چیف جسٹس کے دلائل کا جواب - محمد وقاص خان

سپریم کورٹ کا فیصلہ پیش نظر ہے۔ طولانی تمہید کے بعد ملک میں توہین رسالت کے قانون 295 c کے غلط استعمال کے حوالے سے فاضل چیف جسٹس مشال خان کیس کا حوالہ دیتے ہیں، حالاں کہ اس کیس میں سرے سے قانون استعمال ہوا ہی نہیں۔ وہاں ایسا نہیں ہوا کہ ملزم کو قانون کے حوالے کیا گیا ہو اور قانون نے غلط سزا دی ہو، وہاں تو بلکہ لوگ قانون سے مایوس ہوکر قانون کو ہاتھ میں لینے پر آمادہ ہوئے۔

اس کے بعد چیف جسٹس نے توہین رسالت کے الزام میں قید آسیہ مسیح کو بری کرنے کے لیے جو دلائل تحریر کیے ہیں، وہ اور ان جواب۔

1 - وقوعہ 14 جون 2009 کو پیش آیا لیکن اس کی ایف آئی آر پانچ دن بعد 19 جون کو درج کی گئی جس کی وجہ سے مقدمہ کمزور ہو گیا۔
جواب : اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ مدعیان نے جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے پہلے پورے معاملے کی تحقیق کی، اس دوران امن و امان برقرار رکھا اور پھر جب وقوعہ کا یقین ہوگیا تو ایف آئی آر درج کروائی۔ اسی فیصلے میں آگے چل کر فاضل جج ہائی کورٹ پر تنقید کرتے ہیں کہ ہائی کورٹ نے ملزمہ کی ریویو کی اپیل اس بنا پر خارج کردی کہ وہ گیارہ دن تاخیر سے جمع کرائی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس اہم کیس میں محض قانونی موشگافی کی وجہ سے اپیل مسترد نہیں ہونی چاہیے۔ یعنی ایک طرف تاخیر مقدمے کو مشکوک بنا رہی ہے اور دوسری طرف تاخیر محض ایک قانونی موشگافی ہے۔ اس پر ایک ضمنی سوال یہ کہ کیا قتل کے ہر قیدی کو یہ ریلیف دیا جانا چاہیے کہ اس کی وقت گزر جانے کے بعد جمع کرائی گئی اپیل بھی منظور کی جائے کیونکہ معاملہ ایک انسانی جان کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صف بندی ہوچکی، آپ کس طرف ہیں - طارق رحمان

2 - اس مقدمے میں عینی شاہد مافیہ بی بی اور اسما بی بی ہیں جنہوں نے گواہی دی کہ آسیہ بی بی نے ان کے سامنے توہین آمیز الفاظ ادا کیے۔ اس موقع پر 25 سے 35 کے درمیان خواتین موجود تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی گواہی دینے نہیں آیا۔
جواب : پاکستانی معاشرہ میں بالعموم اور دیہات میں بالخصوص خاتون عدالت کچہری سے گھبراتی ہیں۔ ان حالات میں ان دو کا آنا اور گواہی دینا اور آخر تک اس پر قائم رہنا بہت بڑی بات ہے۔

3 - دونوں خواتین گواہوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کے ساتھ ان کا پانی پلانے پر کوئی جھگڑا نہیں ہوا تھا جبکہ دیگر گواہوں نے تسلیم کیا کہ یہ جھگڑا ہوا تھا۔
جواب : ملزمہ ان دونوں خواتین سمیت کسی پر بھی کوئی سابقہ کدورت، کوئی جھگڑا، زمین مکان، کھیت کا کوئی تنازعہ ثابت نہیں کرسکی جس کی وجہ سے خواتین نے اس کو پھنسایا ہو اور انتقام لیا ہو، بلکہ ملزمہ کے بقول اس کی عمر 40 سال ہے لیکن اس دن تک ایسا کچھ نہیں ہوا، تو آخر اس دن اچانک وہ خواتین کیوں اس پر جھوٹا الزام لگائیں گی۔

4- مختلف گواہوں کے بیانات میں فرق تھا۔ جب آسیہ بی بی کا معاملہ پھیلا تو ایک عوامی اجتماع بلایا گیا جہاں آسیہ بی بی سے اقرار جرم کرایا گیا۔ یاد رہے کہ اسی اقرار جرم پر ہی ابتدائی عدالت نے ملزمہ کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس لیے یہ اجتماع بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک گواہ نے کہا کہ اس اجتماع میں 100 افراد شریک تھے، دوسرے نے کہا کہ اس میں 1000 افراد شریک تھے، تیسرے گواہ نے یہ تعداد 2000 بتائی جبکہ چوتھے نے 200 سے 250 کے اعدادوشمار دیے۔ ان بیانات کے فرق کی وجہ سے شکوک پیدا ہوئے اور دنیا کے ہر قانون کے مطابق شک کا فائدہ ملزم کو ملتا ہے۔
جواب : یہ سب سے مضحکہ خیز اعتراض ہے۔ کسی بھی اجتماع میں آپ تین مختلف افراد سے پوچھیں کہ اندازے سے بتاؤ کتنے لوگ موجود ہیں تو تینوں مختلف تعداد بتائیں گے۔ وہ تو دیہاتی خواتین تھیں، ان کے لیے درست اندازہ لگانا مشکل تھا، بلکہ ایک لحاظ سے یہ خواتین کی صداقت کی علامت ہے۔ اگر کوئی ان کو سکھاتا پڑھاتا تو وہ ایک ہی تعداد بتاتیں۔ یہ ثابت ہے اور ملزمہ کا اعتراف موجود ہے کہ اجتماع میں اس نے اقرار کیا۔ اب یہ بےمعنی ہے کہ لوگ کتنے تھے، وقت کون سا تھا، مقام کیا تھا، اور ملزمہ پیدل آئی تھی یا سوار۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کی دانشمندانہ حکمتِ عملی اور لبرلز کی دُہائی - مفتی منیب الرحمن

5. ملزمہ سے اعتراف جرم ایک ایسے مجمع کے سامنے کرایا گیا جس میں سینکڑوں لوگ شامل تھے اور جو اسے مارنے پر تلے ہوئے تھے۔ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ اسے نہ ہی رضاکارانہ بیان قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قانون کے مطابق سزائے موت جیسی انتہائی سزا کے لیے ایسا بیان قابل قبول ہو سکتا ہے۔
جواب : یہ تو مجمع کی قانون پسندی کی دلیل ہے کہ ملزمہ اپنے پاؤں پر آئی اور اعتراف کے بعد گھر چلی گئی۔ اگر مجمع قتل کے درپے ہوتا تو مشال والا حال ہوتا۔