قانون کو تم کیا جانو - صہیب جمال

عدالتی فیصلہ سر آنکھوں پر، معزز عدالت کے لیے اعزاز ہے، ایک معصوم عورت جس پر جھوٹا الزام تھا توہین رسالت کا، اس کی پھانسی کی سزا ختم کردی گئی ہے۔

اچھا اب سب چپ ہو جاؤ، بالکل خاموش، منہ بند کر لو۔ ہم اور تم ہر عدالتی فیصلے پر شور کرتے ہیں، ان پڑھ ہیں، جاہل ہیں، قانون کو جانتے نہیں شروع ہوجاتے ہیں۔

وہ کیا نام تھا ایک پاکستانی عورت کا جس کو امریکی فوجیوں کو مارنے کی نیت سے اسّی سال سزا ہوئی؟ ہاں یاد آیا "عافیہ صدیقی"، اس کو بھی قانون کے تحت حوالے کیا تھا نا، چپ چپ چپ، جاہلو چپ، تم کیا جانو قانون؟

ریمنڈ ڈیوس یاد ہے؟ ہاں جس نے تیسرے درجے کے تین پاکستانی شہری شکار کیے تھے، وہ بھی قانون تھا، اس کی رہائی بھی قانونی تھی، اس کی بیوی جاہل تھی جس نے عدالتی فیصلے پر خودکشی کرلی تھی۔ انصاف پر کوئی خودکشی کرتا ہے، بےوقوف کہیں کی؟

ممتاز قادری کی پھانسی پر کئی لاکھ جہلا نماز جنازہ پڑھتے ہیں، مسلک دیکھتے ہیں نہ فقہ، ان پڑھو ! حب رسول صلّی اللہ علیہ وسلم پر تم لوگ سارے اختلافات بھول جاتے ہو، دفع ہو۔

راؤ انوار نے نقیب محسود کو قانونی طور پر پولیس مقابلے میں مارا، یہ ایک پولیس افسر کا قانونی حق ہے۔ ماورائے عدالت کوئی قتل نہیں ہوتا، سب قانونی ہوتا ہے، اس کو بھی ضمانت عدالت نے دی ہے، منہ بند رکھو اور اس عمل پر بھی خاموش رہو، ضرورت نہیں احتجاج کرنے کی، بہت شور کرتے ہو۔

شاہ رخ جتوئی پر سے قتل کا مقدمہ ختم ہوا، وہ بھی قانونی ہے، عدالت کا فیصلہ ہے، ابھی وہ دہشت پھیلانے پر بند ہے، سب قانونی ہے، زیادہ بڑ بڑ نہیں کرو۔

اعظم سواتی نے پرچہ کرایا، غریب گرفتار ہوا، ان کی گرفتاری بھی قانونی ہے اور قانونی رہائی ہوگی۔ خان نے آئی جی کو برطرف کیا، یہ بھی قانونی ہے، وزیر اعظم کا حق ہے۔ خبردار جو اس پر بات کی، یہ جو ہم جہلا ہر بات میں جذباتی ہوجاتے ہیں، دراصل ہماری کم علمی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آسیہ مسیح کیس کے عدالتی فیصلے کا تنقیدی جائزہ - ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

رکشے والے کا چالان ہوتا ہے، وہ خودکشی کرتا ہے، یہ اس کی غلطی ہے۔ اس نے قانون توڑا، پولیس والے نے اس کو اپنے گھر میں بنا چالان نہیں پکڑایا ،ملک خداداد کا پرنٹ مہر لگا چالان دیا تھا، اور تم میں اس پر شور کرتے ہیں۔ سوجاؤ تکیہ میں منہ دے کر، آواز نہیں نکالنا۔

آسیہ کی سزا ختم ہوئی، عدالت کامیاب ہوئی، انصاف ہوگیا، ہونا بھی تھا کیونکہ یہ اس تھرڈ ورلڈ کے ملک پاکستان کا واحد کیس ہے جس کو امریکی پارلیمنٹ، امریکی وزیرخارجہ، برطانیہ کے ہاؤس میں ذکر کیا گیا۔ بی بی سی، سی این این، وائس آف امریکہ، فوکس نیوز، نیویارک ٹائمز اور بڑے بڑے اخبارات نے زبردست طریقے سے پیش کیا، ان کو ہمارے ملک میں انصاف دیکھنا ہے، اس کے لیے عاصمہ جہانگیر مرحومہ اور اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے عالمی انصاف پسندوں کی آواز پر لبیک کہا اور اپنی تمام تر کوشیشیں کیں، اچھا کیا انصاف ملنا چاہیے، انصاف کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔

ابتدائی تمام عدالتی کاروائیوں میں خود اس عورت نے تسلیم کیا، سارے گواہ اور ثبوت اس کے خلاف تھے، وہ اس وقت غلط تھے، عدالت نے فیصلہ کیا ہے، صحیح ہوگا، اوپر بتائے گئے سب فیصلے صحیح ہیں، یہ بھی صحیح ہے۔

اس وقت تمام چینلز کو لائیو کوریج سے روکا ہوا ہے، خبروں پر پابندی ہے، ایسا لگ رہا ہے عدالتی فیصلہ نہ ہوگیا بغاوت ہوگئی ہے، عدالتی فیصلوں کو انصاف کو عام کریں، یہ پابندی کیوں؟

توہین رسالت کے مجرموں کو عالمی کوریج، اور ملکی انصاف کی تشہیر پر پابندی، آفرین ہے آفرین ہے۔