اور خطوط میں حکمرانوں کی توجہ اس موضوع پر دلائی ہے کہ ہمارے سول سروس نظام یعنی افسران کاچنائو نہایت ناقص، بوسیدہ اور ناکارہ ہے۔

آپ نے اس ملک میں بعض وزیروں کو تو نااہل اور ناتجربہ کار دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں لیکن یہاں معمولی سا بی ۔اے پاس کسی نہ کسی طرح CSP افسر بن جاتا ہے خواہ وہ اردو، فارسی وغیرہ سے ہی کیوں نہ ہو اور گھومتے پھرتے وہ سائنس و ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، پانی و بجلی وغیرہ کا سیکریٹری بن جاتا ہے۔ اگر وزیر صاحب بھی میٹرک یا ایف اے ہوں اور سیکریٹری صاحب کی تعلیم و تجربہ بھی اتنا ہی ہو تو آپ ان کی کارکردگی اور ملک کی قسمت پر سر دھن کر روتے رہیں۔ میں نے پچھلی حکومت کو بار بار پیشکش کی کہ میں یہ نظام بہت اچھی طرح قائم کرسکتا ہوں مگربعض حکمراں جاہل، وفادار خادم چاہتے ہیں، اعلیٰ تعلیم یافتہ، باعزّت، غیرت مند لوگ، افسران سے ان کو نفرت ہے ۔ ابھی موجودہ حکومت کی کارکردگی اور محترم جناب چیف جسٹس آف پاکستان کے فوراً اقدامات اس کی نمایاں مثال ہیں۔

دیکھئے ترقی یافتہ ممالک میں بھی وزراء ہر فن میں ماہر نہیں ہوتے مگر ان کی منسٹری کا پورا اسٹاف ماہرین پر مبنی ہوتا ہے اور وہ قومی ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں یہ مصیبت ہے کہ وزیر بھی نااہل اور سیکرٹری بھی نااہل، ملک کا پھر وہی حال ہونا ہے جو ہے۔ وزیر اعظم کو چاہئے اس معاملہ کو صحیح طور پر حل کرنے کے لئے ہر منسٹری میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، تجربہ کار مشیر یا کنسلٹنٹ لگا دیں کہ کام ٹھیک سے چلتا رہے اور خود بھی گاہے گاہے ان مشیروں کو الگ الگ بلا کر حالات سے آگاہی حاصل کرتے رہیں۔ اس سے نظام حکومت میں بہتری آئے گی۔ مگر بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ حکمراں چاہے وہ کتنا ہی ناتجربہ کار ہو یا کاہل ہو وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے اور مشورہ لینا اپنی ہتک سمجھتا ہے۔ آج سے ہزار سال پہلے خلافت کے دور میں نظام الملک طوسی وزیر اعظم ہوتا تھا اس نے ایک نہایت اعلیٰ کتاب سیاست نامہ کے نام سے لکھی تھی اس میں اس نے نصیحت کی تھی کہ ’’دوسرے لوگوں سے مشورہ کرنا (حکمراں کی) عقلمندی کا ثبوت ہے چند لوگ بہت مفید مشورہ دے سکتے ہیں کہ ان کو تجربہ اوران کےپاس علم ہوتا ہے‘‘۔

31جولائی2017کو ہمارے نہایت قابل، عقل و فہم کے حامل، تجربہ کار فارن سیکریٹری نے ایک انگریزی روزنامے میں ایک تعزیتی کالم ایرانی مشہور ریاضی داں مریم مرزا خانی پر لکھا تھا۔ وہ ایک نہایت عقلمند (genius) خاتون تھیں اور انہوں نے فیلڈز پرائز جو کہ ریاضی میں نوبیل پرائز کے برابر ہوتا ہے تقریباً 36 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا وہ ایران کی تعلیم یافتہ تھیں اور انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے Ph.D. کی تھی اور 40 سال کی عمر میں کینسر سے فوت ہوگئی تھیں۔ انھوں نے 1979میںڈاکٹر آئی ایچ عثمانی سے نیویارک میں ملاقات کی تھی۔ یہ ڈاکٹر عثمانی ایٹمی کمیشن کے چیئرمین رہ چکے تھے اور انہوں نے سخت شکایت کی کہ ہمارے جاہل حکمرانوں اور بیوروکریسی نے ان کو ری پروسیسنگ پلانٹ خریدنے سے منع کردیا تھا۔

بہرحال کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ ہمارے ملک میں ذہین اور ماہر لوگوں کی کمی نہیں ہے صرف مسئلہ حکمرانوں کی نااہلی کا ہے کہ وہ ان کی خدمات سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور ملک کو آہستہ آہستہ مگر یقینی طور پر تباہی کے گھڑے میں دھکیل رہے ہیں۔ کاش یہ حضرت عمرؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے نظام حکومت اور نظام الملک طوسی کی نصیحت پر ہی عمل کرکے ملک کو تباہی سے بچالیں۔ قوم دُعائیں کرتی ہے اُمید کرتی ہے کہ حالات ٹھیک ہوجائیں گے مگر حالات کہہ رہے ہیں بُرا یہ بھی دور ہے۔

(نوٹ) معزز جج صاحبان سے درخواست ہے کہ وہ اتنے معمولی سے الزام؍جرم میں اساتذہ کو قید کرنے یا ریمانڈ پر نہ بھیجیں۔ یہ ہم سب کے بچوں کے استاد ہیں اگر ان سے غلطی ہوتی ہے تو ان سے وہ رقم واپس لے لیںیا حکومت سے معاف کرالیں۔ اگر ان کو رقم واپس کرنا پڑی تو میں عوام سے بھیک مانگ کر ادا کردونگا۔ مہلت دیدیں۔