فیصلے پر اٹھائے گئے نکات کا جواب حاضر ہے - اسامہ شفیق

سپریم کورٹ کا فیصلہ خود تضادات کا مجموعہ ہے۔ درست ثابت کرنے فیصلے کے دس نکات کو شیئر کیا جا رہا ہے، جو آپ نے ملاحظہ کیے ہوں گے۔ ان کا جواب حاضر ہے:

1- پاکستان کے قانون کے مطابق توہین رسالت کا مقدمہ کوئی فرد عام ایف آئی آر کی طرح درج نہیں کرواسکتا بلکہ اس کے لیے ریاست ایک تفتیشی افسر مقرر کرتی ہے جو کہ کم از کم ایس پی لیول کا افسر تفتیش کے بعد ہی مقدمہ کا اندراج کرے گا لہذا اس تفتیش میں چار، پانچ دن کا عرصہ لگنا ایک منطقی بات ہے۔

2- پانی پینے سے منع کرنے پر کیا کسی کو حق ہے کہ وہ رسول اللہ، قرآن اور امہات المومنین کی توہین کرے؟

3- اس پنچایت کو بلانے کا مقصد سزا نافذ کرنا نہیں تھا بلکہ اس بات کی تصدیق کرنا تھا کہ کیا واقعی یہ بات ہوئی ہے۔ اس میں مولانا صاحب کا اقدام بالکل درست اور شریعت کے عین مطابق ہے کیونکہ بلاوجہ کسی کو کسی مقدمہ میں ملوث کرنا بدترین ظلم ہے۔

4- اس کا جواب پوائنٹ ایک میں دیا ج اچکا ہے جبکہ نہ صرف سیشن کورٹ بلکہ لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت برقرار رکھی تھی۔

5- یاسمین سپریم کورٹ میں گواہی کے لیے پیش نہیں ہوئی. گواہی کے لیے پیش نہ ہونا اور گواہی سے منکر ہو جانا دو مختلف چیزیں ہیں، لہذا ان کو قانونی طور پر الگ الگ رکھا جائے۔ پاکستان میں بہت سے افراد دباؤ کی بنیاد پر بطور گواہ پیش نہیں ہوتے جبکہ ایک ایسا کیس کہ جس میں بین الاقوامی ادارے ملوث ہوں، ایک خاتون کو گواہی سے روکنا کیا مشکل امر ہے؟

6- واقعہ فالسے کے کھیت میں فالسے چنتے وقت پیش آیا لہذا یہ چار خواتین کے درمیان جھگڑا ہوا، جس پر آسیہ نے توہین رسالت کی، جب جھگڑا بڑھا تو باقی خواتین بھی آئیں، لیکن اس وقت وہ کھیت میں الگ الگ کام کر رہی تھیں، لہذا وہ جھگڑے کی تو گواہ ہیں لیکن توہین رسالت کا ارتکاب اس سے قبل ان چاروں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ ایف آئی آر میں واضح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آسیہ مسیح کیس کے عدالتی فیصلے کا تنقیدی جائزہ - ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

7- 295 C اور دیگر جرائم کا ارتکاب کرنے کے حوالے سے قانونی طور پر جائے وقوعہ کا ثابت ہونا اور وقوعہ کے وقت ان افراد کے موجودگی ضروری ہے۔ وقوعہ کھیت میں ہوا، پنچایت صرف اس کے تصدیق کے لیے بلائی گئی تھی، لہذا فیصلہ پنچایت کے بنیاد پر نہیں بلکہ کھیت میں کہے گئے الفاظ کی بنیاد پر ہوگا۔

8- اس کے تفتیش ایس پی رینک کے افسر نے ہی کی ہے، اس کا ذکر خود سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہے۔

9- سیشن اور ہائی کورٹ میں آسیہ کے وکلاء نے مکمل طور پر کیس لڑا ہے، یہ الزام لغو ہے۔

10- گواہ پیش نہیں ہوا۔ جبکہ آسیہ اپنے حق میں ایک بھی گواہ پیش نہ کرسکی حتی کہ اس کے شوہر نے بھی اس کی جانب سے بائبل پر حلف لینے سے انکار کر دیا۔

مغرب میں آسیہ کے رہائی پر شادیانے کیوں بج رہے ہیں؟ برطانوی پارلیمنٹ نے کیوں اس پر اظہار مسرت کیا؟ سب کچھ اب واضح ہے۔