بدوی قبائل کی مدینہ آمد! حافظ محمد ادریس

بنواسد بن خزیمہ 9ہجری میں آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بنو اسد کا ایک اور قریبی قبیلہ بنوفزارہ بھی اسی دور میں مدینہ طیبہ میں خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوا۔ واقدی کے مطابق بنو اسد کے وفد میں دس افراد تھے۔ ان کی قیادت حضرمی بن عامر کرر ہاتھا۔ ان میں ضرار بن ازور‘ وابصہ بن معبد‘ طلیحہ بن خویلد‘ نقادہ بن عبداللہ بن خلف‘ قتادہ بن القایف‘ سلمہ بن حبیش وغیرہ شامل تھے۔ طلیحہ بن خویلد نے آنحضورﷺ کی حیات طیبہ ہی کے دوران نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا‘ لیکن صحابہؓ نے اس کا مردانہ وار مقابلہ کیا‘ کئی جنگیں ہوئیں اور بالآخر اس نے ہتھیار ڈال دئیے۔ ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ہی ارتداد سے تائب ہوا اور پھر اسلام میں داخل ہوگیا اور بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا۔ توبہ کی دوبارہ توفیق اور دوبارہ قبول اسلام کی سعادت نے طلیحہ کی زندگی کا رنگ ہی بدل دیا۔ باقی ماندہ زندگی میدان جہاد میں گزاری۔ اللہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہی کی راہ پر چھوڑ دے۔ ہدایت اسی کو ملتی ہے جس کے اندر انابت ہو اور یہ بھی اللہ ہی کی توفیق سے حاصل ہوتی ہے۔(طبقات ابن سعد‘ج1‘ص293-292)

ان لوگوں کی طرف نبی اکرم ﷺکا کوئی دعوتی وفد نہیں گیا تھا۔ ان لوگوں نے مدینہ میں آکر یہ کہا کہ ہم تو خود آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں۔ آپ نے تو نہ ہماری طرف کوئی فوج بھیجی اور نہ ہی دعوتی وفد۔ گویا یہ اپنی آمد اور اسلام کی طرف مائل ہونے کو بطور احسان جتلارہے تھے۔ اس پر آنحضورﷺ نے تو کچھ نہیں فرمایا‘ مگر اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا جواب دیا:
''یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ان سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو‘ بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی؛ اگر تم واقعی اپنے (دعوائے ایمان میں) سچے ہو‘‘ (الحجرات)۔

اس قبیلے کی مختلف شاخوں میں سے ایک کانام بنو الزنیہ تھا۔ جب آپ کے سامنے اس نام کا تذکرہ ہوا تو آپ نے اپنے معمول کے مطابق اس نام کو بدل دیا۔ آپ ہمیشہ منفی یا مذموم معنی کے حامل ناموں کو مثبت‘ بامعنی اور پسندیدہ ناموں سے بدل دیا کرتے تھے۔ ان کو آپ نے فرمایا: تم بنو رشدہ ہو ‘یعنی ہدایت یافتہ لوگوں کی اولاد ہو۔ یہ لوگ اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔ اس وفد میں سے ایک فرد حضرت نقادہ بن عبداللہ بن خلفؓ سے نبی اکرم ﷺ نے کہا کہ تم لوگ اونٹوں کے مالک اور ان کی اچھائیوں سے واقف ہو۔ کیا تم مجھے کوئی ایسی اونٹنی ہدیۃً دے سکتے ہو جو سواری کے لیے بھی بہترین ہو اور دودھ بھی بہت دیتی ہو‘ مگر اس کے ساتھ اس کا بچہ نہ ہو۔ اس نے کہا: یارسول اللہ! میں تلاش کرتا ہوں۔

تلاش بسیار کے بعد بھی ایسی اونٹنی نہ ملی‘ مگر اس کے ایک چچا زاد بھائی کے پاس ایسی اونٹنی تھی۔ جب اس نے آنحضورﷺ کی خواہش اس کے سامنے پیش کی ‘تو اس نے اپنی اونٹنی بلا جھجک پیش کردی۔ یہ صحابی‘ آنحضورﷺ کی خدمت میں اونٹنی لے کر آئے تو آپ نے کہا: اس کا دودھ نکالو۔ انہوں نے ایک برتن میں دودھ نکالا۔ آپ نے خود بھی پیا اور جو بچا ہوا تھا ‘وہ ان کو دیا۔ آپ نے اونٹنی واپس کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ اس اونٹنی میں برکت دے اور جس نے یہ اونٹنی عطا کی اسے بھی برکت سے مالا مال فرما۔ اس پر حضرت نقادہ نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ وفیمن جاء بہا تو آپ نے فرمایا: وفیمن جاء بہا‘ یعنی انہوں نے عرض کیا تھا کہ جو اس کو لے کر آیا ہے‘ اس کے لیے بھی برکت کی دعا فرمائیے تو آپ نے ان کے لیے بھی برکت کی دعا فرما ئی۔ (البدایۃ والنھایۃ‘ امام ابن کثیر‘ المجلد الاول‘ مطبوعہ دارِ ابن حزم‘ بیروت‘ الطبعۃالاولیٰ 2005ئ‘ ص955)

حضرت ضرار بن ازورؓ اور ان کی بہن خولہ بنت ازورؓ نے حضرت عمرؓ کے دور میں بڑے جہادی معرکوں میں حصہ لیا اور بہادری کے کارنامے تاریخ میں ثبت کیے۔ حضرت ضرارؓ قبول اسلام سے پہلے بہت مال دار تھے۔ ان کے پاس ایک ہزار اونٹ تھے۔ قبول اسلام کے بعد انہوں نے اپنا بیش تر مال اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے عام عربوں کی طرح وہ شراب نوشی میں بھی مبتلا تھے۔ آنحضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے فرمایا: ''میں نے بادہ نوشی ترک کردی ہے اور ظروفِ ناؤ نوش وبادہ توڑ ڈالے ہیں۔میں اس ذات کا مطیعِ فرمان ہوگیا ہوں‘جو بہت بلند شان والی ہے۔اس کی عظمت کی کوئی انتہا نہیں۔میں نے اپنا پورا زور [دورِ جاہلیت میں] اہل اسلام سے جنگ وجدال میں لگا دیاتھا۔ اے میرے رب! اب میں نے تیری راہ میں اپنی جان‘ مال اور تمام اہل وعیال کو فروخت کردیا ہے۔ پس اے میرے مالک! میری اس تجارت کو کبھی گھاٹے میں مبتلا نہ کرنا‘‘۔(ترجمہ: عربی اشعار)

نبی اکرم ﷺحضرت ضرار کے اشعار سن کر خوش ہوئے اور فرمایا: تیری تجارت نفع بخش ہے‘ اس میں گھاٹے کا کوئی خطرہ نہیں۔ بنواسد کے علاوہ دوسرا قبیلہ جو9ہجری میں مدینہ آکر داخل اسلام ہوا‘ بنوفزارہ تھا۔ ان دونوں قبائل کی مدینہ آمد کے درمیان چند دنوں کا وقفہ تھا۔ مورخین کے مطابق نبی اکرم ﷺ جب تبوک سے واپس تشریف لائے‘ تو آپ کی خدمت میں بنی فزارہ کا وفد حاضر ہوا۔ یہ دس سے زیادہ افراد پر مشتمل تھا۔ اس وفد میں خارجہ بن حصن‘ حارث بن قیس بن حصن شامل تھے‘ جو چچا بھتیجا تھے۔ حارث وفد کا سب سے چھوٹا رکن تھا۔ یہ جن سواریوں پر سوار ہو کر آئے وہ بہت لاغر تھیں۔ انہوں نے آنحضورﷺ سے ملتے ہی اپنے اسلام اور ایمان کا تذکرہ کیا۔ آپ نے محبت واپنائیت سے ان کے قبیلے اور علاقے کے متعلق سوال کیا تو ارکان وفد میں سے ایک نے کہا: یارسول اللہ‘ بہت شدید قحط نے ہمیں آلیا‘ بارشیں رک گئیں‘ کھیت وباغات خشک ہوگئے ہیں‘ مویشی ہلاک ہوگئے ہیں اور ہمارا پورا قبیلہ اور ہمارے اہل وعیال تباہی کی زد میں ہیں‘ پس ہمارے لیے دعا کیجیے(فَادْعُ اللّٰہَ لَنَا)۔

آنحضورﷺنے ان کی اپنی حالت بھی دیکھی تھی اور ان کی سواریوں پر بھی نظر پڑی تھی‘ جو قحط کی وجہ سے کمزور اور نڈھال تھیں۔ پس آپؐ اسی وقت منبر پر تشریف لے گئے اور یہ دعا فرمائی:
اَللّٰہُمَّ اَسْقِ عِبَادَکَ وَبِھَائِمَکَ وَاَنْشُرْ رَحْمَتَکَ وَاَحْیِ بَلْدَکَ الْمَیّت‘ اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیْثًا مَرِیْئًا مَرِیْعًا طِبْقًا وَاسِعًا عَاجِلًا غَیْرَ اٰجِلٍ نَافِعًا غَیْرَ ضَارٍ‘ اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا سُقْیَا رَحْمَۃٍ وَلَا سُقْیَا عَذَابٍ‘ وَلَا ہَدْمٍ‘ وَلَا غَرْقٍ‘ وَلَا مُحِقٍّ‘ اَللّٰہُمَّ اسْقِنَا الْغَیْثَ وَانْصُرْنَا عَلَی الْاَعْدَائِ۔ اے اللہ اپنے بندوں اور اپنے چوپائیوں کو سیراب فرمادیجیے‘ اپنی رحمت کو عام کردیجیے‘ اپنے مردہ ملک کو زندگی عطافرمادیجیے۔ اے اللہ ہمیں بارانِ رحمت سے سیراب فرمادے‘ ایسی بارش جو ہمہ گیر اور وسیع ہو‘ خوش گوار اور تازگی بخشنے والی ہو‘ جو جلدی نازل ہو‘ تاخیر سے نہ آئے‘ جو باران رحمت بن کر نفع دے اور کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ اے اللہ ہمیں وہ بارانِ رحمت عطا فرما‘ جو باعث عذاب نہ ہو‘ نہ درودیوار گرانے والی ہو‘ نہ ڈبو دینے والی ہو اور نہ تباہی پھیلانے والی ہو۔ اے اللہ ہمیں بارش سے خوب سیراب کردے اور دشمنوں کے مقابلے میں نصرت وفتح عطا فرما۔ (سنن ابوداؤد‘ حدیث5945‘ براویت حضرت عبداللہ بن عمروبن عاصؓ)

مورخین ومحدثین بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فوراً بارش برسا دی اور چھ دنوں تک لوگوں کو آسمان نظر نہ آیا۔ ظاہر ہے کہ رسولِ رحمتﷺ کی ہر دعا قبولیت کا درجہ پایا کرتی تھی۔ جب بارش ضرورت سے زیادہ ہونے لگی تو آنحضورﷺ پھر منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ سے دعا کی:
اَللّٰہُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا‘ اَللّٰہُمَّ عَلَی الْاَکَامَ وَالظِّرَابِ وَبُطُوْنِ الْاَوْدِیَۃِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ۔ یعنی اے اللہ!ہمارے اردگرد بارش کو لے جا‘ ہم سے اسے روک دے‘ ٹیلوں اور پہاڑوں ‘ پتھروں اور چٹانوں‘ وادیوں کے نشیب وفراز اور جنگلات میں اسے منتقل کردے۔ (متفق علیہ)
یہ دعا آنحضورﷺ نے ختم کی ہی تھی کہ مدینہ منورہ اور گردونواح کے علاقے سے بادل پھٹ کر یوں غائب ہوئے جس طرح پرانا کپڑا پھٹ جاتا ہے‘ یعنی آسمان بالکل صاف ہوگیا۔ (البدایۃ والنھایۃ‘ امام ابن کثیر‘ المجلد الاول‘ مطبوعہ دارِ ابن حزم‘ بیروت‘ الطبعۃ الاولیٰ2005ئ‘ ص956‘ اُسدالغابۃ‘ اُردو ترجمہ‘ مکتبہ خلیل‘ ج1‘ ص590-591)