سی پیک، چند اہم سوالات - آصف محمود

عمران خان چین کے اہم ترین دورے پر روانہ ہونے والے ہیں ۔ اس موقع پر لازم ہے ہم سی پیک کے حوالے سے چند سوالات پر سنجیدگی سے غور فرما لیں ۔

نواز حکومت نے سی پیک پر کچھ معاملات کیے۔ عمران خان کی حکومت آئی تو انہیں محسوس ہوا کچھ چیزوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی طرف سے نظر ثانی کی بات کی گئی تو چین نے خوش دلی سے اسے تسلیم کر لیا ۔ فرض کریں چین یہ کہتا کہ یہ معاہدے ہو چکے ہیں اور اب ان پر نظر ثانی نہیں ہو سکتی تو ذرا تصور کیجیے ہم کہاں کھڑے ہوتے۔ ہمارے پاس دو ہی راستے ہوتے ۔ اول : ہم ان معاہدوں کے بوجھ تلے دب کر رہ جاتے۔ دوم : ہم ان معاہدوں کو منسوخ کر دیتے اور چین جیسے دوست ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو داؤ پر لگا دیتے اور پھر اس کے سفارتی اور معاشی نتائج بھگتتے رہتے ۔ ہمیں یہ بات سمجھنا ہو گی کہ سی پیک کے حوالے سے معاملات کو ازسر نو دیکھنے کا یہ ہمارے پاس آخری موقع ہے ۔ اگر اس وقت ہم نے بہترین تیاری کے ساتھ معاملات طے نہ کیے تو ضروری نہیں کہ چند سال بعد ہم ایک بار پھر نظر ثانی کی بات کریں اور چین اسی خوشدلی کے ساتھ اس پر راضی ہو جائے۔ خود کو اور اپنے بہترین دوست کو بار بار امتحان میں ڈالنے سے بچاناہے تو اس دفعہ بہترین تیاری کے ساتھ معاملات کو حتمی طور پر نبٹانا ہو گا ۔ اس ضمن میں چند سوالات بہت اہم ہیں۔

1 ۔ سی پیک میں 46 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہے ۔ ان میں 35 بلین ڈالر صرف انرجی کے لیے مختص ہیں اور انفرا سٹرکچر کے لیے 11 بلین ڈالر ہیں ۔ پہلا سوال جو بطور قوم ہمارے پیش نظر ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ کیا وجہ ہے انرجی کے لیے اتنی خطیر رقم رکھنے کے باوجود ہم ڈیم بنانے کے قابل نہیں اور ہمیں ڈیم کے لیے عطیات کی اپیل کرنا پڑ رہی ہے ؟ اس میں کیا حکمت تھی کہ ہم نے انرجی کے حصول کے لیے ڈیم کی بجائے کول پراجیکٹس کو اتنی وارفتگی کے عالم میں ترجیح دی ؟ کول پراجیکٹس اگر وقتی طور پر بہت ضروری تھے توہم توازن کیوں نہ برقرار رکھ سکے ؟ اتنی خطیر رقم کا ایک حصہ کسی ڈیم کے لیے مختص کیوں نہ ہو سکا ؟ ہماری حکمت عملی میں یہ خلاکیوں رہ گیا ؟ کیا ہمیں کوئی عقلمند کہے گا کہ ہم نے اتنا بڑا معاہدہ چین کے ساتھ کیا اور اس معاہدے میں ہم نے انرجی کی ضروریات کے لیے 35 بلین ڈالر کی غیر معمولی رقم رکھی لیکن پھر بھی ہم ایک ڈیم بنانے کے لیے چندہ مانگ رہے ہیں ؟

2 ۔ دوسرا سوال جس پر غور کرنے کی بہت ضرورت ہے یہ ہے کہ سی پیک یعنی اکنامک کاریڈورمیں ہم صرف ’’ کاریڈور‘‘ ہی ہیں یا ہمارا ’’ اکنامک‘‘ سے بھی کوئی تعلق ہے؟ چین پٹرولیم مصنوعات میں دنیا کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس کا 80 فیصد تیل آبنائے ملاکا کے راستے چین پہنچتا ہے جو قریبا 10 ہزار کلومیٹر بنتا ہے ۔ سی پیک کے ذریعے کاشغر سے گوادر کا سفر 3218 کلومیٹر ہے ۔ چین کا تو اس میں غیر معمولی فائدہ ہے ۔ ہم نے اسے سپلائی اور دیگر تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ڈویژن فوج بھی کھڑی کر دی ہے اور پندرہ ہزار جوان صرف اس راستے کو محفوظ بنانے کے لیے مستعد ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اتنا کچھ کرنے کے بعد کیا ہم نے اپنے کاروبار کے امکانات کو بڑھانے کے لیے بھی کچھ سوچا ہے ؟ ہمارا تاجر اور ہمارا سرمایہ کار کہاں کھڑا ہے ؟ کیا اسے کسی نے کچھ بتانے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ سی پیک کے بعد اس کے لیے امکانات کون کون سے پیدا ہونے والے ہیں اور چیلنجز کس طرح کے ہیں ؟ کیا کوئی تیاری ہے کہ ہم نے اس سے کیا فائدہ حاصل کرنا ہے اور دنیا کے کس کس ملک ملک میں ہماری کس کس چیز کو کوئی مارکیٹ مل سکتی ہے ؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ اس سلسلے میں چین سے کوئی بات کرنا ہے یا نہیں؟

3 ۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا اس معاہدے میں اپنے سرمایہ دار اور تاجر کے لیے سازگار ماحول موجود ہے یا کچھ ایسی چیزیں ہیں جن پر چین سے بات کرنے کی ضرورت ہے؟ اپنے اور چین کے حالات آپ کے سامنے ہیں ۔ چین معاشی طور پر ایک قوت ہے جب کہ ہمارا تاجر بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔ ہمیں اپنے تاجر اور اپنی مقامی صنعت کو بچانا ہے کہیں ایسا نہ ہو اس لہر میں وہ بہہ جائیں ۔ ہم نے چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو تو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا ہے ۔ کیا ہمیں یہی سہولت اپنے سرمایہ کار کو بھی نہیں دینی چاہیے۔ جب پاکستانی تاجر کو ٹیکس دینا ہو گا اور چینی کمپنیاں ٹیکس سے مستثنی ہوں گی تو ہماری صنعت کیسے مقابلہ کر سکے گی؟مسابقت ہی موجود نہ ہو تو مقامی صنعت تو ختم ہو جائے گی۔

4 ۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ اس ساری سرگرمی میں ہمارے سماج کو کیا ملے گا اور ابھی تک کیا ملا ؟ اعدادو شمار کی بات اپنی جگہ ، زمینی حقیقت یہ ہے کہ سوائے چینی زبان کے کورسز کے ابھی کوئی سرگرمی نظر نہیں آ رہی ۔ کمپنیاں چین کی، افرادی قوت ان کی ، سازوسامان وہاں سے ، سوال یہ ہے کہ ہمارے لیے امکانات کا عالم کیا ہے؟ چین ہماری مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری پر بھی تیار نہیں ۔ انٹر نیشنل بڈنگ سے بھی اس نے استثنی مانگ رکھا ہے جو پروکیورمنٹ قوانین سے متصادم ہے ۔ یعنی جہاں چینی سرمایہ کاری آئے گی وہاں ٹھیکہ چینی کمپنی ہی کو ملے گا ۔ہمارے سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ درست شرط ہے اور کیا چین سے اس پر بات کی جانی چاہیے یا نہیں؟

مغرب کی بے چینی سمجھ میں آتی ہے۔ چینی کنسورشیم پاکستان سٹاک ایکسچینج کے 40 فیصد شیئر لے چکا ہے اور آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک وغیرہ کا کردار دھیرے دھیرے سمٹ رہا ہےْ ۔ ایسے میں ہمیں زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ معاملہ صرف یہ نہیں کہ چین ہمارا اچھا دوست ہے ۔ معاملہ یہ بھی ہے کہ ہم نے یہ دوستی برقرار رکھنی ہے۔ اس لیے آج وقت ہے سی پیک میں جہاں جہاں ضروری ہے چین سے بات کر لیجیے اور اپنے لیے امکانات پیدا کر لیجیے۔ ایسا نہ ہو کل ہمیں محسوس ہو فلاں فلاں کام غلط ہو گیا اور یہ معاہدہ ہمیں بوجھ لگنے لگے۔ ضروری نہیں کہ چین بار بار آپ کو نظر ثانی کی اجازت دے دے ۔ پائیدار دوستی کے لیے ضروری ہے ایسا بندھن تشکیل دیا جائے جو کسی کے لیے بھی بوجھ نہ ہو۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.