کوئی مجھے بتائے گا؟ زبیر منصوری

کوئی مجھے بتائے گا؟ جیلوں میں قید کتنی عیسائی عورتوں کے مقدمات کے لیے امریکہ برطانیہ اور پوپ تک نے دلچسپی دکھائی؟ کس کی رہائی پر برطانوی پارلیمنٹ نے کھڑے ہو کر خوشی کا اظہار کیا؟ کس کے لیے وفد وزیراعظم سے ملنے آئے؟

تو پھر مانو کہ آسیہ کچھ خاص ہے ان کے لیے اور وہ خاص یہ ہے کہ مغرب نے اپنے گھس بیٹھیوں کی مدد سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پیسے کے لیے اپنی ماؤں کو بیچ دینے والو! ہماری فالسے کے کھیت یا اینٹوں کے بھٹے میں کام کرنے والی آسیہ بھی تمھارے کروڑوں کمی کمین مسلمانوں سے زیادہ اہم ہے۔

انہوں نے ہم میں سے ہر ایک کو طعنہ دیا ہے کہ
او معمولی مسلمانو!
ہماری تہذیب دنیا پرغالب ہے اورتم سب بس چھوٹے بن کر دنیا میں رہنے والے ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمھاری عافیہ خود تمھارے لوگ پکڑ کر ہمارے حوالے ہی نہیں کرتے، بلکہ ہماری آسیہ بھی خود تمھارے حلق میں انگلی ڈال کر ہم نکال لے جاتے ہیں۔

انہوں نے قہقہ لگا کر یہ اعلان کیا ہے کہ مسئلہ اس معمولی آسیہ یا عافیہ یا ملالہ کا نہیں ہے، ایسی تو ہمارے شراب خانوں کے ٹوائلٹ صاف کرتی ہیں، بات ہماری غالب، طاقتور، دنیا پر اپنا ورلڈ آرڈر چلاتی تہذیب کا ہے اور اس طاقت کے نشے میں دُھت تہذیب کو ایک لمحہ کے لیے بھی گوارہ نہیں کہ اس کی بیٹی، نہیں بلکہ دراصل اس کی مذہبی و تہذیبی علامت بن جانے والی ایک معمولی لڑکی کو بھی کوئی کچھ کہے۔

انہوں نے ہمیں جتا دیا ہے کہ چیزیں اور انسان کچھ نہیں ہوتے، عزت و حمیت اور غیرت کی علامت بن جائیں تو پھر ہم اپنی تہذیب کے کتے کی بھی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔

لوگو!
بات ایک لڑکی کی نہیں، وہ مظلوم تھی تو اسے انصاف ملنا چاہیے تھا وہ گنہ گار ہے تو سزا۔ بات یہ ہے کہ اب وہ ایک علامت ہے، ایک Symbol ہے، اس بات کی کہ تم دنیا کے تختہ پر ذلیل و حقیر ہو، معمولی کیڑے مکوڑے ہو، ہم تمھارے اندر موجود اپنے لوگوں سے تم پر اپنی مرضی چلوا کر دکھا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قانون کو تم کیا جانو - صہیب جمال

اور پُرامن احتجاج کو غلط کہنے والو! ذرا بتاؤ تو اس قوم پر شدید گھٹن مسلط کر دینے والوں نے اور راستہ ہی کیا چھوڑا ہے؟ بتاؤ ناں کہ یہاں کون قابل اعتماد بچا ہے؟ انصاف کا کون سا در دستیاب اور معتبر ہے؟

یاد رکھنا کہ تم نے اپنی دانشوری اور کچھ نئی بات کہنے کے شوق میں پرامن احتجاج کے دروازے کو بھی بند کر دیا تو پھر پریشر ککرپھٹنے سے کوئی نہین روک سکے گا۔ شکر کرو کہ یہ گروہ معاشرے کے حبس کو احتجاج کا راستہ سجھا کر تمہاری گدیاں قائم رکھے ہوئے ہیں، تمھارے بھرم قائم ہیں ورنہ اوریا مقبول جان کے بقول تین سوا تین لاکھ پولیس اور دیگر فورسز کی مدد سے تم ڈیڑھ سو بڑے شہروں کے کروڑوں انسانوں کو کتنا کنٹرول کر سکتے ہو، ہمیں سب خبر ہے۔!

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.