نیپالی مسجد اور بیگم حضرت محل - محمد عرفان ندیم

یہ نیپال میں ہمارا پہلا جمعہ تھا، ہم جس علاقے میں ٹھہرے ہوئے تھے یہ دھلی خیل کہلاتا ہے، یہ کھٹمنڈو سے تیس کلو میٹر دور ہے اور یہاں آس پاس کوئی مسجد نہیں تھی۔ کبھی کبھار کوئی مسلمان مل جاتا تھا، میں اکثر ملنے والے مسلمان بھائیوں سے پوچھتا تھا آپ نماز کہاں پڑھتے ہیں تو ان کا جواب ہوتا تھا گھر میں۔ جمعے کے لیے یہ لوگ دس پندرہ کلومیٹر دور کسی مسجد میں چلے جاتے ہیںلیکن نماز کا اہتمام گھر میں ہی ہوتا تھا۔ یہاں کے مسلمانوں سے ملنے کے بعد اندازہ ہوا کہ گھر میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہم ایک اسلامی ملک اور اسلامی معاشرے میں رہ رہے ہیں اوراس کے باوجود ہماری نمازوں کا یہ حال ہے، ایک ہندو اور سیکولر معاشرے میں رہنے والے مسلمان سے آپ کیا توقع کر سکتے ہیں، الا ماشاء اللہ۔ جہاں ہر گلی محلے میں مسجدوں کے بجائے مندر ہوں اور منکرات کے وسیع مواقع موجود ہوں وہاں اپنے ایمان کو بچا کر رکھنا اور فرائض کی پابندی کرناواقعی بڑی بات ہے۔ یہاں تبلیغ کی اشد ضرورت ہے، لوگ بس نام کے مسلمان ہیں اور اپنی اصل سے کٹ گئے ہیں۔ کاش تبلیغی جماعت کے احباب اس ملک کی طرف بھی توجہ دیں اور وہاں کے مسلمانوں کا رشتہ دوبارہ اللہ سے جوڑ دیں۔ عجیب اتفاق دیکھیں کہ نیپال جانے سے قبل رمضان میں ہمارے محلے کی مسجد میں ایک جماعت آئی ہوئی تھی، ان سے گفتگو ہوئی تو پتا چلا یہ سب دوست عید کے بعد جولائی کے آغاز میں بسلسلہ تبلیغ نیپال جا رہے ہیں، پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ کھٹمنڈو کی نیپالی مسجد میں ٹھہریں گے۔ میں نے بھی اپنے پروگرام کی تفصیل بتائی اور طے ہوا کہ کھٹمنڈو میں ملاقات ہوگی لیکن جب ہم جمعے کے لیے نیپالی مسجد گئے تو ڈھونڈنے کے باوجود وہ احباب مجھے نہ مل سکے، شاید قدرت کو یہی منظور تھا۔

جمعے کے دن لیکچر نہیں تھے، پروگرام طے تھا کہ یہاں سے سیدھا نیپالی مسجد جایا جائے گا، ڈیڑھ بجے نماز جمعہ ادا کی جائے گی، اس کے بعد تفریحی مقامات کی سیر ہوگی اور رات کھٹمنڈو کے ایک ریستوران میں کھانا کھانے کے بعد واپس ہوٹل پہنچا جائے گا۔ انتظامیہ نے صبح گیارہ بجے بسوں کے پاس اکٹھے ہونے کا وقت دیا تھا، تمام شرکاء وقت پر بسوں کے پاس پہنچ چکے تھے، دو اے سی بسوں پر مشتمل قافلہ کھٹمنڈو کی نیپالی مسجد کی طرف رواں دواں تھا۔ سرسبز وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں اور جگہ جگہ نصب بتوں اور مجسموں کو دیکھتے ہوئے ہم ساڑھے بارہ بجے کھٹمنڈو پہنچ چکے تھے۔ راستے میں ٹریفک بہت جام رہا، یہاں کی سڑکیں بہت تنگ اور ٹریفک زیادہ تھی، تقریبا پانچ یا سات منٹ تک ایک اشارے پر رکنا پڑتا تھا۔گاڑیوں کا دھواں، شور شرابا، بے ہنگم ٹریفک، ہارن کی آوازیں، موٹر سائیکل سواروں کی پھرتیاں اور پیدل چلنے والوں کی جلد بازی، لگتا تھا جیسے ہم لاہور یا کراچی کے کسی پرانے چوک میں پھنس گئے ہیں۔ بارش کی کثرت کی وجہ سے سڑک کنارے پانی اور کیچڑ معمول کی بات تھی۔ رہی سہی کسر فٹ پاتھ پر بیٹھے دکانداروں نے پوری کر دی تھی۔ یہ کھٹمنڈو تھا، بالکل لاہور کے لاری اڈے، اردو بازار، مزنگ یا ملتان چونگی جیسا۔ بہرحال ہم کھٹمنڈو پہنچ چکے تھے۔ ہماری بسیں پہلے کشمیری مسجد کے پاس رکیں، انتظامیہ نے ڈرائیور کو بتایا کہ ہماری منزل آگے ہے، چند ہی فرلانگ پر نیپالی مسجد تھی اور یہی ہماری منزل تھی۔

مسلکی اختلافات نے یہاں بھی مسلمانوں کی جان نہیں چھوڑی، کشمیری مسجد بریلوی مسلک اور نیپالی مسجد دیوبندی مسلک کی ترجمان سمجھی جاتی ہے۔ کشمیری مسجد نسبتا چھوٹی لیکن خوبصورت ہے جبکہ نیپالی مسجد بڑی اور نیپال کی مرکزی مسجد مانی جاتی ہے۔ یہ مسجد نیپال کے مسلمانوں کا اہم مرکز ہے، رؤیت ہلال سمیت اہم دینی معاملات کا اعلان یہیں سے ہوتا ہے۔ مسجد کے ساتھ دار الافتاء ہے جہاں مسلمان اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے ہیں۔ دو مفتی حضرات یہاں موجود تھے، ایک سے ملاقات ہوئی، یہ دارالعلوم دیوبند کے فارغ تھے۔ کراچی کے دینی مدارس میں بھی کچھ عرصہ گزاراتھا، ان سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ دار الافتا ء میں روایتی کتب افتاء موجود تھیں، زیادہ کتب اردو اور عربی ماخذات پر مشتمل تھیں۔ یہاں کے امام ندو ۃالعلما لکھنو کے فارغ التحصیل تھے۔جمعے کی نماز میں لوگوں کا جم غفیر تھا، اکثر انڈین مسلمان تھے جو یہاں کاروبار کے سلسلے میں مقیم تھے۔

یہ مسجد تبلیغی مرکز کے طور پر بھی جانی جاتی ہے اور پاکستان سے اکثر جماعتیں یہاں آتی جاتی رہتی ہیں۔ ساتھ ہی ایک مدرسہ ہے جہاں حفظ اور سکول کی تعلیم کا اہتمام موجود ہے۔ مجھے پاکستانی دینی مدارس اور اس مسجد و مدرسے میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آیا۔ انڈین دوست بھی ہمارے ساتھ موجود تھے، ان سے جو گفتگو ہوئی اس سے بھی یہی اندازہ ہوا کہ ان کے ہاں بھی تقریبا یہی روایت ہے۔ دراصل اس جنوبی ایشیائی خطے کے مسلم کلچر میں کوئی خاص فرق نہیں۔ مسجد کا ذریعہ آمدن اس سے ملحق ایک وسیع پلازہ اور مارکیٹ ہے جو مسجد کی ملکیت ہے اور اس سے حاصل ہونے والا کرایہ مسجد اور عملے کی ضروریات کے لیے کفایت کر جاتا ہے۔ یہ مسجد تین منزلوں پر محیط تھی اور جمعے کے وقت تینوں منزلیں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں، عام نماز میں تو نہیں لیکن کم از کم جمعے کے لیے آس پاس کے سب مسلمان یہاں اکھٹے ہوتے ہیں اور مل کر نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ جمعہ کے بعد چند مقامی احباب سے ملاقات ہوئی اور میں نے بتایا میں پاکستان سے ہوں تو مجھے محبت کی نظر سے دیکھا گیا۔ دنیا بھر میں دین کا جو کام پاکستان میں ہو رہا ہے، دینی مدارس یا تبلیغی جماعت کی شکل میں دنیا بھر کے مسلمان اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ امام صاحب نے تقریبا پونا گھنٹہ تقریر کی، یہ روایتی تقریر تھی، بالکل جیسے ہمارے یہاں کی مساجد میں ہوتی ہے، اس کے بعد خطبہ اور ڈیڑھ بجے نماز جمعہ ادا کی گئی۔ نماز جمعہ کے بعد امام صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ ہمیں دار الافتاء لے گئے، کچھ دیر وہاں بیٹھے مختلف موضوعات پر گپ شپ ہوئی اور ان سے رخصت چاہی۔ مسجد کی ایک طرف ذرا ہٹ کر احاطے میں ایک قبر بنی ہوئی تھی، یہ قبر حضرت بیگم محل کی تھی، کہاجاتا ہے کہ مسجد کی یہ ساری جگہ بیگم حضرت محل نے دی تھی اور اب وہ اسی مسجد کے احاطے میں مدفون ہیں۔

بیگم حضرت محل کون تھیں؟ یہ جاننے کے لیے آپ کو ماضی میں جانا پڑے گا۔ دہلی میں مغل سلطنت کمزور ہوجانے کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط بڑھتا جا رہا تھا۔ انگریز ہندوستان میں تجارت کرنے آئے تھے لیکن اب وہ پورے ہندوستان کو للچائی نظروں سے دیکھنے لگے تھے۔ ہندوستان کی کوئی ریاست ان کی ہوس سے محفوظ نہیں تھی، ان میں سب سے اہم اودھ کی ریاست تھی، اودھ کا دارالسلطنت لکھنو تھا۔ لکھنو تہذیب کے علاوہ تجارت کا بھی بہت بڑا مرکز تھا، یہ ریاست کہنے کو آزاد تھی مگر یہاں کی سیاست پر بھی انگریز کی چھاپ بڑی گہری تھی۔ ان کا ایک ریزیڈنٹ لکھنو میں موجود رہتا تھا اور اس ریزیڈنٹ کی مرضی کے خلاف اودھ کے حاکم کچھ نہیں کرسکتے تھے، ان میں اتنا حوصلہ نہیں ہو تا تھا کہ وہ انگریز کی مرضی کے خلاف کوئی حکم جاری کر سکیں۔ اودھ کی تاریخ میں صرف نواب شجاع الدولہ نے انگریزوں کے سامنے سرجھکانے سے انکار کر دیا تھا اور میدان جنگ میں ان کا مقابلہ کیا تھا۔شجاع الدولہ بہت بہادراور طاقت ور نواب ، عمدہ سپاہی اور لائق سپہ سالار تھے۔ان کی انگریزوں کے ساتھ کئی دفعہ مڈھ بھیڑ ہوئی لیکن بدقسمتی سے وہ کبھی جیت نہ سکے۔ شجاع الدولہ کے بعد اودھ کے تخت پر سات حاکم آئے مگر انگریز سے ٹکرانے کی ہمت کسی میں نہ ہوئی اور وہ کٹھ پتلیوں کی طرح انگریزکے اشاروں پرناچتے رہے۔ ایک عرصے کے بعد انگریزوں کو یقین ہوچکا تھا کہ اودھ ان کے قبضے میں ہے اور اب کوئی شجاع الدولہ ان کو للکارنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اس کے باوجود وہ اودھ کے دربار پرکڑی نظررکھتے تھے اور اگر کہیں مخالفت کی چنگاری نظر آتی تو اسے فوراً بجھا دیتے تھے۔ لیکن تقدیرکا اپنا فیصلہ تھا، انگریزوں کی اتنی کڑی نگرانی کے باوجود وہ لکھنوکے شاہی محلات میں پلنے والی ایک لڑکی پر نظرنہ رکھ سکے۔ اور اگر وہ لڑکی ان کی نظر میں آبھی جاتی تووہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک معمولی لڑکی ان کے راستے میں کبھی دیوار بن کرکھڑی ہوجائے گی۔

تاریخ نے اس لڑکی کوکئی نام دیے مثلا محمدی خانم، مہک پری، افتخار النساء، راج ماتا، جناب عالیہ، لیکن اس کا سب سے مشہور نام بیگم حضرت محل تھا۔ اودھ کے آخری بادشاہ سلطان عالم واجد علی شاہ سے پہلے ان کے والد امجد علی شاہ اودھ کے بادشاہ تھے، شہزادے واجد علی کو پڑھنے لکھنے کے علاوہ فنون لطیفہ سے بھی دل چسپی تھی۔ اس نے دربار کے اندر پری خانہ کے نام سے ایک اسکول قائم کیا ہوا تھا جس میں ناچ گانے کی تعلیم دی جاتی تھی۔ پری خانے میں تعلیم پانے والی لڑکیاں پریاں کہلاتی تھیں۔ ایک دن اٹھارہ سالہ لڑکی محمدی خانم اس اسکول میں لائی گئی، شہزادے نے اس کانام مہک پری رکھا۔ کچھ دن تک مہک پری ناچ گانا سیکھتی رہی لیکن پھر شہزادے نے اسے بیوی بنا کر پری خانے سے اٹھالیا۔ اس کا نام افتخار النساء رکھا، اللہ نے اس سے ایک بچہ دیا، باپ نے اس کانام رمضان علی میرزا رکھا اور دادا نے اس کو برجیس قدر کا خطاب دیا۔ باپ کے مرنے کے بعد 1847ء میں واجد علی شاہ بادشاہ ہوئے تو انھوں نے افتخارالنساء کوحضرت محل کاخطاب دیا۔ واجد علی شاہ کی بہت سی بیگمات تھیں، یہ سب آپس میں الجھتی رہتی تھیں اور بادشاہ کو بھی پریشان کرتی تھیں۔ بادشاہ نے اپنی کتابوں میں جگہ جگہ ان بیگمات کی شکایتیں کی ہیں لیکن ان شکایتوں میں حضرت محل کا نام نہیں آتا۔ حضرت محل بیگموں کے جھگڑوں سے الگ تھلگ ننھے برجیس قدر کی پرورش میں لگی رہتی تھیں۔ وہ دوسری بیگمات کی طرح محل سے باہر کی دنیا سے بے خبر نہیں تھیں اور خوب جانتی تھیں کہ واجد علی شاہ اور اودھ کی حکومت کس خطرے میں گھر ی ہوئی ہے۔ یہ خطرہ انگریزوں کا تھا، اودھ کے دوسرے بادشاہوں کی طرح واجد علی شاہ بھی انگریزوں کے سامنے بے بس تھے۔ انھوں نے حتی الامکان کوشش کی کہ انگریزوں کی منشاء کے خلاف نہ چلیں لیکن انگریز چاہتے تھے کہ وہ کھلم کھلا اودھ پر قبضہ کرلیں۔ اس غرض سے انھوں نے واجد علی شاہ کے خلاف الزامات کی ایک لمبی فہرست تیار کی اور فروری 1856ء میں بادشاہ سے کہہ دیا کہ آپ حکومت کا انتظام نہیں چلا سکتے، اس لیے آپ کو اودھ حکومت سے دستبردار کیا جاتا ہے۔ واجد علی شاہ نے ان سب الزامات کے جوابات دیے لیکن انگریز اودھ پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر چکے تھے۔ واجدعلی شاہ سمجھتے تھے کہ اگر اس وقت وہ تخت چھوڑنے سے انکار کریں گے تو لڑائی کی نوبت آجائے گی اور لڑائی میں وہ انگریزوں سے جیت نہیں سکیں گے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر لڑائی ہوئی تو اس سے لکھنو تباہ ہوجائے گا، اس لیے انہوں نے نہ لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

کچھ ہی عرصہ بعد اودھ پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوگئی۔ واجد علی شاہ نے ارادہ کیا کہ لندن جا کر انگریز پارلیمنٹ کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر کے سلطنت کی واپسی کی کوشش کرے۔ اس غرض سے وہ لکھنو سے روانہ ہوئے، بادشاہ کے ساتھ اس ناانصافی اور لکھنو سے ان کے چلے جانے کا رعایا کو بہت دکھ ہوا اور کئی دنوں تک نظموں اور گیتوں میں ان کی واپسی کی دعائیں کی جاتی رہیں، لیکن سلطان عالم واجد علی شاہ کو پھر کبھی لکھنو آنا نصیب نہ ہوا۔ لکھنوسے روانہ ہوتے وقت بادشاہ نے اپنی بیگمات کوعام اجازت دے دی تھی کہ وہ محل چھوڑ کرجانا چاہیں تو جاسکتی ہیں، چنانچہ بہت سی بیگمات محل چھوڑ کرچلی گئیں۔ کچھ نے محل سے جانا وفاداری کے خلاف سمجھا اور کہیں نہیں گئیں، ان میں حضرت محل بھی تھیں۔ واجدعلی شاہ کلکتہ میں جا کر ٹھہر ے، ادھر لکھنومیں انگریزوں کی حکومت تو ہوگئی مگر ایسامعلوم ہوتا تھا کہ شہر بھر میں اندر ہی اندر آگ سلگ رہی ہے۔ یہ آگ صرف لکھنوہی میں نہیں بلکہ ہندوستان بھر میں سلگ رہی تھی، یہ انگریزوں کے خلاف بغاوت کی آگ تھی۔ یہ آگ دھیرے دھیرے سلگتی رہی اور بالآخر میرٹھ میں یہ آگ شعلہ بن کر بھڑک اٹھی، میرٹھ کے ہندوستانی سپاہیوں نے انگریز ی فوج کے خلاف بغاوت کردی اور یہاں سے 1857ء کی جنگ آزادی کا آغاز ہوا۔ حضرت محل دیکھ رہی تھیں کہ جنگ کے شعلے میرٹھ، دہلی وغیرہ سے ہوتے ہوئے لکھنو کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ قریب ہے کہ لکھنو بھی انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا لیکن بیگم حضرت محل ابھی خاموشی کے ساتھ حالات کا مشاہدہ کر رہی تھیں۔ 30 مئی کو لکھنومیں بھی جنگ کاشعلہ بھڑک اٹھا، جنگ کے لیے ریاست اودھ کا کوئی بادشاہ نہ تھا لہذا طے ہوا کہ شاہی خاندان میں سے کسی کو بادشاہ بنایا جائے۔ اس وقت بادشاہ بننا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ سب کی نظریں برجیس قدر پر آ کر ٹھہریں اور بیگم حضرت محل اس پر تیار ہوگئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ نام ان کے بیٹے کا چلے گا مگر کام خود انھیں کرنا ہوگا۔ اس وقت شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ حضرت محل اس بوجھ کو اٹھا سکیں گی لیکن تاریخ نے دیکھا کہ جس لڑکی نے محل میں ناز و نعم سے زندگی شروع کی تھی وہی اب راج ماتا بن کرلڑائی کے میدان میںپ ہاڑ بن کر کھڑی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے اس کی ساری زندگی تلواروں سے کھیلتے گزری ہو۔ ریاست اودھ میں منادی کرا دی گئی کہ برجیس قدر ہمارا بادشاہ ہے اور ہم نے حکومت واپس لے لی ہے۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کے زمانہ میں شاہی فوج اور دوسرے محکموں کے جن ملازموں کونکال دیا تھا وہ سب واپس آجائیں، اس کے علاوہ اودھ کے زمینداروں اور تعلقہ داروں کوبھی مدد کے لیے بلایا گیا۔ دیکھتے دیکھتے ایک بڑی فوج تیار ہوگئی۔ ریزیڈنٹ کے رہنے کی عمارت جوبیلی گارد کہلاتی تھی اس کوگھیر لیا گیا۔ حضرت محل کی فوج نے بڑی تیزی سے کامیابیاں حاصل کرنا شروع کیں، ا نگریز افسر سر ہنر ی لارنس نے گورنر کو خط لکھا: ’’تمام ضلعوں میں حکومت ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے اور صورتحال روزبروز بگڑتی جا رہی ہے۔ سارے تعلق داروں نے ہتھیاراٹھا لیے ہیں اور بعضوں نے دیہاتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔‘‘

حضرت محل کو بیک وقت دو لڑائیاں لڑنا پڑ رہی تھیں۔ ایک میدان جنگ میں او ر دوسری محل کے اندر، دوسری بیگمات کا کہنا تھا اگربیلی گارد کے انگریزوں کی جان لی گئی تو کلکتہ میں واجد علی شاہ اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیا جائے گا۔ محل کے اندر کی عورتوں میں سے کچھ کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ انگریزوں سے ملی ہوئی ہیں اور یہاں کی خبریں وہاں پہنچاتی ہیں مگر حضرت محل دونوں میدانوں میں بڑی بہادری کے ساتھ جمی رہیں۔ کچھ دن بعد دہلی میں بہادرشاہ ظفر کے پاس اودھ کی طرف سے سفیر بھیجا گیا، برجیس قدر کے جواب میں بادشاہ نے لکھا:ــ ’’فرزندارجمند مرزا برجیس قدر شاہ اودھ آفریں ہے کہ چھوٹے سے سن میں تم نے بڑا کام کیا، تمہارے واسطے مہر خطاب بھیجی جائے گی۔ خاطر جمع رکھو، جوملک قدیم تمہارا تھا، اس سے زیادہ عطاہوگا۔‘‘ یہ سفیر ابھی وہیں تھا کہ دہلی پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ سفیر بڑی مشکل سے جان بچا کر لکھنو واپس آیا اور حضرت محل کو بتایا کہ دہلی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ پھر خبر آئی کہ کان پور میں ہندوستانیوں کی فوج انگریزوں سے شکست کھا کر لکھنوکی طرف آ رہی ہے اور اس کے پیچھے انگریزی فوج بھی ہے۔ یہاں بیلی گارد گولوں سے چھلنی ہوگیا تھا لیکن اس پر ہندوستانی فوج کا قبضہ نہیں ہو پایا تھا۔ انگریزوں کے پہنچنے سے پہلے بیلی گارد کو قبضے میں لینے کے لیے ایک اور بھرپور حملہ کیا گیا لیکن ناکامی ہوئی۔ خبر آئی کہ انگریزوں نے بیلی گارد سے باہر نکل کر ہندوستانی فوج کو شکست دے دی ہے اور اب وہ قیصر باغ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی قیصر باغ میں بھگڈرمچ گئی۔ لیکن حضرت محل نے قیصر باغ کے تمام پھاٹک بند کرادیے کہ کوئی شخص باہرنہ جانے پائے۔ اب جنگ کا نقشہ بدل چکا تھا، دھیرے دھیرے پورے لکھنو پر انگریزوں کا قبضہ ہوتاچلا گیا، قیصر باغ کے اندر زبردست لڑائی چھڑ گئی۔ باغ کی کیاریوں میں خون بہنے لگا اور لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، انگریزی فوج جنگ جیت رہی تھی، حضرت محل قیصر باغ کوخالی کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ وہ گھسیاری منڈی کی طرف والے پھاٹک سے عورتوں کے ایک قافلے کے ساتھ باہر نکلیں، راستے میں لوگ اس قافلے کو دیکھ کر روتے رہے۔ حضرت محل حسین آباد میں جاکر ٹھہریں اورایک بار پھر انھوں نے بچی کھچی فوج کو اکٹھا کر کے انگریزوں سے ٹکر لی لیکن ان کی یہ کوشش بھی ناکام رہی۔

انھوں نے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی ایک بہترین فوج تیار کی تھی، جاسوسی کے شعبے میں بھی مردوں کے ساتھ خواتین کو دشمنوں کی صفوں میں شامل کر دیا، چنانچہ ان کے مقرر کردہ جاسوس بروقت انگریز سرکار کے جنگی فیصلوں سے بیگم حضرت محل کو مطلع کر دیتے تھے۔ بیگم حضرت محل کے جوش و جذبے کا یہ عالم تھا کہ وہ جنگ کے دوران اپنے سپاہیوں کی صفوں میں گھس جاتیں اور ان کے حوصلے بڑھاتیں۔ وہ جنگی اصولوں پر سختی سے عمل کرنے کی قائل تھیں۔ بیگم حضرت محل کا یہ قول برصغیر کے لوگوں کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ ’’یہ ہند کی پاک صاف سرزمین ہے، یہاں جب بھی کوئی جنگ بھڑکی ہے، ہمیشہ ظالم کو شکست ہوئی ہے۔ یہ میرا پختہ یقین ہے کہ بے کسوں، مظلوموں کا خون بہانے والا یہاں کبھی اپنے گندے خوابوں کے محل کھڑے نہیں کرسکتا۔ آنے والا وقت میرے یقین کی تائید کرے گا۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ اگر بیگم حضرت محل کو دیگر حکمرانوں کی مدد حاصل ہوجاتی، یا انہیں کچھ لوگوں کی طرف سے دھوکہ نہ دیا جاتا تو وہ انگریزوں کو برصغیر سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوجاتیں۔ جنگ کے زمانے میں بیگم حضرت محل نے مرزا برجیس قدر کے نام کے سکے بھی جاری کر دیے تھے۔ ملک کے انتظام کے لیے حضرت محل نے ایک انقلابی کونسل قائم کی جس کے اراکین میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو بھی شامل تھے۔ ان میں شرف الدولہ کی حیثیت وزیراعظم کی تھی، مولوی احمد اللہ شاہ حضرت محل کے مشیر خاص تھے۔ حضرت محل کا قیام جس عمارت میں تھا اس کا نام چولکھی تھا۔ وہیں انقلابی کونسل کے اجلاس ہوتے تھے۔ حضرت محل لڑائی ہارگئی تھیں مگر ہمت نہیں ہاری تھیں۔ اس وقت جب ان کے جیتنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی، انھیں انگریزوں کی طرف سے پیام ملا کہ آپ کا ملک آپ کو واپس کردیا جائے گا آپ لڑائی بند کردیجیے لیکن حضرت محل نے اس پیغام اور ایسے ہی دیگر کئی پیغاموں کو ٹھکرا دیا تھا۔وہ انگریزوں کی دی ہوئی آزادی نہیں اپنے بازؤوں سے حاصل کی ہوئی آزادی چاہتی تھیں۔ جب ان کی کوششیں ناکام ہوئی تو انہوں نے انگریزوں کی پیشکش اور رعایت کو قبول کرنے کے بجائے ہندوستان چھوڑ دینے کافیصلہ کر لیا اور نیپال روانہ ہوگئیں۔

راستے میں بہرائچ کے قریب بونڈی کے مقام پر انھوں نے پڑاؤ ڈالا، لکھنوکے ہار ے ہوئے فوجی دستے جو ادھر ادھر بکھرگئے تھے، بونڈی میں آکر جمع ہوگئے اور کچھ دن کے لیے بونڈی چھوٹا سا لکھنو معلوم ہونے لگا۔ حضرت محل بونڈی ہی میں تھیں جب انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ کا فرمان ہندوستان پہنچا جس میں ہندوستانیوں سے بہت اچھے وعدے کیے گئے تھے، اس فرمان کے پہنچنے پر بہت سے لوگ واپس چلے گئے، مگر حضرت محل نے اس کے جواب میں ایک فرمان جاری کیا جس میں شروع سے اب تک انگریزوں کی زیادتیوں کا پول کھولا گیا تھا۔ بونڈی میں بھی حضرت محل کی فوج نے ایک دفعہ پھر انگریزی فوج سے زبردست ٹکر لی۔ مگر ایک بار پھر انھیں شکست کھانا پڑی۔ اب حضرت محل بالکل مایوس ہوگئیں اور برجیس قدر اور کچھ دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ نیپال کی سرحد میں داخل ہوگئیں، انہیں بڑی مشکل سے نیپال میں قیام کی اجازت ملی۔ بہت دنوں بعد انگریزی حکومت کی طر ف سے ایک آدمی برجیس قدر کی تصویر کھینچنے نیپال آیا۔ اس نے حضرت محل کو حکومت کا پیغام دیا کہ ہماری خواہش ہے کہ آپ ہندوستان واپس آکر عیش و آرام کے ساتھ جہاں جی چاہے رہیں۔ آپ کا آنا ہمارے لیے باعث فخر ہوگا، آپ کی شان کے مطابق آپ کا وظیفہ مقرر کیا جائے گا اور آپ کا شاہی احترام ہوگا۔ حضرت محل نے یہ پیش کش قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جس ملک میں وہ راج ماتا تھیں، جہاں انھوں نے آزادی کی جنگ لڑی تھی، اب وہاں دشمن کی مہمان بن کر وہ کیا کرتیں۔ انھوں نے آزاد ہند کے خواب دیکھے تھے۔ غلام ہندوستان میں رہنا انھیں کیونکر گوارا ہو سکتا تھا۔ا س لیے بیگم حضرت محل پھر کبھی ہندوستان نہیں آئیں بلکہ وہ نیپال میں خاموشی کے ساتھ زندہ رہیں اور وہیں ایک دن انتقال کرگئیں۔

ہم نماز جمعہ اور بیگم حضرت محل کی قبر دیکھنے کے بعد آگے چل دیے۔ کچھ ہی فاصلے پر موجود وکٹوریہ پارک میں لنچ کا اہتمام تھا۔ انتظامیہ، ہوٹل سے لنچ پیک کر کے ساتھ لائی تھی، سب شرکاء کو لنچ باکس دیے گئے اور سب کھانے میں مصروف ہو گئے۔ تین بجے ہماری اگلی منزل طے تھی اور ہمیں دربار اسکوئر کھٹمنڈو پہنچنا تھا۔ ٹھیک تین بجے گائیڈ ہمیں دربار اسکوائر کھٹمنڈو کے صحن میں کھڑا دربار اسکوائر کے بارے میں گائیڈ کر رہا تھا۔

Comments

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.