عدالتی فیصلہ اور عوامی فیصلہ - حافظ یوسف سراج

بے بس عوام کے دل زخمی اور روحیں گھائل ہیں۔ لب آزاد ہیں مگر اظہار پر پابندی ہے۔ دفتر آ رہا تھا۔ راہ میں بائیک پنکچر ہوگئی۔ وہاں دو نوجوان باہم بات کر رہے تھے۔ ظاہر ہے موجودہ حالات پر۔ ایک نے کہا، حکومت نے کہا، ہیلمٹ لو ۔ غربت کی اس ملک میں کوئی آخری لکیر نہیں۔ کوئی لے سکتا تھا یا نہیں مگر لوگوں نے لے لیا۔ کہا، دو لو۔ لوگوں نے یہ بھی مان لیا۔ یار آخر لوگ حکومت سے بہت کیا چاہتے ہیں، کم از کم حکومت گستاخوں کو سزا تو دے۔ ظاہر ہے حکومت کی ترجیح تعلیم نہیں۔ لوگ اتنا اچھا نہیں سوچ سکتے، حکومت اور یورپی یونین جتنا اچھا سوچتے ہیں۔ چنانچہ انھیں کیس کی قانونی حیثیت کا علم نہیں، مگر ان کی جذبات اور احساسات یہ ہیں کہ کچھ غلط ضرور ہوا ہے۔

دیر تک میں سوچتا رہا۔ آج تک پاکستانی قوم کو حکومتیں کیا دے سکیں؟ سوائے اس کے کہ انھیں لوٹا گیا، اقتدار کے ایوان تک پہنچنے کے لیے انھیں سیڑھی اور سڑک کے طور پر استعمال کیا گیا۔ 46 روپے لٹر پٹرول کا کہہ کر آنے والے بھی پٹرول ہی نہیں، غریب کی ساری ضروریاتِ زندگی مہنگی کر کے فرماتے ہیں کہ غریب متاثر نہ ہوگا۔ جی ہاں عام آدمی سے سخت، بےحس اور بےوقعت مخلوق بھی تو کوئی ہو۔ یہ کیوں متاثر ہونے لگا بھلا، ان میں جان ہو تو متاثر ہوں نا۔ اچھا انھوں نےحکومتوں کا سب ستم برداشت کیا، صرف اس لیے کہ کم از کم دو چیزیں سلامت رہیں۔ ایک ختم نبوت اور دوسرا حرمت رسول۔ یاحیرت! نہ ان کے ہاتھ دنیا رہنے دی جا رہی ہے نہ آخرت۔ حیرت کی بات یہ بھی کہ حکمرانوں کی لوٹ مار، مہنگائی، توڑ پھوڑ احتجاج اور اہلِ صحافت کی گالی تک کا دفاع کرنے والے بے بسی کے نتیجے میں در آنے والےعوامی اشتعال کو برا کہہ رہے ہیں، کہیے یہ اچھا کب ہے؟ مگر اس کی آڑ میں نفسِ مسئلہ ہی سے بھی وہ کھیل جانا چاہتے ہیں۔ سکرین پر کھیل جائیے جناب! مگر کیا ضمیر بھی آپ آسودہ کر پائیں گے؟ آدمی سوچتا ہے، کہ آخر یہ کیسی ساحر دانشمندی ہے کہ جس کے دلائل عوام کے نام پر یا کسی اور کے نام پر خلاف ہمیشہ عوام ہی کے برتے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مولوی متشدد پر ہی غصہ کیوں - محمد حسان

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے فرمایا، فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والے تھوڑے سے لوگ ہیں۔ محمدِ عربی سے تعلق رکھنے والے کیا تھوڑے سے لوگ؟ اقتدار کے شہر اور اختیار کے دریچے سے گزری نظر دھندلا جائے تو اور بات، وگرنہ کسی بھی سروے میں یہ تھوڑے کبھی نہیں رہے۔ یہ وہی تھوڑے سے ہیں جو میاں صاحب کے ختمِ نبوت کے حوالے سے رویے سے ناراض ہوئے تو آج آپ زیادہ اور میاں صاحب تھوڑے ہوئے سے پھرتے ہیں۔ فرمایا، عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے حکومت اپنی ذمے داری پوری کرے گی۔ بہت اچھی بات، یہ جرات اور یہ ذمے داری کم از کم حکومت کو لینی چاہیے۔ پچھلے سب حکمران ایسے مواقع پر چھپ گئے۔ آپ جلتی آگ میں سامنے آئے، یہ اچھی اور جرات کی بات، مگر جناب! کوئی وقت ہوتا ہے کہ عوام کو اپنے جان و مال کی نہیں اپنی روح کی اور اپنی عصمت کی حفاظت درکار ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ایک موقع ہے۔ درست ہے کہ حکومتیں میڈیا سے عوامی ردِعمل اورعوامی جذبات کو بلیک آؤٹ کرکے سمجھتی ہیں کہ موقع بچا لیاگیا، وقتی طورپر ایسا ہو بھی جاتا ہے، مگر قطعاً نہیں جناب! روح کے زخم جسم کے زخموں کی طرح نہیں ہوتے کہ جو چھپانے سے، وقت گزرنے سے یا موقع نکل جانے سے مندمل ہو جائیں۔ یہ رخم اور اس رخم کی یادیں دائم تازہ رہتی ہیں۔ شریف حکومت نے ممتاز قادری کے وقت میڈیا بلیک آؤٹ کیا۔ خوش وہ بھی بہت تھے، وہ کام کر گزرے عملا جو بہت مشکل تھا۔ خمیازہ مگر انھیں تحریکِ لبیک کی صورت میں ووٹ کے وقت جھیلنا پڑا۔

فرمایا، عدالت نے فیصلہ آئین کے مطابق دیا۔ سر یہ کس آئین کے تحت فیصلہ ہے کہ جس میں یہ تک لکھا ہے کہ یا تو توہین ہوئی ہی نہیں، یعنی وہ سرکاری آفیشل جن کی نگرانی میں مقدمہ درج ہوا، کہ وہ جھوٹے ہیں اور آپ کی سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ بھی جھوٹی ہیں؟ کہا گیا یا پھر جوابی طور پر توہین کی گئی۔ یاحیرت! یہ ایک باخبر جج کے لفظ ہیں؟ گویا مسلمان کے نزدیک سیدنا عیسیٰ کو نعوذ بااللہ گالی دی جاتی ہے؟ اور گویا اگر آسیہ نے جوابی طور پر توہین کی تو یہ اب توہین نہیں رہی؟ جج صاحب! یہ میرے اور آپ کے بابا جان کی حرمت کی بات نہیں، یہ اس ذات کی حرمت کی بات ہے جس سے کل انسانیت کو حرمت ملی۔ یہ کس سادگی سے آپ لکھتے ہیں کہ یا تو توہین ہوئی نہیں، اگر ہوئی تو جوابا۔ یہ فیصلہ آپ نے کیوں کر نہ دیا کہ ہوئی یا نہیں ہوئی؟ یہی فیصلہ اگر آپ کر نہیں سکے تو کس طرح آپ ملزمہ کو چھوڑ دیتے ہیں؟ یہ جملے آپ نے کیسے اور کس رو میں لکھ دیے؟

یہ بھی پڑھیں:   عطاءالحق قاسمی کےخلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ درست کیوں؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بغیر کوئی واضح نتیجہ اخذ کیے فیصلہ کیسے صادر ہو سکتا ہے؟ اس فیصلے کو عین غازی علم دین کی شہادت کے دن سنانے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ یہ یورپی یونین کے یورپی اخبارات میں چھپی کٹنگز کیا کہہ رہی ہیں کہ انھوں نے کہہ کر یہ فیصلہ کروایا؟ ایسے حساس معاملے میں فیصلے کے کچھ دلائل کو اگر سپریم کورٹ کمزور بھی پاتی تھی تو کیا وہ جے آئی ٹی نہ بنا سکتی تھی؟ کیا یہ معاملہ اتنا ہی سرسری اور سادہ تھا اور کیا اس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات اور ملکی حالات وابستہ نہ تھے؟ کیااس پر دو دفعہ عدالت اپنا فیصلہ نہ دے چکی تھی؟ کہا گیا پانی کا جھگڑا تھا، تو اس لیے توہین ہوئی، تو بے چارے عوام کو بتا دیجیے نا کہ مزید کون کون سے ایسے جھگڑے ہیں، جن پر نعوذ باللہ توہین کی جائے تو صحافت یا عدالت اس توہین کے دفاع پر تل جائے گی؟ ایک بات اور، صاحب! اگر فیصلے کے دلائل بہت مضبوط ہی تھے تو آپ کو فیصلے کے آغاز میں اتنے صفحات کی وضاحت کیوں پیش کرنا پڑی؟ عمومی تاثر میں یہ فیصلہ اتنا ناپختہ ہے کہ عمومی فہم بھی اس پر حرف گیری کر تا ہے، رہے قانون دان تو سوائے ان کے کہ جن کے نزدیک ایسے مواقع پر الگ بولنے سے وہ کہیں معتدل یا مفید رجسٹر ہو سکتے ہیں۔ باقی لوگ سربہ گریباں ہیں جناب! رہے ملکی امن و امان داؤ پر لگانے والے تو انھیں بھی حرمتِ رسول پر رحم کھانا چاہیے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.