دنیا کی دنیا - خلیق کوہستانی

یہ دنیا، اس دنیا کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں سب کچھ کا سب کچھ ایک دوسرے کے لیے ہے اور ایک دوسرے کی وجہ سے باعث وجود ہے۔ اس کائنات میں موجود ہر چیز ایک کردار ہے، ایک پرفارمر ہے، ایک امر کہانی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں ہم اس کے جواب دہ ہیں، کہ یہ کیسا تھا یا ایسا کیوں نہیں ہے کہ جیسے دوسرے معاشرے ہیں، یہ خیال غلط ہے، کیونکہ ہم صرف اس بات کے جواب دہ ہیں جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ ہم آسمان کے ستاروں کی چالوں کے بارے میں کبھی جواب دہ نہیں ہوں گے۔ ہم سے صرف ہمارے اعمال کے بارے میں سوال ہوگا۔ ہمارے معاملات کے بارے میں سوال ہوگا۔ ان امانتوں کے بارے میں جن کے ہم امین تھے۔ ان برائیوں کے بارے میں سوال ہوگا کہ جو سامنے ہوتی رہیں۔ ہم سے لازمی سوال ہوگا ان حقوق کے بارے میں جو ہم نے ادا نہیں کیے ہیں۔ ہم سے ہماری حد میں سوال ہوں گے۔ ہماری استطاعت کے مطابق خدا پوچھے گا کیونکہ وہ حدوں کو اور ناکامیوں کو جانتا ہے۔ ایک اپاہج انسان سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس کے دوڑنے کی رفتار کیا تھی۔ جس آدمی کو قلم کی طاقت دی گئی ہے اس سے پوچھا جائے گا کہ اس نے تحریر کس سمت میں استعمال کی۔ اسی طرح ہر ایک سے سوال ہوگا جس جگہ سے تعلق ہوگا اس جگہ کے لوگوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ بولنے اور لکھنے والوں کو پوچھا جائے گا کہ کیا لکھا، کیوں لکھا. کیوں بولا، کیسے بولا؟ الفاظ کا کثرت سے استعمال اہم نہیں، اہم تو اس میں چھپے معنی ہوتے ہیں، کیونکہ یہ ایک گویائی کی طرح بہترین عطیہ ہے۔ خدا کا ہر ہر "کنُ" بےمثال اور لازوال ہے۔ ہم سب کے سب کو آخرت میں جواب دینا ہے کیونکہ آخرت نام ہی چھپے ہوئے سےظاہر ہوجانے کا نام ہے۔ آخرت خصوصی طور پر انسانوں کے لیے سجائی گئی ہے، اور دنیا کی دنیا کے لیے بنائی گئی ہے، تاکہ دنیا سے قریب آئے اور اپنے رب کو پہچان لے۔ حق بات تو یہ ہے کہ اگر انسان نہ ہوتے شاید کائنات کا وجود ہی نہ ہوتا۔ دوسری مخلوق اور دنیا نے خوشیاں، غم اور محبت، سب اسی انسان سے سیکھا۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ ہر انسان کو الگ الگ زندگیاں دی گئیں، تاکہ دنیا کی دنیا اچھے سے سمجھ سکے، جان سکے اور جی سکے، اور شاید اس لیے بھی کہ سب کے سب تلاش معاش میں الگ الگ پیشوں سے منسلک رہیں۔ امیر ہونا اور غریب ہونا یہ سب قانون خدا ہے۔ دولت کو اہمیت دینا فرعون کا شیوہ اور پیغمبروں سے دور رہنے کا نام ہے۔ تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جو فقیر تھے اور سر پر تاج تھا۔ ایسے لوگ بھی آئے کہ جن کے دل میں یاد خدا تھی اور فاقہ تھا۔ اسی فرق نے کربلا بھی برپا کی اور بظاہر جنگ ہارنے کے باوجود مقصد کو جیت نصیب ہوئی۔ اس دنیا میں حق کا سفر کتنا آسان ہے، صرف حق کو باطل کا لباس نہ پہننے دینا شرط ہے۔ جہاں حق بات کا وقت آجائے وہاں حق بات کو چھپانا نہیں۔ جو چیز اپنے لیے پسند کرتے ہو، وہی تمھارے بھائی کی ضرورت ہو اگر تو، اسے دو، اور بھائی کو تکلیف میں چھوڑ کر انسان نہ ہونے کا ثبوت نہ دو۔ لوگوں کو تکلیف دینا چھوڑ دو، بخش دو لوگوں کو، اپنی بخشش طلب کرو، محبت بانٹو، پڑھو، آگے بڑھو۔ تشدد پسندی سے نفرت کرو۔ انصاف کی بات کرو، امن پھیلاؤ۔

انسانوں کے لیے صرف ادب شرط ہے، توبہ کرلی جائے توآج سے اچھے وقت کا آغاز ہوسکتا ہے۔ جتنی عمر سو کر اور غفلت میں گزاری ہے اب بقیہ عمر بیدار کی حالت میں گزاری جائے۔ خدا کی تلاش میں پہلا قدم ہی آخری قدم ہے۔ کعبے کا ایک نام انسان کی پیشانی بھی ہے۔ بےبس اور غریب انسان کی آنکھوں سے ٹپکنے والا آنسو کتنی عبادتوں پر فوقیت لے جاتا ہے۔ جو چاہتا ہے کہ خدا کو حاصل کرے اس کو چاہیے کہ وہ اپنا خدا اپنی ایمانداری سے خود حاصل کرے۔ پھر دیکھنا اللہ کو دل میں پاؤگے، کیونکہ اس نے مقدس کتاب میں برملا کہا کہ تم جہاں رہوگے میں وہیں ہوں گا۔ خدا کی یاد میں اپنے آپ کو بھول جانا ہی عشق حقیقی ہے، اس کی تلاش میں آس پاس سے بے نیاز ہونا پڑے گا، وہ دور ہے لیکن بہت پاس ہے۔ ایسے ہی جیسے سورج، ہے تو بہت دور لیکن اسی روشنی اور گرمی ہمارے پاس ہے۔ ہم جتنا جس کے قریب بھاگتے ہیں وہ اتنے ہی تیزی سے دور بھاگتی ہے۔ شاید ہمارے دیکھنے، سننے، پرکھنے اور سمجھنے میں تضاد ہے۔ دنیا صرف اپنے لوگوں سے وفا کرتی ہے۔ یہ دنیا، دنیا دیتی ہی صرف اپنوں کو ہے، جو اس کی تلاش کرتا ہے، ڈھونڈتا ہے، ٹٹولتا ہے۔