اندھیرے میں روشنی - سجاد سلیم

موجودہ بحران، جو آسیہ بی بی کی سزا سے شروع ہوا، اس میں ایک اچھی بات یہ سامنے آئی کہ اپوزیشن جماعتوں نےکسی بھی قسم کے پر تشدد احتجاج کی حمایت نہیں کی۔ جیسا کہ پچھلے دور حکومت میں تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کرتی رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اس وقت ایک انتہائی تقسیم شدہ (Polarized) صورتحال کا سامنا ہے، جس میں یا آپ کافر ہیں، یا غدار، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔لیکن زندہ قومیں ہمیشہ بحرانوں سے سیکھتی ہیں، وہی تحریک انصاف جو کل تک خود پی ٹی وی پر حملہ کرتی رہی، بلکہ اس کے وزراء تو کچھ دن پہلے تک یہ کہتے رہے، کہ اپوزیشن احتجاج کرے وہ کنٹینر دینے کو تیار ہیں۔ آج عوام سے پرامن رہنے اور پرتشدد احتجاج نہ کرنے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ آج وہ خود یہ کہہ رہے ہیں، کہ بےلگام احتجاج معیشت کو تباہ کرتا ہے۔ج مہوریت کی یہی خوبصورتی ہے، کہ سیاسی لیڈروں کی اپنی کی ہوئی باتیں ہی ان کے سامنے آتی ہیں، اور پھر سب اس سے سیکھتے ہیں۔

جیسے جیسے ہمارے ملک میں جمہوریت مزید مضبوط ہو گی۔ ان شاء اللہ، ہمارے سطحی اختلافات، جو ابھی بہت بڑے لگتے ہیں، کم ہوتے جائیں گے اور ہم متحد ہوتے جائیں گے، اور پاکستان ترقی کی منزلیں طے کرے گا۔

جہاں تک آسیہ بی بی کی سزا کا تعلق ہے، تو اس پر بھی ایک تقسیم شدہ رائے ہے، ظاہر ہے ہماری عدالتوں کی ساکھ اتنی خراب ہے، کہ کوئی بھی ان کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں، ان کے اپنے فیصلوں میں ہی بے شمار تضادات پائے جاتے ہیں۔ آپ حدیبیہ کیس کی ہی مثال لے لیں۔ پہلے سپریم کورٹ نے خود اسے کھولنے کا کہا، پھر خود ہی اسے بند کرنے کا کہہ دیا۔ محترم جج صاحبان نے آسیہ بی بی کیس میں جس طرح شک کا فائدہ، آسیہ بی بی کو دیا ہےاس کا موازنہ آپ پانامہ کیس سے کر لیں، تو آپ کو لگے گا، کہ دونوں فیصلے دو مختلف سیاروں کے ججوں نے دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا فیصلہ میرٹ پر ہوا؟ ضیاء کاظمی ایڈووکیٹ

یہ بالکل صحیح وقت ہے کہ ہم اپنے عدالتی نظام میں اصلاح کریں، اور موجودہ چیف جسٹس صاحب کو بھی چاہیے کہ صورتحال کا ادراک کریں اور اپنے کام پر توجہ دیں۔ انتظامیہ کے کام میں مداخلت بند کر دیں اورعدالتوں کے اپنے فیصلوں میں کم از کم ہم آہنگی ہی پیدا کر دیں۔ نچلی عدالتوں سے لیکر ، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک ، مختلف فیصلوں کے لیے اصول وضع کریں۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ ججوں کی تقرری خود کرے۔ جج بننے کے امیدواروں کو امریکہ کی طرح پارلیمنٹ میں بلائیں انکو مختلف صورتحال دیں اور ان سے پوچھیں کہ ان الگ الگ صورتحالوں میں کیا فیصلے کریں گے۔ اس طرح سے صرف ان ججوں کا انتخاب کریں، جو ایک جیسے اصولوں کے کے مطابق فیصلے کریں۔ نا کہ ججوں کے اپنے فیصلوں میں مشرق اور مغرب کا فرق ہو۔

امریکہ میں سالانہ اوسطاً تقریباً دس ہزار مقدمات سپریم کورٹ میں آتے ہیں، سپریم کورٹ کے ججز ان سب کیسوں کا بغور مطالعہ کرتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف تقریباً اسی (80) کیسوں کی دوبارہ سماعت کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ اور ہمارے ججوں کو آپ دیکھ لیں، ابھی مقدمات کے فیصلے نچلی کورٹس سے بھی نہیں ہوتے، یہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں بلا لیتے ہیں اور انصاف کا تماشا بناتے ہیں۔

آج ہمیں بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہے، کہ ہم نے اپنے بدترین سے بدترین اختلافات کو بھی مذاکرات اور خوش اسلوبی سے حل کرنا ہے۔ ایک دوسرے کو سنیں، ایک دوسرے کو سمجھیں۔بجائے اسکے کہ سنی نائی باتوں پر ایک دوسرے سے لڑنے کو دوڑیں، خود تحقیق کریں۔ جس لیڈر کو آپ پسند کرتے ہیں، اسکی بات کو بھی اسی چھلنی سے گزاریں، جس سے آپ مخالف لیڈر کی بات کو گزارتے ہیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے پاکستان کی قسمت میں ہمیشہ کے لیے پستی نہیں لکھی گئی، بلکہ ہماری قسمت بدل بھی سکتی ہے۔ لیکن اسکے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر وقت سیکھیں، ہر وقت سوچیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ پاکستان، زندہ باد