مولوی متشدد پر ہی غصہ کیوں - محمد حسان

عام افراد مظاہرین پر غصہ کر رہے ہیں۔ سڑکیں بند، جلاؤ گھیراؤ، یہ کون سا عشق رسول ہے اور کہاں کی عاشقی۔ مولویوں نے بیڑا غرق کر کے رکھ دیا سارے ملک کا۔
اب آسیہ کیس پر ڈسکشن سے زیادہ اس سے ملتی جلتی باتیں اور تبصرے زور پکڑنے لگے ہیں۔

تو گزارش ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم تازہ صورتحال سے اس قدر گھبرا جاتے ہیں کہ اپنے معاشرے کی بنیادی حرکیات و جزئیات پر ٹھنڈے دل سے غور ہی نہیں کر پاتے۔ معاملہ صرف مولویوں کی تشدد پسندی کا نہیں ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے۔

آپ کو کیوں یاد نہیں کہ بےنظیر بھٹو کے قتل پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے اپنے غم و غصہ اور اشتعال کا کیسا مظاہرہ کیا تھا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ہنگامہ آرائی میں 44 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں گاڑیوں، سرکاری اور نجی املاک کو نذرآتش کردیا گیا۔ صرف محکمہ ریلوے کو 12 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ ریلوے سگنل اور مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا۔ اندرون سندھ مشتعل لوگوں نے کم سے کم 7 ریلوے اسٹیشنوں کو نذر آتش کیا، کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی ڈیڑھ سو بسوں اور منی بسوں کو نذر آتش کیا گیا جبکہ ٹرک اور ٹریلر اس سے علیحدہ ہیں۔ دیکھ لیا حال پاکستان کی سب سے لبرل اور سیکولر پارٹی کا۔

زیادہ دور نہ جائیں۔ قریبی زمانہ تو یاد ہوگا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 2014ء میں تحریک انصاف کے اسلام آباد کے مرکز ڈی چوک پر پارلیمنٹ کے سامنے 126 دن تک دھرنے کے سبب معیشت کو 547 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق اس دھرنے کے سبب پاکستانی روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں زیادہ رقم ادا کرنا پڑی اور منفی تاثر کے سبب سٹاک مارکیٹ میں بھی مندی سے 319 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ دھرنے کے سبب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی 35 کروڑ 76 لاکھ روپے دیے گئے جبکہ تاجر برادری نے بلیو ایریا کے کاروباری مراکز بند ہونے کے سبب 10 ارب روپے کے نقصان کا دعویٰ کیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن، سول نافرمانی اور ملک بند کرنے کے اعلانات ورکرز نے نہیں، لبرل، تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ قیادت کی جانب سے کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   عدالتی فیصلہ اور عوامی فیصلہ - حافظ یوسف سراج

تو جناب ثابت ہوا کہ جلاؤگھیراؤ کرنا صرف مولویوں کا نہیں بلکہ ہمارے سماج کا عمومی رویہ ہے۔ یہ جہالت تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹوپی اور شلوار قمیض میں ڈنڈا اٹھائے مولوی بدتہذیب اور ٹی شرٹ جیز کے ساتھ ڈنڈا اٹھائے نوجوان کیوٹ اور جدوجہد کا استعارہ لگتا ہے۔ لبرلز اور سیکولر ز پارٹیوں کے ورکرز اشتعال انگیزی اور ہٹ دھرمی میں عموماً مولویوں سے چار ہاتھ آگے ہیں رہتے ہیں۔

باقی عشق رسول ﷺ کی چنگاری میں سلگتے عاشقوں سے یہی درخواست ہے کہ وہ املاک کو اپنی چنگاریوں سے نہ سلگائیں۔ ا س جاہلانہ اقدام سے دین کا چہرہ مسخ ہوتا ہے، اور لوگ دین اور مولوی سے ہی بدظن ہونے لگتے ہیں۔ اپنے کاز پر فوکس کریں، پرامن احتجاج حق ہے اسے احسن اور مؤثر انداز سے بروئے کار لائیں۔