بس ایک بات سمجھ لیں - ابو محمد مصعب

تمام باتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے بس ایک بات سمجھ لیں کہ ہم آج بھی آزاد نہیں ہیں۔ ہماری عدالتیں، ہماری معاشی، دفاعی و خارجہ پالیسیز کہیں اور بنتی ہیں، ہماری عدالتیں کہیں اور سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ جمہوریت کے نام پر عوام کو دھوکا دینے کا عمل ایک عرصے سے جاری ہے۔ میڈیا بھی آزاد نہیں ہے۔ جب چاہتے ہیں اس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ یہ ملک اب تک انھی کے پاس گروی ہے جن سے ہمیں نام نہاد آزادی ملی تھی۔ وہ جاتے جاتے، ملک کی باگ ڈور، اپنے وفادار ٹولے کے سپرد کر گئے اور اس بات کو یقینی بنا گئے کہ کبھی یہ اقتدار ان کی مرضی کے برخلاف کسی کو منتقل نہ ہو پائے۔ وہ پہلے بھی اس کی نگرانی کر رہے تھے، وہ اب بھی اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ہمارے اوپر، اپنے مطلب کے لیڈر مسلط کرتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں ’جمہوریت‘ کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ البتہ جمہوریت کا تڑکا ہو تو زیادہ مناسب ہے۔ ورنہ یہ ہدف وہ کئی دیگر ذرائع سے بھی حاصل کر لیتے ہیں۔

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ موجودہ ٹولے کو بائیس سال کی جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار ملا ہے، وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اگر ملکِ پاک میں حکومت واقعی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ملتی ہے تو معین قریشی اور شوکت عزیز کہاں سے آئے تھے، ان کی سیاسی جدوجہد کتنے دن کی تھی؟ صدر ایوب، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کون سی سیاسی جماعتوں کے سربراہ تھے جو گیارہ گیارہ سال کھینچ گئے۔

کون نہیں جانتا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد، امریکہ و برطانیہ، مل کر دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ہمارے بھی وہی مائی باپ ہیں۔ انہوں نے ہمیں جہاد کے نام پر روس سے بھڑا دیا، اور ہمارے ہی ہاتھوں اسے شکست سے دوچار کرکے ہم پر اپنا قبضہ مکمل کیا۔ انہوں نے جب تک چاہا، جہاد عظیم عمل رہا، جب چاہا اسے دہشت گردی قرار دے دیا۔ وہی طے کرتے ہیں کہ ہماری معیشت کن خطوط پر استوار ہونی چاہیے۔ وہی ہمارا قومی بیانیہ ترتیب دیتے ہیں اور ہمارے لائف اسٹائل کو اپنی چاہت کے مطابق ڈھال دیتے ہیں،
وہ ہمارے لیے جن افرد کو پسند کرتے ہیں، ہمارا حکمران بنا دیتے ہیں۔ پوری دنیا کے میڈیا میں انہیں ’مسیحا‘ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ کچرے کے ڈھیر سے انگارے اٹھا کر، بےعقلوں کی نگاہوں کے سامنے ہی ان کو ’’ہیرے‘‘ بنا کر بیچ جاتے ہیں۔

خود ہی ان کے ہاتھوں میں قرضوں اور امداد کے نام پر بڑی بڑی رقوم دیتے ہیں، پھر جب وہ کرپٹ بن جاتے ہیں تو انہیں اپنے یہاں پناہ بھی دے دیتے ہیں۔ ان کی لوٹی ہوئی دولت واپس انہی کے بینکوں میں چلی جاتی ہے، قرضہ قوم کے ذمہ باقی رہ جاتا ہے۔ جب چاہتے ہیں اپنی شرائط منوانے کے لیے قرضے روک لیتے ہیں اور جس طرح کی چاہیں، اپنے ان پٹھؤوں کے ذریعے پالیسیز بنوا لیتے ہیں۔

جب تک کوئی قوم اس دھوکے سے باہر نہیں آئے گی، یوں ہی ذلیل و خوار ہوتی رہے گی۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے جسے سمجھنے کے لیے بہت بڑا دماغ چاہیے، بلکہ نوشتہ دیوار ہے جو ہر دانا و بینا کو نظر آ رہا ہے۔