عشق کی کیفیت سمجھیں - کاشف حفیظ صدیقی

عشق اور دلیل کے درمیان فاصلہ قطبین کا ہوتا ہے اور اس صورت میں کہ اگر یہ معاملہ حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہو تو کشمکش دوچند ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ انصاف کے معاملے میں سچ کا ساتھ نفع، نقصان، ذات، برادری سے بلند تر ہوتا ہے۔ علامہ اقبال کا جملہ کہ "ترکھان کا بیٹا بازی لے گیا" پس منظر میں ایک فلسفہ عشق رکھتا ہے۔
لازم ہے کہ دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

پاکستانی اعلی عدالتوں کے تاریخی رویے اور فیصلے اگر حق و انصاف پہ ہوتے تو لازمی تھا کہ زمین سے رزق ابلتا اور آسمان سے برستا۔ مگر بد قسمتی سے ایسا قطعی نہیں۔ گزشتہ تین سالوں کے فیصلے کسی ایجنڈے اور پالیسی کا حصہ ہیں۔ مجھے کہنے کی اجازت دیجیے کہ غریبوں کے گھر اعلی عدالت کے فیصلے کے مطابق مسمار کر دیے جاتے ہیں، مگر ارباب حل و عقد کے سینکڑوں کینال پہ مشتمل محل ریگولرائز کرنے کا حکم سامنے آتا ہے۔ یہ ہے انصاف میں وہ فرق جس کی بنیاد پہ ہم رحمت و برکت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ کئی دنوں کی بین الاقوامی سفارت کاری بتا رہی تھی کہ مختلف اقتصادی فورمز میں پابندی سے چھوٹ اور شرکت کا پروانہ آسیہ بی بی کیس سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ عدالت عالیہ کی باڈی لینگویج یکطرفہ تھی۔ اگر بین الاقوامی فنڈز کے حصول اور پابندیوں سے چھوٹ کے لیے اس طرح کا فیصلہ ناگزیر تھا تو کسی حکیمانہ فیصلے کے ذریعے عمرقید اور پھر درمیانی عرصے میں رہا کر کے روانہ کر دیناچاہیے تھا۔ بلاوجہ میں ملک کو چھوٹے سے طبقہ کےذریعے مشکلات میں دھکیلا گیا۔

آسیہ بی بی ملزمہ تھی یا نہیں، اس کا فیصلہ تین میں سے دو عدالتوں نے ملزمہ کے خلاف اور ایک نے حق میں دیا ہے۔ اس بات کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ
* مسئلہ فالسے کے کھیت میں ایک گلاس میں پانی پینے پر ہوا۔ مسلمان خواتین اس گلاس میں پانی نہیں پینا چاہتی تھیں جس میں آسیہ نے پی لیا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اہل اسلام اور خصوصا ایسے علاقے جہاں غیر مسلم بھی رہتے ہیں، میں تعلیم عام کرنی چاہیے کہ ان کے غیر مسلمانوں کے ساتھ بود و باش کے حوالے سے کیسے تعلق قائم رکھنے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں:   صف بندی ہوچکی، آپ کس طرف ہیں - طارق رحمان

* مسئلہ مقامی پنچایت میں گیا جہاں کئی لوگوں کے سامنے اقرار کیا۔ نہ یہ اقرار جھوٹ ہے نہ ہی لغو ہے۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ پنچایت قانونی ادارہ نہیں۔

* پرویز مشرف دور کی ترمیم کے مطابق یہ مقدمہ ایس پی لیول کے فرد کی موجودگی میں ہی درج ہو سکتا ہے۔ ایس پی صاحب نے آسیہ کے شوہر سے کہا کہ بائبل پہ ہاتھ رکھ کر کہو کہ آسیہ نے ایسا نہیں کہا تو وہ پیچھے ہٹ گیا۔

* کوئی یہ بھی نہ سمجھے کہ آسیہ قانونی طور پر بےآسرا تھی۔ اس کی پیشی پہ مختلف این جی اوز کے 10 سے زائد وکیل موصوفہ کی طرف سے پیش ہوئے۔

* جو قابل توجہ اور غور پہلو ہے وہ یہ ہے کہ یہ فعل ایک رویے کہ اشتعال کی وجہ سے پیش آیا۔ آسیہ ایک غریب عورت تھی۔ اس معاملےمیں علماء کو شامل کر کے کیس سیٹل کیا جاتا مگر گورنر پنجاب سلمان تاثیر ٹارزن بن کر پہنچ گئے جس سے سارا معاملہ خراب ہوا۔

* تضادات تو خود عدالتی فیصلے میں بھی ہیں کہ جس کو صحیفہ ہونے کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ پانچ دن کے بعد ایف آئی آر کا تو مطلب ہی ایک پروسیس کے بعد درج ہوئی۔

* آپ خواتین کے بیان پہ If and Buts لگا کر توہین مسیح کا بھی ایک نہایت بودا اینگل لے آئے

* آسیہ اور معاصیہ کا فرق بھی نہیں معلوم

عدالتی فیصلے کی صحت سے اتفاق کرنا یا نہ کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ امن و امان کو قائم رکھنا ہم سب کے لیے لازمی ہے، مگر "حکمت" کا استعمال بھی ضروری ہے۔ جو اہل اقتدار کا کام ہے۔ غریب کی دہاڑی پیٹرول اور گیس کی قیمت سے بھی مشروط ہے۔

میں پھر کہوں گا کہ عدالتی فیصلے کی تعریف اور اس کو شاندار کہنے سے قبل عشق کی کیفیت سمجھیں۔ اتنے تعلیم یافتہ نہ ہو جائیں کہ باوجود واضح اور جاندار نشانیوں کے کسی کی محبت یا اختلاف میں، ہر لفظ غلط کی تعریف و توصیف میں جت جائیں۔