آسیہ مسیح کیس کے عدالتی فیصلے کا تنقیدی جائزہ - ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

متعلقہ وقوعے کا مختصر بیان:
مختصر الفاظ میں قصہ یہ ہے کہ تھانہ ننکانہ صاحب کی حدود میں محمد ادریس صاحب کا فالسے ایک کھیت ہے جس میں خواتین فالسے چننے کا کام کرتی ہیں۔ آسیہ مسیح، معافیہ بی بی اور اسماء بی بی بھی اس کھیت میں کام کرتی ہیں جو کہ دونوں بہنیں بھی ہیں۔ کام کے دوران آسیہ مسیح نے انہیں پانی پلانا چاہا تو انہوں نے ایک عیسائی کے ہاتھوں پانی پینے سے انکار کر دیا۔ جس سے تلخ کلامی ہوئی اور جھگڑے کی فضا بن گئی۔ اب الزام یہ ہے کہ اس تلخ کلامی میں آسیہ مسیح نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی شان میں گستاخی کی ہے۔ دونوں مسلمان بہنوں نے اس گستاخی کی اطلاع مقامی امام قاری سلام صاحب کو اور گاؤں کے دیگر افراد کو دی۔ اس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کا اجتماع ہوا کہ جس میں آسیہ مسیح پیش ہوئی اور اس نے عوامی اجتماع میں گستاخی کے الزام کا اقرار کیا۔

اس کے نتیجے میں مقامی تھانے میں ایف آئی آر کاٹی گئی۔ ننکانہ صاحب کی مقامی سیشن کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے بعد آسیہ مسیح کو قانون کے مطابق سزائے موت تجویز کی۔ آسیہ مسیح نے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ آسیہ مسیح نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے دونوں ماتحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ مسیح کو اس الزام سے بری قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 57 صفحات پر مشتمل ہے کہ جس میں شروع کے 33 صفحات چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب کے ہیں اور بقیہ کے 24 صفحات جسٹس آصف سعید خان کھوسہ صاحب کے ہیں۔ شروع کے 15 صفحات میں فاضل جج ثاقب نثار صاحب نے کتاب وسنت کی روشنی میں توہین رسالت کی سزا موت کی تاکید و تصویب فرمائی ہے کہ اس جرم کی یہی سزا ہے، اور یہی ہونی چاہیے۔

آسیہ مسیح کا بیان:
سب سے پہلے اگر ہم ملزمہ آسیہ مسیح کے بیان کا جائزہ لیں تو اس نے اپنے بیان میں اپنا دفاع کچھ یوں کہا ہے کہ اس وقوعے کے عدالتی گواہان، جو کہ سات ہیں، آپس میں ملے ہوئے تھے حتی کہ پولیس تک بھی استغاثہ سے ملی ہوئی تھی۔ لیکن ان سب کے آپس میں ملے ہونے کی جو وجوہات ملزمہ بیان کرتی ہیں، وہ ناقابل سمجھ ہیں۔ سب سے پہلے تو آسیہ مسیح کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں معافیہ بی بی اور اسماء بی بی نے مجھ پر گستاخی کا الزام اس لیے لگایا کہ: " کیونکہ ان دونوں کو میرے ساتھ جھگڑے اور سخت الفاظ کے تبادلے کی وجہ سے بےعزتی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔" [عدالتی فیصلہ: ص 22]۔ یہ تو معقول وجہ ہو سکتی ہے۔

لیکن اب قاری سلام صاحب بھی آسیہ مسیح کے خلاف گواہی کیوں دے رہے ہیں، اس کا جواب آسیہ مسیح کے بیان میں کچھ یوں ہے: "قاری سلام /شکایت گزار بھی مقدمے میں اپنا مفاد رکھتا ہے کیونکہ یہ دونوں خواتین اس کی زوجہ سے قرآن پڑھتی رہی ہیں۔" [ص 22] اب قاری صاحب کی بیوی سے قرآن پڑھنا کوئی معقول وجہ ہے کہ قاری صاحب اس معاملے میں ان دو خواتین کے ساتھ ملے ہوئے تھے؟ پھر پولیس کے بارے ان خاتون کا صرف دعوی ہے کہ وہ بھی استغاثہ سے ملی ہوئی تھی لیکن پولیس کے ملنے کی کوئی معقول وجہ بیان نہیں کی۔ آسیہ مسیح کے الفاظ ہیں: "لیکن چونکہ پولیس بھی شکایت گزار سے ملی ہوئی تھی، اس لیے پولیس نے مجھے اس مقدمے میں غلط طور پھنسایا۔" [ایضاً: ص 22]۔

پھر استغاثہ کے گواہ محمد ادریس کے بارے آسیہ مسیح کا کہنا ہے: "استغاثہ کا گواہ ادریس بھی ایسا گواہ ہے جو مقدے میں اپنا مفاد رکھتا ہے کیونکہ اس کا متذکرہ بالا خواتین سے قریبی تعلق ہے۔" [ایضاً: ص 22] ملزمہ کے اس بیان میں ان دو بہنوں کا ادریس سے کیا قریبی تعلق ہے؟ ایک تو یہ واضح نہیں ہے۔ اور دوسرا ادریس کا اس وقوعے سے مفاد کیا ہے؟ اس کا بھی ذکر نہیں ہے۔ بہر حال ملزمہ کے بیان میں اس طرح کی عبارتیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ ملزمہ کا ایک دعوی ہے کہ یہ سب آپس میں ملے ہوئے تھے حتی کہ سرکاری پولیس بھی، لیکن اس کے پاس اپنے اس دعوے کی کوئی معقول توجیہ موجود نہیں ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب کا فیصلہ:
چیف جسٹس صاحب نے اس مقدمہ میں آسیہ بی بی کو باعزت بری کرنے کی ایک بنیادی یہ بیان کی ہے کہ استغاثہ کے گواہان کے بیانات میں تضاد ہے۔ یہ تضاد انہوں نے دو طرح سے بیان کیا ہے۔ ایک تو ایک ہی گواہ کے مختلف مواقع کے بیانات میں تضاد ہے اور دوسرا دو گواہوں کے باہمی بیانات میں بھی تضاد ہے۔

۱۔ ایک ہی گواہ کے مختلف مواقع کے بیانات میں تضاد کی حقیقت:
ایک ہی گواہ کے متنوع مواقع پر بیانات میں تضاد بیان کرتے ہوئے چیف جسٹس صاحب لکھتے ہیں: "استغاثہ کے گواہان کے بیان میں بہت سے تضادات اور اختلافات ہیں۔ معافیہ بی بی کے ضابطہ فوجداری کے تحت دیے گئے بیان اور دوران جرح دیے گئے بیان میں فرق پایا گیا۔ اپنی جرح کے دوران اس نے بتایا کہ عوامی اجتماع میں تقریبا ہزار سے زائد لوگ موجود تھے لیکن اس کے سابقہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا تھا۔ جرح کے دوران اس نے کہا کہ عوامی اجتماع اس کے والد کے گھر پر ہوا تھا جب کہ یہ بات بھی اس کے سابقہ بیان کا حصہ نہ تھی۔ دوران جرح اس نے بیان دیا کہ بہت سے علماء عوامی اجتماع کا حصہ تھے لیکن یہ بات بھی اس کے سابقہ بیان میں شامل نہ تھی۔" [ ایضاً: ص 24]

معلوم نہیں فاضل جج صاحب "بیان میں اضافے" اور "بیان میں تضاد" کے مابین فرق کیوں نہیں کر رہے؟ گواہ کے دونوں بیانات میں فرق صرف اتنا ہے کہ گواہ نے دوسرے بیان میں ایسا اضافہ کیا ہے جو اس کے پہلے بیان سے متضاد نہیں ہے۔ اسے تضاد کیسے کہہ سکتے ہیں؟ البتہ یہ اضافہ ضرور ہے۔ اور اضافے کا امکان ہر بیان میں موجود رہتا ہے کہ کوئی بات انسان ایک موقع پر بیان کرنا بھول گیا، لیکن دوسرے موقع پر اس نے بیان کر دی اور یہ معقول ہے۔

اسی طرح دوسرے گواہ کے بیانات کے باہمی تضاد کو فاضل جج صاحب نے یوں بیان کیا ہے: "اسماء بی بی نے اپنی جرح کے دوران بیان دیا کہ عوامی اجتماع ا س کے پڑوسی رانا رزاق کے گھر میں ہوا لیکن اس بات کا ذکر اس کے سابقہ بیان میں نہ تھا۔ جرح کے دوران اس نے کہا کہ عوامی اجتماع میں دو ہزار سے زائد لوگ شریک تھے لیکن اس بات کا تذکرہ اس کے سابقہ بیان میں نہ تھا۔" [ایضاً: ص 24]۔ اب اس پر غور کریں تو یہ بھی بیان کا تضاد نہیں بلکہ اس میں اضافہ ہے۔

اسی طرح کا اعتراض فاضل جج صاحب نے تیسرے گواہ پر بھی کیا ہے۔ فاضل جج صاحب لکھتے ہیں:" قاری محمد سلام نے بھی ایف آئی ار کے اندراج کے لیے دی گئی اپنی درخواست کے حقائق میں رد وبدل کیا۔ قاری محمد سلام نے بیان ابتدائی میں کہا کہ معافیہ بی بی اور اسماء بی بی اس کو وقوعے کی اطلاع دینے کے لیے آئیں تو وہ گاؤں میں موجود تھا اور اس وقت محمد افضل اور محمد مختار بھی موجود تھے جبکہ اپنی شکایت میں اس نے بیان کیا کہ معافیہ بی بی اور اسماء بی بی نے اسے اور گاؤں کے دوسرے لوگوں کو وقوعے کی اطلاع دی۔"[ ایضاً: ص 24] وہ مزید لکھتے ہیں: "اس نے مزید بیان دیا کہ عوامی اجتماع مختار احمد کے گھر پر ہوا لیکن اس بات کا ذکر اس کی شکایت میں نہیں تھا۔"[ایضاً: ص 25] اب اس تضاد کی حقیقت بھی صرف اتنی ہی ہے کہ یہ اضافہ ہے نہ کہ تضاد۔

۱۔ مختلف گواہان کے بیانات میں باہمی تضاد کی حقیقت:
مختلف گواہان کے بیانات کے باہمی تضادات کی بھی کئی ایک مثالیں چیف جسٹس صاحب نے بیان کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ: " گواہان نے عوامی اجتماع کے وقت اور دورانیے کے متعلق بھی متضاد بیان دیا۔ ایک گواہ نے کہا کہ جمعہ کے روز بارہ بجے منعقد ہوا اور اس کا دورانیہ پندرہ سے بیس منٹ تک تھا۔ دوسرے نے کہا کہ عوامی اجتماع بارہ بجے دوپہر کو منعقد ہوا اور پندرہ منٹ جاری رہا۔ تیسرے نے بیان دیا کہ گیارہ سے بارہ بجے دوپہر منعقد کیا گیا اور دو سے ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔" [ ایضاً: ص 27] جس طرح سے گواہان کے بیانات میں تضاد نکالا جا رہا ہے، یہ ہمیں بہت دلچسپ معلوم ہوا۔

ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر ایک گواہ نے کہا کہ اجلاس کا دورانیہ پندرہ سے بیس منٹ تھا اور دوسرے نے کہا کہ پندرہ منٹ تھا تو یہ تضاد ہو گیا؟ کمال ہے! البتہ کسی قدر اختلافی بیان اس کو کہا جا سکتا ہے کہ یہ اجلاس دو سے ڈھائی گھنٹے جاری رہا ہے اور اس اختلاف کی منطقی و عقلی توجیہہ بھی ممکن ہے کہ جمع ہونے اور باہمی گفتگو میں دو گھنٹے لگ گئے ہوں لیکن جب لوگ جمع ہوگئے تو اس وقت کے بعد کی باقاعدہ کارروائی میں پندرہ بیس منٹ لگے ہوں۔ پھر تینوں گواہوں کا اتفاق ہے کہ جمعہ کے دن اجلاس ہوا، دوپہر کے وقت ہوا، بارہ بجے کے قریب ہوا۔ تو اتنی سخت جرح کے باوجود اس قدر اتفاقات کیا اتفاق سے وجود میں آ گئے؟

اور اگر یہ دعوی کیا جائے کہ گواہوں کا پہلے ہی سے ایک بیان پر اتفاق تھا کہ جس کی وجہ سے دن اور وقت کے بیان میں ان کا اتفاق ہوا تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کا اجلاس کے دورانیے کے بیان میں اختلاف کیوں ہوا؟ کیا وہ یہ پہلے طے کرنا بھول گئے تھے جبکہ فاضل جج صاحبان کا کہنا یہ بھی ہے کہ پانچ دن تک سازش تیار ہوتی رہی؟ اگر یہ طے شدہ سازش تھی تو اس کا لازمی نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ گواہوں کے بیانات میں اتفاق ہوتا کہ جو انہیں پڑھایا گیا تھا، وہ اس کے مطابق اگل دیتے کیونکہ مقدمے کے فیصلے میں یہ بات بھی موجود ہے کہ ایف آئی آر درج کروانے کے لیے اسے لکھنے والے ایک وکیل صاحب تھے، گویا کہ اس سازش کو شروع ہی سے وکلاء کی سرپرستی حاصل تھی تو پھر اتنے بڑے بلنڈرز گواہان نے کیسے کر لیے؟ تو گواہان کی اتنا اور اس طرح کا اختلاف تو یہ واضح کرتا ہے کہ یہ فطری طریقے پر گواہی تھی نہ کہ پڑھائی اور سجھائی ہوئی۔

چیف جسٹس صاحب کی طرف سے ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ عوامی اجتماع میں افراد کی تعداد کے بارے بھی گواہان کا اتفاق نہیں ہے: " عوامی اجتماع میں افراد سے متعلق ایک گواہ نے سو افراد کہے، دوسرے نے دو سو سے اڑھائی سو، تیسرے گواہ نے ہزار اور چوتھے نے دو ہزار۔" [ص 26] لیکن فاضل جج یہ ذکر کرنا بھول گئے کہ دو مردوں کی گواہی کا بیان سو سے دو سو افراد کے مابین ہے جبکہ عورتوں کی گواہی کا بیان ہزار سے دو ہزار کا ہے۔ تو اس میں مردوں کی گواہی کو ترجیح دی جا سکتی تھی کہ ان کے عوامی اجتماع میں براہ راست حاضر ہونے اور اجلاس کی کاروائی میں شریک ہونے کے امکانات بالکل واضح ہیں جبکہ دونوں عورتوں کو اس عوامی اجتماع کا علم بالواسطہ ہونے کا امکان زیادہ تھا کہ لوگوں کو ایک جگہ جمع ہوتے گلیوں میں آتے جاتے دیکھ لیا لیکن اجلاس کی کاروائی میں براہ راست شریک نہ تھیں لہذا ایک اندازہ لگایا جو کہ صحیح نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاست مدینہ اور غازی علم دین - انجینئر افتخار چودھری

پھر کسی جم غفیر کے بارے بالکل صحیح اندازہ لگانا کیسے ممکن ہے؟ خاص طور اس ملک میں جس کے وزیر اعظم صاحب کو پانچ ہزار کے افراد کا جلسہ لاکھوں کا سونامی معلوم ہوتا ہے تو اس ملک کے عوام کو سینکڑوں میں غلطی لگ جانا کوئی بعید از قیاس نہیں ہے۔ پھر فاضل جج صاحب اس تضاد سے ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ کہ یہ عوامی اجلاس نہیں ہوا تھا؟ اگر یہ بات ہے تو یہ تو خود ملزمہ کے بیان میں موجود ہے کہ عوامی اجلاس ہوا تھا۔ تو اس بے کار کی جرح کا کیا فائدہ ہے سوائے یہ ثابت کرنے کے کہ گواہان جھوٹے ہیں حالانکہ انہیں مکمل طور جھوٹا ماننا خود جج صاحبان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ خود اپنے فیصلے میں یہ مان رہے ہیں کہ یہ اجتماعی اجلاس ہوا تھا۔ چیف جسٹس صاحب بیان کرتے ہیں: " ماورائے عدالت اقبال جرم بھی آزاد نہ تھا بلکہ زبردستی اور دباؤ کے تحت حاصل کیا گیا تھا کیونکہ شکایت گزار نے اپیل گزار کو زبردستی عوامی مجمع کے سامنے کھڑا کیا جو کہ اسے مارنے کے در پے تھا۔" [ایضاً: ص 19]

ایک اور جگہ چیف جسٹس صاحب لکھتے ہیں: " زیر نظر مقدمے میں اپیل گزار کو سینکڑوں لوگوں کے مجمع میں لایا گیا، وہ اس وقت تنہا تھی۔ صورت حال ہیجان انگیز تھی اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو غیر محفوظ اور خوفزدہ پایا اور مبینہ ماورائے عدالت بیان دے دیا۔ گو یہ بیان اپیل گزار کی جانب سے عوامی اجتماع کے روبرو دیا گیا لیکن اس کو رضاکارانہ طور پر دیا گیا بیان تصور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کو سزا، بطور خاص سزائے موت کی بنیاد گردانا جا سکتا ہے۔" [ایضاً: ص 29-30] تو جب آپ مان رہے ہیں کہ اجتماعی اجلاس ہوا ہے تو اس اجتماعی اجلاس کے بارے گواہان کے بیانات پر یہ اعتراضات کہ وہ ایک اجلاس کے افراد کی تعداد اور دورانیے کے بارے مختلف بیان دے رہے ہیں، سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

اگر تو جج صاحبان یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہوں کہ یہ اجتماعی اجلاس ہوا ہی نہیں ہے تو پھر تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن چیف جسٹس صاحب ایک طرف تو یہ مان رہے ہیں کہ اجتماعی اجلاس ہوا ہے تو زیادہ سے زیادہ چیف جسٹس صاحب کی جرح سے یہ ثابت ہو سکتا ہے کہ گواہان نے کچھ غلط بیانی کی ہے، لیکن مکمل جھوٹ نہیں بولا کیونکہ مکمل جھوٹ کا مطلب تو یہی بنتا ہے کہ عوامی اجلاس بھی نہ ہوا تھا۔ اب گواہان نے جو غلط بیانی کی ہے تو وہ کیسے معلوم ہو گا کہ اس جگہ کی ہے اور اس جگہ نہیں کی۔ دیکھیں، ہماری بات بہت معقول ہے کہ چیف جسٹس صاحب کا مقدمہ اس وقت مضبوط بنتا ہے جبکہ وہ گواہان کو مکمل طور جھوٹا قرار دیتے ہوں لیکن جب وہ گواہان کے بیان کو کچھ سچ اور کچھ جھوٹ مان رہے ہیں تو پھر اس کی تمیز کہ یہ گواہان کے بیان میں فاضل جج صاحبان کے نزدیک سچ ہے اور یہ جھوٹ ہے، اس کا معیار کیا ہے؟ یہ اس فیصلے میں بالکل بھی واضح نہیں ہے۔

پھر گواہان کا کم از کم بیان یہ ہے کہ سو افراد تھے اور چیف جسٹس صاحب نے بھی اپنے فیصلے میں مانا کہ سینکڑوں افراد موجود تھے تو سینکڑوں افراد کی گواہی تو خبر متواتر بن جاتی ہے کہ جس میں لوگوں کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہوتا ہے۔ تو اگر سینکڑوں افراد کا مجمع یہ کہہ رہا ہو کہ یہ ملزمہ کا رضاکارانہ بیان تھا تو پھر چیف جسٹس صاحب کے اس دعوت کی دلیل کیا ہے کہ " صورت حال ہیجان انگیز تھی اور ماحول خطرناک تھا۔ اپیل گزار نے اپنے آپ کو غیر محفوظ اور خوفزدہ پایا اور مبینہ ماورائے عدالت بیان دے دیا۔" [ایضاً: ص 29-30] یہ ساری صورت حال کس نے بیان کی ہے؟ یا اس دعوے کی حیثیت ایک تجزیے کی سی ہے؟

پھر چیف جسٹس صاحب کا یہ بھی اعتراض ہے کہ عوامی اجتماع کے مقام کے بارے گواہان کا اختلاف ہے کہ وہ کہاں منعقد ہوا تھا حالانکہ خود اس فیصلے میں موجود ہے کہ عوامی اجتماع کے انعقاد کے بارے دونوں مردوں کا اتفاق ہے کہ مختار احمد کے گھر ہوا۔ ایک عورت نے کہا کہ اس کے والد عبد الستار گھر ہوا، دوسری نے اپنے پڑوسی رانا رزاق کا نام لیا۔ [ایضاً: ص 26] تو دو عورتوں کا اختلاف معمولی ہے کہ جب لوگ زیادہ ہوں تو قریب کے دو گھروں میں جمع ہو ہی جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر تیسرا گھر بھی اسی گلی میں یا محلے میں ہے تو تیسرے گواہ کا اختلاف بھی معمول کا ہے۔ جن لوگوں کو کسی ہجوم میں شمولیت کا موقع ملا ہو تو وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے ہجوم کا عموما کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ یہاں اجتماع ہوا تو یہاں جمع ہو گئے اور پھر چار لوگوں نے مشورہ دیا کہ وہاں چلتے ہیں تو وہاں چل پڑے تو یہ تضاد کہاں سے ہو گیا؟ البتہ یہ گواہان کے بیانات کا یہ تنوع ایک وقوعے کی مختلف اوقات کی جزوی کڑیوں کی روداد کا بیان ہو سکتا ہے۔

معلوم نہیں فاضل جج صاحب کے نزدیک اس مقدمے میں اتنے تضادات نکالنے میں کیا حکمت پوشیدہ تھی کہ انہوں نے پولیس کے ملزمہ کو گرفتار کرنے کے وقوعے میں بھی تضادات نکال دیے۔ وہ لکھتے ہیں: " یہاں پر پولیس کو درخواست دینے اور ایف آئی آر کے اندراج کے بارے بھی خاصا تضاد پایا جاتا ہے۔" [ایضاً: ص 27] جج صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں: "ملزم کی گرفتاری سے متعلق کچھ تضاد محمد ارشد سب انسپکٹر کے بیان میں پایا جاتا ہے کہ اس نے ملزمہ کو دو ساتھی خواتین کانسٹیبل کی مدد سے جوڈیشنل مجسٹریٹ کی موجودگی میں گرفتار کیا۔ جرح کے بیان میں اس نے کہا کہ اس نے ملزمہ کو اس کے گھر دیہات "اٹاں والی" سے گرفتار کیا اور شام چار پانچ بجے گرفتار کیا۔ ایک اور موقع پر کہا کہ شام سات بجے اسے اس کے گھر سے گرفتار کیا۔" [ایضاً: ص 28]

اب اس تضاد سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری کا وقوعہ بھی نہیں ہوا؟ یعنی ملزمہ گرفتار ہی نہیں ہوئی کیونکہ پولیس کے بیان میں تضاد ہے؟ تو بھئی اس کا گرفتار ہونا تو ایک حقیقت ہے، جس کا انکار ممکن نہیں ہے، بھلے پولیس کے بیان میں تضاد ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے تو یہ ثابت ہو رہا ہے کہ بیان میں تضاد کا نتیجہ یہ نکالنا کہ وقوعہ ہوا ہی نہیں ہے، بالکل بھی درست نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ پولیس کی ملی بھگت اور سازش سے یہ سب ہوا ہے تو اس پر فاضل جج صاحبان کو ان پولیس والوں کو معطل کرنے کی تجویز کا فیصلہ بھی کم از کم جاری کرنا چاہیے تھا۔ پھر یہ کہ پولیس والوں کو ایک مسیحی عورت کو پھانسی کے پھندے پر چڑھانے میں کیا مفاد اور دلچسپی تھی، یہ اس فیصلے میں موجود نہیں ہے۔

پھر چیف جسٹس صاحب کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ فالسے کے کھیت میں جو دیگر خواتین موجود تھیں، پچیس تیس وہ استغاثہ کے حق میں گواہ کے طور پیش نہ ہوئیں: "اس امر کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ مذکورہ خواتین استغاثہ کے موقف کی تائید کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔" [ایضاً: ص 21] لیکن یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ بقیہ خواتین ملزمہ کے حق میں گواہ کے طور پیش ہوئیں؟ تو اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے ملک کا جو عدالتی نظام ہے کہ جس میں ایک انسان دوران جرح جس طرح سے خجل خوار ہو جاتا ہے تو لوگ عام طور اس میں بطور گواہ پیش ہونے سے بچتے ہی ہیں۔ تو اس کی ایک معقول وجہ تو یہ ہو سکتی ہے لیکن دوسری معقول وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ جھگڑا دو بہنوں اور آسیہ مسیح کے مابین ہوا اور توہین آمیز جملوں کا تبادلہ بھی انہی کے مابین ہوا لیکن جب بات توہین تک پہنچی تو خوب شور شرابے سے دیگر خواتین بھی جمع ہو گئیں جو کہ براہ راست ان توہین آمیز جملوں کی سامع نہ تھیں لہذا انہوں نے احتیاط کے پیش نظر گواہی سے اجتناب کیا۔

۳۔خود چیف جسٹس صاحب کے بیان میں تضاد:
جائے وقوعہ پر کتنی خواتین موجود تھیں؟ اس بارے ایک جگہ چیف جسٹس صاحب لکھتے ہیں: "جب توہین کے الفاظ کہے گئے تو وہاں 25 سے 36 خواتین موجود تھیں جبکہ سوائے معافیہ بی بی اور اسماء بی بی کسی نے معاملے کی اطلاع نہ دی ۔" [ایضاً: ص 21] اسی بارے چیف جسٹس صاحب ایک اور جگہ فیصلے میں لکھتے ہیں: "جائے وقوعہ پر 25-30 خواتین موجود تھیں لیکن حیران کن طور پر کسی نے بھی ما سوائے یاسمین بی بی استغاثہ کے الزام کی توثیق نہ کی۔" [ایضاً: ص 31] اب ان دونوں عبارتوں میں یہ الفاظ چیف جسٹس صاحب کے اپنے ہیں۔ آپ فیصلے کا سیاق وسباق دیکھ لیں۔ تو یہاں یہ سوال تو بنتا ہے ناں کہ ایک ملک کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب خود ہی، ایک ہی فیصلے میں، ایک ہی بیان میں، جب ایسی متضاد باتیں کر گئے کہ انہیں پچیس تیس اور پچیس چھتیس کا فرق معلوم نہ ہو سکا تو وہ کس بنیاد پر ان ناخواندہ دیہاتی پینڈو گواہان پر اعتراض کر رہے ہیں کہ وہ مجمعے کے افراد کی صحیح تعداد نہ بتلا سکے۔

پھر چیف جسٹس صاحب کی طرف سے ایک اعتراض یہ کیا گیا کہ ایف آئی آر پانچ دن دیر سے درج کی گئی کہ جس سے شبہ ہوتا ہے کہ درمیان میں سازش ہوئی ہے حالانکہ اس بارے خود استغاثہ کی طرف سے معقول وضاحت موجود ہے کہ ایف آئی آر درج کروانے میں پانچ دن کیوں لگائے گئے۔ عدالتی فیصلے میں موجود ہے کہ : "ایف آئی ار کی دائری میں پانچ روز کی تاخیر سے متعلق جو وضاحت عدالت کو دی گئی، اس کے مطابق یہ تاخیر معاملے کی نزاکت اور اہمیت کی وجہ سے تھی۔ چونکہ لگائے گئے الزامات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے تھے جب کے بارے شکایت گزار نے پہلے خود تصدیق کی اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد معاملے کو پولیس کے سپرد کیا۔"[ ایضاً: ص 20]تو ایف آئی آر میں تاخیر کی یہ ایک معقول وجہ تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کی دانشمندانہ حکمتِ عملی اور لبرلز کی دُہائی - مفتی منیب الرحمن

اس معقول وجہ کے ساتھ ہی یہ اعتراض بھی رفع ہو جاتا ہے لیکن بہرحال ایف آئی آر کے دیر سے درج ہونے کے بارے خود چیف جسٹس صاحب کے الفاظ اس فیصلے میں یوں موجود ہیں: " ایف آئی ار کے اندراج میں ہونے والی تاخیر تمام مقدمات میں مہلک نہیں ہوتی کیونکہ یہ مصدقہ اور قابل اعتبار آنکھوں دیکھی اور واقعاتی شہادت کو ساکت یا ضائع نہیں کرتی۔ مذکورہ دلیل سے کوئی اختلاف نہ ہے۔" [ایضاً: ص 23] جب چیف جسٹس صاحب کو اس دلیل سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بعض کیسز میں ایف آئی آر دیر سے درج ہونے میں حرج نہیں ہے تو پھر آگے چل کر یہ کیوں کہہ رہے ہیں: "پس ایف آئی آر کا کردار انتہائی مرکزی ہوتا ہے۔ اگر ایف آئی آر کے اندراج اور تفتیش کے شروع ہونے میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ شک کو جنم دیتی ہے جس کا فائدہ بلاشبہ ملزم کے سوا کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا۔" [ایضاً: ص 23]

پھر فاضل جج صاحب کے یہ الفاظ قابل غور ہیں: "عدالت عالیہ میں ملزمہ کی طرف سے اپیل گیارہ روز بعد دائر کی گئی لہذا اس بنا پر خارج تصور کی گئی۔ مزید یہ کہ معاملے میں ایک خاتون کی زندگی اور موت کا سوال ہے اس لیے [عدالتی فیصلے کے خلاف]اپیل کو صرف قانون کی موشگافیوں کی بنیاد پر فارغ نہیں کیا جا سکتا۔" [ایضاً: ص 19 ] یہاں ایک "خاتون" کا لفظ بہت ہی قابل غور ہے۔ کیا مرد انسان نہیں ہے؟ کیا "انسان" کا لفظ یہاں استعمال نہیں کیا جا سکتا تھا؟

جج آصف سعید خان کھوسہ صاحب کا فیصلہ
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب نے اپنے فیصلے میں اس الزام کا ذکر نہیں کیا جو کہ ملزمہ پر لگایا گیا تھا لیکن فاضل جج آصف سعید کھوسہ صاحب نے اس الزام کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: "الزام یہ تھا کہ اپیل گزار نے یہ بیان دیا کہ اس نے کچھ ایسی باتیں کہیں جیسے (نعوذ باللہ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات سے قبل شدید علیل ہو کر بستر سے لگ گئے تھے اور آپ کے دہن مبارک اور کان مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے۔ آپ نے حضرت خدیجہ سے نکاح ان کی دولت کے حصول کے لیے کیا تھا اور دولت حاصل کر کے آپ نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔" [ایضاً: ص 34] ایک اور جگہ لکھتے ہیں: " یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ اسی موقع پر ہی اپیل گزار نے یہ الفاظ کہے کہ قرآن کریم خدا کی الہامی کتاب نہ ہے بلکہ خود ساختہ کتاب ہے۔" [ایضاً: ص 34]

اب دونوں فاضل جج صاحبان کے فیصلوں میں تضاد ہے، لہذا فیصلہ کالعدم ہے۔ یہ وہ منطق ہے جو اس پورے عدالتی فیصلے میں چیف جسٹس صاحب نے گواہان کے بیانات کے خلاف استعمال کی ہے۔ اب اگر فاضل جج صاحبان یہ کہیں کہ ہمارے فیصلے میں تضاد کہاں ہے تو اس کے لیے ہمارے پاس یہی جواب ہے کہ جو تضاد انہوں نے گواہان کے بیانات میں ڈھونڈ نکالا ہے، ان کے فیصلوں کا تضاد بھی اسی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ ایک مسلمان ، خاص طور دیہاتی مسلمان کی نفسیات، سے بہت زیادہ بعید از قیاس ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے ایسے الفاظ اختراع کر سکے کہ معاذ اللہ " آپ کے دہن مبارک اور کان مبارک میں کیڑے پیدا ہو گئے تھے۔" ایک مسلمان کے ذہن میں یہ سوچ آنا بھی ممکن نہیں ہے چہ جائیکہ وہ ان کو بطور الزام زبان پر لے آئے۔ البتہ یہ امکان موجود ہے کہ وہ یہ الفاظ بطور خبر نقل کر دے۔

فاضل جج کھوسہ صاحب کے فیصلے میں یہ بھی موجود ہے کہ "ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ اپیل گزار عیسائی مذہب کی مبلغہ تھی جو اس مقدمے کا محرک بنا۔" [ایضاً: ص 36]۔ یہ بھی بہت اہم نقطہ ہے۔ استشراق (orientalism) کا ایک طالب علم ہونے کے نتیجے میں ہمارے علم میں ہے کہ عیسائی دنیا پچھلی کئی صدیوں سے پیغمبر اسلام کی توہین کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتی چلی آ رہی ہے کہ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے اور عام عیسائیوں کو ان کے پادریوں کی طرف سے پیغمبر اسلام کے بارے باقاعدہ ایسے تصورات کی تعلیم دی جاتی ہے تو یہ بھی معمول کی بات ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ہماری کتاب "اسلام اور مستشرقین" کا مطالعہ مفید رہے گا۔ لہذا فاضل عدالت کے لیے یہ معلوم کرنا مشکل نہ تھا کہ آسیہ مسیح عیسائی مبلغہ تھی یا نہیں؟ اگر مبلغہ تھی تو اس سے ایسے جملوں کے صادر ہونے کے امکانات کافی زیادہ تھے۔ پھر یہ بات دونوں جج صاحب نے کہی ہے کہ آسیہ مسیح نے " ضابطہ فوجداری کے تحت برحلف بیان ریکارڈ کروانے کو نہیں چنا اور اپنے دفاع میں کوئی شہادت نہیں پیش کی۔" [ایضاً:ص 40] تو یہ بھی اس شبہے کو قوی کرتا ہے کہ ملزمہ کے پاس نہ تو اپنی صفائی میں کوئی گواہی موجود ہے اور نہ ہی وہ اپنے بیان میں بائبل پر حلف دینے کو تیار ہے۔

فاضل جج آصف کھوسہ صاحب کا بیان یہ بھی ہے کہ دونوں مسلمان بہنیں معافیہ اور اسماء "اور وہ دونوں جھوٹا بیان دے سکتی ہیں۔" [ایضاً: ص 41] اب جھوٹا بیان دے سکنا اور جھوٹا بیان دیا ہے، دونوں میں بہت فرق ہے۔ اگر فاضل جج صاحب کی فائنڈنگ یہ ہے کہ وہ دونوں جھوٹا بیان دے سکتی ہیں تو اس سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ ان دونوں نے جھوٹا بیان دیا ہے۔

پھر فاضل جج صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ " محمد امین بخاری، ایس پی انوسٹی گیشن نے ابتدائی عدالت سماعت کے روبرو جو بیان دیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ توہین رسالت کا ارتکاب عیسائی اپیل گزار [آسیہ میسح] نے اپنی مسلمان ساتھی خواتین کے ہاتھوں، اپنے مذہب کی توہین کروانے اور اپنے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بعد کیا کیونکہ وہ یسوع مسیح پر یقین رکھتی تھی اور حضرت عیسی کی پیروکار تھی۔" [ایضاً:ص 53] اس پر فاضل جج صاحب تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "توہین رسالت ایک سنگین جرم ہے لیکن شکایت کنندہ فریق کی جانب سے اپیل گزار کے مذہب اور مذہبی احساسات کی توہین اور پھر اللہ کے نبی کے نام پر سچ میں جھوٹ کو ملانا بھی توہین رسالت سے کم نہیں ہے۔" [ایضاً: ص 56] فاضل جج صاحب مزید لکھتے ہیں: "اس تناظر میں اپیل گزار کے مذہب کی مسلمان ساتھی خواتین کی جانب سے توہین بھی مذہب کی توہین سے کم نہ ہے۔" [ایضاً: ص 53] وہ مزید لکھتے ہیں: "آسیہ مسیح کی مسلمان ساتھیوں نے اپیل گزار کے مذہب جس کی وہ پیروی کرتی ہیں، اور معبود پر اس یقین کی، توہین کرتے ہوئے، اللہ تبارک تعالی کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔ [ص 54]

فاضل جج صاحب کی اس بات سے یہ مقدمہ اور قوی ہو جاتا ہے کہ آسیہ مسیح نے ایسے کچھ الفاظ استعمال کیے تھے جو کہ توہین آمیز تھے، چاہے اس ردعمل میں کہے تھے کہ اس کے مذہب پر تنقید ہوئی تھی۔ باقی فاضل جج صاحب نے جس مہارت سے اسے مسلمان عورتوں کے خلاف توہین کا مقدمہ بنانے کی کوشش کی ہے، وہ واقعتا قابل داد ہے۔ مذکورہ بالا عبارات میں غور کرنے سے واضح طور معلوم ہوتا ہے کہ اس کا امکان ہے کہ مسلمان عورتوں نے اس عیسائی عورت کے مذہب عیسائیت یعنی مروجہ عیسائیت کو جھوٹا مذہب کہا ہو لیکن اس سے توہین رسالت کیسے نکل آئی یعنی مسیح علیہ السلام کی توہین؟ کیونکہ یہ مروجہ عیسائیت تو مسیح علیہ السلام کا لایا ہوا دین ہے نہیں اور یہی قرآن مجید کا بیان ہے۔ اگر توہین رسالت کی بنیاد یہی ہے تو پھر سب سے پہلے تو یہ توہین تو خود قرآن مجید نے کی ہے جو کہ ناممکن ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ مسلمان عورتوں نے یہ کہا ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام اللہ کے بیٹے نہیں ہیں تو اب آسیہ مسیح کا عقیدہ تو یہی ہے تو ا س کے عقیدے کے مطابق یہ توہین ہو گئی لیکن امر واقعہ میں یہ توہین نہیں ہے، نہ آئینی طور اور نہ ہی شرعی طور۔ فیصلے کی مذکورہ بالا دونوں عبارات میں غور یہ بتلاتا ہے کہ مسلمان عورتوں کی طرف سے اگر توہین ہوئی تھی تو وہ اسی نوعیت کی تھی۔ فاضل جج صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ : "عربی زبان میں آسیہ لفظ کے معنی گناہ گار ہیں۔"[ ایضاً: ص 56] حالانکہ "آسیہ" کی بجائے "عاصیہ" کا یہ معنی ہے جو فاضل جج صاحب نے یہاں ذکر ہے۔

خلاصہ کلام:
اس پورے فیصلے کے مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ اس کیس میں آسیہ مسیح بالکل بری کر دینا تو یہ کسی طور درست فیصلہ نہیں تھا۔ البتہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر گواہان کی گواہی میں اختلاف کی وجہ سے ملزم کو شک کا کچھ فائدہ دینا تھا تو وہ اس صورت دیا جا سکتا تھا کہ اس سے حد ساقط کر دی جاتی، لیکن اسے تعزیری سزا ہونی چاہیے تھی، چاہے وہ عمر قید کی صورت میں ہوتی، یا قید اور جرمانے دونوں کی صورت میں۔ رہی یہ بات کہ اس نے قید کی صورت میں سزا تو بھگت لی ہے تو عدالت کا فیصلہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے کہ اس کی سزا یہ نہیں بنتی تھی جو اس کو دی گئی ہے۔

اور رہا عوام کے کرنے کا کام تو اس بارے ہماری رائے یہی ہے کہ عوام الناس کی املاک کی توڑ پھوڑ اور عوامی مقامات کو بند کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ ظلم و زیادتی ہے۔ ہاں پرامن مذہبی طبقات کا حق ہے اور انہیں کرنا بھی چاہیے لیکن اپنی ہی عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان مقتدر قوتوں کے خلاف جو اس فیصلے کی وجہ بنی ہیں۔ تو ان سڑکوں اور رستوں پر ضرور پر امن دھرنا دینا چاہیے اور بیٹھنا چاہیے کہ جو وزیر اعظم، کابینہ کے وزراء، حکومتی مشینری اور عدلیہ کے ججز کے گھروں، کالونیوں اور سرکاری دفاتر کو جاتے ہوں تا کہ اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے میرٹ پر دیکھا جائے۔ عام لوگوں کے رستے بند کر کے انہیں تکلیف پہنچانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کی خاموش حمایت سے بھی محروم ہو جایا جائے۔ ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اس مسئلے پر کچھ توجہ طلب امور یہ بھی ہیں :
    یہ قانون کا مسلمہ اصول ہے کہ جرم یا تو ثابت ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ، جب سپریم کورٹ کے نزدیک جرم ثابت ہی نہیں ہوا تو وہ سزا (خؤاہ وہ حد(سزائےموت )کی شکل میں ہو یا تعزیر(عمر قید یا جرمانہ ) ) کا نفاذ کیسے کر سکتی ہے ؟ قصور وار کا سزا سے بچ جانا بہتر ہے یا بے قصور کو سزا ملنا ؟کتنی عجیب بات ہے کہ ملزم صحت جرم سے انکار کر رہا ہو اور ہم اپنی سا ری طاقت اس بات پہ لگائیں کہ نہیں!!!!!! تم نے جرم (توہین ِرسالت ﷺ) کی ہے ؟ ہم اپنے طرز عمل(احتجاج کا بھونڈا طریقہ ) سے ثابت کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتیں (عیسائیوں اور قادیانیوں پر ہونے والے تشدد اور سماجی طرز عمل اس کا واضح ثبوت ہیں ) insecure ہیں ،غیر مسلموں سے ہمارے تعلق کی نوعیت حریف اور رقیب کی ہےیا داعی اور مدعو کی ؟ کیس میں جو وقوعہ ذکر کیا جاتا ہے میرے خیال میں اس میں ایک چیز missing ہے اور وہ یہ کی جب یہ جھگڑا ہو تو دونوں مسلما ن خواتین نے ایسی کیا باتیں کہیں کہ ملزمہ آسیہ مسیح ان کی ذات سے آگے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارکہ کے بارے میں نازیبا الفاظ (نعوذ باللہ من ذلک) کہنے لگی ایک امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملزمہ آسیہ نے اپنے مذہب کی توہین سن کر رد عمل اور ناسمجھی (کیونکہ وہ اللہ کے نبی ﷺ کی ذات اور مرتبے سے ناواقف ہے ) میں یہ غلط عمل کیا ہو ۔ مجھے کورٹ کا فیصلہ درست لگتا ہے کیونکہ ان کے فیصلے کی بنیاد ناکافی شہادتیں اور موجود گواہیوں میں واضح contradiction ہے۔ واللہ اعلم