ہار گیا اسلامی جمہوریہ پاکستان - شاہنواز فاروقی

پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک پہلو یہ ہے کہ آپ پاکستان کے حکمرانوں سے، پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے، پاکستان کی سیاسی اشرافیہ سے، پاکستان کے عدالتی نظام سے، پاکستان کے ابلاغی اداروں سے ایک دل دہلا دینے والا اندیشہ وابستہ کرتے ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اندیشہ حقیقت بن کر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

یہ تقریباً ایک ماہ پہلے کی بات ہے کہ ہم نے فرائیڈے اسپیشل میں ’’بھارت کا جنسی ایٹمی دھماکہ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھے گئے اپنے کالم میں عرض کیا تھا کہ مغرب نے بھارت میں ہم جنس پرستی کو ’’قانونی‘‘ قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ کو استعمال کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے آئین میں موجود بعض اسلامی دفعات مغرب، بھارت اور خود بنگلہ دیش کے سیکولر اور لبرل لوگوں کے لیے قابلِ قبول نہ تھیں، چنانچہ بنگلہ دیش میں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے آئین کو اسلامی دفعات سے ’’پاک‘‘ کردیا گیا۔ اس کے بعد ہم نے لکھا تھا: ’’اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی بھی مسلم معاشرے میں کسی بھی ادارے کا ایک حد سے زیادہ مضبوط ہونا اسلام، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کے لیے خطرناک ہے۔ کیا کوئی ان باتوں کو سن رہا ہے اور سمجھ رہا ہے؟‘‘ (فرائیڈے اسپیشل۔ 5 تا 11 اکتوبر 2018ء۔ صفحہ24)

بدقسمتی سے ہمارا کہا صرف ایک ماہ میں درست ثابت ہوکر سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے توہینِ رسالتؐ کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والی ملعونہ آسیہ بی بی کی سزائے موت ختم کرکے اسے رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور سپریم کورٹ کی تاریخ کے تاریک دنوں میں سے ایک دن ہے۔ اس لیے کہ ملعونہ آسیہ کو ماتحت عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ ملعونہ نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی، مگر لاہور ہائی کورٹ نے اس کی اپیل کو مسترد کرکے اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔

ان فیصلوں کی اہم بات یہ تھی کہ ملعونہ آسیہ نے اعترافِ جرم کرلیا تھا اور وہ معافی کی خواستگار تھی۔تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے 8 اکتوبر 2018ء کے روز ملعونہ آسیہ کی اپیل کی صرف تین گھنٹے تک سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا۔ محفوظ فیصلہ 31 اکتوبر 2018ء کے روز جاری کردیا گیا ہے۔ انصاف کے پانچ تقاضے ہیں۔ ایک یہ کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، نظر بھی آنا چاہیے۔ مگر ملعونہ آسیہ کے مقدمے میں انصاف ہوا تو ہے مگر کہیں نظر نہیں آرہا۔

انصاف کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اسے ’’تکنیکی‘‘ ہونا چاہیے، مگر آسیہ کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تکنیکی نہیں ’’سیاسی‘‘ دکھائی دے رہا ہے۔ ایسا کیوں نظر آرہا ہے، اس کا ذکر اور تجزیہ آگے آرہا ہے۔ انصاف کا ایک تقاضا یہ ہے کہ انصاف کے عمل کو درکار وقت یا Due Time ملنا چاہیے، مگر سپریم کورٹ نے توہینِ رسالت کے اہم ترین اور حساس ترین مقدمے کی سماعت صرف تین گھنٹے کی اور 9سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔

انصاف کا ایک تقاضا یہ ہے کہ انصاف خود کو انصاف ثابت کرنے کے لیے عدالتی عمل کے تقاضے پورے کرے۔ مثال کے طور پر اہم اور حساس مقدمے میں سپریم کورٹ لارجر بینچ قائم کرتی ہے۔ یعنی مقدمے کی سماعت پانچ یا سات جج کرتے ہیں، مگر ملعونہ آسیہ کا کیس صرف تین ججوں کے بینچ نے سنا اور تین گھنٹے میں فیصلہ دے دیا۔ انصاف کا ایک تقاضا یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ انصاف کرنے والوں کی روحانی، اخلاقی اور عملی حالت کیسی ہے؟ کیا وہ انصاف کے منصب پر فائز ہونے اور فیصلہ کرنے کا اخلاقی حق بھی رکھتے ہیں؟

ملعونہ آسیہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ 31 اکتوبر 2018ء کے روز سامنے آیا ہے، مگر اس مقدمے کا فیصلہ آج سے 8 ماہ قبل کہیں اور ہوچکا تھا۔ کیسے، آئیے دیکھتے ہیں۔ روزنامہ جسارت کے صفحۂ اول پر 8 ماہ قبل پانچ کالمی سرخی کے ساتھ ایک خبر شائع ہوئی تھی۔ اُس وقت ملک میں میاں نوازشریف کی حکومت تھی۔ جسارت کی خبر کی سرخیاں یہ تھیں:
٭ جی ایس پی پلس سہولت/ پاکستان آسیہ بی بی کی سزا ختم اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دے۔ یورپی یونین
٭ اسلام آباد کو توہینِ رسالت کیس میں آسیہ کو رہا کرنا ہوگا۔
٭جان بوجھ کر کیس کو التوا میں رکھا ہوا ہے۔
٭چیف جسٹس کیس کو جلد نمٹانے کا عندیہ دے چکے ہیں، نمائندہ یورپی یونین
٭ پاکستان کی کارکردگی بہتر ہے پھر بھی امریکی دبائو کا سامنا ہے، احسن اقبال

اب آپ جسارت کی پوری خبر ملاحظہ کرلیجیے۔ ’’یورپی یونین نے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی تجدید کے لیے آسیہ بی بی کی سزا ختم کرنے، مذہبی آزادی کو یقینی بنانے اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دینا لازمی قرار دیا ہے۔ یورپی یونین کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے نمائندے جان فیجل کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تجدید کے لیے ملک میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کرانی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ توہینِ رسالت کیس میں سزائے موت کی منتظر آسیہ بی بی کو رہا کرنا ہوگا۔ جی ایس پی پلس کا مطلب ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو یورپی ممالک میں ٹیکس فری ہونے کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس کی وجہ سے یورپی ممالک کے اندر پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان 2013ء سے اب تک اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ سال 2016ء میں جی ایس پی پلس کی وجہ سے پاکستان نے 6 ارب یورو سے زیادہ کمائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس کی سہولت ختم کردی جائے تو اسے معاشی نقصان کا سامنا ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جان بوجھ کر عدالتِ عظمیٰ میں آسیہ بی بی کی اپیل کو ٹال رہا ہے جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثار بارہا اپنی تقاریر میں کیس کو جلد نمٹانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ جی ایس پی پلس کے لیے پاکستان کو جنیوا کنونشن کے تحت اقوام متحدہ کی شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔‘‘
(روزنامہ جسارت۔25 فروری 2018ء۔ صفحہ اول)

بعض لوگوں کو گمان گزر سکتا ہے کہ مذکورہ بالا خبر صرف جسارت میں شائع ہوئی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ Daily Times میں 5 مئی 2018ء کو شائع ہونے والے کلیم دین کے مضمون میں بھی وہی بات کہی گئی ہے جو جسارت کی خبر میں موجود ہے۔ کلیم دین لکھتے ہیں:
In any situation, whether her appeal is allowed or not, the case will have serious implications on the political, religious as well as economic fronts of the country. Last year, the EU was seriously considering equating Asia’s release with the renewal of GSP-plus status, which was later granted but Pakistan had to face a tough opposition during the final review. The Christian Union Party, which compaingns for Asia Bibi, opposed the resolution, also to protest against Pakistani blasphemy laws; Italy’s ancient Colosseum was lit red, and Asia Bibi was the central theme of the protest.

ترجمہ: ’’آسیہ کی اپیل قبول کی جاتی ہے یا نہیں، اس کے بہرحال سیاسی، مذہبی اور معاشی مضمرات ہیں۔ گزشتہ سال یورپی یونین نے سنجیدگی کے ساتھ اس بات پر غور کیا کہ آسیہ کی رہائی کو جی ایس پی پلس کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ پاکستان کو فی الحال جی ایس پی پلس دے دیا گیا ہے مگر حتمی جائزے میں اس حوالے سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کرسچن یونین پارٹی نے جو کہ آسیہ کی رہائی کے لیے کام کررہی ہے، پاکستان کو جی ایس پی پلس دینے کی مخالفت کی ہے۔ یہ جماعت پاکستان میں توہینِ رسالتؐ کے قوانین کے خلاف احتجاج کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ اٹلی کے قدیم کلوسیئم کو آسیہ بی بی کے حوالے سے سرخ روشنیوں سے منور کیا گیا ہے اور آسیہ بی بی اس موقع پر ہونے والے احتجاج کا محور تھیں۔‘‘

ان حقائق کو دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت ہار گئی ہے اور پاکستان کے حکمران طبقے کے سیاسی و معاشی مفادات فتح یاب ہوگئے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ملعونہ آسیہ سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ اپنی اصل میں سیاسی و معاشی فیصلہ ہے، عدالتی انصاف نہیں۔ یہ فیصلہ آٹھ ماہ قبل بھی آسکتا تھا اور آٹھ ماہ بعد بھی۔ اصل مسئلہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی رائے اور سازگار حالات کی دستیابی کا تھا۔ گزشتہ آٹھ ماہ پر نظر ڈالی جائے تو اس عرصے میں جسٹس ثاقب نثار اور سپریم کورٹ کی ’’امیج سازی‘‘ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان کو معمولی انسانوں کے سانچے سے نکال کر دیو قامت لوگوں کے سانچے میں ڈال کر نکالا گیا ہے۔ اس عمل سے بالشتیے دیو قامت انسان نظر آنے لگے ہیں۔ یہاں تک کہ اس سلسلے میں گیلپ کو بھی استعمال کیا گیا ہے جس کے ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار ملک میں کتنے زیادہ مقبول ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار،جسٹس کھوسہ اورجسٹس مظہر عالم پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ملعونہ آسیہ کی رہائی کا جو فیصلہ کیا ہے وہ 57 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس فیصلے کا آغاز کلمہ طیبہ سے کیا گیا ہے۔ عام حالات میں یہ ایک اچھی بات تصور کی جاتی، مگر جس دبائو اور جن مفادات کے تحت ملعونہ آسیہ کو رہا کیا گیا ہے انہیں دیکھا جائے تو کلمہ طیبہ سے فیصلے کا آغاز تین رکنی بینچ کے دلوں کا چور بن کر سامنے آیا ہے۔ آخر ایک مسلم ملک کے مسلمان ججوں کو اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ وہ قوم کو یہ بتائیں کہ وہ کتنے مسلمان ہیں؟ چیف جسٹس ثاقب نثار کا فیصلہ قرآن پاک اور احادیثِ مبارکہ سے آراستہ ہے۔ فیصلے میں اقبال کو پاکستان کا روحانی باپ قرار دیتے ہوئے ان کا یہ شعر بھی پیش کیا گیا ہے ؎
کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

ان حقائق کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ قرآن و حدیث اور فکرِ اقبال کے بڑے پرستار اور قائل ہیں اور انہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’وفا‘‘ کا بڑا پاس ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ وہ اسلام کی روحانی و اخلاقی اقدار کے بھی ترجمان اور پاسدار ہیں۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اصل صورت ِحال کیا ہے؟

روزنامہ ایکسپریس کراچی کی صفحہ اوّل کی خبر کے مطابق چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار نے کراچی میں لاپتا افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے لاپتا افراد کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے فرمایا: اللہ کرے تمام لاپتا افراد زندہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ لاپتا افراد کو میری ایجنسیوں نے نہیں اٹھایا ہوگا۔ کوئی حادثہ ہوگیا تو گھر والوں کو بتادیں، انہیں صبر آجائے گا۔ (روزنامہ ایکسپریس۔ 25 جون 2018ء۔ صفحہ اول)

سوال یہ ہے کہ لاپتا افراد کو ملک کی ایجنسیوں نے نہیں اٹھایا تو کیا سی آئی اے، را یا ایم آئی۔6 نے اٹھایا ہے؟ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت یا مطالبے پر ملک کے خفیہ ادارے چند لاپتا افراد کو سپریم کورٹ کے روبرو پیش کرچکے ہیں۔ پیش کیے جانے والے لاپتا افراد میں سے کئی، ہڈیوںکا ڈھانچہ بنے ہوئے تھے مگر چیف جسٹس صاحب فرما رہے ہیں کہ لاپتا افراد کو ملک کی ایجنسیوں نے نہیں اٹھایا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو چیف جسٹس کا اپنے ہی بیان کی روشنی میں جھوٹا ہونا ثابت ہے۔

جھوٹ کا مسئلہ یہ ہے کہ قرآن ہر مسلمان کو ہر قیمت پر سچ بولنے کی ہدایت کرتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن میں ہر خرابی ہوسکتی ہے مگر مومن جھوٹ نہیں بولتا۔ اسلام کے عدالتی نظام ہی کا نہیں ’’کافرانہ نظام‘‘ کا بھی مسئلہ یہ ہے کہ عدالت جھوٹے شخص کی گواہی قبول نہیں کرتی، چنانچہ سوال یہ ہے کہ جھوٹا شخص عدالت میں گواہ نہیں بن سکتا تو جج کیسے بن سکتا ہے؟ اور جج بن جائے تو اس کا فیصلہ درست کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ اس سوال کا جواب علماء، دانش وروں، سیاست دانوں، صحافیوں، ججوں، وکیلوں اور خود چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار پر بھی واجب ہے۔

عدالتی نظام میں ججوں کی اخلاقی ساکھ ہی سب کچھ ہوتی ہے، چنانچہ آیئے جسٹس ثاقب نثار صاحب کی اخلاقی حالت کا بھی خود انہی کے ایک بیان اور فیصلے کی روشنی میں جائزہ لے لیتے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس کراچی کی ایک خبر یہ ہے: ’’سپریم کورٹ نے ٹی وی چینلز پر غیر ملکی مواد دکھانے سے متعلق ہائی کورٹ کا حکم معطل کرتے ہوئے بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ’’بند کریں یہ بھارتی مواد دکھانا، جو ہمارا پانی بند کررہا ہے ہم اس کے چینلز بھی بند نہ کریں!‘‘ (روزنامہ ایکسپریس۔ 28 اکتوبر 2018ء۔ صفحہ 8)

چیف جسٹس نے بھارتی چینلز یا بھارت کے تفریحی مواد پر پابندی عاید کی، بہت اچھا کیا۔ مگر ان کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ بھارت ہمارا پانی بند کررہا ہے تو ہم اس کے چینلز بند کردیں گے۔ یہ دلیل بھی اپنی جگہ اہم ہے، اس لیے کہ اس دلیل میں ایک قسم کی حب الوطنی موجود ہے۔ مگر بھارتی چینلز اور ان کا مواد صرف ہماری حب الوطنی کے لیے ہی خطرناک نہیں، بلکہ ہماری روحانی، اخلاقی، تہذیبی، علمی اور ثقافتی زندگی کے لیے بھی خطرناک ہے۔ کیا ملعونہ آسیہ کی رہائی کے فیصلے میں قرآن و حدیث کو کوٹ کرنے والے جسٹس ثاقب نثار کو معلوم نہیں کہ قرآن وحدیث عریانی و فحاشی کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ آخر ایسا کیوں ہے کہ جسٹس ثاقب نثار کو ایک جگہ قرآن و حدیث یاد ہیں اور دوسری جگہ بالکل یاد نہیں۔ آخر جسٹس ثاقب نثار کو بھارتی چینلز سے ہماری روحانی، اخلاقی اور تہذیبی زندگی کا قتلِ عام کبھی نظر کیوں نہیں آیا۔ آتا تو وہ اس قتلِ عام کو روکتے۔ اب یہ بھی سن لیجیے کہ بھارتی چینلز کے بند ہونے سے کیا ہورہا ہے۔ پہلے کیبل پر جہاں بھارتی فلمیں چل رہی تھیں اب وہاں پاکستانی فلمیں چل رہی ہیں۔

بدقسمتی سے بھارتی فلمیں ہماری روحانیت اور اخلاقیات کے لیے جتنی خطرناک ہیں، پاکستانی فلمیں بھی اتنی ہی خطرناک ہیں۔ چنانچہ جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے سے صورتِ حال یہ بنی ہے کہ بھارتی عریانی و فحاشی مُردہ باد اور پاکستانی فحاشی و عریانی زندہ باد۔ قوم جسٹس ثاقب نثار سے یہ بھی پوچھ رہی ہے کہ آپ نے حب الوطنی کے جذبے کے تحت ہی سہی، بھارتی چینلز پر پابندی لگائی تو آپ کی حب الوطنی اتنی دیر سے کیوں جاگی؟ بھارت گزشتہ سات آٹھ سال سے ہمارا پانی روک رہا ہے، چنانچہ جسٹس صاحب کے ’’معیارِ حب الوطنی‘‘ کے اعتبار سے بھارتی چینلز پر سات آٹھ سال پہلے پابندی لگائی جانی چاہیے تھی۔ بہرحال ان حقائق سے صاف ظاہر ہے کہ ملعونہ آسیہ کو رہا کرنے والے تین ججوں کے پاس سپریم کورٹ کا جج ہونے کی اہلیت ہی نہیں۔

چلیے تسلیم کرلیا کہ جسٹس ثاقب نثار ان کے ساتھی جسٹس کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم کو ملعونہ آسیہ کے حوالے سے قرآن و حدیث، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اقبال کی فکر یاد آئی ہے، چنانچہ اب ان کا فرض ہے کہ وہ ملک میں قرآن و سنت کو بالادست بنانے کے لیے جدوجہد کریں۔ قرآن کہتا ہے کہ سود اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ ہے، چنانچہ جسٹس ثاقب نثار،جسٹس کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا ازخود نوٹس لیں کہ پاکستان کے حکمران ملک پر سودی نظام کو مسلط کیے ہوئے ہیں، اور جس طرح انہوں نے تین گھنٹے کی سماعت کے بعد آسیہ کو رہا کیا ہے اسی طرح وہ تین گھنٹے کی سماعت کے بعد ملک سے سودی نظام کے خاتمے کا فیصلہ سنائیں۔ قرآن حدود اللہ کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے، چنانچہ جسٹس ثاقب نثار،جسٹس کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم کا فرض ہے کہ وہ کل سے پورے ملک میں حدود کے نفاذ کا فیصلہ کریں۔ اس کے لیے بھی صرف تین گھنٹے کی سماعت کافی ہے۔

ملک کا تعلیمی نظام غیر اسلامی بھی ہے، نو آبادیاتی بھی۔ چنانچہ جسٹس ثاقب نثار ،جسٹس کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم ازخود نوٹس کے تحت اس مسئلے کو بھی حل کریں۔ اس کے لیے بھی صرف تین گھنٹے کی سماعت کافی ہونی چاہیے۔ ملک کے ابلاغی نظام پر غیر روحانی اور غیر اخلاقی مواد کے دریا بہہ رہے ہیں۔ فلمیں ہوں یا ڈرامے، موسیقی ہو یا اشتہار، ہر جگہ عورت کا جسم فروخت کیا جارہا ہے۔ ہر جگہ قرآن و سنت کے اصولوں اور فکرِ اقبال کی کھلی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ اس سلسلے میں بھی ازخود نوٹس کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے اور مقدمہ صرف تین گھنٹے میں فیصل ہوسکتا ہے۔ اگر جسٹس ثاقب نثار ،جسٹس کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم یہ سب نہیں کرسکتے تو آسیہ کے کیس میں قرآن و حدیث اور فکرِ اقبال کے حوالے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں۔

وطنِ عزیز میں عدلیہ کی تاریخ بھی پوری قوم کے سامنے ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں نے ایک دو نہیں، چار فوجی آمروں کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے آگے سر جھکایا ہے۔ ان کے غیر آئینی احکامات اور اقدامات کو تحفظ مہیا کیا ہے۔ ملک کا آئین معطل کرنا غداری ہے، مگر سپریم کورٹ نے غداری کو ’’وفاداری‘‘ باور کرایا ہے۔ سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا، حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ انہیں قتل کے مقدمے میں سزا ہوتی بھی تو پانچ سات سال کی سزائے قید ہوتی۔ سپریم کورٹ نے جنرل اسلم بیگ کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں ماخوذ کیا اور ثابت کیا کہ توہینِ عدالت ہوئی ہے، مگر اسلم بیگ کو سزا نہ سنائی۔ فرمایا: جنرل اسلم بیگ کی عدالت میں حاضری ہی ان کی سزا ہے۔

طیارہ سازش کیس میں نوازشریف کو سزا ہوئی مگر جنرل پرویز اور نوازشریف کے درمیان سعودی عرب نے معاہدہ کرادیا، اور نوازشریف سپریم کورٹ کے فیصلے کا مذاق اڑاتے ہوئے سعودی عرب فرار ہوگئے۔

یہ حقائق بتا رہے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان دھونس اور دبائو کے تحت فیصلے کرنے کی طویل تاریخ رکھتی ہے۔ ایسی سپریم کورٹ سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ توہینِ رسالتؐ کے مقدمے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ یا امریکہ اور یورپ کے دبائو کے تحت نہیں کرے گی! اس سلسلے میں خود اسٹیبلشمنٹ کی تاریخ بھی شرمناک ہے۔ ہمارے جرنیلوں نے گزشتہ پچاس سال میں ہمیشہ امریکہ اور یورپ کے جوتے چاٹے ہیں۔

ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی مذہب، کوئی اخلاق، کوئی تہذیب، کوئی تاریخ، کوئی قوم اور کوئی ملک ہی نہیں۔ ان کے شخصی، گروہی اور اداراتی مفادات ہی ان کا خدا ہیں۔ امریکہ اور یورپ جو کچھ کہتے ہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ وہی کچھ کرتی ہے۔ امریکہ کہتا ہے سیٹو اور سینٹو میں آجائو، تو اسٹیبلشمنٹ سیٹو اور سینٹو میں چلی جاتی ہے۔ امریکہ کہتا ہے جہاد کرو، تو جنرل دل لگا کر جہاد کرنے لگتے ہیں۔ امریکہ کہتا ہے جہاد کو چھوڑ دو اور جہادیوں کو مارو، تو اسٹیبلشمنٹ جہاد کی دشمن اور جہادیوں کی جان کے درپے ہوجاتی ہے۔ امریکہ کہتا ہے مارشل لا لگائو، تو مارشل لا لگ جاتا ہے۔ امریکہ کہتا ہے جمہوریت بحال کرو، تو جمہوریت بحال ہوجاتی ہے۔

ریمنڈ ڈیوس کا مقدمہ حال ہی کی بات ہے۔ ریمنڈ ڈیوس دو لوگوں کا قاتل تھا مگر اسے فرار کرا دیا گیا۔ ریمنڈ ڈیوس جس دن رہا ہوا آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا کلرک کی طرح عدالت میں بیٹھے ہوئے سی آئی اے کے سربراہ کو موبائل سے ’’پیغامات‘‘ ارسال کررہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ عدالت میں اب کیا ہورہا ہے۔ شکیل آفریدی پاکستان کا غدار ہے مگر ہمارے وزیر خارجہ نے حال ہی میں فرمایا ہے کہ شکیل آفریدی پر سودے بازی ہوسکتی ہے۔ یہ بات وہ اسٹیبلشمنٹ کی ہدایت اور مرضی کے بغیر کہہ ہی نہیں سکتے۔

جنرل اسد درانی آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سابق سربراہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان دشمن بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ ایس اے دولت کے ساتھ مل کر ’’اسپائی کرونیکلز‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں ایک پورا باب ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کے نام سے شامل فرمایا۔ اس باب میں را کے سابق سربراہ نے کہا کہ اکھنڈ بھارت ایک Fantasy ہے، مگر جنرل درانی نے کہا کہ نہیں اکھنڈ بھارت ایک حقیقت ہے۔ ان کے بقول شہبازشریف بھارتی پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کے ساتھ گریٹر پنجاب کو ممکن بناکر اکھنڈ بھارت کی جانب بڑھ رہے تھے۔ چونکہ اس سلسلے میں نوازشریف نے ایک بیان دے دیا تھا اس لیے اسد درانی کو جی ایچ کیو بلایا گیا اور ان کا نام ای سی ایل میں بھی ڈالا گیا، مگر اب تک ایک غدار جنرل کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔

ایسی ذہنیت توہینِ رسالتؐ پر امریکہ اور یورپ کے دبائو میں آکر کوئی بھی فیصلہ کرسکتی ہے اور عدلیہ سے کروا سکتی ہے۔

کہنے کو ملعونہ آسیہ کھیتوں میں کام کرنے والی ایک ’’مزدور عورت‘‘ ہے، مگر اُس کی طاقت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ جب اسے ماتحت عدالت اور بعد ازاں ہائی کورٹ سے سزا ہوئی تو اُس وقت کے پوپ بینی ڈکٹ شش دہم نے آسیہ کی رہائی کے لیے مہم بھی چلائی اور اس کے لیے دبائو بھی استعمال کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آسیہ بھی توہینِ رسالتؐ کی مرتکب تھی اور خود پوپ بینی ڈکٹ بھی توہینِ رسالتؐ کے عادی مجرم تھے۔

چنانچہ انہوں نے ستمبر 2006ء میں University of Regenevurg میں Faith, Reason and the University کے موضوع پرخطاب کرتے ہوئے 14 ویں صدی کے بازنطینی عیسائی بادشاہ مینول دوئم کا ایک قول دہرایا۔ مینول دوئم نے کہا تھا: ’’مجھے دکھائو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا نیا لائے تھے۔ وہ جو کچھ لائے شیطانی اور غیر انسانی تھا جیسا کہ ان کے احکامات اور وہ عقیدہ جس کی انہوں نے تبلیغ کی۔‘‘

اہم بات یہ ہے کہ موجودہ پوپ فرانسس بھی آسیہ کے پرستار ہیں اور وہ اس کی رہائی کے لیے مہم چلائے ہوئے ہیں۔ آخر ایک محنت کش عورت میں عیسائی دنیا کی سب سے بڑی روحانی شخصیات کو اس کے سوا کیا دلچسپی ہوسکتی ہے کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی مرتکب ہوئی ہے! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین مغرب کا پرانا روحانی مرض ہے جسے ہمارے زمانے تک آتے آتے مغرب نے ایک ’’کھیل‘‘ بنا دیا ہے۔ مسلمانوں کو یا تو معلوم نہیں یا یاد نہیں کہ دو سو سال تک جاری رہنے والی صلیبی جنگیں کیوں شروع ہوئی تھیں؟

اس کا سبب یہ تھا کہ اُس وقت کے پوپ اربن دوئم نے کہا تھا کہ اسلام ایک شیطانی مذہب ہے اور میرے دل پر یہ بات القا کی گئی ہے کہ اس شیطانی مذہب اور اس کے ماننے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ پوپ اربن نے یہ بات 1095ء میں کہی تھی، اور 1099ء میں تمام یورپی اقوام ایک صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہوئیں اور مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا۔ ملعونہ آسیہ اسی ذہنیت کا تسلسل ہے اور اسی لیے پورا مغرب اُس کی رہائی کے لیے کام کررہا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور خود سپریم کورٹ توہینِ اسلام اور توہین رسالت کی طویل تاریخ رکھنے والے مغرب کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے اور اس نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

کتنی عجیب بات ہے کہ سپریم کورٹ نے ملعونہ آسیہ کی رہائی کا فیصلہ کیا اور حکم جاری کیا کہ اس پر ذرائع ابلاغ میں کوئی تبصرہ نہیں ہوگا۔ مگر کیوں؟ جب سپریم کورٹ کےتین رکنی بینچ نے انصاف کے تقاضے پورے کیے ہیں تو پھر مقدمے کے فیصلے پر گفتگو سے لوگوں کو کیوں روکا گیا؟ اب فیصلہ ہوا ہے اور اس پر ایک”چھوٹا سا گروہ“احتجاج کررہا ہے تو ذرائع ابلاغ کو احتجاج کی کوریج سے روک دیا گیا ہے۔ آخر کیوں؟

کیا عدالتوں کے فیصلوں پر احتجاج نہیں ہوتا؟ کیا جرائم پیشہ نوازشریف نے سیاسی بنیادوں پر سپریم کورٹ اور خود اسٹیبلشمنٹ کی دھجیاں نہیں اڑائیں؟ یہ تو توہینِ رسالتؐ کا مسئلہ ہے، اس پر جو کچھ ہوجائے، کم ہے۔ مگر احتجاج کی کوریج پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔ یہ صورتِ حال بھی یہی بتا رہی ہے کہ دال میں کالا ہے بلکہ شاید پوری دال ہی کالی ہے۔ شنید ہے کہ عمران خان قوم سے خطاب کرنے والے ہیں، مگر اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی مہرہ ایک بڑے روحانی، تہذیبی اور اخلاقی مسئلے پر کیا کلام کرے گا؟ اور وہ جو کچھ کہے گا اس کی وقعت کیا ہوگی؟

ہمیں اپنے کالموں میں مذہبی طبقات سے یہ کہتے ہوئے مدتیں گزر گئیں کہ مغرب کے سیکولرازم، لبرل ازم اور مغرب کی پیدا کردہ جدیدیت کا دبائو مسلم معاشروں پر بڑھتا جا رہا ہے، میاں نوازشریف نے دن دہاڑے ختمِ نبوت کے تصور پر حملہ کیا اور اگر اسٹیبلشمنٹ سے اُن کی لڑائی نہ ہوتی تو اس حملے کو روکنا تقریباً ناممکن ہوتا۔

نوازشریف ہی کے دور میں اقوام متحدہ کی جانب سے زنا بالرضا کو قابلِ قبول قرار دینے کا مطالبہ ہوا اور اس مطالبے پر شریف حکومت نے قابلِ غور لکھنا ضروری سمجھا۔ میاں صاحب نے جدیدیت کے دبائو کے تحت ملک کی ایک یونیورسٹی کے ایک شعبے کو قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کیا۔ عمران خان اقتدار میں آئے تو انہیں سب سے پہلا کام یہ سوجھا تھا کہ انہوں نے ایک قادیانی کو اپنا اقتصادی مشیر مقرر کرلیا۔ اسی اثناء میں بھارت کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی اور زنا بالرضا کو قانونی قرار دے ڈالا۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ مرض آج نہیں تو کل ہماری طرف بھی آئے گا۔ فی الحال جدیدیت کے دبائو کی صورت یہ ہے کہ مغرب نے اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک کے اندر توہینِ رسالتؐ کی حوصلہ افزائی کی راہ ہموار کردی ہے۔

یہ ابتدا ہے۔ اسلام پر پہلے بڑے حملے کو معاشرے نے قبول کرلیا تو مغرب اور اس کے مقامی آلۂ کار اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی تاریخ، اسلامی سماجیات اور اسلامی تناظر کو دبانے، کچلنے اور مٹانے کے لیے تیزی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ ہمیں اس بات پر رتی برابر بھی حیرت نہیں کہ سپریم کورٹ کے ملعونہ آسیہ سے متعلق فیصلے کا سب سے پہلے خیرمقدم کرنے والوں میں ریما عمر سرفہرست ہیں۔ یہ وہی ریما عمر ہیں جنہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ڈان کراچی کی 23 ستمبر 2018ء کی اشاعت میں ایک پورے صفحے کا مضمون تحریر کیا اور پاکستان سمیت دولتِ مشترکہ کے تمام رکن ممالک کی اعلیٰ عدالتوں کو مشورہ دیا کہ آگے بڑھو اور وہی کچھ کرو جو بھارت کی سپریم کورٹ نے کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ملعونہ آسیہ کو ملک سے فرار کرانے کے لیے کارروائی شروع ہوچکی ہے، حالانکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف Review کی گنجائش اور امکان ابھی تک موجود ہے۔ اس سے بھی یہی ظاہر ہورہا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے، طے شدہ منصوبے کے تحت ہورہا ہے۔

قوموں کی تاریخ میں ایسے مراحل کم آتے ہیں جب کوئی مسئلہ پوری قوم کو Define کرتا ہے۔ اس کے باطن، اس کی اصل حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ مغرب اور اس کے مقامی آلۂ کاروں نے ملعونہ آسیہ کو رہا کراکے پوری قوم کو ایسے ہی ایک مرحلے سے دوچار کردیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات میں سے کون رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے تحفظ کی ذمے داری اٹھاتا ہے، اور کون کونے کھدروں میں چھپ کر اپنی آخرت خراب کرتا ہے۔

پوپ بینی ڈکٹ شش دہم نے توہینِ رسالتؐ کی تھی تو کراچی میں شاعروں، ادیبوں کے جلوس سے خطاب کرتے ہوئے معروف شاعر جمیل الدین عالی نے ایک اہم بات کہی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا دفاع اتنی بڑی چیز ہے کہ اگر اس مسئلے پر عالمی جنگ بھی چھڑ جائے تو وہ معمولی بات ہوگی۔ اقبال بہت پہلے ایک بہت ہی اہم پیغام دے کر جا چکے ہیں۔ انہوں نے فرمایا ہے؎
اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے
تُو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی

اس مشورے کی روشنی میں کسی حکومت، کسی سپریم کورٹ اور کسی اسٹیبلشمنٹ کی اوقات ہی کیا ہے؟