وہ ایک تارا جو ضوفگن تھا - واصف بٹ

انبوہِ سوگواراں جنازے میں موجود تھا . دلیر ماں نے ہر ایک کی آنکھ سے ضبط چھین لیا. وہ جس دلیری سے اپنے خاندان کی قربانیوں اور مشکلات کا ذکر کر رہی تھی میں ایک لمحے کے لیے دم بخود رہ گیا کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو ہر مصیبت پہ اس قدر صبر اور برداشت سے ناطہ جوڑے ہوئے ہیں. وہ صبر کی کوہ گراں محسوس ہو رہی تھی. دہائیوں پہلے جب اس سے اسکا رفیقِ حیات اسی راہ کی نذر ہو گیا تھا اسے تب بھی اسی کرب اور تکلیف کا سامنا تھا، اور آج بھی کئی سالوں کے بعد تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی تھی. آج پھر کوئی نورِ نظر اور چشمِ قلب اپنا تن من دھن لٹا کر خالی ہاتھ اپنے گھر لوٹ رہا تھا. ماں کو اس کی جدائی کا غم ضرور تھا، لیکن وہ مطمئن بھی تھی کہ اسکا پسر اپنے پدر کی راہ چل کر اپنے نظریے سے کیے گئے عہد کو نبھا چلا ہے. وہ چاہتی تو اسے اس راہ سے واپسی کا سندیش اور پیغام بھی بھیج سکتی تھی. اس نے مناسب نہ سمجھا کہ اسے اس سب سے زیادہ عزیز وہ سحر ہے جس کی پو پھٹنے سے پہلے ہر ڈگمگاتے اور لڑکھڑاتے چراغ کو جل کر بجھنا ہے. اس لئے کہ فطرت کا آزمودہ اصول ہے کہ ہزارہا انجم کی موت سے ہی بالآخر نئی سحر طلوع ہوتی ہے.

اس سرفروشی کی سزا قدرت نے موت لکھ رکھی ہے. یہ جانباز اس سے بےبہرہ اور ناواقف نہیں ہوتے. جانتے بوجھتے کشتیاں جلا کر واپسی کے ہر ذریعے کو ذہن سے محو کرکے بے خطر اس آگ میں کود پڑتے ہیں. یہ عشق اور جنون لاعلاج ہے، اس کی کوئی دوا نہیں. یہ محبت موت پر منتج ہوتی ہے. فکری اور نظریاتی لوگ دنیا کے سب سے مشکل لوگ ہوتے ہیں. یہ لمحہ بھر بھی مقصد کو اپنی آنکھوں سے اوجھل ہونے نہیں دیتے. ان کے ہاں سرنڈر کوئی آپشن نہیں، سبکدوشی کوئی پالیسی نہیں. یہ دیوانہ وار اپنی منزل کے تعاقب میں موت سے برابر نبرد آزما رہتے ہیں. انہیں منزل سے زیادہ سفر بھاتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   زخموں کی سرزمیں پر مرہم لگائیے - ایس احمد پیرزادہ

وہ بھی ایسے ہی اوصاف سے مزین کاروانِ آزادی کا ایک گمنام سپاہی تھا. ایسا گمشدہ کہ اس کا تعارف اس کی ماں کو خود کروانا پڑا. ہاں ہماری اس تاریک و سیاہ شب پہ کوئی ایسا ستارہ بھی ضوفگن تھا. دہائیوں کی تھکاوٹ کی دھول اس کے چہرے پہ عیاں ہوتی تھی. سفرِ مسلسل اس کے جذبہٌ حریت کو ہرا نہ سکا. میری طرح ہزاروں لوگوں کو اس کی دید کی طلب نے آکھینچا تھا. ہم تو نامراد لوٹے کہ دید کی خواہش حسرت میں بدل گئی. کچھ دیکھا نہ گیا اور کچھ دکھایا نہ گیا. کچھ ایسا سماں تھا کہ دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی. ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے. صرف میرے نہیں بلکہ ان کے بھی جنہیں وہ عمر بھر صبر اور شکر کی عملی مشقتوں سے گزارتا رہا. ایک ایسا نوجوان بھی جو بظاہر خموشی اوڑھے ہمیشہ مطمئن دکھتا رہا لیکن آج اس کا صبر بھی بےبس اور جواب دیتا نظر آیا. اس نوجوان کے معصوم رخسار آنسوؤں سے تر دیکھ کر دل پسیج سا گیا. اس کی برستی آنکھوں سے بچھڑنے والے کو قرار آیا ہوگا، سرور کی کیفیت ہر رنگ پر غالب آگئی ہوگی. اسے اس اخلاص اور انمول رفاقت پر وارے جانے کی تڑپ نے بےچین کردیا ہوگا. ہائے، اسے کیا کیا نہ یاد آیا ہوگا. اسے ہجر بھی درپیش تھا، اسے وصل کی بھی چاہ تھی. مگر وہ جا رہا تھا ہر ظاہری ناطہ توڑ کر دلوں میں بےشمار امانتیں دفنا کر. اس کا وقت ہوا چاہتا تھا اک ایسے سفر پر روانہ ہونے کا جہاں کئی دہائیوں سے منتظر اس کا والد اس کی راہ دیکھ رہا تھا. اسے اسی وصال کی جلدی تھی کہ اس کی آرزو میں وہ اپنی جان ہار آیا تھا . اس سارے منظر کو دیکھ کر مجھے فیض کی یہ سطریں بےساختہ یاد آگئیں.
اور پھر خود ہی چلی آئی ملاقات مری
آشنا موت، جو دشمن بھی ہے، غمخوار بھی ہے
وہ جو ہم لوگوں کی قاتل بھی ہے، دلدار بھی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی تقسیم؛ بھارتی حکومت کا نیا منصوبہ - سعد فاروق

سلام يا كاسر المحاصرة!
خودکلامی
نوٹ : تحریر مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں شہید ہونے والے حزب المجاہدین کے سب سے تجربہ کار اور سب سے زیادہ وقت بطور مجاہدگزارنے والےالطاف کاچرو کے متعلق ہے.
نوٹ دوم : واصف بٹ مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیان کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں گریجویشن کا طالب علم ہے .